Insaf Law Associates Vehari

Insaf Law Associates Vehari "Dedicated to providing expert legal advice and representation in Vehari.
(3)

Our team of experienced lawyers is committed to ensuring justice and protecting your rights."

وراثت میں بہن کا حق دینے سے انکاری بھائیوں کیخلاف بورڈ آف ریونیو کا سخت فیصلہ۔ قبضہ نہیں، قانون اور انصاف چلے گا!کیا محض...
19/06/2026

وراثت میں بہن کا حق دینے سے انکاری بھائیوں کیخلاف بورڈ آف ریونیو کا سخت فیصلہ۔ قبضہ نہیں، قانون اور انصاف چلے گا!

کیا محض قبضے کی بنیاد پر وراثت میں بھائیوں کو بہن کا حصہ ہڑپ کرنے کا حق مل سکتا ہے؟
جانیں بورڈ آف ریونیو پنجاب کا ایک اور تاریخی فیصلہ!
⚖️ کیس کی تفصیلات
مقدمہ: نذر عباس بنام اسٹیٹ (نزیہ اشرف عرف نزیہ حبیب وغیرہ)
رپورٹڈ فیصلہ: 2026 C L C 471
عدالت: بورڈ آف ریونیو، پنجاب (ممبر جوڈیشل-I، بابر امان بابر)
فیصلے کی تاریخ: 15 ستمبر 2025
رقبہ: 06 کنال 11 مرلہ (موضع جندوال، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ)

عدالت کا حتمی فیصلہ
عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ مشترکہ وراثتی زمین میں کوئی بھی فریق محض اپنے قبضے کی بنیاد پر کسی خاص حصے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ قانون کے اصول "ناقص کامل" کے تحت تمام قانونی وارثان کو برابر مالیت کی زمین دی جائے گی۔ برابر مالیت کی فراہمی کے لیے زمین کا بالکل ٹھوس یا ایک جگہ پر ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ پانی اور راستے کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے حصص تقسیم کیے جائیں گے۔ پٹیشنرز (بھائیوں) نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف کوئی بھی قانونی خامی ثابت نہیں کی اور وہ محض اپنی بہن کو اس کا حق دینے سے گریزاں تھے اور کارروائی کو طول دے رہے تھے۔ لہذا، عدالت نے نظرثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) کا فیصلہ برقرار رکھا۔
📌 اہم قانونی نکات (آسان فہم)
قبضہ ملکیت نہیں: مشترکہ وراثتی زمین پر زبردستی یا محض طویل قبضے سے کوئی بھائی بہن کا حق نہیں چھین سکتا۔
اصول "ناقص کامل": تمام قانونی وارثان (بشمول بہنوں کے) برابر مالیت کے حقدار ہیں۔
سہولتوں کی برابری: اگر زمین ایک جگہ پر یکساں یا ٹھوس نہ ہو، تو راستے اور پانی/نکاسی آب کی سہولیات کو دیکھتے ہوئے حصہ تقسیم کیا جائے گا۔
بہنوں کے حقوق کا تحفظ: عدالتوں نے واضح کر دیا ہے کہ خواتین کے وراثتی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بلاوجہ مقدمے بازی کر کے بہنوں کا حصہ روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
🏛️ فریقین کے حوالہ جات و دلائل
پٹیشنرز / بھائیوں کا موقف:
پٹیشنرز کا مؤقف تھا کہ وہ زمین پر قابض ہیں اور ریونیو آفیسر کی جانب سے کی گئی تقسیم سے ان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے پانچ سال تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران ریونیو آفیسر کے سامنے پیش ہونے سے بھی گریز کیا۔
رسپانڈنٹ / بہن کا موقف:
رسپانڈنٹ (بہن اور دیگر شریک مالکان) کا مؤقف تھا کہ یہ وراثتی زمین ہے جس میں شریعت اور قانون کے مطابق تمام وارثان کا برابر کا حصہ بنتا ہے۔ نچلی عدالتوں (ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل کمشنر) نے ریکارڈ اور قانون کا جائزہ لے کر درست اور میرٹ پر فیصلے دیے ہیں جنہیں چیلنج کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
📞 رابطہ و مشاورت
اگر آپ کو بھی جائیداد، وراثت یا خاندانی تقسیم کے مسائل کا سامنا ہے تو آج ہی ہم سے رجوع کریں:
سجاد حسین بھٹی * ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی * ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
✨ عوام الناس سے گزارش: اگر آپ کو ہمارے پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

