Legal Issues قانونی مسائل

Call

Legal Issues قانونی مسائل Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Legal Issues قانونی مسائل, Lawyer & Law Firm, Sukkur.
(15)

ہم ایک قانونی فرم ہں جو مختلف قانونی مسائل میں پیشہ ورانہ اور قابلِ اعتماد قانونی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کسی بھی قانونی مسئلے کی صورت میں ہماری ٹیم سے انبکس میں رابطہ کریں۔

ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی — اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہاسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے ک...
19/10/2026

ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی — اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سول سرونٹ کو مجاز اتھارٹی کے احکامات کے تحت ڈیپوٹیشن پر دوسرے محکمے میں تعینات کیا جائے تو محض اس بنیاد پر اس کی ترقی مؤخر نہیں کی جا سکتی کہ اس نے اپنے بنیادی محکمے میں نسبتاً کم عرصہ خدمات انجام دی ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی ملازم کو ترقی کا خودکار حق حاصل نہیں، تاہم اہل ملازم کو ترقی کے لیے منصفانہ، بامعنی اور قانون کے مطابق زیرِ غور لانا اس کا حق ہے۔ محکمانہ سلیکشن بورڈ ترقی کے مقررہ قانونی معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض عمومی وجوہات کی بنیاد پر ملازم کی ترقی مؤخر نہیں کر سکتا۔

کیس کے اہم حقائق:

درخواست گزار BS-18 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات تھا اور BS-19 میں ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی کے لیے زیرِ غور آیا۔ محکمانہ سلیکشن بورڈ نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کی ترقی ایک سال کے لیے مؤخر کر دی کہ اسے اپنے کیڈر میں کام کرنے کا کافی تجربہ حاصل نہیں۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ وہ طویل عرصے تک مجاز اتھارٹی کے احکامات کے تحت NAVTTC میں ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دیتا رہا اور اس کی کارکردگی کی رپورٹس (PERs/ACRs) بھی دستیاب تھیں۔ اس لیے صرف بنیادی محکمے میں کم عرصہ گزارنے کو ترقی مؤخر کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہم قانونی اصول:

1. ترقی کے لیے سنیارٹی یا مقررہ مدتِ ملازمت بذاتِ خود کافی نہیں، تاہم اہل ملازم کو قانونی معیار کے مطابق ترقی کے لیے زیرِ غور لانا ضروری ہے۔

2. مجاز اتھارٹی کے احکامات کے تحت ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دینے کو محض اسی وجہ سے ترقی کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ ملازم نے اپنے بنیادی محکمے میں کم عرصہ کام کیا۔

3. محکمانہ سلیکشن بورڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازم کے مکمل سروس ریکارڈ، PERs/ACRs، تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تجربے کی نوعیت و افادیت کا مقررہ قواعد کے مطابق جائزہ لے۔

4. ترقی مؤخر کرنے کی وجوہات واضح، معقول اور متعلقہ قانونی قواعد سے مطابقت رکھنے والی ہونی چاہئیں۔ محض یہ کہنا کہ ملازم کو اپنے کیڈر میں کام کرنے کا کافی تجربہ نہیں، کافی نہیں، جب تک اس کمی کو کسی مخصوص قانونی شرط یا مقررہ معیار سے منسلک نہ کیا جائے۔

5. ترقی کے معاملات کو محکمانہ کارروائی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت کا حتمی حکم:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ترقی مؤخر کرنے کا مورخہ 19.03.2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور مجاز اتھارٹی/محکمانہ سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کے مکمل سروس ریکارڈ، کارکردگی رپورٹس، تربیت اور ڈیپوٹیشن کے دوران حاصل کردہ تجربے سمیت تمام متعلقہ امور کا جائزہ لے کر ترقی کے معاملے پر دوبارہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

سکر: سکر جي عدالت قتل منشيات سميت مختلف قسمن جا 20 مهينن دوران 3207 ڪيس اڪلائي ڇڏيا، علی انس گانگرو  سینیئر جنرلسٹ سکر؛ ...
19/10/2026

سکر: سکر جي عدالت قتل منشيات سميت مختلف قسمن جا 20 مهينن دوران 3207 ڪيس اڪلائي ڇڏيا،
علی انس گانگرو سینیئر جنرلسٹ

سکر؛ ڊسٽرڪٽ اينڊ سيشن جج سکر پاران ڪارڪردگي ڏيکارڻ تي جج جاويد ميراڻي کي ڪارڪردگي سرٽيفڪيٽ ڏنو ويو

سکر: سيڪنڊ ايڊيشنل سيشن جج جاويد ميراڻي جي عدالت گذريل 20 مهينن دوران قتل، منشيات، فوجداري، سول ۽ فيملي سميت مختلف نوعيت جا 3207 ڪيس اڪلائي ڇڏيا.

