Insaf Law Associates Vehari

Call Website Contact the practice

Insaf Law Associates Vehari "Dedicated to providing expert legal advice and representation in Vehari.
(3)

Our team of experienced lawyers is committed to ensuring justice and protecting your rights."

اہم قانونی فیصلہ: کیا ہنڈی یا غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کے مقدمات میں ضمانت مل سکتی ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا اور...
24/09/2026

اہم قانونی فیصلہ: کیا ہنڈی یا غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کے مقدمات میں ضمانت مل سکتی ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا اور واضح فیصلہ!

عدالت کا حتمی فیصلہ:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کسی مقدمے میں زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں ہوں، تو وہ جرم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی prohibitive clause کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہوتی ہے اور سارا کیس دستاویزی شواہد پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے ملزم کو مزید جیل میں رکھنا کسی مفید مقصد کے لیے نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں ضمانت دینا قاعدہ اور انکار استثنا ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرائل سے پہلے ملزم کو جیل میں رکھنا قبل از وقت سزا دینے کے مترادف ہے، لہذا عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔

اہم قانونی نکات:

جن جرائم میں سزا دو سال قید، جرمانہ یا دونوں ہوں، وہ دفعہ 497 Cr.P.C کی prohibitory clause میں شامل نہیں ہوتے۔

اگر استغاثہ کا سارا کیس دستاویزی شواہد پر مبنی ہو تو ملزم کی مزید حراست یا جیل میں قید کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔

قانون کا بنیادی اصول ہے کہ ضمانت دینا رول ہے اور ضمانت سے انکار کرنا ایک استثنا ہے۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 403 اور جنرل کلوزز ایکٹ کی دفعہ 26 کے تحت کسی بھی شخص کو ایک ہی جرم کے لیے دو بار تکلیف یا سزا کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر آخر کار ملزم کو صرف جرمانے کی سزا ہو جائے تو جیل میں گزاری گئی مدت کا ازالہ ناممکن ہو جاتا ہے، اس لیے بلاوجہ قید میں رکھنا قبل از وقت سزا کے مترادف ہے۔

Petitioner
کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ غیر ملکی کرنسی کے لین دین (ہنڈی چینلز) کے مقدمے میں نامزد ہیں، جن پر دفعہ 403 اور 497 ضابطہ فوجداری، دفعہ 26 جنرل کلوزز ایکٹ اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی دفعات لاگو

مدعی / رسپانڈنٹ کے خلاف اور دفاعی نکات: مقدمہ بنیادی طور پر دستاویزی شواہد پر مشتمل تھا اور عدالت میں یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ یا قید میں رکھنا کیوں ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استپانڈنٹ یا ریاست کی طرف سے ایسے کوئی غیر معمولی حالات یا وجوہات پیش نہیں کی گئیں جن کی بناء پر ضمانت کی رعایت سے انکار کیا جا سکے۔

اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

کیا شام کے اندھیرے میں 240 فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کرنے والے کی شناخت ممکن ہے؟ سپریم کورٹ کا قتل کے مقدمے میں تاریخی اور ا...
24/09/2026

کیا شام کے اندھیرے میں 240 فٹ کے فاصلے سے فائرنگ کرنے والے کی شناخت ممکن ہے؟ سپریم کورٹ کا قتل کے مقدمے میں تاریخی اور اہم فیصلہ!

