Mubashar Yousaf law associates

Mubashar Yousaf law associates We Law firm provide legal services,leading law firm extending serviecs in the field of law pursing courts and case .

dealing in write , Consisting Criminal lawyers, civil, family , tax, Corporate & constitutions matters

ڈپٹی کمشنر (DC) کے پاس انتظامی اور نیم عدالتی (Quasi-Judicial) دونوں طرح کے اختیارات ہوتے ہیں۔ جب وہ بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ...
18/04/2026

ڈپٹی کمشنر (DC) کے پاس انتظامی اور نیم عدالتی (Quasi-Judicial) دونوں طرح کے اختیارات ہوتے ہیں۔ جب وہ بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کام کرتا ہے، تو وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف قوانین کے تحت سزائیں اور احکامات جاری کر سکتا ہے۔
ذیل میں ان پاورز، دفعات اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے طریقے کی مکمل قانونی تفصیل دی گئی ہے:
1. دفعہ 144 ضابطہ فوجداری (Section 144 CrPC)
یہ دفعہ ڈپٹی کمشنر کو ہنگامی حالات میں فوری احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
• اختیارات: ڈی سی کسی بھی ایسے کام کو روک سکتا ہے جس سے انسانی جان کو خطرہ ہو، امن عامہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو یا ہنگامہ آرائی کا ڈر ہو۔
• سزا: اگر کوئی شخص دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرے، تو اس کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت کارروائی ہوتی ہے، جس میں 1 ماہ سے 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
• میعاد: عام طور پر یہ حکم 2 دن سے لے کر 2 ماہ تک کے لیے ہوتا ہے (صوبائی حکومت اسے بڑھا سکتی ہے)۔
2. 16 ایم پی او (Section 3 & 16 MPO - Maintenance of Public Order)
یہ قانون "نظربندی" (Preventive Detention) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
• سیکشن 3 MPO: اگر ڈی سی کو لگے کہ کوئی شخص پبلک سیفٹی کے لیے خطرہ ہے، تو وہ اسے 30 سے 90 دن کے لیے نظر بند کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
• سیکشن 16 MPO: یہ دفعہ اشتعال انگیز تقریر، ممنوعہ لٹریچر پھیلانے یا افواہیں پھیلانے پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
• اختیارات: ڈی سی کسی بھی شخص کی نقل و حرکت محدود کر سکتا ہے یا اسے ضلع بدر (Externment) کر سکتا ہے۔
3. پرائس کنٹرول اور دیگر انتظامی اختیارات
• پرائس کنٹرول ایکٹ: ڈی سی بطور "پرائس کنٹرول مجسٹریٹ" ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کو موقع پر جرمانہ کر سکتا ہے یا دکان سیل کر سکتا ہے۔
• لوکل گورنمنٹ ایکٹ: تجاوزات کے خاتمے اور بلدیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سزائیں دینے کا اختیار۔
ہائی کورٹ کا فورم اور قانونی طریقہ کار
اگر ڈپٹی کمشنر آپ کی درخواست خارج کر دے یا غیر قانونی طور پر نظر بند کرے، تو ہائی کورٹ میں درج ذیل قانونی راستے موجود ہیں:
الف: رٹ پٹیشن (Writ Petition - Article 199)
اگر ڈی سی کا حکم بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کے خلاف ہے، تو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جاتی ہے۔
1. Mandamus: اگر ڈی سی اپنا قانونی فرض پورا نہیں کر رہا۔
2. Certiorari: اگر ڈی سی نے اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کوئی غیر قانونی فیصلہ دیا ہو، تو اسے کالعدم (Set Aside) کروانے کے لیے۔
ب: حبسِ بے جا (Habeas Corpus - Section 491 CrPC)
اگر 3 MPO کے تحت کسی کو غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا یا نظر بند کیا گیا ہے، تو ہائی کورٹ میں سیکشن 491 CrPC کے تحت درخواست دی جاتی ہے۔ عدالت فوری طور پر بندے کو پیش کرنے اور رہا کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
ج: قانونی نقطہ نظر اور ججمنٹ (Case Laws)
عدالتیں عام طور پر ڈی سی کے احکامات کو درج ذیل بنیادوں پر پرکھتی ہیں:
• Natural Justice: کیا ڈی سی نے فیصلہ سنانے سے پہلے متاثرہ فریق کو سنا (Personal Hearing)؟
• Speaking Order: کیا ڈی سی نے فیصلے میں ٹھوس وجوہات لکھی ہیں؟ صرف "امن و امان" لکھ دینا کافی نہیں ہے۔

