The Legal Inn

The Legal Inn Lawyers & Consultants | وکـالــت - خــــدمت - جـــــدت

13/08/2023

CJP Umar Ata Bandial retires on 16.09.2023

Next CJPs
17.09.2023 to 25.10.2024 J. Faez Esa
26.10.2024 to 04.08.2025 J. Ijaz-ul-Ahsan
05.08.2025 to 27.11.2027 J. Mansoor Shah
28.11.2027 to 13.12.2028 J. Munib Akhtar
14.12.2028 to 22.01.2030 J. Yahya Afridi
23.01.2030 to 02.06.2031 J. Ayesha Malik
03.06.2031 to 24.12.2031 J. Shahid Waheed

Not to get to CJP
J. Tariq Masood retires on 10.03.2024
J. Mazahar Naqvi retires on 31.08.2025
J. Amin Uddin retires on 30.11.2025
J. Jamal Mandokhel retires on 11.11.2026
J. Ali Mazhar retires on 04.10.2029
J. Athar Minallah retires on 29.12.2026
J. Hasan Azhar retires on 01.02.2027
J. Musarat Hilali retires on 07.08.2026

From 25.12.2031 the CJP will be a 'New Appointment' all along with other Judges (not from the setting Judges)

Meaning thereby that SC will be all °F5° after eight years from now.

11 Judges will retire in next five years, one seat is already vacant, and one is that of CJ Umar Bandial.

Most Important:
13 Judges of the SC will be appointed in the five year tenure of next government.

Lawyers & Consultants ⚖️ وکـالــت - خــــدمت - جـــــدتـ ☎️ Call ☎️حنیــــف اکــــبر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ 03474479966گــــل...
01/07/2023

Lawyers & Consultants ⚖️ وکـالــت - خــــدمت - جـــــدت

ـ ☎️ Call ☎️
حنیــــف اکــــبر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ 03474479966
گــــل حــــسین ایڈوکیٹ ہائی کورٹ 03439048403

Have access to our office's address on the link...

Law firm

پشاور ہائی کورٹ نے عبوری ریلیف دیتے ہوئے پیسکو کو خیبرپختونخوا کے بجلی صارفین سے 'فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ' چارجز وصول کرنے...
03/09/2022

پشاور ہائی کورٹ نے عبوری ریلیف دیتے ہوئے پیسکو کو خیبرپختونخوا کے بجلی صارفین سے 'فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ' چارجز وصول کرنے سے روک دیا ہے. عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ چونکہ خیبرپختونخوا کے صارفین ہائیڈرو جنریٹڈ پاور استعمال کرتے ہیں اور یہ صوبہ اس ضمن میں خود کفیل ہے اس لیے خیبرپختونخوا میں 'فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ' چارجز لینا ناانصافی ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔

The Legal Inn is pleased to announce that it will challenge the recent rise in property related taxes. Gul Hussain Khan ...
04/08/2022

The Legal Inn is pleased to announce that it will challenge the recent rise in property related taxes. Gul Hussain Khan AHC will lead the team to present the case. All Property Dealers Association Mardan has vowed to file a Writ Petition before the worthy Peshawar High Court.

چیف جسٹس، جوڈیشل کمیشن کا مذاق نہ اڑائیں، جسٹس فائز عیسیٰسپریم کورٹ چیف جسٹس اور 16 دیگر ججز پر مشتمل ہے لیکن 13 اگست تک...
29/07/2022

چیف جسٹس، جوڈیشل کمیشن کا مذاق نہ اڑائیں، جسٹس فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ چیف جسٹس اور 16 دیگر ججز پر مشتمل ہے لیکن 13 اگست تک بینچ کی پانچ نشستیں خالی ہو جائیں گی جنہیں ہائی کورٹس سے ترقی یا 15 سال کی پریکٹس رکھنے والے وکلاء کی براہ راست تقرری کے ذریعے پُر کرنا ہو گا۔ اب تک کسی بھی وکیل کو براہ راست عدالت عظمیٰ میں ترقی نہیں دی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے پانچ ججز 2022 کے پہلے آٹھ ماہ میں ریٹائر ہونے والے تھے۔جسٹس گلزار احمد یکم فروری 2022 کو، جسٹس قاضی محمد امین 25 مارچ، جسٹس مقبول باقر 4 اپریل، جسٹس مظہر عالم میاں خیل 13 جولائی کو ریٹائر ہوئے۔ اور جسٹس سجاد علی شاہ 13 اگست کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ اسی لیے 28 جولائی 2022 کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جے سی پی کے اجلاس کو وکلاء برادری نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ تقرریوں میں "پسندیدگی" کی بو آ رہی تھی اور چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات سے متعلق قوانین کی تنظیم نو کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اجلاس سے ایک روز قبل، سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تقرری کے لیے "مقرر کردہ" عمل کو بلڈوز نہ کریں۔ چیف جسٹس بندیال کو بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان لکھے گئے خط میں جسٹس عیسیٰ نے ہائی کورٹ کے ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی پر غور کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو طلب کرنے کے طریقے پر افسوس کا اظہار کیا۔ جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ کمیشن کا اجلاس گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بلایا گیا ہے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ "تمام تقرریاں آئین کے مطابق، پہلے سے طے شدہ اور غیر امتیازی معیار کے بنیاد پر کی جانی چاہئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی قسم کی طرفداری کے تاثر نہ ہو۔ آئین چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن کے دیگر ممبران سے اضافی اختیارات نہیں دیتا۔ وہ صرف کمیشن کا چیئرمین ہوتا ہے۔