مقدمے اور فیصلے کی تفصیلات (Case Details):

: 2026 SCMR 1349

Court: Supreme Court of Pakistan
Bench: Mr. Justice Muhammad Hashim Khan Kakar, Mr. Justice Salahuddin Panhwar, Mr. Justice Ishtiaq Ibrahim
Parties: Shahbaz alias Gillo (Petitioner) vs. The State and others (Respondents)
Case No: Criminal Petition No. 750-L of 2018
Date of Decision: 14th May, 2026

کیس کا مختصر خلاصہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں ملزم شہباز عرف گلو کی سزا منسوخ کرتے ہوئے اسے تمام الزامات سے باکرم بری کر دیا ہے۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور لاہور ہائیکورٹ نے اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے شواہد کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ شام کے وقت، 240 فٹ کے فاصلے سے چشم دید گواہان کے لیے ملزم کی درست شناخت کرنا اور یہ طے کرنا کہ کس کی گولی سے مقتول کی موت واقع ہوئی، انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا، عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے اپیل منظور کی اور ملزم کی بریت کا حکم جاری کیا۔

اہم قانونی نکات (Key Legal Findings):

فاصلہ اور بصری شناخت: وقوعہ کے نقشہ موقع کے مطابق گواہان اور ملزم کے درمیان 48 کرم (تقریباً 240 فٹ) کا فاصلہ تھا، جس سے بصری شناخت کی مصدقہ حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔

شام کی روشنی اور عمر کا اثر: واقعہ شام کے وقت (غروبِ آفتاب کے قریب) پیش آیا جب روشنی کم تھی۔ علاوہ ازیں گواہان کی عمریں (50 اور 60 سال) زیادہ ہونے کے باعث اتنی دوری سے دیکھنا ناقابلِ اعتبار تھا۔

اندھا دھند فائرنگ: متعدد ملزمان کی جانب سے ایک ساتھ فائرنگ کی صورت میں یہ حتمی طور پر ثابت کرنا ناممکن تھا کہ قاتلانہ گولی مخصوص طور پر کس ملزم کے ہتھیار سے چلی۔

شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): قانون کا بنیادی اصول ہے کہ اگر ملزم کے گناہ گار ہونے کے حوالے سے ایک بھی معقول شک پیدا ہو جائے تو ملزم کو شک کا فائدہ بطورِ حق ملتا ہے، نہ کہ بطورِ خیرات۔

مدعی کی جانب سے پیش کردہ فیصلے
(Judgments Cited for Petitioner):
Mian Sohail Ahmed v. State (2019 SCMR 956)

S v. Henderson (27 A.3d 872 / NL 2011)
Ameeruddin v. State (PLD 2025 SC 383)

رسپونڈنٹ/استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ فیصلے
(Judgments / Defense Representation):

اس مقدمے میں ریاست (State) کی نمائندگی ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد جعفر نے کی۔ تاہم چشم دید گواہی کی کمزوری، فاصلے اور کم روشنی کے باعث استغاثہ کا موقف عدالت میں ثابت نہ ہو سکا اور فیصلہ ملزم کے حق میں جاری ہوا۔

اگر آپ کو ہماری پیج پر فراہم کردہ قانونی معلومات سے فائدے مل رہے ہیں تو برائے مہربانی اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لازمی لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی

بیعانہ کی رقم ڈبل واپس لینے کا تاریخی فیصلہ! کیا بائع (فروخت کنندہ) وعدہ خلافی کرکے بچ سکتا ہے؟ جانیے عدالت کا حتمی فیصل...
24/09/2026

بیعانہ کی رقم ڈبل واپس لینے کا تاریخی فیصلہ! کیا بائع (فروخت کنندہ) وعدہ خلافی کرکے بچ سکتا ہے؟ جانیے عدالت کا حتمی فیصلہ۔

بیعانہ کی رقم کی واپسی اور معاہدے کی خلاف ورزی پر عدالت کا اہم فیصلہ جاری، جہاں ڈبل رقم کی واپسی کے شق کو قانونی قرار دے دیا گیا۔

2026 YLR 1401حوالہ۔

فیصلہ کا خلاصہ:

عدالت نے قرار دیا کہ فروخت کنندگان نے خود معاہدے کی خلاف ورزی کی اور زمین دوسروں کو فروخت کی.

ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر پٹیشنر کا دعویٰ منظور کر لیا گیا.

معاہدے میں طے شدہ شرط کے مطابق خریدار ڈبل بیعانہ وصول کرنے کا حقدار ہے.