دہشت گردی ایکٹ (Anti-Terrorism Act, 1997) 1. سی ٹی ڈی (CTD) کتنے دنوں کا ریمانڈ لے سکتی ہے؟انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) ...
18/04/2026

دہشت گردی ایکٹ (Anti-Terrorism Act, 1997)
1. سی ٹی ڈی (CTD) کتنے دنوں کا ریمانڈ لے سکتی ہے؟
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کی دفعہ 21-E کے مطابق:
• ابتدائی ریمانڈ: عدالت تفتیش کے لیے ملزم کا 15 دن تک کا جسمانی ریمانڈ دے سکتی ہے۔
• توسیع: اگر تفتیش مکمل نہ ہو، تو عدالت اس میں مزید توسیع کر سکتی ہے، لیکن کل جسمانی ریمانڈ کی مدت 30 دن سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
• خصوصی حالات: بعض مخصوص سنگین صورتوں میں دفعہ 11-EEEE کے تحت (اگر ریاست کے خلاف سنگین جرم ہو) ملزم کو 90 دن تک احتیاطی حراست (Preventive Detention) میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے سخت قانونی شرائط موجود ہیں۔
2. انٹیروگیشن (انٹراگیشن) کیا ہے؟
انٹیروگیشن سے مراد ملزم سے تفتیش یا پوچھ گچھ کا وہ عمل ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے جرم کی حقیقت، شریکِ جرم افراد اور شواہد تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
• یہ عمل قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
• ملزم پر تشدد کرنا یا غیر انسانی سلوک کرنا آئینِ پاکستان کی دفعہ 14 (انسانی وقار کی پامالی) کی خلاف ورزی ہے۔
3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ججمنٹس کیا کہتی ہیں؟
اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے (Case Laws) ریمانڈ اور تفتیش کے حوالے سے بہت واضح ہیں:
• مکینیکل ریمانڈ کی ممانعت: سپریم کورٹ نے کئی بار واضح کیا ہے کہ ریمانڈ صرف پولیس کی خواہش پر نہیں دیا جا سکتا۔ جج کو دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی ریمانڈ کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
• طبی معائنہ: ججمنٹ کے مطابق ریمانڈ سے پہلے اور بعد میں ملزم کا طبی معائنہ (Medical Examination) ضروری ہے تاکہ تشدد کے امکان کو روکا جا سکے۔
• حقِ وکیل: ملزم کو اپنے وکیل سے مشورہ کرنے کا حق حاصل ہے، جیسا کہ 2023 SCMR 1215 اور دیگر فیصلوں میں وضاحت کی گئی ہے۔
4. سی ٹی ڈی (CTD) کے اختیارات کیا ہیں؟
سی ٹی ڈی کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہیں:
• گرفتاری اور چھاپہ مارنا: دہشت گردی، فرقہ واریت اور کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت (Terror Financing) کے شبہ میں کسی کو بھی گرفتار کرنا۔
• تفتیش: دہشت گردی کے مقدمات کی تفتیش کرنا اور چالان عدالت میں پیش کرنا۔
• سرچ آپریشن: کسی بھی ایسی جگہ کی تلاشی لینا جہاں دہشت گردی کی سرگرمیوں کا شبہ ہو۔
• نگرانی: مشکوک افراد اور تنظیموں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا۔
نوٹ: اگر کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جائے تو ہائی کورٹ میں Habeas Corpus (حبسِ بے جا) کی پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے۔

