Zain Travel & Cargo

Zain Travel & Cargo Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zain Travel & Cargo, Passport and visa service, Street al firyan intersect of al asha near fired petrol pump, Riyadh.

27/04/2026

سعودی عرب کے موجودہ قوانین کے تحت اب کمپنی کے ملازمین کے لیے کفالت کی تبدیلی (تنازل) پہلے کے مقابلے میں کافی آسان ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔

کمپنی سے دوسری کمپنی میں منتقل ہونے کے دو طریقے ہیں

1. موجودہ کمپنی کی رضامندی کے ساتھ
اگر آپ کی موجودہ کمپنی آپ کو چھوڑنے پر تیار ہے، تو طریقہ کار بہت سادہ ہے، سب سے پہلے ایک ایسی کمپنی تلاش کریں جو آپ کو ملازمت دینے پر تیار ہو۔

طلب (Request): نئی کمپنی آپ کے لیے Qiwa پلیٹ فارم پر ایک آن لائن "Transfer Request" بھیجے گی۔ آپ کی موجودہ کمپنی اس درخواست کو اپنے "Qiwa" اکاؤنٹ سے منظور کرے گی۔کمپنی کی منظوری کے بعد آپ کو خود بھی اپنے "Qiwa" اکاؤنٹ میں جا کر اس ٹرانسفر کو قبول کرنا ہوگا۔

ٹرانسفر کی فیس (جو عموماً پہلی بار 2000، دوسری بار 4000 اور تیسری بار 6000 ریال ہوتی ہے) نئی کمپنی ادا کرے گی۔

2. کفیل کی رضامندی کے بغیر (بغیر موافقہ)
کچھ خاص حالات میں آپ موجودہ کمپنی سے پوچھے بغیر بھی دوسری کمپنی میں جا سکتے ہیں۔

اگر آپ کا اقامہ ختم ہو چکا ہو اور کمپنی نے اسے رینیو نہ کروایا ہو۔
اگر آپ کا ورک پرمٹ ختم ہو چکا ہو۔
اگر آپ کو مسلسل 3 ماہ تک تنخواہ نہ ملی ہو۔

اگر آپ سعودی عرب نئے ویزے پر آئے ہیں اور آپ کو یہاں آئے 3 ماہ ہو گئے ہیں لیکن کمپنی نے ابھی تک آپ کا اقامہ یا ورک پرمٹ نہیں بنوایا۔

اگر آپ کی موجودہ کمپنی "نطاقات" (Nitaqat) کے ریڈ زون میں چلی گئی ہو۔

تنازل لینے سے پہلے یہ کام ضرور کر لیں

آپ کا Qiwa پورٹل پر اکاؤنٹ ہونا لازمی ہے۔ اپنی تمام معلومات اور کانٹریکٹ وہیں سے چیک کریں۔

اگر آپ کا کانٹریکٹ موجود ہے اور آپ اسے ختم کر کے جانا چاہتے ہیں، تو آپ کو کانٹریکٹ میں لکھا ہوا "Notice Period" (عموماً 60 یا 90 دن) پورا کرنا ہوتا ہے، ورنہ قانونی پیچیدگی ہو سکتی ہے۔

چیک کریں کہ کیا آپ کا کانٹریکٹ "Qiwa" پر رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے، تو آپ کے لیے ٹرانسفر لینا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

ایک اہم بات
اگر آپ کا اقامہ ایکسپائر ہے تو آپ بغیر کفیل کی اجازت کے دوسری کمپنی میں ٹرانسفر لے سکتے ہیں، بشرطیکہ نئی کمپنی آپ کا ٹرانسفر لینے اور آپ کے بقایاجات (جرمانے وغیرہ) کلیئر کرنے پر تیار ہو۔

✈️ Big news for flyers!Saudia is now one of the first airlines in the Middle East to offer free high-speed Wi-Fi on all ...
14/04/2026

✈️ Big news for flyers!

