Tirmizi Law Associates

Tirmizi Law Associates Tirmizi Law Associates Mission is, to provide free legal services/information about all types of cases.

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاء برادری کے طرف سے پاکستان بار کونسل کے پرزور احتجاج اور اسرار پر سپریم کورٹ کے رولز 2025 ک...
12/09/2025

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاء برادری کے طرف سے پاکستان بار کونسل کے پرزور احتجاج اور اسرار پر
سپریم کورٹ کے رولز 2025 کو #منسوخ کردیا گیا ہے اور عوام #رولز1980کے تخت کورٹ فیس ریٹ پر انصاف کے حصول کیلئے عدالت کاروائی میں رجوع کیا جائے گا

سپریم کورٹ نے 45 سال بعد سپریم )
کورٹ رولز 1980 کو منسوخ کر کے سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ کر دیے ہیں، جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہیں۔ یہ نئے رولز عدالتی کارروائیوں میں شفافیت، کارکردگی، اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ذیل میں رولز 1980 اور رولز 2025 کا تقابلی جائزہ اور نئے رولز کی اہم خصوصیات پیش کی جا رہی ہیں:
تقابلی جائزہ: رولز 1980 بمقابلہ رولز 2025
پہلو
رولز 1980
رولز 2025
اپیل دائر کرنے کی مدت
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کے لیے مدت 30 دن تھی۔
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے۔
نظرثانی درخواست کی مدت
واضح طور پر مدت کا ذکر نہیں تھا، یا پرانے طریقہ کار پر عمل ہوتا تھا۔
نظرثانی درخواست کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کو فوری طور پر دوسرے فریق کو نوٹس دینا لازم ہے۔
رجسٹرار اعتراضات پر اپیل
اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت واضح نہیں تھی یا روایتی طریقہ کار پر انحصار تھا۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل 14 دن کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔
نظرثانی درخواست کے تقاضے
نئے شواہد یا دستاویزات کے لیے مخصوص تقاضوں کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔ نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ
غیر سنجیدہ یا پریشان کن درخواستوں کے لیے جرمانے کا کوئی واضح نظام نہیں تھا۔
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواست پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
نظرثانی درخواست کی سماعت
واضح طور پر بینچ کے تعین کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس
جیل درخواستوں پر فیس کے بارے میں واضح ہدایات نہیں تھیں۔
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی۔
کورٹ فیس
فیس کا ڈھانچہ پرانا تھا اور ڈیجیٹلائزیشن کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نیا کورٹ فیس چارٹ جاری کیا گیا ہے، مثلاً: سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس 2500 روپے، آئینی درخواست کی فیس 2500 روپے، سول ریویو کی فیس 1250 روپے، سیکیورٹی چالان کی فیس 50,000 روپے، انٹرا کورٹ اپیل کی فیس 5000 روپے، وغیرہ۔
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت
ڈیجیٹلائزیشن یا آٹومیشن پر زور نہیں تھا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ اور آٹومیشن کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
رولز کی تیاری
پرانے رولز 1980 میں بنائے گئے تھے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز لے کر رولز تیار کیے۔
نئے رولز 2025 کی اہم خصوصیات
مدت میں اضافہ:
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے، جو درخواست گزاروں کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت 14 دن مقرر کی گئی ہے۔
نظرثانی درخواستوں کے تقاضے:
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے یا حکم کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔
نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
درخواست پر دستخط کرنے والے وکیل یا فریق کو نظرثانی کی بنیاد مختصر طور پر بیان کرنا ہوگا۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ:
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواستوں پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گا۔
نظرثانی کی سماعت کا طریقہ کار:
نظرثانی کی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس معافی:
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی، جو قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔
نیا کورٹ فیس چارٹ:
نیا فیس چارٹ 6 اگست 2025 سے نافذ العمل ہے، جس میں شامل ہے:
سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس: 2500 روپے
آئینی درخواست کی فیس: 2500 روپے
سول ریویو کی فیس: 1250 روپے
سیکیورٹی چالان کی فیس: 50,000 روپے
انٹرا کورٹ اپیل کی فیس: 5000 روپے
پاور آف اٹارنی، کیویٹ، کنسائز اسٹیٹمنٹ کی فیس: 500 روپے
حلف نامہ کی فیس: 500 روپے
درخواست فیس: 100 روپے
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت:
نئے رولز میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور آٹومیشن کے ذریعے انتظامی کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم ہوگی اور عوام کے لیے عدالتی معلومات تک رسائی بہتر ہوگی۔
چیف جسٹس کی صوابدیدی اختیارات:
اگر کسی شق پر عمل درآمد میں مشکل پیش آئے تو چیف جسٹس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکم جاری کر سکتے ہیں، جو رولز سے متصادم نہ ہو۔
رولز کی تیاری کا عمل:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز طلب کیں۔
اہم فرق اور فوائد
زیادہ لچک: اپیلوں کی مدت بڑھانے سے درخواست گزاروں کو زیادہ وقت ملے گا، جو انصاف تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔
شفافیت اور جوابدہی: غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ اور نظرثانی کے سخت تقاضوں سے عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکا جائے گا۔