اگر پٹیشنر (خریدار) کو پہلے ہی 22,00,000 روپے مل چکے ہیں تو وہ کل واجب الادا رقم میں سے منہا ہوں گے.

عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی اختیار کا غلط استعمال کرنے والے فیصلوں کو درست کرنا ہائیکورٹ کا فرض ہے.

دونوں عدالتوں کے متفقہ فیصلوں میں قانونی نقائص پائے جانے پر انہیں سیٹaside کر دیا گیا.

یہ فیصلہ جائیداد کی قیمتوں کے تناسب اور معاہدے کی شرائط کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے.

اہم قانونی نکات:

معاہدے کی پاسداری: معاہدے میں درج ڈبل بیعانہ کی شرط قانونی طور پر نافذ العمل ہے بشرطیکہ وہ پبلک پالیسی کے خلاف نہ ہو.

فریقین کا طرز عمل: اگر فروخت کنندگان نے خود معاہدے پر عمل کرنے سے انکار کیا ہو تو خریدار ڈبل رقم کا حقدار بن جاتا ہے.

اختیاراتِ عدالت (سی آر پی): سیکشن 115 ضابطہ دیوانی کے تحت ہائیکورٹ کو اختیار ہے کہ وہ ماتحت عدالتوں کی غیر قانونی اور غلط تشریح کو درست کرے.

معاوضہ اور ادائگی: مہنگائی اور مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین کے حقوق کا توازن برقرار رکھا گیا.

خریدار کی طرف سے پیش کردہ عدالتی حوالہ جات:

مطلوب الٰہی پرچہ بنام راجہ ارشد محمود
(PLD 2024 SC 663)

محمد اقبال بنام محبوب عالم
(2015 SCMR 21)
صفیہ بیگم بنام محمد اسحاق
(1988 CLC 1915)
خدا بخش بنام زکیا خاتون
(2014 YLR 2321)
نصرت کوثر گیلانی بنام آفتاب احمد خان
(2016 YLR 1690)
محمد تنویر بنام محمد رمضان اسد
(2024 CLC 1379)

فروخت کنندگان کے حق میں دی گئی نظیریں:

محمد جمیل بنام محمد عارف
(2021 SCMR 1108)
محمد آصف اعوان بنام داود خان
(2021 SCMR 1270)
محمد رفیق بنام ڈاکٹر قادر علی خان
(PLD 2010 Karachi 295)
ایس ایم شعیب باغپتی بنام عمر گل آغا
(2017 CLC Note 4)
امجد علی عباسی بنام محمد بخش جومانی
(2019 CLC 1275)
فرحان خان بنام کامران خان
(PLD 2021 Peshawar 29)

اگر آپ کو اس صفحے پر دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو براہ کرم اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔
نوٹ ۔فیصلے کی کاپی کمنٹس باکس میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں

پنجاب کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے انتہائی اہم اور چونکا دینے والی قانونی اپ ڈیٹ!کیا حکومت کی طرف سے پنشن کے قواع...
24/09/2026

پنجاب کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے انتہائی اہم اور چونکا دینے والی قانونی اپ ڈیٹ!
کیا حکومت کی طرف سے پنشن کے قواعد میں بڑی تبدیلیاں ملازمین کے حقوق پر بڑا وار ہیں؟

پنجاب سول سرونٹس پنشن رولز میں اہم ترامیم اور ریٹائرمنٹ کے نئے اصول جاری کر دیے گئے ہیں۔

عدالتی یا سرکاری فیصلے کی حتمی تفصیل:

حکومتِ پنجاب کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے یکمبند ترامیم کے تحت پنشن کے ضوابط میں ردوبدل کیا ہے۔

رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے پر عمر کے لحاظ سے پنشن میں 2 فیصد سے لے کر 10 فیصد تک کٹوتی کا فارمولا لاگو کر دیا گیا ہے۔

پنشن کے حساب کے لیے آخری تین سال کی اوسط بنیادی تنخواह کو اساس بنایا جائے گا۔

فیملی پنشن کی مدت کو بھی محدود کر کے اصولوں میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

کمیوٹیشن آف سول پینشن کے قوانین میں 'ایک نصف' کو تبدیل کر کے '25 فیصد' کر دیا گیا ہے۔

ماضی کے چند مخصوص اضافے بھی نئے ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

اہم قانونی نکات (Legal Findings):

سیکشن 23 آف دی پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ ترامیم کی گئی ہیں.