Saudia is now one of the first airlines in the Middle East to offer free high-speed Wi-Fi on all its flights.
Powered by NSG’s Skywaves satellite technology, you can stay connected the entire journey no extra cost.
Better flights start here. ✈️💻

13/04/2026

*GREETINGS FROM ZAIN TRAVEL TOURISM & CARGO

ISLAMABAD TO RIYADH ON SAUDI AIRLINE 🇸🇦

SV725 15APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 16APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 17APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 18APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 19APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 20APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 21APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 22APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 23APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 24APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 25APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 26APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 27APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 28APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 29APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 30APR ISBRUH HK 0950 1235

*NON REFUNDABLE NON CHANGEABLE*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✈️ وكالة زين لسفر والسياحه الياس خان

📲 059 680 3365
📲 0595415076
➡️📩 [email protected]

🏬 Office: Street al firyan intersect al asha manfuha Riyadh KSA

08/04/2026

اسلام آباد ٹو ریاض سعودی ایرلائن
Group ticket
SV 01MAY ISB RUH 0950 1205
SV 02MAY ISB RUH 0950 1205
SV 03MAY ISB RUH 0950 1205
SV 04MAY ISB RUH 0950 1205
SV 05MAY ISB RUH 0950 1205
SV 06MAY ISB RUH 0950 1205
SV 07MAY ISB RUH 0950 1205
SV 08MAY ISB RUH 0950 1205
SV 09MAY ISB RUH 0950 1205
SV 10MAY ISB RUH 0950 1205
SV 11MAY ISB RUH 0950 1205
SV 13MAY ISB RUH 0950 1205
SV 17MAY ISB RUH 0950 1205
SV 19MAY ISB RUH 0950 1205
SV 20MAY ISB RUH 0950 1205
SV 21MAY ISB RUH 0950 1205
SV 22MAY ISB RUH 0950 1205
SV 23MAY ISB RUH 0950 1205
SV 24MAY ISB RUH 0950 1205
SV 25MAY ISB RUH 0950 1205
SV 26MAY ISB RUH 0950 1205
SV 27MAY ISB RUH 0950 1205
SV 28MAY ISB RUH 0950 1205
SV 29MAY ISB RUH 0950 1205
SV 30MAY ISB RUH 0950 1205
SV 31MAY ISB RUH 0950 1205
*NON REFUNDABLE NON CHANGEABLE*

07/04/2026

Zain Travel & Cargo
Group from pak to ksa

Islamabad to Riyadh on Saudi airline

SV725 17APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 18APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 19APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 20APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 21APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 22APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 23APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 24APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 25APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 26APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 27APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 28APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 29APR ISBRUH HK 0950 1235
SV725 30APR ISBRUH HK 0950 1235

Peshawar to Riyadh on Saudi airline
SV793 21APR PEWRUH HK 1225 1505
SV793 23APR PEWRUH HK 1225 1505
SV793 28APR PEWRUH HK 1225 1505
SV793 30APR PEWRUH HK 1225 1505

*NON REFUNDABLE NON CHANGEABLE*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وكالة زين لسفر والسياحه الياس خان

☎️ 059 680 3365

05/04/2026
05/04/2026

*JEDDAH TO ISLAMABAD*

SV *07 APR* JED ISB 1810 0110 HK04

SV *08 APR* JED ISB 0140 0850 HK01

*FARE ON CALL
059 680 3365
=====================

18/02/2026

صحیح بخاری
کتاب: روزے کا بیان
باب: باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1891

ترجمہ:
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل نے، ان سے ان کے والد مالک نے اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے کہ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے؟ آپ ﷺ نے اسے شرع اسلام کی باتیں بتادیں۔ جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کردیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا۔