پنجاب بار کونسل کا نیا آفس آرڈر جاری: قانون کے نئے داخلوں اور انرولمنٹ کے حوالے سے سخت شرائط نافذ کر دی گئیں!کیا آپ بھی ...
18/06/2026

پنجاب بار کونسل کا نیا آفس آرڈر جاری: قانون کے نئے داخلوں اور انرولمنٹ کے حوالے سے سخت شرائط نافذ کر دی گئیں!
کیا آپ بھی قانون کی ڈگری مکمل کر رہے ہیں؟ یہ نیا حکم نامہ آپ کے لیے جاننا بے حد ضروری ہے۔

آفس آرڈر کی تفصیلات
​جاری کردہ: پنجاب بار کونسل، 9-فین روڈ، لاہور
​موضوع: نئے انرولمنٹ کیسز کی جانچ پڑتال اور کارروائی کے لیے ہدایات
​ریفرنس نمبر: B375
​تاریخ اجراء: 18-06-202X
​پنجاب بار کونسل کے فیصلوں اور ہدایات کی روشنی میں نئے انرولمنٹ کیسز کی جانچ پڑتال اور کارروائی کے لیے درج ذیل شرائط پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔
​اہم قانونی شرائط (خلاصہ)
​او لیول (O-Level): امیدوار کے لیے کم از کم 7 میں سے 6 یا 8 مضامین میں کامیابی لازمی ہوگی، جیسا کہ متعلقہ مساوی معیار کے تحت مقرر ہے۔
​اے لیول (A-Level): امیدوار کے لیے کم از کم 3 مضامین میں کامیابی لازمی ہوگی۔
​ایکسٹرنل ایل ایل بی (External LLB) ڈگری: رکھنے والے امیدوار کے لیے تمام 12 مضامین میں کامیابی اور 360 کریڈٹ آورز کی تکمیل لازمی ہوگی۔
​ایچ ای سی (HEC) ویریفیکیشن: امیدوار کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) میں ڈگری وریفیکیشن کے لیے درخواست جمع کروانے کا ثبوت بمعہ فیس جمع کروانے کی رسید پیش کرنا لازمی ہوگا۔
​انڈر ٹیکنگ: پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ انڈرٹیکنگ مکمل طور پر پر شدہ اور دستخط شدہ صورت میں درخواست کے ساتھ جمع کروانا لازمی ہوگا۔
​فارن ڈگری (Foreign Degree): جو امیدواران فارن ڈگری کے حامل ہیں اور کورس کا دورانیہ تین سال سے کم ہے، وہ اٹھارہ (18) ماہ کی ٹریننگ لینے کے پابند ہیں۔
​نوٹ: مندرجہ بالا شرائط میں سے کسی ایک کی عدم تکمیل کی صورت میں درخواست انرولمنٹ قابل کارروائی نہیں ہوگی اور اس پر مزید کارروائی قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔
​اگر آپ کو ہمارے پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے، تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔
​رابطہ و مشاورت:
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065

طلاق کے بعد بھی سابقہ بیوی کو ہراساں کرنا پڑا مہنگا: عدالت کا بڑا فیصلہ!حقِ خلع کے استعمال پر انتقامی کارروائی کرنے والے...
17/06/2026

طلاق کے بعد بھی سابقہ بیوی کو ہراساں کرنا پڑا مہنگا: عدالت کا بڑا فیصلہ!
حقِ خلع کے استعمال پر انتقامی کارروائی کرنے والے شخص کو 5 لاکھ روپے جرمانہ۔

عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
مقدمہ نمبر: سول پٹیشن نمبر 303-P آف 2018
فریقین: سلطان (پٹیشنر) بمقابلہ مست روشی زیب (رسپانڈنٹ)
تاریخِ فیصلہ: 04 جون 2026