رضاکارانہ ریٹائرمنٹ (Voluntary Retirement) پر 55 سے 59 سال کی عمر کے درمیان بالترتیب 10 فیصد سے 2 فیصد تک ریڈکشن فیکٹر لاگو ہوگا.

مجموعی پنشن کا فارمولا: (اوسط بنیادی تنخواہ× سروس کی لمبائی (زیادہ سے زیادہ 30 سال) × 7/300) طے کیا گیا ہے.
فیملی پنشن کی حد متعلقہ ادوار یا سپوس کی دوسری شادی تک محدود کر دی گئی ہے.

اس نوٹیفیکیشن میں سرکاری پالیسی یا نوٹیفیکیشن کا نفاذ کیا گیا ہے، جہاں ملازمین کے حقوق اور مالی مراعات کے تحفظ کے لیے قانونی چیلنجز متوقع ہیں۔

ڈیفنڈنٹ / رسپانس (سرکاری مؤقف):

محکمہ خزانہ پنجاب (Finance Department Punjab) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط اور قواعد کی بہتری کے لیے یہ ترامیم فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔

اگر آپ کو فراہم کردہ معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

سوشل میڈیا کری ایٹرز اور انکم ٹیکس قوانین میں ایک اہم تبدیلی! اب سوشل میڈیا آمدنی پر ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا گ...
24/09/2026

سوشل میڈیا کری ایٹرز اور انکم ٹیکس قوانین میں ایک اہم تبدیلی! اب سوشل میڈیا آمدنی پر ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا گیا ہے۔

تاریخِ اجراء: 23 ستمبر 2026
جاری کنندہ: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، حکومتِ پاکستان
نوٹیفیکیشن نمبر: S.R.O. 1641(I)/2026
متعلقہ قانون: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 (ماتحت سیکشن 99C اور 237)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدنی حاصل کرنے والے رہائشی افراد کے لیے انکم ٹیکس رولز 2002 میں نئے قواعد (Chapter IIA) کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کے تحت سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی کمائی کا تخمینہ لگانے اور ٹیکس حساب کتاب کا نیا ضابطہ متعارف کرایا گیا ہے۔ قانون کے مطابق کل آمدنی میں سے جائز اخراجات کی کٹوتی کے بعد قابلِ ٹیکس آمدنی کا تعین کیا جائے گا، جبکہ فی ہزار ویوز (RPM) کی شرح بھی مقرر کر دی گئی ہے۔

اہم قانونی نکات:

سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل کرنے والے ہر رہائشی شخص پر یہ نئے قواعد لاگو ہوں گے.

قابلِ ٹیکس آمدنی کا فارمولا کل آمدنی میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کے اخراجات نکال کر طے کیا جائے گا.
کل آمدنی کا تخمینہ فی ہزار ویوز کی مقرر کردہ شرح یا اصل وصول شدہ رقم (جو بھی زیادہ ہو) کے لحاظ سے لگایا جائے گا.

اس اسپیشل پروسیجر کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی بھی لازم ہوگی.

ٹیکس سال کے دوران اس آمدنی کی علیحدہ سے ڈیکلریشن انکم ٹیکس ریٹرن میں دینا ہوگی.

