Legal Awareness

  • Home
  • Legal Awareness

Legal Awareness To spread legal awareness in public interest as much as possible Start with the name of Almighty Allah who is most merciful and beneficent.

Hello everyone, how are you all..? Hope doing well, Dear fans it is must to intimate you all that we have commenced existing page to spread legal awareness in public interest. We have just started a step ahead toward goodness may almighty Allah accept our initiatory efforts toward betterment of society through statute.

اس مقدمہ میں عدالتِ عالیہ نے یہ اصول واضح کیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت ایک غیر معمولی ریلیف ہے جو صرف انہی صورتوں میں دی ...
30/12/2025

اس مقدمہ میں عدالتِ عالیہ نے یہ اصول واضح کیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت ایک غیر معمولی ریلیف ہے جو صرف انہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے جہاں ملزم بادی النظر میں بد نیتی، جھوٹے الزام یا قانون کے غلط استعمال کا شکار ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ الزام سنگین نوعیت کا ہے، تاہم ایف آئی آر کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر، میڈیکو لیگل رپورٹ اور ڈی این اے کا الزامات کی تائید نہ کرنا، اور ازدواجی تنازعہ کے پس منظر میں مقدمہ کا اندراج ایسے عوامل ہیں جو ملزم کے خلاف الزامات کو مشکوک بنا دیتے ہیں اور معاملہ کو مزید انکوائری کے زمرے میں لے آتے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بد نیتی کا ثبوت لازماً براہِ راست شواہد سے ثابت ہونا ضروری نہیں بلکہ وہ مقدمہ کے مجموعی حالات و واقعات سے اخذ کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، عدالت نے اس اصول کی توثیق کی کہ قبل از گرفتاری ضمانت کے مرحلہ پر بھی شک کا فائدہ ملزم کو دیا جا سکتا ہے اور اگر ریکارڈ پر کوئی ٹھوس اور قابلِ اعتماد شہادت موجود نہ ہو تو صرف گرفتاری کی غرض سے ملزم کو تحویل میں لینا حقِ آزادی اور منصفانہ ٹرائل (آرٹیکل 10-A آئین پاکستان) کے منافی ہے۔

لہٰذا، عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے، ملزم نے عبوری ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا، اور شواہد الزامات کی تائید نہیں کرتے، اس لیے قبل از گرفتاری ضمانت کی توثیق قانوناً جائز اور مناسب ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ قوانین 2021 کے تحت انتظامیہ کے اختیارات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی قانون...
29/12/2025

لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ قوانین 2021 کے تحت انتظامیہ کے اختیارات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی قانونی نکتہ طے کیا کہ ذیلی قانون سازی (Rules) کسی صورت بھی قانونِ اصل (Passports Act, 1974) سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 8 میں صرف پاسپورٹ کو منسوخ (cancel)، ضبط (impound) یا ضبطی میں لینے (confiscate) کے اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ پاسپورٹ کو “Inactivate” کرنے کا اختیار قانون میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس کے باوجود Rule 23 کے تحت پاسپورٹ کو غیر فعال کرنا نہ صرف قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے بلکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر غیر آئینی قدغن بھی ہے، اس لیے عدالت نے اس اختیار کو Ultra Vires قرار دیا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پاسپورٹ کو Inactivate کرنے کا طریقہ کار درحقیقت Due Process سے بچنے کا ایک غیر رسمی اور خفیہ ذریعہ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو بغیر نوٹس، بغیر شوکاز اور بغیر سماعت کے ان کے حقِ سفر سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات شہریوں کو ایئرپورٹس پر اچانک ذلت، سماجی رسوائی اور شدید ذہنی اذیت سے دوچار کرتے ہیں، جو قانون، انصاف اور آئین کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق دفعہ 8 میں دیا گیا باقاعدہ قانونی طریقہ کار شفافیت اور احتساب کو یقینی بناتا ہے، جبکہ Rule 23 کے تحت Inactivation انتظامیہ کو من مانی اور غیر جوابدہ اختیارات فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح عدالت نے Passport Control List (PCL) میں کسی شخص کا نام پانچ سال یا اس سے زائد مدت تک رکھنے سے متعلق Rule 22(2)(c) کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور یہ قرار دیا کہ ایسی پابندی کے لیے نہ تو کسی واضح قانونی بنیاد کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق کوئی درجہ بندی موجود ہے۔ عدالت کے نزدیک ایک ہی مدت کی پابندی کو ہر قسم کی مبینہ خلاف ورزی پر لاگو کرنا، خواہ وہ معمولی غیر قانونی قیام ہو یا سنگین جرائم، منصفانہ، معقول اور متناسب نہیں ہے بلکہ یہ اختیار کے ناجائز اور من مانے استعمال کے مترادف ہے۔