فوجداری قوانین، بالخصوص ضابطہ فوجداری (CrCr.P) 1898 کے تحت مرڈر ریفرنس اور مرڈر اپیل دو مختلف قانونی مراحل ہیں جو سزائے ...
18/04/2026

فوجداری قوانین، بالخصوص ضابطہ فوجداری (CrCr.P) 1898 کے تحت مرڈر ریفرنس اور مرڈر اپیل دو مختلف قانونی مراحل ہیں جو سزائے موت کے مقدمات میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بے گناہ کو تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے۔
ان کے درمیان بنیادی فرق درج ذیل ہیں:
1. مرڈر ریفرنس (Murder Reference)
جب سیشن عدالت کسی ملزم کو دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سناتی ہے، تو وہ سزا اس وقت تک نافذ نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہائیکورٹ اس کی تصدیق (Confirmation) نہ کر دے۔
• متعلقہ قانون: ضابطہ فوجداری کی دفعہ 374۔
• پہل کون کرتا ہے؟: یہ ریفرنس خود سیشن عدالت کی طرف سے ہائیکورٹ کو بھیجا جاتا ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، ملزم کی نہیں۔
• مقصد: اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کیا سیشن کورٹ نے دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر سزا درست دی ہے؟ کیا قانون کے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں؟
• لازمی حیثیت: مرڈر ریفرنس ہر اس کیس میں لازمی ہے جہاں موت کی سزا سنائی گئی ہو، چاہے ملزم اپیل کرے یا نہ کرے۔
2. مرڈر اپیل (Murder Appeal)
مرڈر اپیل وہ قانونی حق ہے جو سزا یافتہ ملزم کو قانون دیتا ہے کہ وہ سیشن عدالت کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر سکے۔
• متعلقہ قانون: ضابطہ فوجداری کی دفعہ 410۔
• پہل کون کرتا ہے؟: یہ اپیل سزا یافتہ ملزم (یا اس کے ورثاء/وکلاء) کی طرف سے دائر کی جاتی ہے۔
• مقصد: ملزم عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں قانونی یا واقعاتی غلطیاں موجود ہیں اور اسے دی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے۔
• اختیاری حیثیت: اپیل ملزم کا حق ہے، اگر وہ چاہے تو کرے اور اگر نہ چاہے تو نہ کرے۔ تاہم، عملی طور پر ریفرنس کے ساتھ اپیل کی سماعت لازمی سمجھی جاتی ہے۔
اہم فرق: ایک نظر میں

1. قانونی دفعہ
• مرڈر ریفرنس: ضابطہ فوجداری (Cr.PC) کی دفعہ 374۔
• مرڈر اپیل: ضابطہ فوجداری (Cr.PC) کی دفعہ 410۔
2. دائر کنندہ (کون شروع کرتا ہے؟)
• مرڈر ریفرنس: یہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج) کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریکارڈ ہائیکورٹ کو بھیجے۔
• مرڈر اپیل: یہ ملزم یا اس کے وکیل کی طرف سے دائر کی جاتی ہے۔
3. قانونی حیثیت
• مرڈر ریفرنس: سزائے موت کی صورت میں یہ لازمی (Mandatory) ہے، چاہے ملزم اپیل کرے یا نہ کرے۔
• مرڈر اپیل: یہ ملزم کا قانونی حق ہے، وہ چاہے تو اپیل کرے یا نہ کرے۔
4. بنیادی مقصد
• مرڈر ریفرنس: ہائیکورٹ سے سزائے موت کی توثیق (Confirmation) کروانا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
• مرڈر اپیل: ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا تاکہ سزا ختم یا کم کروائی جا سکے۔
5. سماعت کا فورم
• مرڈر ریفرنس: ہائیکورٹ کا ڈویژن بینچ (دو ججز) سماعت کرتا ہے۔
• مرڈر اپیل: ہائیکورٹ کا ڈویژن بینچ ہی سماعت کرتا ہے اور عموماً ریفرنس اور اپیل کی سماعت ایک ساتھ ہوتی ہے۔