پٹیشنر کی طرف سے حوالہ جات: یہ نوٹیفیکیشن حکومتی سطح پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 99C اور 237 کے تحت حاصل کردہ اختیارات کے تحت جاری کیا گیا ہے.
رسپانڈنٹ کی طرف سے تفصیلات: یہ ایک قانونی نوٹیفیکیشن (S.R.O.) ہے جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے سیکئریٹری (رولز اینڈ ایس آر او) محمد امین قریشی کی طرف سے جاری کیا گیا ہے, جس میں تمام متعلقہ سوشل میڈیا صارفین کے لیے ضابطہ کار وضع کیا گیا ہے.

اگر آپ کو دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13، نذر دوگل بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
Note: Copy of notification is available in comments box

For more info follow
Insaf Law Associates Vehari
Insaf Law Associates Vehari( Official☑️)

کیا اولاد پر ماں یا باپ کا نفقہ دینا فرض ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کا ایک اور اہم اور تاریخی فیصلہ جاری!PLD  2026 181عدالت نے ...
24/09/2026

کیا اولاد پر ماں یا باپ کا نفقہ دینا فرض ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کا ایک اور اہم اور تاریخی فیصلہ جاری!

PLD 2026 181

عدالت نے والدین کی جانب سے اولاد کے خلاف نفقہ کے دعوے کو فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں تسلیم کیا ہے. تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 17-A صرف بیوی اور بچوں کے لیے ہے. والدین کے مقدمات میں ڈیفنس اسٹرائیک کرنے یا جلد بازی میں کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہے. لاہور ہائی کورٹ نے نچلی عدالتوں کے احکامات کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا ہے

Legal Points
فیملی کورٹس ایکٹ کے تحت فیملی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ والدین کی طرف سے اولاد کے خلاف نفقہ کے دعوے سن سکتی ہے.

اسلامی قانون اور روایات کے مطابق، اگر والدین بے سہارا ہوں تو اولاد پر ان کی مالی معاونت کرنا شرعی اور قانونی طور پر لازم ہے.

دفعہ 17-A کے تحت دفاع ختم کرنے (striking off defence) کی سخت سزائیں صرف بیوی اور بچوں کے نفقہ تک محدود ہیں، والدین کے مقدمات پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا.

پٹیشنر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ کو والدین کے نفقہ کا دعویٰ سننے کا کوئی دائرہ اختیار حاصل نہیں ہے.

قانون کی دفعہ 17-A صرف بیوی اور بچوں کے لیے ہے، اس لیے ماں کے مقدمے میں دفاع ختم کرنا غیر قانونی ہے.

ریسپانڈنٹ کے وکیل اور عدالت کے معاون (Amicus Curiae) نے مؤقف اپنایا کہ فیملی لاز اور مسلم فقہ (بشمول ڈی ایف ملا کی کتاب) کے مطابق اولاد اپنے غریب والدین کی کفالت کی اخلاقی اور قانونی پابند ہے.

فیملی کورٹس ایکٹ کا اسکیلپٹ اور شیڈول اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ فیملی امور میں خاندانی تنازعات اور نفقہ کے تمام معاملات حل کیے جائیں.

اگر آپ کو اس معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔
سجاد حسین بھٹی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13 نذر دوگل بلاک ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی

معاہدہ فروخت بغیر گواہان کے ثابت نہیں ہو سکتا: سپریم کورٹ کا ایک اور تاریخی فیصلہ!مقدمہ کی تفصیل: محمد ہمایوں وغیرہ بنام...
23/09/2026

معاہدہ فروخت بغیر گواہان کے ثابت نہیں ہو سکتا: سپریم کورٹ کا ایک اور تاریخی فیصلہ!

مقدمہ کی تفصیل: محمد ہمایوں وغیرہ بنام شفقات علی نثار وغیرہ
2026 SCMR 1332

کیا محض دعویٰ کرنے سے جائیداد کی ڈگری مل سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ ایگریمنٹ ٹو سیل کو قانون کے مطابق ثابت کرنا لازمی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگر مدعا علیہان معاہدے سے انکار کریں تو قانون کے مطابق گواہان کا عدالت میں پیش ہونا لازمی ہے.