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ خلع عورت کا قانونی اور شرعی حق ہے جس کے بعد نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ پٹیشنر سلطان نے خلع کے باوجود بے بنیاد الزامات لگا کر اپنی سابقہ بیوی کو مسلسل ہراساں کیا اور عدالتی عمل کا غلط استعمال کیا۔ عدالت نے پٹیشنر کی تمام درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک "ضدی اور انتقامی" لٹیگیٹ قرار دیا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالتی عمل کو کسی عورت کی توہین یا سماجی بائیکاٹ کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلے کے ذریعے عورت کی خود مختاری اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔
[Important Legal Findings]
خلع کی حتمی حیثیت: خلع ایک قانونی طریقہ ہے جس کے بعد عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے میں آزاد ہے، اس کے لیے سابق شوہر کی رضامندی ضروری نہیں۔
عدالتی عمل کا غلط استعمال: کسی شخص کو انتقام لینے کے لیے بار بار مقدمات میں گھسیٹنا قانون کی سنگین خلاف ورزی اور "ضدی نوعیت کی قانونی چارہ جوئی" (vexatious litigation) ہے۔
سماجی وقار کا تحفظ: عدالت نے مانا کہ ایسے بے بنیاد الزامات عورت کے کردار پر سوال اٹھا کر اسے سماجی طور پر بدنام کرنے کے مترادف ہیں۔
قانون کی بالادستی: عدالتیں کسی کو بھی اپنے سابقہ جیون ساتھی کو ہراساں کرنے کے لیے عدالتی نظام کو "ہتھیار" بنانے کی اجازت نہیں دیں گی۔

پٹیشنر (سلطان) نے عدالت میں یہ موقف اپنایا تھا کہ اسے مفاہمت (reconciliation) کا مناسب موقع نہیں دیا گیا اور اس نے اپنی سابقہ اہلیہ کے دوسرے نکاح کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دینے کی کوشش کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریکاڈ سے ثابت ہے کہ فیملی کورٹ نے مصالحت کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن عورت نے ازدواجی تعلق برقرار رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عورت کا حقِ خلع مسلمہ ہے اور اس کی دوسری شادی مکمل طور پر قانونی اور حلال ہے، جبکہ پٹیشنر کے الزامات ثبوت سے عاری اور بے بنیاد تھے۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
اگر آپ کو ہمارے پیج سے فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں!

کیا باپ کا حقِ سرپرستی، ذہنی مریض بیٹے کی فلاح سے بڑھ کر ہے؟ عدالت کا حتمی فیصلہ!والدین کے حقوق یا اولاد کی حفاظت: قانون...
17/06/2026

کیا باپ کا حقِ سرپرستی، ذہنی مریض بیٹے کی فلاح سے بڑھ کر ہے؟ عدالت کا حتمی فیصلہ!
والدین کے حقوق یا اولاد کی حفاظت: قانون کس کا ساتھ دیتا ہے؟
​عدالتی تفصیلات:
​کیس کا عنوان: محمد وارث بنام مسمات معروف بیگم وغیرہ
​عدالت: لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بنچ
​فیصلہ دینے والے جج: مسٹر جسٹس سید احسن رضا کاظمی
​تاریخِ فیصلہ: 03 جون 2026
​حوالہ: 2026 LHC 3641
​مختصر خلاصہ:
اس کیس میں ایک ذہنی مریض بیٹے کی سرپرستی کا تنازعہ تھا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ سرپرستی کا مقصد والدین کے حقوق کا تحفظ نہیں، بلکہ ذہنی طور پر غیر مستحکم فرد کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت نے ماں کو بطور گارڈین برقرار رکھا کیونکہ وہ ہی بیٹے کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ باپ کا صرف "قدرتی باپ" ہونا سرپرستی کا واحد معیار نہیں ہے، اصل ترجیح مریض کی بہترین مفاد ہے۔
​اہم قانونی نکات:
​ذہنی صحت آرڈیننس 2001 کے تحت سرپرستی کا بنیادی مقصد مریض کی فلاح ہے.
​میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کسی بھی شخص کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے حتمی ثبوت کا درجہ رکھتی ہے.
​سرپرست کا انتخاب اس بنیاد پر ہوگا جو مریض کی ضروریات اور طبی دیکھ بھال کو بہترین طریقے سے سمجھتا ہو.
​اگر والد نے طلاق کے بعد کبھی بچے کی دیکھ بھال میں عملی کردار ادا نہ کیا ہو، تو محض رشتہ داری بنیاد نہیں بن سکتی.
​اپیلٹ کورٹ ٹرائل کورٹ کے حقائق پر مبنی فیصلوں میں تب تک مداخلت نہیں کرتی جب تک کوئی بڑی قانونی غلطی نہ ہو.
:باپ کا موقف
اپیلانٹ کا موقف تھا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا اور کوئی ٹھوس میڈیکل ثبوت موجود نہیں تھے کہ بیٹا اپنے معاملات سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔ مزید یہ کہ وہ خود "قدرتی باپ" ہے، اس لیے وہ سرپرستی کا برابر کا حقدار تھا.
​رسپانڈنٹ (ماں) کے حق میں تفصیلات:
عدالت نے قرار دیا کہ رسپانڈنٹ (ماں) ہی طویل عرصے سے بیٹے کی بنیادی دیکھ بھال، علاج اور رہائش کا بندوبست کر رہی ہے. میڈیکل بورڈ نے تصدیق کی کہ بیٹا "شیزوفرینیا" کا شکار ہے اور اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے کیئر گیور پر منحصر ہے. ماں نے سرپرستی محض اس لیے مانگی تاکہ طبی ریکارڈ، علاج اور حکومتی فلاحی فوائد حاصل کیے جا سکیں.
​سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
​اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہِ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں!
اپ کی رائے ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس باکس میں ضرور کیجئے گا

