27/04/2026
: "صرف 2 منٹ نکال کر یہ ایمان افروز قصہ پڑھیں"۔
ایک سبق آموز واقعہ: "اللہ پر بھروسہ"
ایک مرتبہ ایک بزرگ جنگل سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک ایسے پرندے کو دیکھا جس کے دونوں پر ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ اڑنے کے قابل نہیں تھا۔ بزرگ کے دل میں خیال آیا کہ یہ بے چارہ اڑ نہیں سکتا، تو اسے کھانا پینا کہاں سے ملتا ہوگا؟
وہ ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک ایک دوسرا پرندہ اڑتا ہوا آیا، جس کی چونچ میں گوشت کا ٹکڑا تھا۔ اس نے وہ ٹکڑا اس معذور پرندے کے منہ میں ڈالا اور اڑ گیا۔
بزرگ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے اور سوچا: "جب اللہ ایک معذور پرندے کو جنگل کے بیچ میں رزق پہنچا سکتا ہے، تو میں رزق کے لیے اتنا پریشان کیوں ہوتا ہوں؟"
وہ وہیں بیٹھ گئے اور عبادت میں مصروف ہو گئے کہ میرا رب مجھے بھی یہیں رزق دے گا۔ دو دن گزر گئے لیکن وہاں کوئی نہ آیا۔ وہ بھوک سے نڈھال ہونے لگے۔ تب غیب سے آواز آئی:
"اے میرے بندے! تو اس 'معذور پرندے' جیسا کیوں بننا چاہتا ہے جسے دوسروں کے سہارے کی ضرورت تھی؟ تو اس 'اڑنے والے پرندے' جیسا کیوں نہیں بنتا جو خود بھی کھاتا ہے اور دوسروں کی بھوک بھی مٹاتا ہے؟"
نتیجہ: اسلام ہمیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نہیں، بلکہ محنت کرنے اور دوسروں کے کام آنے کا درس دیتا ہے۔ اللہ محنت کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