Insaf Law Associates Vehari

Insaf Law Associates Vehari "Dedicated to providing expert legal advice and representation in Vehari.
(3)

Our team of experienced lawyers is committed to ensuring justice and protecting your rights."

لاہور ہائیکورٹ اور اس کے ماتحت عدالتوں (سول ، سیشن کورٹس) میں چار روز ورک ویک نافذ کر دیا ۔
11/03/2026

لاہور ہائیکورٹ اور اس کے ماتحت عدالتوں (سول ، سیشن کورٹس) میں چار روز ورک ویک نافذ کر دیا ۔

یہ ایک انتہائی اہم اور جدید ترین قانونی پیش رفت ہے۔ حکومتِ پاکستان نے "Virtual Assets and Virtual Asset Service Provider...
10/03/2026

یہ ایک انتہائی اہم اور جدید ترین قانونی پیش رفت ہے۔ حکومتِ پاکستان نے "Virtual Assets and Virtual Asset Service Providers" کے حوالے سے ایکٹ نمبر XIII آف 2026 منظور کر لیا ہے، جس کا گزٹ نوٹیفکیشن آپ نے فراہم کیا ہے۔
​یہ قانون پاکستان میں کرپٹو کرنسی (Cryptocurrency) اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک باقاعدہ اتھارٹی قائم کرنے کے بارے میں ہے۔

📢 پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے نیا قانون منظور! 🇵🇰
پاکستان کی قانونی تاریخ میں ایک بڑا قدم! حکومت نے "Virtual Assets Regulatory Authority" قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب پاکستان میں ورچوئل اثاثوں (مثلاً کرپٹو کرنسی) کا کاروبار اور لین دین ایک قانونی فریم ورک کے تحت ہوگا۔
⚖️ اس نئے قانون کے اہم نکات:
ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام: ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی بنائی گئی ہے جو لائسنس جاری کرے گی۔
سرمایہ کاروں کا تحفظ: اس قانون کا مقصد عام شہریوں کو فراڈ سے بچانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
غیر قانونی سرگرمیوں پر پابندی: منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے جرائم کو روکنے کے لیے سخت ضوابط لاگو ہوں گے۔
سروس پرووائیڈرز کے لیے رجسٹریشن: اب ورچوئل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو قانونی طور پر رجسٹر ہونا پڑے گا۔
اب پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل محفوظ اور قانونی طور پر منظم ہوگا۔ اس حوالے سے مزید قانونی رہنمائی اور مشاورت کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
قانون کی آگاہی ہی آپ کا بہترین تحفظ ہے۔
⚖️ سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
🏛️ انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی۔
📞 رابطہ نمبر: 03017949065

07/03/2026

میرے پاکستانیو
55
روپے کو عید پیکج
ہی سمجھو ۔

وضاحت ​سندھ بار کونسل نے وکلاء کی رجسٹریشن (لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کے لیے) کے قوانین کو سخت کر دیا ہے:​لازمی شرط:...
07/03/2026

وضاحت

​سندھ بار کونسل نے وکلاء کی رجسٹریشن (لوئر کورٹ اور
ہائی کورٹ دونوں کے لیے) کے قوانین کو سخت کر دیا ہے:
​لازمی شرط: اب کوئی بھی درخواست (لوئر یا ہائی کورٹ) تب تک قبول نہیں کی جائے گی جب تک اس کے ساتھ CRO رپورٹ منسلک نہ ہو۔
​مجرمانہ ریکارڈ: اگر کسی درخواست گزار کا کوئی کریمنل ریکارڈ پایا گیا، تو سیکرٹری سندھ بار کونسل اس فائل کو حتمی فیصلے کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھیجے گا۔
​ہائی کورٹ انرولمنٹ: وہ وکلاء جو پہلے سے لوئر کورٹ میں انرولڈ ہیں، انہیں ہائی کورٹ کا لائسنس لینے کے لیے دوبارہ سے نئی CRO رپورٹ جمع کروانا ہوگی۔
​تصدیق کا طریقہ: یہ رپورٹ DSP رینک کے آفیسر سے تصدیق شدہ ہونی چاہیے۔ کونسل اس معاملے میں کسی بھی قسم کا حلف نامہ (Affidavit) یا انڈرٹیکنگ قبول نہیں کرے گی۔
​درمیانی عرصہ: اگر لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ انرولمنٹ کے درمیانی عرصے میں کسی وکیل کے خلاف کوئی شکایت یا کریمنل ریکارڈ سامنے آتا ہے، تو اسے ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور اس کی ہائی کورٹ انرولمنٹ روک دی جائے گی۔