کیا آپ کا بچہ ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہے؟ حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اب رجسٹریشن ہوئی بے حد آسان!​نوٹیفکیشن کی تفصیلات:یہ نوٹ...
17/06/2026

کیا آپ کا بچہ ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہے؟ حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اب رجسٹریشن ہوئی بے حد آسان!
​نوٹیفکیشن کی تفصیلات:
یہ نوٹیفکیشن محکمہ قانون و پارلیمانی امور، حکومت پنجاب کی جانب سے 14 مئی 2025 کو جاری کیا گیا (نوٹیفکیشن نمبر 81-2025)، جس کے تحت "پنجاب لوکل گورنمنٹ (پیدائش اور اموات کا اندراج) قواعد 2025" کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ قواعد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کی دفعہ 202 کے تحت وضع کیے گئے ہیں۔
​یہ نئی قانون سازی عوام کے لیے پیدائش اور اموات کے اندراج کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ اب پیدائش کے ایک سال کے اندر اندراج مکمل طور پر مفت ہے، جبکہ تاخیر کی صورت میں بھی طریقہ کار کو واضح اور آسان بنا دیا گیا ہے۔ غیر ملکیوں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور لاوارث بچوں کے اندراج کے لیے بھی خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ یہ قواعد پرانے قواعد 2021 کو منسوخ کر کے نافذ کیے گئے ہیں۔
​اہم قانونی نتائج:
​پیدائش کے ایک سال کے اندر رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔
​تاخیر سے اندراج کی صورت میں مقررہ فیس (200 سے 2000 روپے تک) ادا کرنا ہوگی۔
​غیر ملکی بچوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے الگ ضابطہ کار وضع کیا گیا ہے۔
​لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کے لیے چائلڈ پروٹیکشن بیورو یا کسی بھی سماجی ادارے کو اطلاع دینا لازمی ہے۔
​سرٹیفکیٹ میں کلیریکل غلطی کی درستگی کے لیے آسان طریقہ کار موجود ہے۔
​جعلی سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے لیے انکوائری کمیٹی کے قیام کا اختیار دیا گیا ہے۔
​:
​تمام درخواستیں فارم "A" (پیدائش) یا فارم "B" (موت) پر آن لائن یا دستی طور پر متعلقہ رجسٹریشن آفس میں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔
​درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات جیسے CNIC، ہسپتال کی پرچی، یا غیر ملکی ہونے کی صورت میں پاسپورٹ کا ہونا ضروری ہے۔
​دفاعی/متعلقہ فریقین (رجسٹریشن آفس) کے لیے احکامات:
​رجسٹریشن آفس پابند ہے کہ مکمل دستاویزات ملنے پر مقررہ مدت کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرے۔
​کسی بھی درخواست کے مسترد ہونے کی صورت میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، جس کا فیصلہ مقررہ مدت میں کرنا لازمی ہے۔
​سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
​اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہِ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں!