ایک جج کی عدالت عظمیٰ میں تقرری ہمیشہ ایک چیلنج ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کو جج کی مہارت، دیانتداری، طرز عمل اور صوبوں کی مناسب نمائندگی جیسے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا ہوتا ہے، جنہیں گزشتہ چند سالوں سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں، ہائی کورٹ کے چار ججوں کو سینیارٹی کے اصول کے خلاف ترقی دی گئی ہے۔ اور اسی طرح اس وقت سپریم کورٹ کے سات جج پنجاب، تین سندھ، دو بلوچستان اور صرف ایک خیبرپختونخوا سے ہیں۔ زیر تجویز تقرریوں میں تین کا تعلق پنجاب اور دو کا سندھ سے تھا۔ ججوں کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی پہلے ہی سپریم کورٹ میں چھوٹے صوبوں کو مناسب نمائندگی نہ دینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب وقار احمد سیٹھ نے سنیارٹی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں تین ججوں کی ترقی کو چیلنج کیا تھا۔ اسی طرح اعلیٰ بارز نے بھی سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے طریقے کے خلاف درخواستیں دائر کی ہیں۔ بار نے سنیارٹی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عدالتی تقرریوں پر اکثر اعتراض کیا ہے کیونکہ اس طرح کی تقرریوں کو آزاد اور راست ججوں کے خلاف امتیازی سلوک کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک جائز تشویش ہے کہ سنیارٹی کے برخلاف، سپریم کورٹ میں ججوں کو ترقی دینے کے طریقے میں من مانی اور جانبداری ہو سکتی ہے۔ اس لیے جوڈیشل کمیشن سے بار بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں مناسب ترامیم کرے اور اس مسئلے کا حل ہائی کورٹ میں تعیناتی کے وقت جج کی مہارت، دیانت اور طرز عمل پر گہری نظر اور غور کرنے سے ممکن ہے۔

قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ لوگوں کو یہ جاننے کا آئینی حق حاصل ہے کہ نظام انصاف میں کیا فیصلے ہوئے اور اجلاس کے منٹس کو Public کرنے سے فیصلوں کے بارے میں غیر ضروری قیاس آرائیوں اور غلط رپورٹنگ کو روکا جائے گا۔

حنیف اکبر خان، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
Hanif Akbar, AHC

Today our team of professionals, led by Hanif Akbar and Gul Hussain advocates, successfully defended an accused of theft...
09/05/2022

Today our team of professionals, led by Hanif Akbar and Gul Hussain advocates, successfully defended an accused of theft charges. The learned judge pronounced the judgment acquitting the accused - Salma, a mother of two. As the case was target in nature, therefore our professional legal experts tried their best and concluded a six years old trial in a span of just three months.

Follow on Twitter
18/04/2022

Follow on Twitter

The latest Tweets from The Legal Inn (). A Professional Law Firm

Today the Worthy Minister of State for Parliamentary Affairs Mr. Ali Muhammad Khan visited our new office for a short ti...
02/10/2021

Today the Worthy Minister of State for Parliamentary Affairs Mr. Ali Muhammad Khan visited our new office for a short time and congratulated us on opening a second office of The Legal Inn. We are very grateful to him for appreciating us.

Law-GAT and LAT examinations, all over Pakistan, will be held on October 03, 2021.  👨‍⚖️ 👨‍⚖️ 🧑‍⚖️
17/09/2021

Law-GAT and LAT examinations, all over Pakistan, will be held on October 03, 2021. 👨‍⚖️ 👨‍⚖️ 🧑‍⚖️

It's been a long journey. Once upon, when our charter member Gul Hussain was called to the Bar.The Legal Inn team strivi...
28/08/2021

It's been a long journey. Once upon, when our charter member Gul Hussain was called to the Bar.

The Legal Inn team striving its best to serve the people with justice.

⚖️ وکـالــت - خــــدمت - جـــــدت ⚖️

No short cuts, success comes with time.
10/06/2021

No short cuts, success comes with time.

Address

Judicial Complex
Takht Bai
23160

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00
Saturday 08:00 - 16:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Legal Inn posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share