مطلب
سندھ بار کونسل نے وکالت کے پیشے کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ نئے سرکلر کے مطابق:
✅ لوئر کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہر انرولمنٹ کے لیے CRO رپورٹ لازمی قرار۔
✅ رپورٹ DSP رینک کے آفیسر سے تصدیق شدہ ہونی چاہیے۔
✅ مجرمانہ ریکارڈ کی صورت میں کیس ایگزیکٹو کمیٹی کو جائے گا۔
✅ کوئی حلف نامہ یا سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔
یہ اقدام قانونی شعبے میں شفافیت اور پروفیشنلزم کو فروغ دینے کے لیے انتہائی خوش آئند ہے۔
رابطہ:
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
موبائل: 03017949065

سینیٹ سے منظور شدہ ضابطہ فوجداری (CrPC) ترمیمی بل 2025 ۔ جس میں عام شہری کے حقوق اور پولیس اصلاحات کے حوالے سے انتہائی ا...
27/02/2026

سینیٹ سے منظور شدہ ضابطہ فوجداری (CrPC) ترمیمی بل 2025 ۔ جس میں عام شہری کے حقوق اور پولیس اصلاحات کے حوالے سے انتہائی اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
بڑی قانونی پیش رفت: ضابطہ فوجداری (CrPC) میں انقلابی ترامیم کی منظوری!
​سینیٹ آف پاکستان نے ضابطہ فوجداری میں اہم ترامیم منظور کر لی ہیں، جن کا مقصد پولیس گردی کا خاتمہ اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی آسان بنانا ہے۔ ان ترامیم کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
​1. گرفتاری کی اطلاع کا حق (دفعہ 59A کا اضافہ)
​اب پولیس کسی بھی شخص کو گرفتار کرتے ہی اس کے گھر والوں، کسی دوست یا رشتہ دار کو مطلع کرنے کی قانونی طور پر پابند ہوگی۔
​اس کا مقصد پولیس کی جانب سے کسی کو خفیہ حراست میں رکھنے یا لاپتہ کرنے کے عمل کو روکنا ہے۔
​صرف ایس پی (SP) رینک کا افسر خاص وجوہات کی بنا پر اس اطلاع میں تاخیر کا حکم دے سکتا ہے۔
​2. ایف آئی آر (FIR) کے اندراج میں آسانی (دفعہ 154 میں ترمیم)
​اگر پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو اب سیشن کورٹ (Justice of Peace) کے ساتھ ساتھ براہ راست علاقہ مجسٹریٹ کو بھی اطلاع دی جا سکے گی۔
​مجسٹریٹ اس اطلاع پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے سکے گا، جس سے سیشن عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور سائل کو فوری ریلیف ملے گا۔
​3. وفات کے بعد بھی اپیل کا حق (دفعہ 431 اور 431A)
​اگر کوئی سزا یافتہ شخص اپیل کے دوران وفات پا جائے، تو اب اس کی اپیل ختم نہیں ہوگی۔
​مرنے والے کے قانونی ورثاء 30 دن کے اندر عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں تاکہ کیس لڑ کر اپنے پیارے کے دامن سے جرم کا داغ دھو سکیں۔
​اگر کوئی شخص اپیل فائل کرنے سے پہلے ہی فوت ہو جائے، تب بھی اس کے ورثاء اپیل دائر کرنے کا حق رکھیں گے۔
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔ اس معلومات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے شیئر ضرور کریں!
​منجانب:
سجاد حسین بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس، وہاڑی
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ: 03017949065