اساتذہ کے لیے سنہری موقع: ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل بننے کا خواب اب ہوگا پورا!محکمہ تعلیم پنجاب نے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں ک...
16/06/2026

اساتذہ کے لیے سنہری موقع: ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل بننے کا خواب اب ہوگا پورا!
محکمہ تعلیم پنجاب نے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات:
اعلان کردہ تاریخ: 15 جون 2026
محکمہ: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومت پنجاب
پوسٹس: ہیڈ ماسٹر/مسٹرس، سینئر ہیڈ ماسٹر/مسٹرس، اور پرنسپل (سکیل 17 سے 20)
اساتذہ کے لیے ترقی کا شاندار موقع، اب میرٹ پر تعیناتی ہوگی۔ حکومت پنجاب نے فیز II کے تحت شفاف بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ 16 سالہ تعلیم اور 5 سالہ تجربہ رکھنے والے اساتذہ اہل ہوں گے۔ تمام امیدواروں کو آئی ٹی اور پیڈاگوجی پر مشتمل تحریری امتحان اور انٹرویو سے گزرنا ہوگا۔ درخواست صرف HRMIS پورٹل کے ذریعے دی جا سکتی ہے، دستی درخواستیں مسترد ہوں گی۔ یہ عمل شفافیت اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
اہم نکات:
تعلیمی قابلیت: M.A/M.Sc/B.S (16 سالہ تعلیم) کے ساتھ B.Ed/M.Ed لازمی ہے۔
تجربہ: متعلقہ کیٹیگری میں 5 سالہ تدریسی یا انتظامی تجربہ ضروری ہے۔
امتحان: آئی ٹی سکلز، ڈیجیٹل کمیونیکیشن اور ایڈمنسٹریٹو رولز کا ٹیسٹ لیا جائے گا۔
آخری تاریخ: آن لائن درخواستیں 17 جون 2026 تک جمع کروائی جا سکتی ہیں۔
(نوٹ: چونکہ یہ ایک سرکاری نوٹیفکیشن ہے، اس لیے اس میں کسی عدالتی فیصلے کا حوالہ شامل نہیں ہے۔)
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065

پاکستان کے قوانین، بالخصوص مجموعہ ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) 1898ء کے مطابق، 'اشتہاری' ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کے خل...
16/06/2026

پاکستان کے قوانین، بالخصوص مجموعہ ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) 1898ء کے مطابق، 'اشتہاری' ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کے خلاف عدالت نے روپوش ہونے کی وجہ سے باقاعدہ اشتہار جاری کیا ہو۔
اشتہاری کس شخص کو کہتے ہیں؟
قانون کی نظر میں ہر وہ شخص اشتہاری نہیں ہوتا جس پر کوئی الزام ہو یا جس کی پولیس کو تلاش ہو۔ ایک شخص قانونی طور پر اشتہاری (Proclaimed Offender) تب بنتا ہے جب:
اس کے خلاف کسی قابلِ دست اندازی جرم میں وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکا ہو۔
وہ شخص جان بوجھ کر روپوش ہو گیا ہو یا خود کو چھپا رہا ہو تاکہ وارنٹ کی تعمیل نہ ہو سکے۔
عدالت کو مکمل یقین ہو جائے کہ وہ گرفتاری سے بچ رہا ہے، اور عدالت اس کے نام کا باقاعدہ تحریری اشتہار جاری کرے۔
متعلقہ قوانین کا حوالہ (ضابطہ فوجداری، 1898ء)
اشتہاری ملزم کے بارے میں اہم قانونی دفعات درج ذیل ہیں:
1. دفعہ 87: روپوش شخص کے لیے اشتہار (Proclamation for person absconding)
یہ بنیادی دفعہ ہے جو عدالت کو اشتہار جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اس کے تحت:
اگر عدالت کو لگے کہ ملزم وارنٹ سے بچنے کے لیے روپوش ہے، تو وہ ایک تحریری اشتہار شائع کر سکتی ہے، جس میں ملزم کو 30 دن (یا اس سے زیادہ) کے اندر کسی خاص جگہ اور وقت پر پیش ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔
اس اشتہار کو ملزم کے گاؤں یا شہر میں کسی نمایاں جگہ پر پڑھا جاتا ہے، اس کے گھر پر چسپاں کیا جاتا ہے، اور ایک کاپی عدالت کے نوٹس بورڈ پر لگائی جاتی ہے۔
2. دفعہ 88: اشتہاری کی جائیداد کی قرقی (Attachment of property of person absconding)
یہ دفعہ اشتہاری پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے۔ اگر ملزم دفعہ 87 کے تحت دی گئی مہلت میں پیش نہ ہو، تو عدالت:
اس کی منقولہ (Moving) اور غیر منقولہ (Immovable) جائیداد کو قرق (ضبط) کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
اگر جائیداد ایسی ہو جو جلدی خراب ہو سکتی ہے، تو عدالت اسے فوری بیچنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
3. دفعہ 512: ملزم کی غیر موجودگی میں شہادت ریکارڈ کرنا (Recording of evidence in absence of accused)
اگر کوئی اشتہاری ملزم گرفتار نہ ہو سکے اور اس کے فوری گرفتار ہونے کا امکان نہ ہو، تو یہ دفعہ عدالت کو اجازت دیتی ہے کہ وہ ملزم کی غیر موجودگی میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لے۔ یہ بیانات بعد میں، جب ملزم گرفتار ہو کر آئے، اس کے خلاف بطور شہادت استعمال ہو سکتے ہیں۔
#اشتہاری #قانون #عدالت #تفتیش