قانون شہادت آرڈر کے تحت جائیداد کے مالیاتی معاملات سے متعلقہ دستاویزات کے لیے تصدیق شدہ گواہان کا پیش نہ ہونا کیس کو کمزور کر دیتا ہے.

عدالت نے واضح کیا کہ مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کا ریلیف حق نہیں بلکہ عدالت کی صوابدید پر منحصر ہے.

اگر مدعی گواہان پیش کرنے میں ناکام رہے اور معقول عذر بھی پیش نہ کرے تو عدالت کا نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو بحال رکھنا برقرار نہیں رکھا جا سکتا.

عدالت نے ہائی کورٹ اور دیگر نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے مدعی کا دعویٰ خارج کر دیا.

مدعی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ معاہدہ فروخت مورخہ 22 ستمبر 2000ء زبانی اور دستاویزی شواہد سے کافی حد تک ثابت شدہ ہے
دلیل دی گئی کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کا جائزہ لے کر لین دین کو درست قرار دیا ہے جس میں مداخلت کی ضرورت نہیں.

یہ بھی کہا گیا کہ مدعی نے تمام ادائیگیاں مکمل کر دی تھیں اور وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ہمیشہ تیار رہا جبکہ فروخت کنندگان نے تاخیر کی.
ڈیفنڈنڈ / ریسپانڈنٹ کے حق میں تفصیلی فیصلے اور حوالہ جات:
عدالت نے رفاقت علی بنام جمشید بیبی (2007 SCMR 1076) اور عین الدین بنام عبداللہ (2019 SCMR 880) کے فیصلوں کی روشنی میں قرار دیا کہ تصدیق شدہ گواہان کا پیش ہونا اور قانون کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے

عدالت نے مقصود احمد بنام سلمان علی (PLD 2003 SC 31) اور حافظ تصدق حسین بنام محمد دین (PLD 2011 SC 241) کی نظیروں کو دہرایا کہ مالیاتی ذمہ داریوں والے دستاویزات قانون کی دفعات کے تابع ہوتے ہیں.

عدالت نے لیاقت علی خان بنام فلک شیر (PLD 2014 SC 506) کا حوالہ دے کر واضح کیا کہ مخصوص کارکردگی کا دعویٰ صوابدیدی ہے اور عدالت قانوناً اس کی پابند نہیں کہ ہر صورت میں ڈگری جاری کرے.

اگر آپ کو فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔

محکمانہ تاخیر کا خمیازہ ملازم کو نہیں بھگتنا پڑے گا، سپریم کورٹ کا تاریخی اور شاندار فیصلہ!محکمانہ سستی کی وجہ سے ملازم ...
23/09/2026

محکمانہ تاخیر کا خمیازہ ملازم کو نہیں بھگتنا پڑے گا، سپریم کورٹ کا تاریخی اور شاندار فیصلہ!

محکمانہ سستی کی وجہ سے ملازم کو قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سلیکشن بورڈ بروقت میٹنگ نہیں کرتا تو اس میں ملازم کا کوئی قصور نہیں۔ جس مدت میں ملازم نے بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر فرائض سر انجام دیے، وہ مراعات کا مستحق ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

ملازم کو انتظامی یا محکمانہ تاخیر کی وجہ سے کسی بھی قانونی حق یا مراعات سے محروم نہیں کیا جا سکتا.

ایک بار جب ملازم کا حق بن جائے تو اسے بعد کے انتظامی تاخیر یا تبادلے کی وجہ سے ختم نہیں کیا جا سکتا.

محکمے اپنی ہی غلطی، سستی یا تاخیر کا قانونی فائدہ اٹھا کر ملازم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے.

آئینی عدالت کو مکمل اختیار ہے کہ وہ انتظامیہ کے غیر قانونی اور صوابدیدی فیصلوں کے خلاف مداخلت کرے.

