Syed Zafar Ali Shah Bukhari Advocate

Syed Zafar Ali Shah Bukhari Advocate Bukhari Law Associates SKR

14/08/2026

جب تک سندھ کی دھرتی پر ایک بھی سندھی بولنے والا زندہ ہے، فاروق ستار تو کیا، اس کا باپ اور دادا بھی قبر سے نکل کر آ جائیں تو سندھ کو توڑ نہیں سکتے! یہ تحریر قومی زبان میں اس لیے پیش کی ہے تاکہ آپ کو بات ٹھیک سے سمجھ آئے، ورنہ اگر مادری زبان میں آپ کی ’تواضع‘ کرتا تو آپ کے کانوں سے خون نکل آتا۔ جئے سندھ! جئے عوام! جئے پاکستان

14/08/2026
نیا صوبہ بنانا آسان کام نہیں، بلکہ یہ ایک پیچیدہ آئینی عمل ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے تحت سب سے پہلی اور لازم...
09/08/2026

نیا صوبہ بنانا آسان کام نہیں، بلکہ یہ ایک پیچیدہ آئینی عمل ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے تحت سب سے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنے کل ارکان کی دو تہائی (2/3) اکثریت سے اس کا بل منظور کرے۔ اگر صوبائی اسمبلی اسے دو تہائی اکثریت سے پاس نہ کرے تو نیا صوبہ کسی صورت نہیں بن سکتا۔
​صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بعد اس بل کا قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے الگ الگ دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا اور بالآخر صدرِ مملکت کا دستخط کرنا ضروری ہے۔ ان تمام آئینی مرحلوں کے بغیر نیا صوبہ تشکیل پانا ناممکن ہے۔

Follow the (Bukhari Law Associate SKR) Z.a.Shah channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb9BUrx4o7qIt67EdF...
03/07/2026

Follow the (Bukhari Law Associate SKR) Z.a.Shah channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb9BUrx4o7qIt67EdF3Z

Follow (Bukhari Law Associate SKR) Z.a.Shah's WhatsApp channel. Empower yourself with the latest legal knowledge. This channel serves as a vital resource, offering clients in-depth analysis and facilitating seamless access to expert legal counsel. We provide strategic guidance and representation in a broad range of legal domains, from contesting unlawful administrative actions to resolving complex civil litigation, family law matters, revenue disputes, private conflicts, tax controversies, service law issues, and proceedings before various tribunals, notably the NIRC. Our team of specialist advocates delivers tailored solutions across all legal disciplines. Join 62 followers for the latest updates.

01/04/2026

دنیا کے بہترین فوجداری نظامِ انصاف میں تفتیش کے آغاز ہی سے پولیس پر پراسیکیوشن کی سخت نگرانی، جدید ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی شرکت (Lay Judges) اس کی عالمی کامیابی کی بنیاد ہیں۔

30/03/2026

اڏول جبل وانگر بيٺل رهڻ تي ام رباب کي سلام ،سندس همت ان ڪري به بي مثال آهي، جو هن ان سماج ۾ آواز اٿاريو آهي، جتي اڪثر مظلومن کي مايوسي کانسواءِ ڪجهه ناهي ملندو. سندس هيءَ جدوجهد سنڌ جي تاريخ ۾ همت جو هڪ نئون باب آهي.

30/03/2026

جہاں ثبوتوں کی کمی (Lack of Evidence) کی وجہ سے اکثر ملزمان رہا ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں مقتول کے خون کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اس کے لیے اسلامی فقہ اور پاکستانی قانون کے الگ الگ جوابات ہیں:
​1. شرعی نکتہ نظر: ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری
​اسلامی شریعت کا سنہرا اصول ہے کہ "کسی مسلمان کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے" (لا يُطَلُّ دَمٌ فِي الإِسْلامِ)۔ اگر قاتل معلوم نہ ہو سکے یا ثبوت ناکافی ہوں، تو ذمہ داری درج ذیل ترتیب سے منتقل ہوتی ہے:
​قسامہ (Qasama): اگر قتل کسی مخصوص محلے یا بستی میں ہوا ہو اور قاتل کا پتہ نہ چلے، تو اس بستی کے 50 افراد سے قسم لی جاتی ہے۔ اگر وہ قسم اٹھا لیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا، تو ان پر "دیت" (خون بہا) لازم آتی ہے۔ یعنی اس علاقے کے لوگ مل کر مقتول کے خاندان کو مالی تلافی دیں گے۔
​بیت المال (ریاستی خزانہ): اگر بستی کا تعین نہ ہو سکے یا قاتل کا سراغ بالکل نہ ملے، تو مقتول کا خون بہا (دیت) ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ خلیفہ یا حاکمِ وقت مقتول کے ورثاء کو سرکاری خزانے سے دیت ادا کرتا ہے کیونکہ شہریوں کی جان کا تحفظ ریاست کا بنیادی فریضہ ہے۔

30/03/2026

پاکستان اور ایران: اسلامی قوانین اور عدالتی نظام کا تقابلی جائزہ
​پاکستان کا آئین اسے "اسلامی جمہوریہ" قرار دیتا ہے، لیکن یہاں کا قانونی نظام "برطانوی روایت" اور "اسلامی اقدار" کا ایک انوکھا امتزاج (Hybrid) ہے۔ اس کے برعکس، ایران کا نظام مکمل طور پر فقہی بنیادوں پر استوار ہے۔
​1. پاکستان کا قانونی ڈھانچہ: ایک مشاورتی سفر
​پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے دو اہم ادارے کام کر رہے ہیں، جن کا فرق سمجھنا ضروری ہے:
​اسلامی نظریاتی کونسل (آرٹیکل 228-231): یہ ریاست کا ایک "تھنک ٹینک" ہے جو پارلیمنٹ کو صرف مشورہ دیتا ہے۔ اس کے پاس قانون نافذ کرنے کی طاقت نہیں؛ یہ پارلیمنٹ کی مرضی ہے کہ وہ ان سفارشات کو قانون بنائے یا نہ بنائے۔
​وفاقی شرعی عدالت (FSC): کونسل کے برعکس، یہ عدالت کسی بھی قانون کو "غیر اسلامی" قرار دے کر کالعدم (Strike Down) کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
​2. سزاؤں کے نفاذ میں رکاوٹیں
​پاکستان میں سزائیں مکمل طور پر قرآن و سنت کے مطابق نہ ہونے کی چار بڑی وجوہات ہیں:
​مخلوط نظام: 1860 کے برطانوی تعزیرات (PPC) کا غلبہ۔
​آئینی تحدید: آرٹیکل 227 کے تحت قانون سازی کا حتمی اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
​گواہی کا معیار: حدود قوانین کے لیے درکار گواہی کے کڑے معیار کی وجہ سے ججز "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے تعزیری سزائیں (جیل) دیتے ہیں۔
​نظریاتی کونسل کی بے بسی: کونسل کی ہزاروں سفارشات پارلیمنٹ میں قانون سازی کی منتظر ہیں۔

Address

Bukhari Law Associates SKR
Sukkur
56200

Opening Hours

Monday 18:30 - 22:30
Tuesday 09:00 - 17:00
18:30 - 22:30
Wednesday 18:30 - 22:30
Thursday 18:30 - 17:00
Friday 18:30 - 22:30
Sunday 18:31 - 22:00

Telephone

+923103376141

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Zafar Ali Shah Bukhari Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Syed Zafar Ali Shah Bukhari Advocate:

Shortcuts

Share