16/02/2026

کتاب: تاریخِ اسلام
پیش لفظ
عنوان: محمد رسول اللہ ﷺ

{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ٭ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ٭ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ٭ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن ٭ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم ٭ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ٭ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْن} اللھم صل علی محمد و علٰی ال محمد کما صلیت علٰی ابراھیم و علٰی ال ابراھیم انک حمید مجید اما بعد رب اشرح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی۔
لا الہ الا اللہ
تاریخ عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر زمانے میں جس قدر نبی‘ مصلح‘ پیشوا اور بانیان مذاہب گذرے ہیں‘ وہ سب کے سب ایک ذات واجب الوجود۱ کے قائل و معتقد تھے اور سب نے اپنی اپنی جماعت کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یقین دلانے کی کوشش کی۔ سیدنا آدم علیہ السلام ‘ سیدنا نوع علیہ السلام ‘ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ‘ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ‘ سیدنا محمد ﷺ کے زمانوں میں اگرچہ سینکڑوں ‘ ہزاروں برس کے فاصلے ہیں‘ لیکن سب کی تعلیم میں توحید باری تعالیٰ کا مسئلہ مشترک ہے۔
کرشن جی‘ رامچندر جی‘ گوتم بدھ اورگورونانک ہندوستان میں ہوئے‘ کیقبادو زرتشت ایران میں گذرے‘ کنفیوسس چین میں‘ سیدنا لقمان یونان میں‘ سیدنا یوسف علیہ السلام مصر میں‘ سیدنا لوط علیہ السلام شام و فلسطین میں تھے‘ لیکن توحید باری تعالیٰ کا مسئلہ سب کی تعلیمات میں موجود ہے۔۲
دنیا کے قریباً تمام آدمی ‘ بچے‘ بوڑھے ‘ جوان‘ عورت‘ مرد‘ عیسائی ‘ یہودی وغیرہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں‘ یا صرف چند جو کسی قطار میں نہیں آ سکتے‘ ممکن ہے ایسے بھی مل سکیں جو اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کا انکار کریں مگر دل ان کے بھی ہستیٔ باری تعالیٰ کے اقرار پر مجبور ہیں اور ان کو بالآخر یہ ضرور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ علل و معلول کسی مدبر بالارادہ کے ماتحت چل رہا ہے۔ اسی مدبر بالارادہ ہستی کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔
بہ لوحے گرہزاراں نقش پیدا است
نیاید بے قلمزن یک الف راست
دنیا کے اس عظیم الشان اتفاق کے انکار اور تمام اہل دانش و بینش کے متفقہ عقیدے کی تغلیط و تردید پر کوئی شخص جو دیوانہ نہ ہو آمادہ نہیں ہو سکتا۔
محمد رسول اللہ ﷺ
روما کی عظیم الشان سلطنت کے ٹکڑے ہو چکے تھے۔ اس کے نیم وحشیانہ آئین و قوانین بھی مسخ ہو کر اپنے مظالم و معائب کو اور بھی زیادہ مہیا و موجود اور محاسن کو جو پہلے ہی بہت کم تھے معدوم و مفقود کر چکے تھے‘ ایران کی بادشاہی ظلم و فساد کا ایک مخزن بنی ہوئی تھی‘ چین و ترکستان خونریزی و خونخواری کا مامن نظر آتے تھے‘ ہندوستان میں مہاراجہ اشوک اور راجہ کنشک کے زمانہ کا نظام و انتظام ناپید تھا‘ مہاراجہ بکرماجیت کے عہد سلطنت کا تصور بھی کسی کے ذہن میں نہیں آ سکتا تھا۔ نہ بدھ مذہب کی حکومت کا کوئی نمونہ موجود تھا۔ نہ برہمنی مذہب کا کوئی قابل تذکرہ پتہ و نشان دستیاب ہو سکتا تھا‘ عارف بدھ کا نام عقیدت سے لینے والوں کی حالت یہ تھی کہ حکومت کے لالچ‘ دنیا طلبی کے شوق اور ضعیف الاعتقادی کے نتیجہ میں سخت سے سخت قابل شرم حرکات کے مرتکب ہو جاتے تھے‘ شری کرشن کے نام کی سمرن جپنے والوں کی کیفیت یہ تھی کہ اشرف المخلوقات کو نباتات و جمادات کے آگے سربسجود بنا دینے میں ان کو دریغ نہ تھا‘ یورپ اگر ایک بیابان گرگستان اور وہاں کے باشندے خوں آشام و مردم کش درندے تھے تو عرب تمام عیوب و فسادات کا جامع تھا اور وہاں کے باشندے حیوانوں سے بھی بدتر حالت کو پہنچ چکے تھے۔غرض کہ دنیا کے کسی ملک اور کسی خطہ میں انسانی نسل اپنی انسانیت اور شرافت پر قائم نظر نہیں آتی تھی اور بحروبر سب مائوف ہو چکے تھے۔ ایسی حالت میں جب کہ تمام دنیا تیرہ و تار ہو چکی تھی‘ ہندوستان والوں کا فرض تھا کہ وہ گیتا کے چوتھے باب میں شری کرشن مہاراج کے اس ارشاد پر غور کرتے کہ:
