Insaf Law Associates Vehari

Insaf Law Associates Vehari "Dedicated to providing expert legal advice and representation in Vehari.
(3)

Our team of experienced lawyers is committed to ensuring justice and protecting your rights."

وزیرِ اطلاعات و ثقافت  عظمیٰ زاہد بخاری نے طارق متین اور شہباز گل کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیااپ کے خیال کے مطا...
19/08/2026

وزیرِ اطلاعات و ثقافت عظمیٰ زاہد بخاری نے طارق متین اور شہباز گل کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیا
اپ کے خیال کے مطابق طارق متین اور شہباز گل کے خلاف اس مقدمے میں عظمی زاہد بخاری صاحبہ کو کوئی فائدہ حاصل ہوگا
بس یار اج کل پاکستان میں یہ عام ہو گیا ہے کہ جب بھی کسی شخص کے پاس کوئی اختیار موجود ہوتا ہے تو وہ دوسروں کو کسی بھی قابل نہیں سمجھے گا

مقدمہ عمران خان کی صحت اور طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم ترین فیصلہ جاری! قیدی کے بنیادی حقوق اور علاج سے متعلق ...
18/08/2026

مقدمہ عمران خان کی صحت اور طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم ترین فیصلہ جاری! قیدی کے بنیادی حقوق اور علاج سے متعلق تاریخی احکامات صادر کر دیے

مقدمے کی تفصیلات:
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان (اپیلٹ جورسڈکشن)

تاریخ فیصلہ: 18 اگست 2026

مقدمہ نمبر: Criminal Petition No. 1370 of 2026 (مربوط دیگر اپیلوں کے ساتھ)

فریقین: عمران احمد خان نیازی بنام غفور انجم سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل اڈیالہ وغیرہ

عدالت عظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ ریاست اور عدالت کی آئینی اور قانونی ذمے داری ہے کہ وہ حراست میں موجود افراد کی زندگی، صحت، وقار اور سلامتی کا تحفظ کریں۔ قیدی صرف سزا پانے کی وجہ سے انسانی سلوک اور ضروری طبی نگہداشت کے حق سے محروم نہیں ہو جاتا۔ عدالت نے حکم دیا کہ سائل کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے جہاں ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ اور علاج کرے گا۔ اس کے علاوہ خاندان کے افراد اور وکلا کی ملاقاتوں اور ٹیلیفونک رابطے کے حوالے سے بھی ضابطے طے کر دیے گئے ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

اہم قانونی نکات:
قیدی کی جیل میں بگڑتی ہوئی صحت اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی بنیادی حقوق (آرٹیکل 9) کا حصہ ہے۔

حکومت یا جیل حکام کے پاس اس بات کی کوئی قانونی ممانعت نہیں ہے کہ وہ قیدی یا اس کے اہل خانہ کو طبی رپورٹوں اور ٹیسٹ کے نتائج فراہم نہ کریں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہر زیر حراست شخص کے علاج معالجے اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمے داری ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کے دوران سیاسی اجتماعات یا اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

پٹیشنر / اپیلٹ کی جانب سے دلائل و حوالہ جات:

پٹیشنر کے کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی صحت خطرے میں ہے، اس لیے انہیں ریٹینا اسپیشلسٹ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان و ڈاکٹر عاصم یوسف سے چیک اپ کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی استدعا کی گئی کہ ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے پیش نظر انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ڈینڈر / ریسپانڈنٹ کی جانب سے مؤقف:
ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ابتدائی طور پر پٹیشن کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات اٹھائے اور جیل کے طبی معائنے کا خلاصہ پیش کیا۔

تاہم، عدالت کی طرف سے صحت کی اہمیت اور انسانی ہمدردی کے تناظر میں دلائل سنے گئے اور مناسب احکامات جاری کیے گئے۔
اگر آپ کو فراہم کردہ معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس چیمبر نمبر 13 نذر دوگل بلاک ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
فیصلہ کی مکمل نقل اپ پڑھ سکتے ہیں
اور اس بابت اگر اپ اپنی رائے دینا چاہیں یا فیصلہ کے متعلق اپ کی کیا رائے ہے تو کمنٹس باکس حاضر ہیں

پولیس افسران کے لیے اہم انتباہ! فرض میں غفلت اور بدتمیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔محکمانہ کارروائی کے تحت ایس ایچ...
16/08/2026

پولیس افسران کے لیے اہم انتباہ! فرض میں غفلت اور بدتمیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
محکمانہ کارروائی کے تحت ایس ایچ او معطل، پولیس لائنز منتقل!