#قانون #انصاف

نوٹیفکیشن کی تصدیق (Verification)​یہ نوٹیفکیشن بالکل درست اور مستند ہے۔ نادرہ (NADRA) نے 21 فروری 2026 کو یہ ہدایات جاری...
26/02/2026

نوٹیفکیشن کی تصدیق (Verification)
​یہ نوٹیفکیشن بالکل درست اور مستند ہے۔ نادرہ (NADRA) نے 21 فروری 2026 کو یہ ہدایات جاری کی ہیں، جو کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ (برتھ اینڈ ڈیتھ رجسٹریشن) رولز 2025 کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس کا مقصد برتھ سرٹیفکیٹ میں تاریخِ پیدائش کی تبدیلی کے عمل کو مزید شفاف اور قانونی بنانا ہے۔
​2۔ نوٹیفکیشن کی وضاحت (Explanation)
​اس مراسلے کے اہم نکات یہ ہیں:
​لازمی عدالتی حکم (Court Order): اب پنجاب کے شہری یونین کونسل، میونسپل کارپوریشن یا کینٹ بورڈ سے اپنے برتھ سرٹیفکیٹ میں تاریخِ پیدائش کی درستگی براہِ راست نہیں کروا سکیں گے۔ اس کے لیے سول کورٹ کا ڈگری/حکم نامہ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
​نادرہ کا طریقہ کار: جب آپ عدالت سے رجوع کر کے برتھ سرٹیفکیٹ درست کروا لیں گے، تب نادرہ اس عدالتی حکم اور تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ (CBRC) کی بنیاد پر آپ کے شناختی کارڈ (CNIC)، ب فارم (CRC) یا نائیکوپ (NICOP) میں تبدیلی کرے گا۔
​نادرہ کی پوزیشن: نادرہ نے واضح کیا ہے کہ یہ شرط ان کی اپنی نہیں بلکہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے قوانین (By-laws) کے تحت عائد کی گئی ہے۔

🚨 طلاق کا قانونی طریقہ کار اور ای-اسٹامپ پیپر کی نئی فیسیں - اہم قانونی معلومات 🚨​کیا محض زبانی طلاق دے دینا قانوناً کاف...
26/02/2026

🚨 طلاق کا قانونی طریقہ کار اور ای-اسٹامپ پیپر کی نئی فیسیں - اہم قانونی معلومات 🚨
​کیا محض زبانی طلاق دے دینا قانوناً کافی ہے؟ بالکل نہیں! ❌
یاد رکھیں کہ جب تک متعلقہ یونین کونسل سے طلاق کا سرٹیفکیٹ (Divorce Certificate) حاصل نہ کیا جائے، نادرہ (NADRA) کے ریکارڈ میں اور قانون کی نظر میں شادی برقرار سمجھی جاتی ہے۔ دوسری شادی یا جائیداد کے معاملات میں مستقبل کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے قانونی طریقہ کار اپنانا انتہائی ضروری ہے۔
​✅ قانونی طریقہ کار کے اہم مراحل:
1️⃣ طلاق نامہ باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر تحریر کرنا اور گواہان کے دستخط لینا۔
2️⃣ یونین کونسل کے چیئرمین اور بیوی کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے تحریری نوٹس بھیجنا۔
3️⃣ 90 دن کی قانونی مدت (جس میں صلح کی کوشش کی جاتی ہے) کا مکمل ہونا۔
4️⃣ یونین کونسل سے طلاق موثر ہونے کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا۔
​⚠️ پنجاب میں ای-اسٹامپ کی نئی فیسیں (اہم اپڈیٹ):
حال ہی میں پنجاب میں اسٹامپ ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب:
🔸 طلاق نامہ (Divorce Deed): 1000 روپے کے ای-اسٹامپ پر تحریر کیا جاتا ہے۔
🔸 بیان حلفی (Affidavit): کسی بھی قانونی بیان حلفی کے لیے کم از کم 300 روپے کا اسٹامپ درکار ہوتا ہے۔
​قانونی معاملات میں کسی بھی قسم کی غلطی آپ کا وقت اور پیسہ ضائع کر سکتی ہے۔ درست قانونی رہنمائی کے لیے ہمیشہ ایک مستند وکیل سے مشورہ کریں۔
​⚖️ مزید قانونی رہنمائی اور مشاورت کے لیے رابطہ کریں:
سجاد حسین بھٹی (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
📍 ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی۔
📞 رابطہ نمبر: 03017949065