🚨 کیا سرکاری یونیورسٹیز اب کمرشل پلازہ بنیں گی؟🚨 پنجاب حکومت کا جامعات کی زمین اور اثاثوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا ب...
15/06/2026

🚨 کیا سرکاری یونیورسٹیز اب کمرشل پلازہ بنیں گی؟
🚨 پنجاب حکومت کا جامعات کی زمین اور اثاثوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا بڑا فیصلہ!
​تفصیلات:
​نوٹیفکیشن کی تاریخ: 10 جون 2026
​جاری کردہ: محکمہ ہائر ایجوکیشن، حکومت پنجاب
​موضوع: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2025 کے تحت جامعات کی کمرشلائزیشن کے لیے 13 رکنی کمیٹی کا قیام۔
​پنجاب حکومت نے سرکاری جامعات کے مالی وسائل بڑھانے اور خود کفالت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی 13 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی جامعات کی زمین اور اثاثوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت کمرشل استعمال میں لانے کے لیے پالیسی مرتب کرے گی۔ کمیٹی کا کام یونیورسٹیوں کے اثاثوں کا جامع جائزہ لینا اور ایسے ضوابط بنانا ہے جن سے تعلیمی مقاصد کو نقصان پہنچے بغیر آمدنی کے ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔ حتمی سفارشات منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو پیش کی جائیں گی۔
​اہم قانونی و انتظامی نکات:
​کمیٹی کا قیام: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2025 کی روشنی میں قانونی و مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔
​اثاثوں کا استعمال: یونیورسٹیوں کی زمینوں اور اثاثوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
​پالیسی سازی: جامعات کے لیے ایک مربوط اور معیاری پالیسی وضع کی جائے گی تاکہ اثاثوں کا مؤثر انتظام ہو سکے۔
​مقاصد کا تحفظ: کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی کمرشل منصوبہ یونیورسٹی کے بنیادی تعلیمی مینڈیٹ اور ترجیحات کے متصادم نہ ہو۔
​جائزہ: 2016 کے پرانے نوٹیفکیشن کا نئے قانون (PPP ایکٹ 2025) کی روشنی میں ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔
​نوٹیفکیشن حوالہ جات: یہ اقدام "حکومت پنجاب، محکمہ ہائر ایجوکیشن" کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر SO(Univ-I)Misc-3/2026 مورخہ 10 جون 2026 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
​مذکورہ نوٹیفکیشن انتظامی نوعیت کا ہے اور کسی عدالتی مقدمے کا فیصلہ نہیں ہے، لہذا اس میں کسی فریق (مدعی/مدعاعلیہ) کا ذکر موجود نہیں ہے۔
​سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
​اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

کیا سرکاری وکیل بار انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے؟پنجاب بار کونسل کا اہم فیصلہ، وکلاء برادری کے لیے بڑی خبر!یہ فیصلہ...
15/06/2026

کیا سرکاری وکیل بار انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے؟
پنجاب بار کونسل کا اہم فیصلہ، وکلاء برادری کے لیے بڑی خبر!