سرکاری ملازمین کی پنشن روکنا یا ختم کرنا اب غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ جاری!​فیصلے کی تفصیلات:​مقدمہ نم...
16/08/2026

سرکاری ملازمین کی پنشن روکنا یا ختم کرنا اب غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ جاری!
​فیصلے کی تفصیلات:

​مقدمہ نمبر: سی پی ایل اے نمبر 4153 آف 2022

​فریقین: بشیر حسین (مرحوم) بذریعہ مسز عابده پروین (بیوہ) بنام حکومت خیبر پختونخواہ و دیگر
​فیصلے کی تاریخ: 06 اگست 2026

​عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان (چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ)

​عدالت کا حتمی فیصلہ:

​عدالت نے قرار دیا کہ ملازم کی بیوہ فیملی پنشن سمیت تمام قانونی مراعات کی حقدار ہے۔

​متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے کر کے فوری طور پر پنشن جاری کریں۔

​ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا جس میں پنشن کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔

​سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پنشن کوئی بھیک یا احسان نہیں بلکہ محنت کی کمائی ہے۔

​بوڑھاپے میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ ریاست اور قانون کی اولین ذمے داری ہے
۔
​ایسے فیصلوں سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔

​اہم قانونی نکات:
​پنشن ملازم کا کوئی عطیہ یا خیرات نہیں بلکہ ایک دستاویزی اور قانونی حق ہے۔

​قانون کی تشریح میں ہمیشہ ملازم یا کمزور فریق کے حق میں فیصلہ دیا جانا چاہیے۔

​سروس میں کمی کو پورا کرنے (condonation) کا اختیار مجاز اتھارٹی کے پاس موجود ہے۔

​بلاجواز تاخیر یا من مانی انتظامی کارروائی ملازمین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

​مرحوم بشیر حسین کی بیوہ نے موقف اپنایا کہ ان کے خاوند نے ایمانداری سے فرائض سرانجام دیے۔
​قانون کے مطابق سروس کی مدت میں کمی کو مجاز اتھارٹی پہلے ہی منظور کر چکی تھی۔
​اس لیے خاندان کو فیملی پنشن سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی اور قانون کے منافی ہے۔


​سرکاری حکام نے مؤقف اپنایا کہ قانون کے تحت مطلوبہ اہلیت پوری نہیں ہوتی تھی۔

​ان کا کہنا تھا کہ سروس کی مدت میں چھوٹ کے لیے شاندار کارروائی کی شرط پوری ہونا ضروری ہے۔

​اگر آپ کو فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔

سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس چیمبر نمبر 13 نذر دوگل بلاک ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
رابطہ نمبر 03017949065
فیصلہ کی کاپی کمنٹ میں چیک کریں

14/08/2026

ہماری طرف سے تمام پاکستانیوں کو
"جشن آزادی مبارک"

10/08/2026

دفعہ 164 ض ف کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مجسٹریٹ اسی تھانے یا ضلع سے ہو، اصل شرط صرف قانونی تقاضوں کی تکمیل ہے۔

#قانون

09/08/2026

کیا شوہر سالوں پرانا نفقہ دینے سے انکار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے شوہروں کے تمام فنی بہانے اور تکنیکی حیلے مسترد کر دیے!

سپریم کورٹ آف پاکستان کا بیوی کے گزشتہ نفقہ (Past Maintenance) کے حوالے سے تاریخی فیصلہ! عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کی جانب سے نفقہ نہ دینا مسلسل غلطی (Continuing Wrong) ہے اور تاخیر کی بنیاد پر شوہر اپنے شرعی اور قانونی فرض سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے شوہر کی اپیل کو مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ اسلام اور پاکستان کا قانون مظلوم اور لاچار خواتین کے تحفظ کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو نفقہ اور نان ونفقہ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ نہ صرف مستقبل بلکہ ماضی کے تمام واجب الادا نفقے کا بھی پابند رہے گا۔ صرف وقت گزر جانے یا دعویٰ دائر کرنے میں تاخیر کی وجہ سے شوہر اپنی مالی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے وضاحت کی کہ غیر ادا شدہ نفقہ شوہر کے ذمے ایک واجب الادا قرض ہے جس کی ادائیگی لازمی ہے۔

اہم قانونی نکات (Key Legal Findings):
مسلسل غلطی (Continuing Wrong): نفقہ نہ دینا سیکشن 23 لمیٹیشن ایکٹ کے تحت ایک مسلسل غلطی ہے، جس سے ہر گزرتے مہینے بیوی کو نیا حقِ دعویٰ (Fresh Cause of Action) حاصل ہوتا ہے۔

حدِ تقاضا (Limitation Period): لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 120 کے تحت گزشتہ نفقے کا دعویٰ دائر کرنے کی مدت حقِ دعویٰ پیدا ہونے کے بعد 6 سال تک ہو سکتی ہے۔

قانونی قرض (Debt Owed): گزشتہ زمانے کا نفقہ شوہر پر ایک قانونی قرض کی مانند ہے جسے تکنیکی اور قانونی نقطہ نظر کا سہارا لے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اسلامی احکامات: اسلامی قانون اور قرآنی آیات کی روشنی میں شوہر پر بیوی کی تمام بنیادی ضرورتیں (روٹی، کپڑا، مکان، علاج) فراہم کرنا فوری اور لازمی فرض ہے۔