قانونی نقطہ نظر (Legal Point of View)
پاکستانی قانون کے تحت، ہائیکورٹ ریفرنس اور اپیل دونوں کی سماعت اکٹھے کرتی ہے۔ ہائیکورٹ کے پاس وسیع اختیارات ہوتے ہیں:
1. وہ سزائے موت کی تصدیق کر سکتی ہے۔
2. وہ سزا کو عمر قید میں تبدیل کر سکتی ہے۔
3. وہ ملزم کو بری کر سکتی ہے۔
4. وہ کیس کو دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیج سکتی ہے۔
خلاصہ: ریفرنس عدالت کی طرف سے "چیک اینڈ بیلنس" کا نظام ہے، جبکہ اپیل ملزم کا اپنا دفاعی حق ہے۔ دونوں کا سنگم ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ (دو جج صاحبان) کے سامنے ہوتا ہے۔

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبا...
18/04/2026

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
​1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
​سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
​دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
​دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
​2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
​سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
​درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
​پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
​ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
​عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
​3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
​اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
​مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
​مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
​کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
​اہم نکات برائے وکیل
​بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
​مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

پنجاب بار کونسل نے، سرکاری یا نجی مُلازمت کرنے اور کسی بھی طرح کے کاروبار کرنے والے  وکیلوں پہ پابندی لگا دی.
16/04/2026

پنجاب بار کونسل نے، سرکاری یا نجی مُلازمت کرنے اور کسی بھی طرح کے کاروبار کرنے والے وکیلوں پہ پابندی لگا دی.

📢 پنجاب میں سٹیمپ ڈیوٹی کا نیا قانون 2026 – عام شہریوں کے لیے بڑی سہولتحکومتِ پنجاب نے 10 اپریل 2026 کو سٹیمپ ایکٹ 1899 ...
10/04/2026

📢 پنجاب میں سٹیمپ ڈیوٹی کا نیا قانون 2026 – عام شہریوں کے لیے بڑی سہولت

حکومتِ پنجاب نے 10 اپریل 2026 کو سٹیمپ ایکٹ 1899 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے Stamp (Amendment) Ordinance 2026 نافذ کیا ہے، جس کا مقصد جائیداد کے لین دین کو آسان، سستا اور شفاف بنانا ہے۔

---

🔹 قانون کی سادہ وضاحت:

✅ "Assignable Deed" کیا ہے؟
یہ ایسا قانونی دستاویز ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی جائیداد کے حقوق (Rights, Title, Interest) کسی دوسرے شخص کو منتقل کرتا ہے، یعنی مکمل نئی رجسٹری کے بجائے حقوق کی منتقلی۔

---

🔹 سٹیمپ ڈیوٹی میں نئی شرح:

📌 12 ماہ کے اندر منتقلی → 1% سٹیمپ ڈیوٹی
📌 12 ماہ کے بعد منتقلی → 2% سٹیمپ ڈیوٹی

⚠️ اہم نکتہ:
یہ شرح خاص طور پر Assignable Deed پر لاگو ہوتی ہے، نہ کہ ہر قسم کی سیل ڈیڈ یا رجسٹری پر۔

---

🔹 پہلے کیا مسئلہ تھا؟

❌ شہری علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی → 1%
❌ دیہی علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی → 3%

➡️ اس فرق کی وجہ سے:

- لوگ دیہی علاقوں میں ٹرانسفر سے کتراتے تھے
- غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں
- بعض کیسز میں جعلی طریقے (under-value یا غیر رسمی ٹرانسفر) استعمال ہوتے تھے

---

🔹 اب کیا بہتری آئی ہے؟

✔ شہری و دیہی فرق کم کر دیا گیا
✔ شرح کو سادہ اور واضح بنایا گیا
✔ لین دین کا طریقہ زیادہ قانونی اور محفوظ ہو گیا

---

🔹 عام شہری کو کیا فائدہ ہوگا؟

💰 1. کم خرچ میں جائیداد کی منتقلی
اب Assignable Deed کے ذریعے ٹرانسفر پر کم سٹیمپ ڈیوٹی دینا پڑے گی، جس سے اخراجات کم ہوں گے۔