پنجاب حکومت) کی طرف سے پیش کردہ عدالتی حوالے:
متعلقہ محکمہ نے موقف اپنایا کہ مراعات کے لیے سلیکشن بورڈ کی پیشگی منظوری اور متعلقہ نوٹیفکیشن کی شرائط پر عمل ضروری ہے.

مؤقف پیش کیا گیا کہ مراعات کا اطلاق پچھلی تاریخ (retrospective) سے نہیں ہو سکتا.

فیصلہ جو ڈیفنڈر / رسپانڈنٹ (ڈاکٹر منیر احمد ملک) کے حق میں دیا گیا:
F.C.P.L.A. Nos.508 of 2025 (The Province of Sindh versus Muhammad Rizwan Khan & others):
ایک بار حق پیدا ہو جائے تو اسے واپس یا ختم نہیں کیا جا سکتا.
C.P.L.A. No.491-P of 2022 (Khyber Pakhtunkhwa Police Service Commission versus Gohar Rehman)
: اگر ملازم حقدار ہے تو محکمہ اپنی غلطی یا تاخیر کی وجہ سے ملازم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا.

اگر آپ کو اس معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک کریں۔

Note.copy of judgement is in comments box

For more info follow
Insaf Law Associates Vehari

Group

Insaf Law Associates Vehari( Official☑️)

کیا اب صرف کاؤنٹر پر ڈگری لٹکانے یا محض موجودگی کا وقت ختم؟ حکومت کا فارمیسی سسٹمز پر انتہائی سخت حکم نامہ جاری!مقدمہ/آر...
23/09/2026

کیا اب صرف کاؤنٹر پر ڈگری لٹکانے یا محض موجودگی کا وقت ختم؟ حکومت کا فارمیسی سسٹمز پر انتہائی سخت حکم نامہ جاری!

مقدمہ/آرڈر کی تفصیل: وزارتِ قومی صحت (ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن)، اسلام آباد، مورخہ 13 ستمبر 2026، جاری کردہ بذریعہ سردار شبیر احمد (ایس کیو سی بی / آفیسر انچارج فارمیسی سروسز اینڈ ڈرگ کنٹرول) بمقابلہ تمام لائسنس یافتہ فارمیسیاں، ہسپتال فارمیسیاں اور بیوشن سیٹ اپس۔

میڈیکل اور فارمیسی کے شعبے میں ایک اہم اور پتے کی بات! اب محض نام کے فارماسٹ یا کاؤنٹر پر ظاہری موجودگی کافی نہیں ہوگی، بلکہ باقاعدہ طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔

فیصلے کا خلاصہ:

حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد کے تمام میڈیکل سٹورز اور فارمیسیوں کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

فارمیسی سروسز کو اب کوئی اختیاری یا اضافی کام نہیں سمجھا جائے گا۔

کوالیفائیڈ فارماسسٹ کی موجودگی کو صرف کاؤنتر یا انسپکشن کی حد تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔

تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر فارمیسی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنائیں۔

قانون کے مطابق فارماسسٹ مریضوں کی کونسلنگ اور نسخوں کی جانچ پڑتال کے فرائض خود انجام دیں گے۔
اس اقدام کا مقصد عامتہ الناس اور مریضوں کے بڑے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔

احکامات پر فوری اور من و عن عمل درآمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اہم قانونی نکات:

قانونی حیثیت: ڈریپ ایکٹ 2012 کے سیکشن 2 (xxvi) کے تحت "فارمیسی سروسز" ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ اصطلاح ہے.

پیشہ ورانہ ذمہ داریاں: اس میں خوراک کا تعین (posology)، مریضوں کی کونسلنگ، نسخے کا جائزہ، اور ادویات کی فراہمی شامل ہے.

لازمی جزو: فارمیسی خدمات کو روٹین کے پیشہ ورانہ امور میں باقاعدہ طور پر ضم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے.

انتظامیہ کی ذمہ داری: مالکان اور مینیجرز پابند ہیں کہ وہ فارماسسٹ کو ان کے قانونی فرائض انجام دینے میں مکمل سپورٹ فراہم کریں.