ا پٹیشنر کی طرف سے پیش کردہ نظائر (Citations Referred):
Sardar Muhammad v. Mst. Nasima Bibi and others (PLD 1966 (W.P.) Lah. 703)

مدعا علیہ کے حق میں درج نظائر (Citations Provided/Relied in Judgment):
Muhammad Nawaz v. Mst. Khurshid Begum and 3 others (PLD 1972 SC 302)

Mst. Farah Naz v. Judge Family Court, Sahiwal and others (PLD 2006 SC 457)

Mst. Ramzanu Bibi v. Ibrahim (deceased) through L.Rs and others (2025 SCMR 955)
اگر آپ ہماری اس کاوش اور معلومات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو براہِ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لازمی لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی

09/08/2026

قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی شخص کا دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت دوبارہ بیان ریکارڈ کرنے پر کوئی ممانعت موجود نہیں

اعلی عدالتی نظائر کی روشنی میں محض پہلے بیان کی موجودگی دوسرے بیان کو غیر قانونی یا ناقابل قبول نہیں بناتی

09/08/2026

غیر شادی شدہ بیٹی کا پنشن پر حق ⚖️
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بعض حالات میں فوت شدہ سرکاری ملازم کی غیر شادی شدہ بیٹی والد یا والدہ کی پنشن کی حقدار ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل حق کا تعین متعلقہ پنشن قوانین اور کیس کے حالات کے مطابق ہوتا ہے۔
اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں اور مستند قانونی رائے ضرور لیں۔
For more info
Follow
Insaf Law Associates Vehari

کیا اب سابقہ فاٹا اور پاٹا (Ex-PATA) کے علاقوں میں بھی جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس لاگو ہوگا؟ایف بی آر کے نئے نوٹیفک...
09/08/2026

کیا اب سابقہ فاٹا اور پاٹا (Ex-PATA) کے علاقوں میں بھی جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس لاگو ہوگا؟
ایف بی آر کے نئے نوٹیفکیشن نے ٹیکس کے نظام میں بڑا اہم حکم نامہ جاری کر دیا ہے!

ایف بی آر (FBR) کی جانب سے ایکس پاٹا (Ex-PATA) کے علاقوں کے لیے ایک انتہائی اہم اور نیا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ فائنانس ایکٹ 2026 کے تحت سابقہ فاٹا اور پاٹا کے لیے حاصل شدہ انکم ٹیکس استثنیٰ (Tax Exemptions) کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس نئے حکم نامے کے بعد جائیداد کی خریدو فروخت، انتقال اور رجسٹریشن پر اب فائلرز اور نان فائلرز کو طے شدہ شرح کے مطابق ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ عوام الناس اور خصوصاً جائیداد کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے یہ قانونی تبدیلی اور نئی ٹیکس ریٹس جاننا نہایت ضروری ہے۔

Key Ruling
فائنانس ایکٹ 2026 کے ذریعے Ex-PATA کے علاقوں کو حاصل تمام انکم ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی ود ہولڈنگ ٹیکس شقیں اب Ex-PATA کے علاقوں پر بھی مکمل طور پر لاگو ہوں گی۔

تمام ود ہولڈنگ ایجنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق ٹیکس کاٹ کر سرکاری خزانے میں جمع کروائیں۔

سروس ڈیلیوری سینٹر بحرین کو FTN نمبر 9050784 جاری کر دیا گیا ہے تاکہ تمام ٹیکس چالان وقت پر جمع ہوں۔

جائیداد کی فروخت (Section 236C) اور خرید (Section 236K) پر فائلر اور نان فائلر کے لیے الگ الگ ٹیکس شرح مقرر کر دی گئی ہے۔

ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ: فائنانس ایکٹ 2026 کے بعد اب Ex-PATA کے علاقوں میں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل نہیں رہا۔
جائیداد کی فروخت پر ٹیکس (Sec 236C): فائلر کے لیے 2.75% جبکہ نان فائلر کے لیے 11.50% ٹیکس لاگو ہوگا۔

50 ملین تک جائیداد کی خرید پر ٹیکس (Sec 236K): فائلر کے لیے 1.25% جبکہ نان فائلر کے لیے 10.50%۔

50 سے 100 ملین تک کی جائیداد: فائلر کے لیے 1.25% جبکہ نان فائلر کے لیے 14.50%۔

100 ملین سے زائد کی جائیداد: فائلر کے لیے 1.25% جبکہ نان فائلر کے لیے 18.50% ٹیکس کاٹا جائے گا۔

تمام متعلقہ افسران کو اس حکم نامے پر فوری اور سخت عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگر آپ کو ہمارے پیج سے قانونی معلومات اور آگاہی حاصل ہو رہی ہے، تو اس پوسٹ کو اپنے دوستوں اور سوشل میڈیا گروپس میں ضرور شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
For more info
Check comment Box

Address

Chamber No 13 Nazar Duggal Block District Courts Vehari
Vehari
61100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Insaf Law Associates Vehari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Insaf Law Associates Vehari:

Shortcuts

Share

Category