Khyber Pakhtunkhwa Bar Council announced complete strike throughout Malakand Division till dated 20/09/2025.
12/09/2025

Khyber Pakhtunkhwa Bar Council announced complete strike throughout Malakand Division till dated 20/09/2025.

 :  محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نےتعلیمی اداروں میں ہر قسم کے سٹڈی اورپیکنک ٹور پر پابندی عائد کر دی.
21/02/2025

:

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نےتعلیمی اداروں میں ہر قسم کے سٹڈی اورپیکنک ٹور پر پابندی عائد کر دی.

 14 October 2024Khyber Pakhtunkhwa Khyber Pakhtunkhwa Council Vice-Chairman Sadiq Ali Momand and Chairman Executive Comm...
14/10/2024



14 October 2024

Khyber Pakhtunkhwa Khyber Pakhtunkhwa Council Vice-Chairman Sadiq Ali Momand and Chairman Executive Committee Syed Taimur Ali Shah expressed their concern over the tragic and dangerous situation of peace and order in Kurram district and southern districts due to daily terrorist attacks. The loss of lives of the people was attributed to the incompetence of the provincial government and security agencies. Expressed deep sorrow over the loss of precious lives in the terrorist attack on innocent people of Garam yesterday, and expressed deep grief over the loss of life of the family members of former Joint Secretary of Peshawar High Court Noor Wali Mutaqbal.

He further reiterated that despite the safety of people's lives and property being the top priority of the government and security institutions, the government and institutions have completely failed in fulfilling their duties. And the security agencies of the government are busy protecting their lives and property, the terrorist attacks on the judicial system, especially in the southern districts, for the past several months are just an attempt to defeat the judicial system, while the provincial The government, including the institutions, is engaged in mere protests and political tussles, which is causing serious damage in Khyber Pakhtunkhwa in general and in the southern districts in particular, which clearly shows that the provincial government and security agencies are wasting time on the people.

They are not equally interested in wealth and security.

Vice-Chairman Sadiq Ali Momand and Chairman Executive Syed Taimur Ali Shah have blamed the disturbed law and order situation of the province for not protecting the people, lawyers and the judicial system and the terrorist attack by other people including the family members of Noor Dilli Muqbal Advocate. It has announced a complete judicial boycott on Tuesday, October 15, 2024 against the killing, and at the same time, the provincial government has given a one-week deadline to the Chief Secretary IG Khyber Pakhtunkhwa and other security agencies. That they fix the current situation immediately. Otherwise, the entire community of Takhib Pakhto Nakhwa will be forced to take direct action. And by calling a meeting of lawyers representatives across the province, action will be taken against the government and security agencies.

The Khyber Pakhtunkhwa Bar Council also condemned the terrorist attack on the police line in Bannu.

ملاکنڈڈویژن،سوات میں ٹیکس نفاذ کردیا گیا،خیبرپختونخوا حکومت نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) کے ذریعے سروسز پر سیلز...
18/08/2024

ملاکنڈڈویژن،سوات میں ٹیکس نفاذ کردیا گیا،خیبرپختونخوا حکومت نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) کے ذریعے سروسز پر سیلز ٹیکس کے نفاذ،وصولی اور انتظامیہ کے مقصد سے سروسز ایکٹ 2022 پر خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا،خیبرپختونخوا فنانس ایکٹ 2024 کے نفاذ کے ذریعے ہوٹلوں اور ریستورانوں کی خدمات کی فراہمی پر ٹیکس کے حوالے سے کچھ اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں,
2. خیبرپختونخوا فنانس ایکٹ 2024 کے نفاذ کے ذریعے، مقامی غیر کارپوریٹ اسٹینڈ اکیلے ہوٹلوں یا ایسے ہوٹلوں (بشمول گیسٹ ہاؤسز، کلب اور لاجز وغیرہ) اور ریستورانوں کی زنجیروں کے ذریعے فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے بغیر چھ فیصد (06%)؛ بشرطیکہ ریسٹورنٹ انوائس مینجمنٹ سسٹم (RIMS) کو اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ تمام ریستورانوں پر مستقل بنیادوں پر انسٹال اور مناسب طریقے سے کام کیا جائے۔ تاہم، روایتی قسم کے ریستورانوں کی صورت میں جنہیں عام طور پر "DHABA" کہا جاتا ہے یا روایتی جھونپڑی کی قسم یا اسی طرح کی دوسری سڑک/گلی کی طرف ٹیکس کی شرح 2% ہوگی,
3. یہاں یہ بتانا مناسب ہے کہ ان تبدیلیوں سے پہلے، ٹیکس کی شرح تمام ریستورانوں کے لیے 5% تھی جن میں RIMS نصب تھے اور RIMS کی تنصیب کے بغیر چلنے والے کاروبار کی صورت میں 8% شرح قابل وصول تھی۔ فنانس ایکٹ 2024 میں، تمام ریستوران RIMS لگانے اور 5% کی بجائے 6% کی شرح سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے پابند ہیں.

