Mirza Law Chamber Sukkur

Mirza Law Chamber Sukkur Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mirza Law Chamber Sukkur, Lawyer & Law Firm, Sukkur.

10/02/2026

اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے یہ قرار دیا کہ اصل اور واحد سوال یہ تھا کہ آیا ایک خالص سرکاری ٹھیکیدار، جس کی تمام رسیدیں انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 153(1)(c) کے تحت ٹیکس کٹوتی کے عمل سے گزر چکی ہوں اور جس کا کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن نہ ہو، اس پر سیکشن 147 کے تحت ایڈوانس ٹیکس اور اس کے نتیجے میں سیکشن 205 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج قانوناً عائد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ٹربیونل نے یہ مشاہدہ کیا کہ یہ ایک تسلیم شدہ اور غیر متنازعہ حقیقت ہے کہ تمام واجب الادا ٹیکس ادائیگی کے وقت ہی ودہولڈنگ ایجنٹس کے ذریعے کاٹ لیا گیا تھا، لہٰذا ٹیکس دہندہ نے ودہولڈنگ نظام کے تحت اپنی پوری ٹیکس ذمہ داری ادا کر دی تھی۔ اس صورتِ حال میں ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا، خصوصاً جب متعلقہ سال میں کاروباری سرگرمی میں کمی واقع ہوئی تھی اور کسی بھی قسم کا بقایا ٹیکس قابلِ ادا نہیں تھا۔
ٹربیونل نے مزید فیصلہ دیا کہ محکمہ کی کارروائی قانون کے غلط اطلاق اور حقائق کی غلط تشریح پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں کارروائی کا آغاز اور عائد کیا گیا ٹیکس ڈیمانڈ قانونی اختیار کے بغیر تھا اور ابتدا ہی سے باطل (void ab initio) تھا۔ چنانچہ ٹربیونل نے متنازعہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پوری ڈیمانڈ حذف کر دی۔

22/11/2025

⚖️ وکیل کی بلا وجہ گرفتاری – آپ کے قانونی حقوق

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں پولیس کسی وکیل کو بلا وجہ گرفتار نہیں کر سکتی؟

✅ اہم حقائق:

1. وکیل عدالت کا افسر ہے – یعنی صرف اپنے موکل کی نمائندگی نہیں بلکہ عدالت کے انصاف کے عمل کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

2. پولیس کسی وکیل کو صرف درج ذیل صورتوں میں گرفتار کر سکتی ہے:

عدالت کے صریح حکم پر

جرم کے وقت (flagrante delicto)

قانون میں واضح اور جائز بنیاد کے ساتھ

3. بلا وجہ گرفتاری وکیل کے پیشہ ورانہ حقوق اور عدالتی نظام کے خلاف ہے۔

4. اگر کسی وکیل کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جائے، تو وہ Habeas Corpus یا شکایت کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے۔

⚖️ یاد رکھیں:

وکیل صرف موکل کا وکیل نہیں، بلکہ عدالت کا اہم ساتھی اور افسر بھی ہے۔ اس لیے بلا وجہ گرفتاری نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عدالتی نظام کی روح کے بھی خلاف ہے۔

02/11/2025
25/10/2025

پاکستانی CrPC کے سیکشن 22A اور 22B کا مقصد سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ کے ججز کو "جسٹس آف پیس" کے عہدے کی حیثیت سے پولیس کے اختیارات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ پولیس کی عدم رجسٹریشن یا تفتیش میں ناکامی کی صورت میں مداخلت کر سکیں۔تفصیل سے:22A اور 22B کے تحت ججز، عدالتِ سیشن یا ہائی کورٹ کے ججز، پولیس کے سہولیات (سیکشن 54 کے تحت) استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر کی عدم رجسٹریشن پر کارروائی کر سکتے ہیں۔ان سیکشنز کی مدد سے، اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو متاثرہ فریق 22A/22B درخواست دائر کر کے جج سے رجوع کر سکتا ہے جو پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔یہ سیکشنز پولیس کی تفتیش کا معیار بہتر بنانے، تفتیشی افسر تبدیل کرنے، اور پولیس کی غفلت یا زیادتیوں کو نوٹ کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔جسٹس آف پیس کو پولیس کی مدد سے گرفتاری کا حکم دینے، فراری ملزموں کو روکنے یا پکڑنے، جرائم کی روک تھام، امن قائم رکھنے اور دستاویزات کی تصدیق یا حلف نامہ لینا جیسے اختیارات حاصل ہیں۔22A/22B عرضی کے تحت جج کی طرف سے تحقیقات کا حکم اور جرائم کی رپورٹنگ کے لیے پولیس کو ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔لہٰذا سیکشن 22A اور 22B کا مقصد متاثرین کو وہ قانونی ذریعہ فراہم کرنا ہے جس سے وہ پولیس کی نااہلی یا لاپرواہی کے خلاف انصاف حاصل کر سکیں۔ یہ سیکشن پولیس کے اختیارات ججوں کو بھی دیتے ہیں تاکہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرسکیں اور قانونی کارروائی بروقت اور منصفانہ ہو سکے۔یہ طریقہ کار خاص طور پر ان حالات میں استعمال ہوتا ہے جب پولیس اعلیٰ شخصیات یا حساس معاملات میں ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرتی ہے یا تفتیش کو ٹھپ کر دیتی ہے�.
Zeeshan Mirza Advocate high court sukkur

