01/01/2026
کسی نے افضل شیر مروت صاحب سے سوال کیا کہ "وہ رجب بٹ…؟" تو جواب آیا: "کون رجب بٹ؟ میں کسی رجب بٹ کو نہیں جانتا۔" یہ لاعلمی نہیں، بلکہ شعوری انکار ہے؛ اور بعض اوقات کسی کو جاننے سے انکار ہی اس کا اصل مقام متعین کر دیتا ہے۔ جن ناموں کی پہچان صرف شور، فحاشی اور سستی شہرت پر کھڑی ہو، انہیں پہچاننا بھی اپنے وقار پر حرف لانے کے مترادف ہوتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر کچھ چہروں کو دانستہ طور پر اُبھارا جاتا ہے—ایسے چہرے جو نہ اقدار کے نمائندہ ہیں، نہ تہذیب کے۔ جن کا سرمایۂ حیات ماں، بہن اور بیٹی کی نجی زندگی کو سرِبازار تماشا بنانا ہو، اور جن کی کامیابی کا پیمانہ ویوز، لائکس اور واچ ٹائم ہو، وہ معاشرے کے معمار نہیں بلکہ اخلاقی زوال کے اشتہاری ایجنٹ ہوتے ہیں۔
حیرت اس بات پر ہے کہ ہم خود ایسے لوگوں کو وہ اہمیت عطا کر دیتے ہیں جس کے وہ سرے سے مستحق ہی نہیں۔ ہر ردِعمل، ہر ویڈیو، ہر تبصرہ ان کے لیے ایندھن ہے۔ وہ گالی سے بھی خوش ہوتے ہیں، تنقید سے بھی—کیونکہ مقصد اصلاح نہیں، شہرت ہے۔ ایسے میں ان پر بولنا نہیں، بلکہ انہیں نظرانداز کرنا ہی اصل سزا ہے۔
خصوصاً وہ احباب جو قانون جیسے معزز پیشے سے وابستہ ہیں، ان کے لیے یہ بات دوٹوک ہے کہ وکیل کا کام قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں۔ وکیل کا اصل کام دلیل سے بات کرنا ہے، فریق بننا نہیں بلکہ دلائل دینا ہے۔ یہ ایک عظیم اور مقدس پیشہ ہے، اور اس کی حرمت کو سستی شہرت، جذباتی ردِعمل یا سوشل میڈیا کے ہنگاموں کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ جو وکیل دلیل چھوڑ کر تماشے کا حصہ بن جائے، وہ نہ صرف اپنے منصب بلکہ اپنے پیشے کی روح کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمارا کام عدالت میں بولنا ہے، دلیل سے بولنا ہے—یوٹیوب کے شور میں نہیں۔
یاد رکھیے، معاشرے کی اصلاح تماشے سے نہیں ہوتی، اور نہ ہی اخلاقیات کا دفاع بازاری زبان سے کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر گندگی پھیلاتے ہیں، ان کے لیے سب سے مؤثر ردِعمل خاموشی ہے۔ انہیں غیر متعلق بنا دیجیے—کیونکہ غیر متعلق ہونا ہی ان کے لیے سب سے بڑی شکست ہے۔
آخر میں اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ہر آواز سننے کے قابل نہیں ہوتی، اور ہر چہرہ پہچان کے لائق نہیں۔ کچھ ناموں کو نظرانداز کرنا ہی دراصل معاشرے کی خدمت ہے۔