18/07/2024
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Tallat Mahmood, Wasim Ahmad, Alyas Mughal, Asif Ejaz, Ali...
18/06/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Tallat Mahmood, Wasim Ahmad, Alyas Mughal, Asif Ejaz, Ali Nasir

حکومت نے ایف آئی اے کی طرح نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نامی نیا ادارہ قائم کر دیا۔ سربراہ ڈائریکٹر جنرل کم از ک...
04/05/2024

حکومت نے ایف آئی اے کی طرح نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نامی نیا ادارہ قائم کر دیا۔ سربراہ ڈائریکٹر جنرل کم از کم گریڈ 21 کا ہو گا جس کےاختیارات آئی جی کے برابر ہوں گے اور یہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں، سکیموں اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی تحقیقات کر سکے گا

23/10/2023

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دے دیا.

خود محبت کی شادیاں کرلیتے ہیں پھر مسائل عدالت کیلئے بن جاتے ہیں، چیف جسٹس کے ریمارکسسپریم کورٹ نے دو کم سن بچیوں کی حوال...
08/10/2023

خود محبت کی شادیاں کرلیتے ہیں پھر مسائل عدالت کیلئے بن جاتے ہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس
سپریم کورٹ نے دو کم سن بچیوں کی حوالگی کے کیس میں دونوں بچیوں کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں دو کم سن بچیوں کی حوالگی کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

عدالت نے دونوں بچیوں کو ماں کے حوالے کرتے ہوئے قرار دیا کہ بچیوں کا باپ اتوار کے روز صبح 10 سے 5 بجے تک بچیوں سے ملاقات کرسکے گا، اگر والد کی جانب سے عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
دوران سماعت بچیوں کے والد کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ بچیاں والد کے پاس ہونی چاہئیں کیونکہ ماں رات کی نوکری کرتی ہے، بچیوں کی ماں کے پاس دیکھ بھال کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ اسلام میں حضانت کا اصول آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ شریعت کے مطابق بچے ماں کے پاس رہتے ہیں، ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ہمارے کام مسلمانوں والے نہیں، صرف داڑھی رکھنے سے بندہ مسلمان نہیں ہوتا عمل بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نماز، روزہ اور حج کرنا کافی نہیں، انسانیت اور اخلاق بھی لازم ہیں، طلاق نہیں ہوئی والدین کی آپس کی ناراضی بچوں کا مستقبل خراب کر دے گی۔

چیف جسٹس نے بچوں کے والد سے سوال کیا کہ آپ نے پسند کی شادی کی یا ارینج میرج تھی؟ اس پر والد نے جواب دیاکہ میری پسند کی شادی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خود محبت کی شادیاں کر لیتے ہیں پھر مسائل عدالت کیلئے بن جاتے ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے والدین کی رضامندی سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا۔

30/01/2023

خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیرمین زر بادشاہ خان اور چیرمین ایگزیکٹو سید مبشر شاہ نے اج پولیس لائن پشاور میں خودکش بم دھماکہ کے میں شہداء اور ز خمی ہونے والوں کےلیے خصوصی دعا کی۔ اور غمزدہ خاندانوں سے ا ظہار یکجہتی کی ہے۔ انہوں نے کل مورخہ 31 جنوری کو صوبہ بھر میں سوگ اعلان کیا ہے۔ وکلاء کل 12 بجے کے بعد عدالتی کاروائی میں پیش نہیں ہونگے۔ بارایسوسی ایشنز کے صدور کو ہدایت کی۔ کہ وہ بار ایسوسی ایشنز میں شہدا کے درجات کی بلندی ، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک پاکستان میں امن و سلامتی کےلیے خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کریں۔

سیکرٹری
بار کونسل پشاور ۔

Address

Nisar Plaza, Opposite Grassy Ground, Near National Bank At Saidu Sharif
Swat
19130

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tirmizi Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tirmizi Law Associates:

Share

Category