10/02/2026
اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے یہ قرار دیا کہ اصل اور واحد سوال یہ تھا کہ آیا ایک خالص سرکاری ٹھیکیدار، جس کی تمام رسیدیں انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 153(1)(c) کے تحت ٹیکس کٹوتی کے عمل سے گزر چکی ہوں اور جس کا کوئی دوسرا ذریعۂ آمدن نہ ہو، اس پر سیکشن 147 کے تحت ایڈوانس ٹیکس اور اس کے نتیجے میں سیکشن 205 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج قانوناً عائد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ٹربیونل نے یہ مشاہدہ کیا کہ یہ ایک تسلیم شدہ اور غیر متنازعہ حقیقت ہے کہ تمام واجب الادا ٹیکس ادائیگی کے وقت ہی ودہولڈنگ ایجنٹس کے ذریعے کاٹ لیا گیا تھا، لہٰذا ٹیکس دہندہ نے ودہولڈنگ نظام کے تحت اپنی پوری ٹیکس ذمہ داری ادا کر دی تھی۔ اس صورتِ حال میں ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا، خصوصاً جب متعلقہ سال میں کاروباری سرگرمی میں کمی واقع ہوئی تھی اور کسی بھی قسم کا بقایا ٹیکس قابلِ ادا نہیں تھا۔
ٹربیونل نے مزید فیصلہ دیا کہ محکمہ کی کارروائی قانون کے غلط اطلاق اور حقائق کی غلط تشریح پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں کارروائی کا آغاز اور عائد کیا گیا ٹیکس ڈیمانڈ قانونی اختیار کے بغیر تھا اور ابتدا ہی سے باطل (void ab initio) تھا۔ چنانچہ ٹربیونل نے متنازعہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پوری ڈیمانڈ حذف کر دی۔