یہ فیصلہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس کا تعلق بار انتخابات میں قانون افسران (Law Officers) کے ووٹ کے حق سے ہے۔
کیپشن:
پنجاب بار کونسل نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اے ڈی پی پی (ADPP) اور دیگر لاء آفیسرز کا بار انتخابات میں ووٹ کا حق ختم کر دیا ہے۔ کیا یہ فیصلہ بار کی سیاست میں نئی ہلچل مچائے گا؟ جانیے مکمل تفصیلات۔

پنجاب بار کونسل نے باضابطہ طور پر یہ طے کر دیا ہے کہ اب اے ڈی پی پی (ADPP)، اٹارنی اور دیگر سرکاری لاء آفیسرز بطور ووٹر بار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد بار کے انتخابی عمل کو صرف پریکٹس کرنے والے وکلاء تک محدود رکھنا ہے۔ کونسل کا ماننا ہے کہ سرکاری ملازمت کرنے والے لاء آفیسرز کو بار کی سیاست سے الگ رہنا چاہیے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہے اور اس سے آئندہ ہونے والے بار انتخابات کے نتائج پر گہرا اثر پڑے گا۔ وکلاء حلقوں میں اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اہم قانونی نکات:
سرکاری ملازمت کرنے والے قانون افسران (ADPP, Law Officers) اب بار کونسل کے انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔
یہ فیصلہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کا حصہ ہے۔
اس فیصلے سے انتخابی عمل میں صرف وکالت پیشہ وکلاء کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

فیصلہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے انتظامی اور انتخابی شفافیت کے پیشِ نظر دیا گیا ہے۔

فیصلے کی تفصیلات کے مطابق، لاء آفیسرز کے لیے بار میں بطور ووٹر حیثیت اب ختم کر دی گئی ہے۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
اپ اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اپ کا اس فیصلے کے حوالے سے کیا نقطہ نظر ہے اپنی رائے کا اظہار کمنٹس باکس میں ضرور کیجئے گا
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

وکلاء کے لائسنس اور انرولمنٹ کے حوالے سے پنجاب بار کونسل کا انتہائی اہم فیصلہ!​اب HEC سے ڈگری کی تصدیق کے بغیر وکالت کا ...
15/06/2026

وکلاء کے لائسنس اور انرولمنٹ کے حوالے سے پنجاب بار کونسل کا انتہائی اہم فیصلہ!
​اب HEC سے ڈگری کی تصدیق کے بغیر وکالت کا لائسنس ملنا ناممکن۔
فیصلے کی تفصیلات:
ادارہ: پنجاب بار کونسل، لاہور
مورخہ: 15 جون 2026
نوعیت: اہم نوٹس برائے انرولمنٹ اور لائسنس تجدید
مختصر خلاصہ:
پنجاب بار کونسل نے وکالت کے شعبے میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں۔ اب کسی بھی نئے وکیل کو لوئر کورٹ یا ہائی کورٹ کا لائسنس تب تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اپنی LLB کی ڈگری کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تصدیق اور ویریفکیشن پیش نہ کر دے۔ یہی اصول لائسنس کی تجدید کے لیے بھی لاگو ہوگا۔ غیر ملکی لاء ڈگری رکھنے والوں کے لیے HEC کا جاری کردہ مساواتی سرٹیفکیٹ (Equivalence Certificate) لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے والے وکلاء کے لائسنس کی تجدید نہیں ہوگی اور ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
اہم قانونی نکات:
نئے انرولمنٹ کے لیے HEC سے ڈگری کی تصدیق لازمی ہے۔
لائسنس کی تجدید کے لیے بھی تعلیمی اسناد کی HEC ویریفکیشن ضروری ہے۔
ہائی کورٹ میں وکالت کے لائسنس کے لیے بھی HEC کی تصدیق کا عمل لازمی ہوگا۔
غیر ملکی لاء ڈگری ہولڈرز کے لیے HEC کا مساواتی سرٹیفکیٹ (Equivalence Certificate) پیش کرنا لازمی ہے۔
پرانے وکلاء جن کی غیر ملکی ڈگری ہے، ان کے لائسنس کی تجدید بھی مساواتی سرٹیفکیٹ کی شرط سے مشروط ہوگی۔
ہدایات پر عمل نہ کرنے والے متعلقہ افسران اور وکلاء کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
نوٹ: یہ فیصلہ پنجاب بار کونسل کے جنرل ہاؤس کے مورخہ 13 جون 2026 کے اجلاس میں متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، وہاڑی
رابطہ نمبر: 03017949065
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو اس معلومات کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

Address

Chamber No 13 Nazar Duggal Block District Courts Vehari
Vehari
61100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Insaf Law Associates Vehari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Insaf Law Associates Vehari:

Share

Category