📢 سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ: کیا محتسب (Ombudsperson) اپنے فیصلے کے دفاع کے لیے اپیل کر سکتا ہے؟​سپریم کورٹ نے ...
24/02/2026

📢 سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ: کیا محتسب (Ombudsperson) اپنے فیصلے کے دفاع کے لیے اپیل کر سکتا ہے؟
​سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی ایکٹ، 2019 کے تحت ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ واضح کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ محتسب یا حکومت ایسے معاملات میں "متاثرہ فریق" (Aggrieved Person) نہیں بن سکتے جہاں نجی تنازعات میں ان کا کردار صرف ایک غیر جانبدار منصف کا ہو۔
​⚖️ اہم قانونی نکات اور عدالتی مشاہدات
​موقف (Locus Standi): محتسب اور اس کا سیکرٹریٹ قانونی طور پر ایک غیر جانبدار اور نیم عدالتی ادارہ ہے، جو کسی اعلیٰ عدالت میں اپنے ہی فیصلے کا دفاع کرنے کا قانونی حق (Locus Standi) نہیں رکھتا۔
​متاثرہ فریق کی تعریف: "متاثرہ فریق" صرف وہ شخص ہوتا ہے جس کے ذاتی یا ملکیتی حقوق پر عدالتی فیصلے کا براہِ راست اثر پڑا ہو؛ محض فیصلے سے اختلاف کرنا اپیل کا حق نہیں دیتا۔
​غیر جانبداری کا تحفظ: اگر محتسب اپنے فیصلے کے دفاع کے لیے عدالتوں میں فریق بنے گا تو اس کی ادارے کی حیثیت اور غیر جانبداری متاثر ہوگی۔
​حکومت کا کردار: صوبائی حکومت بھی صرف کسی فورم کے فیصلے کو بحال کروانے کے لیے اپیل نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا اپنا کوئی قانونی حق متاثر نہ ہو رہا ہو۔
​اختیارِ سماعت: ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ محتسب کے دائرہ اختیار کی حدود کا تعین کرے، خاص طور پر جب معاملہ ملکیتی تنازعات یا تقسیمِ جائیداد کا ہو۔
​📋 کیس کی مکمل تفصیلات
​عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان (اپیلٹ جورسڈکشن)
​معزز ججز: جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد
​کیس نمبر: سول پٹیشن نمبر 1038-P آف 2025
​تاریخِ سماعت: 2 جنوری 2026
​فریقین: حکومتِ خیبر پختونخوا اور محتسب بنام شبیر خان و دیگر
​🚩 نتیجہ: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محتسب کا کام انصاف کرنا ہے، فریق بننا نہیں۔ عدالت نے حکومت اور محتسب کی اپیل کو "موقف کی کمی" (Lack of Locus Standi) کی بنیاد پر خارج کر دیا۔
​منجانب:
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی۔
📞 رابطہ نمبر: 03017949065

جب کسی شخص کو پولیس یا سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اٹھا کر لے جائیں، تو سب سے بڑا خطرہ اسے "لاپتہ" کر کے بعد میں "جعلی پ...
24/02/2026