’’اے ارجن جب دھرم کی ہانی۱ ہوتی ہے اور ادھرم۲ بڑھ جاتا ہے‘ تب میں نیک لوگوں کی رکھشا۳ کرتا ہوں اور پاپوں کا ناش۴ کر کے دھرم کو قائم کرتا ہوں۔‘‘
ایران والوں کا فرض تھا کہ وہ شست و خشور زرتشت کے ارشادات کے موافق کسی رہبر کی تلاش میں نکلتے‘ یہودیوں کے لیے وقت آ گیا تھا کہ وہ فاران کے پہاڑوں کی چوٹیوں سے روشنی کے نمودار ہونے کا انتظار کرتے اور معماروں کے رد کئے ہوئے پتھر کو کونے کا پتھر بنتے ہوئے دیکھ کر ضد اور انکار سے باز رہتے۔ عیسائیوں کا فرض تھا کہ وہ دعائے خلیل اور نوید مسیحا کو اپنی امید گاہ بناتے۔ لیکن دنیا کے عالمگیر فساد اور زمانہ کی ہمہ گیر تاریکی نے دلوں کو اس قدر سیاہ اور آنکھوں کو اس قدر بے بصارت بنا دیا تھا کہ کسی کو اتنا بھی ہوش نہ تھا کہ اپنے آپ کو مریض جانتا اور دوا کی طلب میں قدم اٹھاتا۔
ایسے زمانے اور ملک عرب جیسے خطے میں ہادی برحق رسول رب العالمین خیر البشر‘ شفیع المذنبین سیدنا محمد ﷺ نے شرک کی خباثت‘ بت پرستی کی تاریکی‘ فتنہ و فساد کی نجاست اور عصیان و بے شرمی کی پلیدی کو دور کرنے کے لیے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی آواز بلند کر کے انسان نما لوگوں کو انسان‘ انسانوں کو بااخلاق انسان اور با اخلاق انسانوں کو با خدا انسان بنا کر دنیا کی تاریکی و ظلمت کو ہدایت‘ نور ‘ امن‘ راستی اور نیکی سے تبدیلی کرنے‘ یعنی گمراہ‘ بت پرست‘ عصیاں شعار لوگوں کو مسلمان بنانے کا فریضہ انجام دیا۔
سیدنا نوح علیہ السلام عراق عرب کے گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لانے میں سینکڑ وں برس مصروف تبلیغ رہ کر بالآخر {رَّبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا} ۵ کی تلوار سے سب کا قصہ پاک کرنے پر مجبور ہوئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مصریوں اور ان کے متکبر بادشاہ کو راہ راست پر لانے کی امکانی کوشش کی لیکن بالآخر موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے وہ نظارہ دیکھا جس کی نسبت ارشاد ہے کہ : {وَ اَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ} ۶ ہندوستان میں مہاراجہ رام چندر جی کو لنکا پر چڑھائی اور راکھشسوں سے لڑائی کرنی پڑی شری کرشن مہاراج کو کرکشتر کے میدان میں ارجن کو جنگ پر آمادہ کرنا اور کوروں کی نافرمان جماعت کو پانڈوں کے ہاتھوں برباد کرانا پڑا‘ ایران میں زرتشت نے اسفند یار کی پہلوانی اور سلطنت کیانی کی حکمرانی کو ذریعہ‘ تبلیغ و اشاعت بنایا۔
مگر ماضی کے صحائف اور عمرانی روایات جو اہل نظر تک پہنچی ہیں سب کی سب متفق ہیں کہ تمام قابل تکریم بانیاں مذاہب اور مستحق احترام ہادیان صداقت کی کوششوں اور کامیابیوں میں یہ نظیر ہرگز تلاش نہیں کی جا سکتی کہ پچیس سال سے کم مدت میں دنیا کا بہترین ملک اور عرب کے جاہل وحشی لوگ ساری دنیا کے معلم اور سب سے زیادہ مہذب و با اخلاق بن گئے ہوں‘ سو برس سے کم یعنی صرف اسی سال کے عرصہ میں سیدنا محمد ﷺ کے لائے ہوئے مذہب کو ماننے والے بحراطلا نطک سے بحرالکاہل یعنی چین کے مشرقی ساحل تک یا‘ یوں کہے کہ تمام متمدن دنیا کا احاطہ کر چکے ہوں‘ اس محیر العقول اور خارق عادت کامیابی کی نظیر دنیا پیش نہیں کر سکتی اور تعلیم اسلامی کی خوبی اگر تمام قوانین مذاہب پر فائق اور محاسن ملل کی جامع ہے تو سیدنا محمد ﷺ کے خیر البشر‘ خاتم النبیین‘ رحمتہ للعالمین ہونے میں کسی کو کیا کلام ہو سکتا ہے؟ اور دنیا میں کس کا حوصلہ ہے جو ان کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید کی اس لانظیر صفت اور اس ناقابل تردید دعوی اور خدائی دعوی کی تردید پر آمادہ ہو سکے کہ : {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ} ۱