27/07/2025

ایف بی آر کی کارروائی:
وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 2019 سے 2024 کے درمیان سیلز ٹیکس ریٹرن میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کے خلاف بڑی تعداد میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

اثرات:
اس اقدام نے کاروباری طبقے، خاص طور پر برآمدکنندگان اور صنعت کاروں کو سخت پریشان کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ ایف بی آر پر "ٹیکس دہشت گردی" کا الزام لگا رہے ہیں۔

پس منظر:
19 جولائی 2025 کو کاروباری برادری پہلے ہی فنانس ایکٹ 2025 میں شامل متنازع سیلز ٹیکس شقوں کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔
چند دن بعد AI پر مبنی یہ نوٹسز جاری ہونے سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

نوٹس کے اہم نکات:
ایف بی آر مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے:

سیلز ٹیکس ریٹرنز کا موازنہ انڈسٹری کے معیار سے کرتا ہے

انسانی مداخلت کے بغیر بے ضابطگیاں تلاش کرتا ہے

مسلسل ٹیکس دہندہ کے رویے پر نظر رکھتا ہے

عدم تعمیل کی صورت میں نتائج:

بھاری مالی جرمانے

بزنس کی جگہوں پر چھاپے اور معائنہ

ایگریسِو "بیسٹ ججمنٹ" انداز میں ٹیکس کا تخمینہ

بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنا

تفصیلی آڈٹ کے لیے منتخب کیا جانا

ماہرین کے خدشات:
یہ ڈیجیٹل اقدامات پہلے سے دباؤ کا شکار کاروباری طبقے کو مزید مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
کاروباری طبقہ اسے ہراسانی اور استحصال قرار دے رہا ہے۔

21/07/2025

وفاقی حکومت نے ایک تجویز پیش کی ہے کہ کیش سیل (نقد فروخت) پر اخراجات کی عدم اجازت کی حد کو 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے فی لین دین کر دیا جائے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 21 میں ترمیم کے تحت وہ اخراجات قابل قبول نہیں ہوں گے جو ایسی نقد فروخت سے متعلق ہوں جو 25 لاکھ روپے فی ٹرانزیکشن سے تجاوز کرتی ہوں۔ اس سے قبل یہ حد 2 لاکھ روپے تھی، اور اس قانون نے کاروباری طبقے میں کافی تشویش پیدا کی تھی۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نے اب یہ قانون مرحلہ وار نافذ کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ ایک طرف دستاویزاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے اور دوسری طرف ریونیو کی وصولی کو بھی تحفظ دیا جا سکے۔

14/07/2025

آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس سال پہلی جولاٸی، 2025 سے سندھ میں Professional Tax ختم ہوگیا ہے۔

Refer to Serial # 6 as highlighted, Page 2, Sindh Finance Act, 2025, Section 11 has been omitted. Professional Tax was applicable under Section 11 which has been omitted / abolished

08/07/2025

📌 کیا وزیرِاعظم پاکستان آرمی چیف کو ہٹا سکتا ہے؟ 🤔

جی ہاں! آئینِ پاکستان کے تحت وزیرِاعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صدرِ مملکت کو ایڈوائس دے کر آرمی چیف کو ہٹا سکے۔ یہ اختیار آئین کے آرٹیکل 243 اور آرمی ایکٹ 1952 کے تحت حاصل ہوتا ہے۔

✅ کچھ اہم نکات:

🔸 آرمی چیف کی تقرری اور برطرفی صدر کرتا ہے، لیکن وزیرِاعظم کی سفارش پر۔
🔸 برطرفی کے لیے ٹھوس قانونی وجوہات ضروری ہوتی ہیں جیسے بدعنوانی، آئینی خلاف ورزی یا نظم و ضبط کی شدید خلاف ورزی۔
🔸 فوج پاکستان کا ایک طاقتور ادارہ ہے، اس لیے ایسی کسی بھی کارروائی کے سیاسی اور ادارہ جاتی اثرات بہت اہم ہوتے ہیں۔

⚠️ ماضی کی مثال:
1999 میں وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔

📚 خلاصہ:
وزیرِاعظم کے پاس یہ اختیار تو ہے، لیکن یہ محض طاقت کا نہیں بلکہ قانون، آئین اور حکمت کا معاملہ ہے۔

29/06/2025

گاڑی یا پلاٹ خریدنے کے لئے بڑی شرط عائد کردی گئی/ انکم ٹیکس کی شق 114 سی میں تبدیلی کردی گئی

گاڑیاں، جائیدادیں اور اثاثے خریدنے کے لیے ایف بی آر سے اہلیت کا سرٹیفیکیٹ لینا ہوگا

70 لاکھ روپے مالیت تک کی گاڑی خریدنے کے لیے ایف بی آر کا سرٹیفیکیٹ لینا ضروری نہیں ہوگا

5 کروڑ روپے مالیت تک کی جائیداد خریدنے اور 10 کروڑ روپے مالیت تک کا کمرشل پلاٹ خریدنے کے لیے ایف بی آر کا سرٹیفیکیٹ لینا ضروری نہیں ہوگا

Address

Sukkur
65200

Telephone

+923313073066

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mirza Law Chamber Sukkur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share