19/10/2026
ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی — اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سول سرونٹ کو مجاز اتھارٹی کے احکامات کے تحت ڈیپوٹیشن پر دوسرے محکمے میں تعینات کیا جائے تو محض اس بنیاد پر اس کی ترقی مؤخر نہیں کی جا سکتی کہ اس نے اپنے بنیادی محکمے میں نسبتاً کم عرصہ خدمات انجام دی ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی ملازم کو ترقی کا خودکار حق حاصل نہیں، تاہم اہل ملازم کو ترقی کے لیے منصفانہ، بامعنی اور قانون کے مطابق زیرِ غور لانا اس کا حق ہے۔ محکمانہ سلیکشن بورڈ ترقی کے مقررہ قانونی معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض عمومی وجوہات کی بنیاد پر ملازم کی ترقی مؤخر نہیں کر سکتا۔
کیس کے اہم حقائق:
درخواست گزار BS-18 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات تھا اور BS-19 میں ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی کے لیے زیرِ غور آیا۔ محکمانہ سلیکشن بورڈ نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کی ترقی ایک سال کے لیے مؤخر کر دی کہ اسے اپنے کیڈر میں کام کرنے کا کافی تجربہ حاصل نہیں۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ وہ طویل عرصے تک مجاز اتھارٹی کے احکامات کے تحت NAVTTC میں ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دیتا رہا اور اس کی کارکردگی کی رپورٹس (PERs/ACRs) بھی دستیاب تھیں۔ اس لیے صرف بنیادی محکمے میں کم عرصہ گزارنے کو ترقی مؤخر کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہم قانونی اصول:
1. ترقی کے لیے سنیارٹی یا مقررہ مدتِ ملازمت بذاتِ خود کافی نہیں، تاہم اہل ملازم کو قانونی معیار کے مطابق ترقی کے لیے زیرِ غور لانا ضروری ہے۔
2. مجاز اتھارٹی کے احکامات کے تحت ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دینے کو محض اسی وجہ سے ترقی کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ ملازم نے اپنے بنیادی محکمے میں کم عرصہ کام کیا۔
3. محکمانہ سلیکشن بورڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازم کے مکمل سروس ریکارڈ، PERs/ACRs، تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تجربے کی نوعیت و افادیت کا مقررہ قواعد کے مطابق جائزہ لے۔
4. ترقی مؤخر کرنے کی وجوہات واضح، معقول اور متعلقہ قانونی قواعد سے مطابقت رکھنے والی ہونی چاہئیں۔ محض یہ کہنا کہ ملازم کو اپنے کیڈر میں کام کرنے کا کافی تجربہ نہیں، کافی نہیں، جب تک اس کمی کو کسی مخصوص قانونی شرط یا مقررہ معیار سے منسلک نہ کیا جائے۔
5. ترقی کے معاملات کو محکمانہ کارروائی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت کا حتمی حکم:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ترقی مؤخر کرنے کا مورخہ 19.03.2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور مجاز اتھارٹی/محکمانہ سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کے مکمل سروس ریکارڈ، کارکردگی رپورٹس، تربیت اور ڈیپوٹیشن کے دوران حاصل کردہ تجربے سمیت تمام متعلقہ امور کا جائزہ لے کر ترقی کے معاملے پر دوبارہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