قوموں کو منازل ترقی طے کرانے اور قوموں کو ذلت و پستی سے بچانے کے لیے تاریخ ایک زبردست مؤثر اور نہایت قیمتی ذریعہ ہے‘ قومیں جب کبھی قعر مذلت سے بام ترقی کی طرف متحرک ہوئی ہیں انہوں نے تاریخ ہی کو سب سے بڑا محرک پایا ہے‘ قرآن کریم نے ہم کو یہ بھی بتایا ہے کہ سعادت انسانی اور دین و دنیا کی کامرانی حاصل کرنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ نہایت ضروری ہے‘ چنانچہ خدائے تعالٰے نے لوگوں کو عبرت پذیر اور نصیحت یاب ہونے کے لیے کلام پاک میں جا بجا امم سابقہ کے حالات یاد دلائے ہیں کہ فلاں قوم نے اپنی بد اعمالیوں کے کیسے بدنتائج دیکھے اور فلاں قوم اپنے اعمال حسنہ کی بدولت کیسی کامیاب و فائزالمرام ہوئی‘ آدم‘ نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ ( علیھم السلام ) وغیرہم کے واقعات اور فرعون نمرود‘ عاد‘ ثمود وغیرہم کے حالات قرآن کریم میں اسلیے مذکور و مسطور نہیں کہ ہم ان کو دل بہلانے اور نیند لانے کا سامان بتائیں بلکہ یہ سچے اور یقینی حالات اس لیے ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہیں کہ ہمارے اندر نیک کاموں کے کرنے کی ہمت اور بداعمالیوں سے دور رہنے کی جرأت پیدا ہو اور ہم اپنے حال کو بہترین مستقبل کا ذریعہ بنا سکیں۔
انبیاء علیہم السلام جو بنی نوع انسان کے سب سے بڑے محسن‘ سب سے زیادہ خیر خواہ اور سب سے زیادہ شفیق علی خلق اللہ ہوتے ہیں‘ انہوں نے جب کبھی کسی قوم کو ہلاکت سے بچانے اور عزت اور سعادت سے ہمکنار بنانے کی سعی و کوشش فرمائی ہے تو اس کو قوم کو عہد ماضی کی تاریخ یاد دلائی ہے‘ دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں اور ریفارمروں میں کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جس کو حالات رفتگان اور گزرے واقعات کے مطالعہ نے محوو مدہوش اور از خودفراموش بنا کر آمادہ کار اور مستعد سعی و ایثار نہ بنایا ہو‘ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک واعظ اور ہر ایک لیکچرار جو سامعین کو اپنے حسب منشاء پر جوش اور آمادہ کار بنا سکتا ہے اس کے وعظ یا لیکچر میں ماضی کے واقعات اور بزرگان گذشتہ کے حالات کی یاد دہانی یعنی تاریخی چاشنی ضرور موجود ہوتی ہے‘ مشاہیر گذشتہ کے حالات و واقعات میں بھی جن مشاہیر سے مذہبی‘ قومی‘ ملکی تعلقات کے ذریعہ سے ہمارا قریبی رشتہ ہوتا ہے ان کے حالات کا ہم پر زیادہ اثر ہوتا ہے‘ رستم و اسفند یار اور گشتاسب و نوشیراواں کے حالات کا مطالعہ جس قدر ایک ایرانی یا ایک پارسی کے دل میں شجاعت مذہبیت اور عدل و انصاف کے جذبات کو مشتعل بنا سکتا ہے کسی چینی یا ہندوستانی پر ویسا اثر نہیں کر سکتا‘ بھیم وارجن اور بکرما جیت وپرتھی راج کی داستانیں ہندئوں پر جو اثر کرتی ہیں عیسائیوں پر ان کا ویسا ہی اثر نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب کہ قوموں کی تاریخ کے اثر و نتائج سے لوگ واقف ہو چکے ہیں اور یہ حقیقت عالم آشکارا ہو چکی ہے کہ کسی قوم کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کے سامانوں میں اس قوم کی گذشتہ تاریخ سب سے زیادہ ضروری سامان ہے‘ تو ہم اپنی آنکھوںسے دیکھ رہے ہیں کہ وہ قومیں جو اپنی کوئی باعظمت و پرشوکت تاریخ نہیں رکھتیں فرضی افسانوں اور جھوٹے قصوں کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں‘ اور ان فرضی قصوں کوتاریخی جامہ پہنا کر افراد قوم اور نوجوانان ملک کے سامنے اس طرح پیش کر رہی ہیں کہ ان کی صداقت کا یقین ہو جائے‘ دروغ کو فروغ دینے کی یہ قابل شرم کوشش قوموں کو محض اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ قومیں اپنے افراد کو ان کے علو مرتبت کا یقین دلائے بغیر مسابقت اقوام کے میدان میں تیز گام بنا ہی نہیں سکتیں اور یہی سبب ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کسی دوسری قوم کو رقابت یا عداوت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس کی تاریخ کو مسخ کرنے اوراس کے افراد کو اپنی تاریخ سے غافل اور ناواقف رکھنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْماقامہ میڈیک100 ریاللائسنس میڈیکل100 ریال مطار پیپر۔100 ریالترحیل پیپر۔100ریالحدود ...
12/01/2026

بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
اقامہ میڈیک100 ریال
لائسنس میڈیکل100 ریال
مطار پیپر۔100 ریال
ترحیل پیپر۔100ریال
حدود پیپر۔100 ریال
مرور پرنٹ۔100 ریال
مقیم پیپر فائنل ایگزٹ والا۔100ریال
اقامہ کارڈ ۔150 ریال
موقت منتھی۔یعنی تین مہینہ بعد اقامہ نمبر نکولوائے۔300 ریال
کفیل کا بطاقہ نمبر سے اس کا موبائل نمبر نکلوائے۔150 ریال
اقامہ انشورنس بنوائے۔سستے ریٹ میں۔
انشورنس بارڈر نمبر سے اقامہ نمبر پر چینج کروائے۔100 ریال
نقل معلومات۔130 ریال ...ابشر بنوائے۔ راجحی بینک اکاونٹ 03400999209 whatsApp

21/12/2025

کتاب: تاریخِ اسلام
محمد رسول اللہ ﷺ
عنوان: صادق اور الامین کا خطاب

نہ صرف مکہ معظمہ بلکہ تمام عرب میں آپ ﷺ کی نیکی‘ خوش اطواری‘ دیانت‘ امانت اور راست بازی کی اس قدر شہرت ہو گئی تھی کہ لوگ آپ ﷺ کو نام لے کر نہیں‘ بلکہ الصادق یا الامین کہہ کر پکارتے تھے‘ تمام ملک عرب میں ایک آپ ﷺ ہی کی ذات تھی جو الصادق یا الامین کی مشار الیہ سمجھی جاتی تھی۔ اور انہیں ناموں سے لوگ آپ ﷺ کو پہچانتے‘ اور یاد کرتے تھے‘ مسز اینی بیسنٹ ہندوستان میں تھیوسوفیکل سوسائٹی کی پیشوا اور بڑی مشہور انگریز عورت ہے وہ لکھتی ہے کہ:۔
پیغمبر اعظم (رسول اللہ ﷺ ) کی جس بات نے میرے دل میں ان کی عظمت و بزرگی قائم کی ہے وہ ان کی وہ صفت ہے جس نے ان کے ہم وطنوں سے الامین (بڑا دیانتدار) کا خطاب دلوایا‘ کوئی صفت اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور کوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے قابل اتباع نہیں‘ ایک ذات جو مسلم صدق ہو اس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے ایسا ہی شخص اس قابل ہی کہ پیغام حق کا حامل ہو‘‘

Address

Street Al Firyan Intersect Of Al Asha Near Fired Petrol Pump
Riyadh
1234

Opening Hours

Monday 4pm - 10pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 2pm - 11pm
Saturday 4pm - 10:30pm
Sunday 4pm - 10pm

Telephone

+966596803365

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zain Travel & Cargo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Zain Travel & Cargo:

Share