جب کسی شخص کو پولیس یا سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اٹھا کر لے جائیں، تو سب سے بڑا خطرہ اسے "لاپتہ" کر کے بعد میں "جعلی پولیس مقابلے" میں مار دینے کا ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک عام شہری کو فوری طور پر درج ذیل قانونی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ حراست کو ریکارڈ پر لایا جا سکے:
​1. فوری طور پر حبسِ بے جا کی پٹیشن (Section 491 Cr.P.C)
​سب سے مؤثر اور فوری قدم ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ میں آرٹیکل 491 کے تحت "حبسِ بے جا" (Habeas Corpus) کی درخواست دائر کرنا ہے۔
​عدالت فوری طور پر ایک "بیلف" (Bailiff) مقرر کرتی ہے جو متعلقہ تھانے پر چھاپہ مار کر مغوی کو برآمد کرتا ہے۔
​حراست ریکارڈ پر آ جانے کے بعد پولیس کے لیے "مقابلہ" کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
​2. سینٹرل کمپلینٹ سیل (1787) اور اعلیٰ حکام کو اطلاع
​پولیس کے مرکزی شکایتی سیل (CPO) اور دیگر اعلیٰ حکام کو فوری تحریری اطلاع دیں:
​آئی جی پنجاب کا سرکلر: آئی جی پنجاب نے اپنے سرکلر نمبر 4870/Ops (مورخہ 12-06-2024) میں واضح کیا ہے کہ جعلی مقابلوں کے خلاف "زیرو ٹولرنس" پالیسی اپنائی جائے گی۔
​فوری طور پر 1787 پر کال کریں اور متعلقہ افسران (DPO/RPO) کو رجسٹرڈ ڈاک یا ای میل کے ذریعے مطلع کریں کہ فلاں شخص کو پولیس نے اٹھایا ہے۔
​3. ڈیجیٹل ثبوتوں کا تحفظ
​لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ڈیجیٹل ثبوتوں کی اہمیت پر زور دیا ہے:
​جس جگہ سے بندہ اٹھایا گیا، وہاں کے CCTV فوٹیج فوری طور پر محفوظ کر لیں۔
​موبائل فون کی لوکیشن اور اگر ممکن ہو تو اہلکاروں کی ویڈیوز بنا لیں تاکہ عدالت میں ثابت کیا جا سکے کہ بندہ پولیس کی تحویل میں تھا۔
​4. انسانی حقوق کے کمیشن سے رجوع
​نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR): اس ادارے کو فوری شکایت درج کروائیں۔
​ٹارچر اور کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022: اگر تشدد کا خدشہ ہو تو اس قانون کے تحت کارروائی کی استدعا کریں، جس کی تفتیش ایف آئی اے (FIA) کرنے کی مجاز ہے۔
​5. آئینی حقوق کا سہارا
​یاد رکھیں کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کے تحت ہر شہری کو جان کا تحفظ اور فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ پولیس کسی بھی شخص کو جج یا جلاد بن کر مارنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
​رابطہ اور قانونی معاونت:
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس، وہاڑی
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی۔
رابطہ نمبر: 03017949065

اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ اور سروس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثی...
24/02/2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ اور سروس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ذیل میں اس ججمنٹ کا مکمل خلاصہ اور قانونی نکات پیش ہیں:
​اسلام آباد ہائی کورٹ: 20 سالہ سروس کے بعد ریٹائرمنٹ کے قواعد قانونی قرار
​اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی نے رٹ پٹیشن نمبر 1355/2020 (سید محسن شاہ بنام فیڈریشن آف پاکستان) اور دیگر متعلقہ پٹیشنز پر ایک جامع فیصلہ جاری کیا۔
​اہم قانونی نکات اور فیصلے کا خلاصہ:
​قواعد کی قانونی حیثیت: عدالت نے Civil Servants (Directory Retirement from Service) Rules, 2020 کو آئینِ پاکستان کے مطابق اور قانونی قرار دیا۔
​20 سالہ سروس اور ریٹائرمنٹ: عدالت نے قرار دیا کہ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ 20 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازم کو "عوامی مفاد" (Public Interest) میں ریٹائر کر سکے۔
​بنیادی حق کا تصور: ملازم کا یہ کوئی موروثی یا طے شدہ حق (Vested Right) نہیں ہے کہ وہ لازمی 60 سال کی عمر تک سروس کرے، بلکہ 20 سال بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
​ریٹائرمنٹ کی بنیادیں: ڈائریکٹری ریٹائرمنٹ کے لیے درج ذیل وجوہات فراہم کی گئی ہیں:
​مسلسل اوسط درجے کی کارکردگی کی رپورٹس (PERs)۔
​ترقی کے لیے دو بار نظر انداز (Supersession) ہونا۔
​کرپشن، پلی بارگین یا رضاکارانہ طور پر پیسے واپسی (Voluntary Return)۔
​غیر مناسب طرز عمل (Conduct Unbecoming)۔
​حقِ سماعت اور اپیل: ان قواعد کے تحت ملازم کو شوکاز نوٹس اور ذاتی سماعت کا پورا موقع دیا جائے گا، اور فیصلے کے خلاف اپیل یا ریویو کا حق بھی موجود ہے، جو آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے کرتا ہے۔
​عدالتی مداخلت کی حد: عدالت نے واضح کیا کہ پالیسی سازی حکومت کا کام ہے اور جب تک کوئی فیصلہ غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی نہ ہو، عدالت انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
​کیس کی تفصیلات:
​عدالت: اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد۔
​فریقین: سید محسن شاہ، احمد حنیف اورکزئی اور شیخ ظفر محمود بنام وفاقِ پاکستان و دیگر۔
​تاریخِ فیصلہ: 15 جون، 2021۔
​منجانب:
سجاد حسین بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
​ Court

