04/04/2023
پاکستان میں کپاس کی اقسام۔اور کپاس کا مستقبل۔!!
Cotton varieties in Pakistan and Future of cotton in Pakistan.!!
پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ اور پاکستان کو %60 فیصد زرمبادلہ کپاس اور اس سے بننے والی مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان نے ایک سال زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ کھانٹھیں پیدا کی تھیں۔اس کے بعد مسلسل پیداوار کم ہی ہوتی رہی ہے۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم بیج ہے ۔
آج ہم پاکستان میں کاشت ہونے والی اقسام پر بات کرتے ہیں۔
پاکستان میں دو قسم کی کپاس کاشت کی جاتی ہے۔
1-دیسی کپاس
2-امریکن کپاس۔
دیسی کپاس بہت کم رقبے پر کاشت کی جاتی ہے جبکہ زیادہ تر رقبے پر امریکن کپاس ہی کاشت کی جاتی ہے۔ امریکن کپاس کو نرما بھی کہا جاتا ہے۔
امریکن کپاس کی مزید چار اقسام اس وقت پاکستان میں کاشت کی جا رہی ہیں۔ہر قسم کی بہت سی ورائٹیز ہیں۔
1-نان بی ٹی اقسام ۔؛:
نان بی ٹی اقسام پر رس چوسنے والے کیڑوں کے ساتھ تمام سنڈیوں کا حملہ ہوتا ہے۔ امریکن سنڈی کا تو شدید حملہ ہوتا ہے۔اور کنٹرول سے باہر ہو جاتی ہے۔ اس لئے اب نان بی ٹی اقسام کی کاشت بہت کم ہو گئی ہے۔ البتہ کچھ علاقوں ،راجن پور اور ڈی جی خان کے کچھ علاقوں میں کچھ رقبے پر نان بی ٹی کاٹن کاشت کی جاتی ہے۔
نان بی ٹی اقسام میں زیڈ-33 قابل ذکر ہے۔
2-بی ٹی اقسام ::
بی ٹی اقسام پر چتکبری سنڈی اور امریکن سنڈی کا حملہ نہیں ہوتا جبکہ گلابی سنڈی اور رس چوسنے والے کیڑوں کا حملہ ہوتا ہے۔
ان اقسام میں ایس ایس۔32، ایس ایس 102، نایاب۔878 ،آئی یو بی-13، قابل ذکر ہیں۔
3-ٹرپل جینز( ٹرانسجینک) اقسام۔
ان اقسام میں گلائیفوسیٹ ، گلابی سنڈی اور اور دوسری سنڈیوں کے خلاف مدافعت پائی جاتی ہے۔ یعنی اگر کپاس پر گلائیفوسیٹ کا سپرے کر دیا جائے تو جڑی بوٹیاں مر جاتی ہیں اور کپاس کو کچھ نہیں ہوتا۔اور گلابی سنڈی کا بھی حملہ نہیں ہوتا۔ جبکہ رس چوسنے والے کیڑوں سبز تیلہ تھریس اور سفید مکھی کا حملہ ہوتا ہے۔
ان اقسام میں
ایف ایچ-33
سی کے سی-3
سی کےسی-5
سی کے سی۔6
سی ایس-200
سی ایس-300
بی ایس-49
سلور کوئین۔
شامل ہیں۔
4۔5 جی (ٹرانسجینک) اقسام::
5 جی اقسام میں گلابی سنڈی اور دوسری سنڈیوں کے ساتھ رس چوسنے والے کیڑوں ،سبز تیلہ ،تھرپس اور سفید مکھی کے خلاف بھی مدافعت پائی جاتی ہے۔ اور آپکو کسی بھی کیڑے کے لئے کسی قسم کا سپرے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور ان کا پیداواری صلاحیت بھی 80 سے 100 من فی ایکڑ تک ہے۔
ان میں
وائٹ کوئین ورائٹی قابل ذکر ہے۔
نان بی ٹی وراٹیز میں ایس۔12
بی ٹی ورائٹیز میں بی ٹی۔121
اور ٹرانسجینک ورائٹیز میں ایف ایچ -333
اپنے اپنے وقت میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ اور بہت سے زمینداروں نے ان ورائٹیز سے 60 سے 100من فی ایکڑ تک پیداوار حاصل کی ہے۔
وقت بدل رہا ہے۔پچھلے سال تک بہت کم زمیندار ٹرپل جینز(ٹرانسجینک) کاٹن کے بارے میں جانتے تھے لیکن اس سال اکثر زمیندار ٹرپل جینز ورائٹیز کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ جو کہ بہت خوش آئند بات ہے۔
بات ٹرپل جینز سے 5 جینز تک چلی گئی ہے۔ جو کہ پیسٹ فری ورائٹی ہے۔ جسے کسی قسم کا سپرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
زراعت میں بہت جدت آ رہی ہے۔ اور نئی نئی ٹیکنولوجیز متعارف ہو رہی ہیں۔
ٹرانسجینک ٹیکنولوجی زراعت میں تہلکہ مچا رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اس ٹیکنولوجی سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔
کپاس کے کاشتکار یاد رکھیں کہ آنے والا دور ٹرپل جینز اور 5 جینز ورائٹیز کا ہوگا۔ زمیندار بھائی ٹرپل جینز اور 5 جینز ورائٹیز ہی کاشت کریں اور کپاس کی بھر پور پیداوار حاصل کریں۔ ٹرپل جینز ورائٹیز نے کپاس کے کاشتکاروں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔اور ٹرپل جینز ورائٹیز سے ہی پاکستان میں کپاس کی بحالی ہوگی۔انشاءاللہ۔
میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ زمیندار دوستوں کو نئی ٹیکنولوجیز متعارف کرواٰؤں۔پچھلے سال میں نے زمیندار بھائیوں کو ٹرپل جینز کاٹن کے بارے میں آگاہی دی تھی اور ٹرپل جینز ورائٹیز کا بیج بھی فراہم کیا تھا۔ جس سے دوستوں کو اس کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی اور ٹرپل جینز ورائٹی سے بھر پور پیداوار بھی حاصل کی۔
اس سال بھی 5 جی ٹرانسجینک کاٹن پر کام کر ریا ہوں۔ میری زمیندار بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس سال کم از کم ایک ایکڑ رقبے پر 5 جی ٹرانسجینک کاٹن کاشت کریں۔ تاکہ اس ورائٹی کی پرفارمنس کے بارے میں پتہ چل سکے اور اگلے سال کے لئے بیج بھی بنایا جا سکے۔
شکریہ۔
نوٹ::
5 جی پیسٹ فری ورائٹی(وائٹ کوئین) کا بیج دستیاب ہے۔
خواہشمند کاشتکار رابطہ کر سکتے ہیں۔
خیر اندیش۔
سید ذیشان الحسن زیدی ایڈوکیٹ ۔ 03323985858
انجینئر بلال محمود خان
03152821027
جیسا گمان ہوتا ہے ۔۔ ویسا معاملات ہوتا ہے۔ دل سے دل کو راحت ہوتی ہے ۔