عدالت نے اس اصول کو بھی دوٹوک الفاظ میں بیان کیا کہ حقِ سفر شہری آزادی کا لازمی جزو ہے اور اس پر کوئی پابندی صرف اسی وقت لگائی جا سکتی ہے جب وہ قانون کے مطابق، معقول، شفاف اور تناسب (Proportionality) کے اصول پر پوری اترتی ہو۔ غیر معینہ یا طویل مدت کی پابندیاں، جن کے لیے کوئی واضح معیار یا رہنمائی فراہم نہ کی گئی ہو، Unguided Discretion کے زمرے میں آتی ہیں جو بالآخر Arbitrariness میں تبدیل ہو جاتی ہے اور قانون میں ناقابلِ قبول ہے۔

مزید برآں عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ اصل قانون سازی کے مقاصد پر عدالت سوال نہیں اٹھاتی، تاہم ذیلی یا تفویض شدہ قانون سازی (Delegated Legislation) اگر قانونِ اصل کے مقصد، دائرہ اختیار یا آئینی حقوق سے متصادم ہو تو وہ عدالتی نظرِثانی کے دائرے میں آتی ہے۔ موجودہ معاملے میں عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاسپورٹ قوانین 2021 کی مذکورہ شقیں قانونِ اصل سے متجاوز ہیں اور شہری حقوق کو غیر متناسب طور پر محدود کرتی ہیں، اس لیے انہیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

بالآخر عدالت نے قرار دیا کہ Rule 23 کے تحت پاسپورٹ Inactivate کرنے کا اختیار اور Rule 22(2)(c) کے تحت پانچ سال یا زائد مدت کی پابندی دونوں قانوناً کالعدم ہیں۔ وفاقی حکومت کو ہدایت دی گئی کہ وہ تیس دن کے اندر قوانین کو پاسپورٹس ایکٹ 1974 کے مطابق ہم آہنگ کرے، جبکہ درخواست گزار کی representation کو دوبارہ زیرِ غور لانے کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ شہری آزادیوں، قانونی طریقہ کار اور انتظامی اختیارات کی حدود کے حوالے سے ایک اہم اور اصولی عدالتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

06/12/2025
Press conferences come and go. What matters is whether we are finally MOVING toward rule of law and civilian supremacy?...
06/12/2025

Press conferences come and go. What matters is whether we are finally MOVING toward rule of law and civilian supremacy? Answer is NO!

تصویر میں، ایک شخص نے اپنے ذاتی نقطہ نظر سے اپنا "منصفانہ" حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اور اس عمل میں دوسروں کے حصے کو برباد ...
21/09/2024

تصویر میں، ایک شخص نے اپنے ذاتی نقطہ نظر سے اپنا "منصفانہ" حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اور اس عمل میں دوسروں کے حصے کو برباد کر دیا... یہ شخص آپ کو قسم دے کر کہے گا کہ اس نے صرف اپنا حق لیا ہے، اور وہ واقعی سچ بول رہا ہو گا، لیکن وہ ان لوگوں میں سے ہے جو فساد پھیلاتے ہیں۔

آپ کو اپنا حق لینے کا پورا حق ہے...
لیکن آپ کو یہ حق نہیں کہ اسے اس طریقے سے لیں جو آپ کے نزدیک منصفانہ ہو اور دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچائے۔

یہی حق کے استعمال میں زیادتی ہے!

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Awareness posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your practice to be the top-listed Law Practice?

Share