اہم عدالتی فیصلہ: کنٹریکٹ ملازمین کی بحالی اور قانونی چارہ جوئی​کیا ایک پرائیویٹ کمپنی کا کنٹریکٹ ملازم اپنی برطرفی کے خ...
24/02/2026

اہم عدالتی فیصلہ: کنٹریکٹ ملازمین کی بحالی اور قانونی چارہ جوئی
​کیا ایک پرائیویٹ کمپنی کا کنٹریکٹ ملازم اپنی برطرفی کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے (WP No. 1287/2020) میں اس حوالے سے اہم ترین قانونی نکات واضح کر دیے ہیں۔
​کیس کا پس منظر
​عہدہ اور تعیناتی: پٹیشنر کو 05 ستمبر 2014 کو ماری پٹرولیم کمپنی لمیٹڈ میں بطور جونیئر ایڈمن اسسٹنٹ کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا۔
​واقعہ: ملازم کو 13 جون 2019 کو ایک فوجداری مقدمہ (سائبر کرائم) میں گرفتار کیا گیا، تاہم فروری 2020 میں اسے رہا کر دیا گیا۔
​تنازعہ: رہائی کے بعد ملازم نے اپنی زبانی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ سے بحالی اور واجبات کی ادائیگی کی استدعا کی۔
​اہم قانونی نکات اور عدالتی مشاہدات
​عدالت نے اس کیس میں درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:
​ماسٹر اینڈ سرونٹ (آقا اور غلام) کا تعلق: عدالت نے قرار دیا کہ پٹیشنر اور کمپنی کے درمیان تعلق 'ماسٹر اینڈ سرونٹ' کی بنیاد پر ہے، جو کنٹریکٹ کی شرائط سے طے ہوتا ہے۔
​کمپنی کی حیثیت (Non-Statutory Rules): ماری پٹرولیم ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے جس میں حکومتِ پاکستان کے حصص (Shares) صرف 18.48% ہیں، لہٰذا اس کے قواعد و ضوابط 'نان سٹیچوٹری' (Non-Statutory) ہیں۔
​آرٹیکل 199 اور رٹ کی حیثیت: عدالت نے واضح کیا کہ جہاں کمپنی کے قوانین نان سٹیچوٹری ہوں، وہاں ملازم اپنی برطرفی کے خلاف آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر نہیں کر سکتا۔
​درست قانونی راستہ: ایسی صورت میں متاثرہ ملازم صرف نقصانات کے ازالے (Suit for Damages) کے لیے سول عدالت سے رجوع کر سکتا ہے، بحالی کے لیے نہیں۔
​عدالت کا فیصلہ
​اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ کمپنی کے قواعد سرکاری نہیں ہیں، اس لیے یہ رٹ پٹیشن قابلِ سماعت نہیں ہے اور اسے خارج کر دیا گیا۔
​قانونی مشاورت کے لیے رابطہ کریں:
​سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
​رابطہ نمبر: 03017949065

ہوشیار! کیا ایک ہی جرم پر دو ایف آئی آر (FIR) درج ہو سکتی ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ! ⚖️​کرپشن اور غبن کے پی...
23/02/2026