⚖️ 2. قانونی تحفظ میں اضافہ
لوگ غیر رسمی یا زبانی معاملات کے بجائے باقاعدہ دستاویزات استعمال کریں گے، جس سے فراڈ اور تنازعات کم ہوں گے۔

📉 3. مقدمہ بازی میں کمی
سادہ اور واضح قانون ہونے کی وجہ سے عدالتوں میں جائیداد کے کیسز کم ہوں گے۔

🏡 4. پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی
کم لاگت اور آسانی کی وجہ سے خرید و فروخت میں اضافہ ہوگا، جس سے مارکیٹ ایکٹیو ہوگی۔

📊 5. سرمایہ کاری میں اضافہ
لوگ اعتماد کے ساتھ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کریں گے کیونکہ ٹیکس نظام واضح ہو گیا ہے۔

🤝 6. خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے سہولت
دونوں فریق کم لاگت اور آسان پراسیس کی وجہ سے جلدی ڈیل مکمل کر سکیں گے۔

---

🔹 قانون کا اصل مقصد:

🎯 لین دین کو آسان بنانا
🎯 اخراجات کم کرنا
🎯 قانونی نظام کو شفاف بنانا
🎯 فراڈ اور جعلی ٹرانزیکشنز کی روک تھام
🎯 ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا

---

📌
یہ نیا قانون خاص طور پر جائیداد کے حقوق کی منتقلی (Assignable Deed) کو آسان اور سستا بنانے کے لیے ہے۔ اس سے عام شہری کو کم خرچ، زیادہ قانونی تحفظ اور تیز تر پراپرٹی ٹرانزیکشن کی سہولت حاصل ہوگی۔

پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔...
13/03/2026

پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):
سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔
وہاں موجود Get an e-Stamp کے آپشن پر کلک کریں۔
اس کے بعد Challan Form (Low Denomination) کو اوپن کریں۔
فارم میں مطلوبہ تمام تفصیلات درست طریقے سے درج کریں۔
فارم مکمل کرنے کے بعد اسے Save کر لیں، اس سے آپ کا چالان تیار ہو جائے گا۔
اب اس چالان کو Easypaisa / JazzCash یا کسی بینک کے ذریعے جمع کروا دیں۔
چالان جمع ہونے کے بعد دوبارہ ویب سائٹ پر جا کر Download Stamp Paper کے آپشن پر کلک کریں۔
وہاں Challan Number / PSID درج کریں۔
جو موبائل نمبر آپ نے فارم میں دیا تھا، اس پر Stamp Number آئے گا، اسے بھی درج کریں۔
اس کے بعد اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر لکھیں۔
پھر Download Stamp پر کلک کریں۔
آخر میں ایک Password / OTP مانگا جائے گا، جو آپ کے موبائل پر آئے گا۔ اسے درج کرنے کے بعد e-Stamp Paper ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا اور آپ اسے پرنٹ کر سکتے ہیں۔

پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤنحکومتِ نے (ترمیمی) گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے — اور سادہ الفاظ میں سمجھ لیں:...
17/02/2026

پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
حکومتِ نے (ترمیمی) گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے —
اور سادہ الفاظ میں سمجھ لیں:
اب غیر قانونی قبضہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک جرم بن گیا ہے۔

غیر قانونی قبضہ کرنے پر 5 سے 10 سال قید ،ساتھ میں 1 کروڑ روپے تک جرمانہ بھی ممکن ،جعل سازی کے ذریعے قبضہ بھی اسی زمرے میں آئے گا۔

سہولت کار بھی نہیں بچیں گے
اب صرف قبضہ کرنے والا ہی نہیں بلکہ:
مدد کرنے والا ،پشت پناہی کرنے والا ،سہولت فراہم کرنے والا
سب کو سزا ہو سکتی ہے۔

ہر ضلع میں خصوصی کمیٹی
ہر ضلع میں ایک بار اختیار کمیٹی بنے گی جس میں ،ڈی پی او ،اسسٹنٹ کمشنر ،ڈی سی شامل ہونگے۔

