19/06/2026
وراثت میں بہن کا حق دینے سے انکاری بھائیوں کیخلاف بورڈ آف ریونیو کا سخت فیصلہ۔ قبضہ نہیں، قانون اور انصاف چلے گا!
کیا محض قبضے کی بنیاد پر وراثت میں بھائیوں کو بہن کا حصہ ہڑپ کرنے کا حق مل سکتا ہے؟
جانیں بورڈ آف ریونیو پنجاب کا ایک اور تاریخی فیصلہ!
⚖️ کیس کی تفصیلات
مقدمہ: نذر عباس بنام اسٹیٹ (نزیہ اشرف عرف نزیہ حبیب وغیرہ)
رپورٹڈ فیصلہ: 2026 C L C 471
عدالت: بورڈ آف ریونیو، پنجاب (ممبر جوڈیشل-I، بابر امان بابر)
فیصلے کی تاریخ: 15 ستمبر 2025
رقبہ: 06 کنال 11 مرلہ (موضع جندوال، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ)
عدالت کا حتمی فیصلہ
عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ مشترکہ وراثتی زمین میں کوئی بھی فریق محض اپنے قبضے کی بنیاد پر کسی خاص حصے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ قانون کے اصول "ناقص کامل" کے تحت تمام قانونی وارثان کو برابر مالیت کی زمین دی جائے گی۔ برابر مالیت کی فراہمی کے لیے زمین کا بالکل ٹھوس یا ایک جگہ پر ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ پانی اور راستے کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے حصص تقسیم کیے جائیں گے۔ پٹیشنرز (بھائیوں) نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف کوئی بھی قانونی خامی ثابت نہیں کی اور وہ محض اپنی بہن کو اس کا حق دینے سے گریزاں تھے اور کارروائی کو طول دے رہے تھے۔ لہذا، عدالت نے نظرثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) کا فیصلہ برقرار رکھا۔
📌 اہم قانونی نکات (آسان فہم)
قبضہ ملکیت نہیں: مشترکہ وراثتی زمین پر زبردستی یا محض طویل قبضے سے کوئی بھائی بہن کا حق نہیں چھین سکتا۔
اصول "ناقص کامل": تمام قانونی وارثان (بشمول بہنوں کے) برابر مالیت کے حقدار ہیں۔
سہولتوں کی برابری: اگر زمین ایک جگہ پر یکساں یا ٹھوس نہ ہو، تو راستے اور پانی/نکاسی آب کی سہولیات کو دیکھتے ہوئے حصہ تقسیم کیا جائے گا۔
بہنوں کے حقوق کا تحفظ: عدالتوں نے واضح کر دیا ہے کہ خواتین کے وراثتی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بلاوجہ مقدمے بازی کر کے بہنوں کا حصہ روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
🏛️ فریقین کے حوالہ جات و دلائل
پٹیشنرز / بھائیوں کا موقف:
پٹیشنرز کا مؤقف تھا کہ وہ زمین پر قابض ہیں اور ریونیو آفیسر کی جانب سے کی گئی تقسیم سے ان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران ریونیو آفیسر کے سامنے پیش ہونے سے بھی گریز کیا۔
رسپانڈنٹ / بہن کا موقف:
رسپانڈنٹ (بہن اور دیگر شریک مالکان) کا مؤقف تھا کہ یہ وراثتی زمین ہے جس میں شریعت اور قانون کے مطابق تمام وارثان کا برابر کا حصہ بنتا ہے۔ نچلی عدالتوں (ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل کمشنر) نے ریکارڈ اور قانون کا جائزہ لے کر درست اور میرٹ پر فیصلے دیے ہیں جنہیں چیلنج کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
📞 رابطہ و مشاورت
اگر آپ کو بھی جائیداد، وراثت یا خاندانی تقسیم کے مسائل کا سامنا ہے تو آج ہی ہم سے رجوع کریں:
سجاد حسین بھٹی * ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی * ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
✨ عوام الناس سے گزارش: اگر آپ کو ہمارے پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