ہوشیار! کیا ایک ہی جرم پر دو ایف آئی آر (FIR) درج ہو سکتی ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ! ⚖️
​کرپشن اور غبن کے پیسوں سے پلاٹ یا گاڑیاں خریدنے والوں کے لیے اب بچنا ناممکن ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) کے تحت دوسری ایف آئی آر کو قانونی قرار دے کر ایک نیا سنگ میل طے کر دیا ہے۔
​📝 کیس کے فریقین اور پس منظر
​پٹیشنرز: محمد رفیق اور خالد محمود (آئییسکو IESCO کے ملازمین)۔
​رسپانڈنٹ: ڈائریکٹر جنرل، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA)۔
​تاریخِ فیصلہ: 28 جنوری 2022۔
​عدالت: اسلام آباد ہائی کورٹ (جناب جسٹس محسن اختر کیانی)۔
​واقعہ کیا تھا؟
آئییسکو (IESCO) کے ان ملازمین پر الزام تھا کہ انہوں نے جعلی بینک اسٹیمپس کے ذریعے کروڑوں روپے (تقریباً 20 کروڑ سے زائد) کا غبن کیا۔ پہلے ان پر تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت مقدمہ درج ہوا، لیکن دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ انہوں نے اسی حرام کی کمائی سے پلاٹ اور گاڑیاں بھی خرید رکھی ہیں، جس پر FIA نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ایک اور علیحدہ مقدمہ درج کر لیا۔
​🔍 عدالت کے طے کردہ اہم قانونی نکات
​عدالتِ عالیہ نے ملزمان کی جانب سے دوسری ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درج ذیل قانونی اصول واضح کیے:
​اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ ایک خاص قانون ہے: اس ایکٹ کی دفعہ 39 کے تحت اسے دیگر تمام قوانین پر برتری (Overriding Effect) حاصل ہے۔
​منی لانڈرنگ ایک خود مختار جرم ہے: غبن کرنا ایک الگ جرم ہے، لیکن اس پیسے سے اثاثے بنانا (Proceeds of Crime) اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ایک بالکل علیحدہ اور خود مختار جرم تصور ہوگا، جس کے لیے الگ ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے۔
​ثبوت کی ذمہ داری (Burden of Proof): عام مقدمات میں استغاثہ جرم ثابت کرتا ہے، لیکن اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ملزم کو خود ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے اثاثے جائز ذرائع سے بنے ہیں۔
​سفارشاتِ FATF: عدالت نے قرار دیا کہ منی لانڈرنگ جیسے جدید اور پیچیدہ معاشی جرائم سے نمٹنے کے لیے عالمی معیارات کے مطابق آزادانہ تفتیش ضروری ہے۔
​💡 فیصلے کا خلاصہ
​عدالت نے قرار دیا کہ "صغراں بی بی کیس" (جس میں ایک واقعے کی دو ایف آئی آر سے منع کیا گیا تھا) کا اصول یہاں لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ منی لانڈرنگ ایک مسلسل اور مختلف نوعیت کا جرم ہے۔ لہذا، ملزمان کا ٹرائل جاری رہے گا۔
​قانونی رہنمائی اور مشاورت کے لیے:
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس، وہاڑی
چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی۔
03017949065

Address

Chamber No 13 Nazar Duggal Block District Courts Vehari
Vehari
61100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Insaf Law Associates Vehari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Insaf Law Associates Vehari:

Share

Category

Our Story

This is the official page of Insaf Law Associates Vehari (Chamber No. 13 Naza Dugal Block District Courts Vehari). This page offers family rules as well as Urdu satire, all genres of Urdu literature, latest news and bold comments on news ,Latest Caselaw,Legal Article,Legal Videos,and something more knowledge about basic and latet Pakistani Law.. Its main objectives are to introduce the law into common sense reform, to provide as much free legal practice as possible for the extremely poor and helpless.

☆ This law also includes the promotion of Urdu literature, highlighting the love of Urdu literature and the importance of Urdu language in the new generation. In addition, we also have a Facebook group whose link is being given. Anyone can join

https://web.facebook.com/groups/insaflawassociatesveharipak/