07/03/2026
پریس ریلیز
جنوبی وزیرستان بالخصوص لوئر وزیرستان میں ماہِ رمضان کے بابرکت مہینے کے دوران پیش آنے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ افسوس ہیں۔ حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات، جن میں گزشتہ روز ایڈووکیٹ نواب علی کے چچا کی اغواء کی واردات، ایک نابالغ بچے کا بہیمانہ قتل اور آج ہونے والا دھماکہ شامل ہیں، علاقے کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور علاقے میں امن و امان کا قیام ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خاطر خواہ کامیاب نظر نہیں آ رہے۔ اپنی بدانتظامی اور غفلت کو محض مسلح تنظیموں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دینا نہ صرف حقیقت سے چشم پوشی ہے بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔
ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عسکری ادارے, ضلعی انتظامیہ اور پولیس فوری طور پر مؤثر اقدامات کرتے ہوئے علاقے میں اپنی رٹ قائم کریں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ ادارے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں تو پھر عوامی وسائل سے حاصل کیے جانے والے لاکھوں اور کروڑوں روپے کے مراعات اور اخراجات کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ذمہ دار ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و امان کی بحالی کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کریں تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
صدر
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن
جنوبی وزیرستان