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ایکٹ، 2012 (DRAP Act, 2012)
ڈرگز ایکٹ، 1976 (Drugs Act, 1976)

یہ حکم نامہ کسی فریقِ مخالف کے خلاف انفرادی دعویٰ نہیں بلکہ وزارتِ قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن (صحت محکمہ اسلام آباد) کی طرف سے پبلک انٹرسٹ میں جاری کردہ ریگولیٹری ڈائریکٹیو ہے، جس کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کو قانون کے مطابق شفاف اور فعال نظام فراہم کرنا ہے.

اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں!

سجاد حسین بھٹی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
"انصاف لاء ایسوسی ایٹس وہاڑی"
ایڈریس: چیمبر نمبر 13 نذر دوگل بلاک ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
نوٹ ۔نوٹیفکیشن کی کاپی کمنٹس باکس میں ملاحظہ کر سکتے ہیں
ہمارا مقصد لوگوں کو قانون سے اگاہ کرنا ہے کسی بھی غلط معلومات کی صورت میں ہم ذمہ دار نہ ہوں گے اس لیے ہمیشہ کاؤنٹر چیک کر لیں

سرکاری ملازمین کے لیے شاندار خبر! دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے امدادی پیکج میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔ایڈمنس...
23/09/2026

سرکاری ملازمین کے لیے شاندار خبر! دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے امدادی پیکج میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔

ایڈمنسٹریشن ڈویژن، کابینہ سیکرٹریٹ، حکومتِ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ آفس میمورنڈم مورخہ 8 ستمبر 2026

حکومتِ پاکستان نے دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے لواحقین کے لیے مالی معاونت، پلاٹ، تعلیم اور علاج معالجے کے پیکج میں بڑا اضافہ کر دیا ہے جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔

فیصلے یا نوٹیفیکیشن کا خلاصہ:

حکومتِ پاکستان نے دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے لیے نیا اور بہتر امدادی پیکج منظور کر لیا ہے۔
اس پیکج کے تحت ملازمین کی بنیادی تنخواہ اور سکیل کے لحاظ سے یکمشت گرانٹ (Lump Sum Grant) میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔

سکیورٹی سے متعلقہ اموات اور عام دورانِ ملازمت اموات کے لیے الگ الگ اور بہتر مالی امداد رکھی گئی ہے۔

بچوں کی مفت تعلیم، رہائش، شادی گرانٹ اور پنشن کے قوانین کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔

یہ نیا پیکج 28 اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور تمام سابقہ پیکجز کی جگہ لے گا۔

قانونی و انتظامی نکات:
لمپ سم گرانٹ: بی ایس 1 سے 20 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے لیے سکیل وائز گرانٹ کی رقم مقرر کر دی گئی ہے۔

تعلیمی سہولیات: وفاقی ملازمین کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم اور تمام تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
شادی گرانٹ: ایک بیٹی کی شادی کے لیے 8 لاکھ روپے تک کی گرانٹ دی جائے گی۔

ایڈوانس اور قرضے: ملازمین کے بقای جات یا ہاؤس بلڈنگ و موٹر کار ایڈوانس معاف کر دیے جائیں گے۔

ملازمت کا حصول: شہداء کے اہل خانہ کو بی ایس 01 سے 15 تک نوکری بغیر اشتہار کے دی جائے گی۔

یہ ایک سرکاری پالیسی نوٹیفیکیشن (Office Memorandum) ہے جو کہ حکومتِ پاکستان کے ضوابط کے تحت جاری ہوا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومتِ پاکستان نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے اس پیکج پر عمل درآمد لازمی قرار دیا ہے۔

اگر آپ کو فراہم کردہ معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔
Note: copy of notification is available in comments box

Address

Chamber No 13 Nazar Duggal Block District Courts Vehari
Vehari
61100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Insaf Law Associates Vehari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Insaf Law Associates Vehari:

Shortcuts

Share

Category