یہ کمیٹی شکایت آنے کے 30 دن کے اندر رپورٹ دے گی۔
یعنی کاغذی کارروائی کے نام پر سالوں کی تاخیر ختم۔

اہم ترین قدم
ایڈیشنل سیشن ججز بطور پراپرٹی ٹریبونل تعینات ہوں گے ،کیس روزانہ بنیاد پر چلے گا ،ٹریبونل ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا پابند

اگر کیس پہلے سے کسی عدالت میں چل رہا ہے:
درخواست گزار اسی عدالت سے ٹرانسفر کی درخواست دے گا
لیکن یہ قانون سپریم کورٹ، آئینی عدالت اور لاہور ہائیکورٹ کے زیرِ سماعت کیسز پر لاگو نہیں ہوگا۔

ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف:
30 دن کے اندر لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔

ایف آئی آر میں دانستہ تاخیر کرنے والے افسران کے خلاف سیکشن 201 PPC کے تحت کارروائی ہوگی، سپریم کورٹ آف پاکستانفریادی نہ...
10/02/2026

ایف آئی آر میں دانستہ تاخیر کرنے والے افسران کے خلاف سیکشن 201 PPC کے تحت کارروائی ہوگی، سپریم کورٹ آف پاکستان

فریادی نہیں، اطلاع دہندہ
پولیس آفیسر حاکم نہیں ، خادم ہے

قانونی کتابوں سے عملی زندگی تکقانون صرف دفعات اور کتابوں کا نام نہیں، بلکہ انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ایک عملی نظام ہے۔ ج...
07/02/2026

قانونی کتابوں سے عملی زندگی تک

قانون صرف دفعات اور کتابوں کا نام نہیں، بلکہ انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ایک عملی نظام ہے۔ جب وکالت کے میدان میں قدم رکھا جاتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اصل قانون عدالتوں سے نکل کر عوام کی مشکلات میں نظر آتا ہے۔

وکالت صبر، دیانت اور اصولوں کا امتحان ہے۔ یہاں کامیابی صرف مقدمات جیتنے میں نہیں، بلکہ مظلوم کا اعتماد بحال کرنے میں ہوتی ہے۔ ایک وکیل موکل کے لیے صرف نمائندہ نہیں، بلکہ امید اور انصاف کی آخری امید بھی ہوتا ہے۔

عملی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ قانون طاقتور کے لیے نہیں، کمزور کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے۔ جب قانون اثر و رسوخ کے تابع ہو جائے تو انصاف کا تصور ختم ہو جاتا ہے

بیٹیوں کا حق دبانے کی کوشش ناکام !!73 کنال 17 مرلہ زمین تھی بیٹے کا دعویٰ:والد نے زندگی میں مجھے زبانی ہبہ (Oral Gift) ک...
03/02/2026

بیٹیوں کا حق دبانے کی کوشش ناکام !!
73 کنال 17 مرلہ زمین تھی بیٹے کا دعویٰ:والد نے زندگی میں مجھے زبانی ہبہ (Oral Gift) کر دی تھی!

بیٹیوں کا دعویٰ: کوئی ہبہ نہیں ہوا ,یہ جائیداد وراثتی ہے ,ہمیں حصہ دو

ہبہ کے 8 ماہ بعد باپ فوت ہوگیا

عدالت نے کہا:

اتنے کم وقت میں ,بوڑھا اور بیمار آدمی ,ہبہ ثابت کرنا زیادہ سخت معیار مانگتا ہے

قانون کا اصول:

“زبانی ہبہ آسان دعویٰ ہے لیکن ثابت کرنا بہت مشکل ہے”

خاص طور پر:
جب بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنے کیلئے کیا گیا ہو

عدالت ایسے معاملات میں: بہت سخت ثبوت مانگتی ہے

بیٹیاں بھی وارث ہیں — ان کا حق کھانا آسان نہیں

Address

Toba Tek Singh
SAME

Telephone

0204002020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mubashar Yousaf law associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share