سکر؛ انگن اکرن موجب عدالت ۾ مجموعي طور 3567 ڪيس داخل ۽ ٻڌڻي هيٺ هئا، جن مان 3207 ڪيسن جا فيصلا ڪيا ويا، جڏهن ته 364 ڪيس اڃا ٻڌڻي هيٺ آهن.

سکر؛ عدالتي انگن اکرن موجب قتل جا 17، عام فوجداري ڪيسن جا 112 ۽ منشيات سميت ٻين ڪيسن جا 61 فيصلا ڪيا ويا. ان کانسواءِ ضمانت جون 1082 درخواستون، قلم 491 تحت 166 ۽ قلم 22-اي تحت 1102 درخواستون اڪلايون ويون. سول جا 268 ۽ فيملي جا 115 ڪيس به اڪلائي ڇڏيا ويا.

ڊسٽرڪٽ اينڊ سيشن جج سکر پاران ايڊيشنل سيشن جج جاويد ميراڻي کي ڪارڪردگي سند پڻ ڏني وئي
سمورن ڪيسن ۾ پوئواري پراسيڪيوٽر هيرا نند لال طرفان ڪئي وئي

⚖️ A Commendable Contribution to the Administration of Justice

The honourable judiciary serves as a cornerstone of the rule of law, upholding the principles of fairness, impartiality, and due process.

The Court of the Honourable Mr. Javaid Mirani, Second Additional Sessions Judge, Sukkur, has reportedly disposed of 3,207 cases over a period of 20 months, encompassing criminal, civil, family, narcotics, bail, and other legal proceedings.

This judicial performance reflects a significant contribution towards the timely disposal of cases and the effective administration of justice. In recognition of this performance, the Honourable District and Sessions Judge, Sukkur, graciously awarded a Certificate of Performance to Mr. Javaid Mirani.

Such recognition underscores the importance of diligence, judicial responsibility, and commitment to the expeditious disposal of cases, while preserving the fundamental principles of fairness and the rule of law.

The dignity of the judicial office lies in the faithful discharge of its responsibilities, adherence to the law, and the impartial administration of justice.

Respectful appreciation and congratulations to the Honourable Mr. Javaid Mirani on this recognition. May the principles of justice, integrity, and impartiality continue to guide his esteemed judicial service.

Sindh High Coury Karachi Transfers and Postings of the following Judicial Officers
19/10/2026

Sindh High Coury Karachi Transfers and Postings of the following Judicial Officers

19/10/2026
سندھ سے بھی آگے پنجاب ہے، سب سے زیادہ بوگس ڈگریاں پنجاب میں جاری ہوئی ہیں، جن کا تعداد ہزاروں میں ہے، شاہ عبدالطیف یونیو...
18/10/2026

سندھ سے بھی آگے پنجاب ہے، سب سے زیادہ بوگس ڈگریاں پنجاب میں جاری ہوئی ہیں، جن کا تعداد ہزاروں میں ہے، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی میں ایل ایل بی کی 11 سو ڈگریاں جاری کی گئی ہیں لیکن ان کے ساتھ گریجوئیشن، ماسٹرز کی ڈگریوں کا کوئی اعداد شمار تفصیلات نہیں ہیں، مشکوک ڈگریوں کو کن بنیاد پر مشکوک بوگس قرار دیا گیا ہے، کیا ان کیس فیسز رکارڈ پر نہیں ہیں، یا پراپر پیپر ہی نہی دہیے گئے ہیں،؟
بوگس ڈگریاں ایل ایل بی کی کن لا کالجز کے ذریعے جاری ہوئی تھی، اس میں کون کون ملوث تھے، ان کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے کوئی کمیشن بنا ہے؟
لا کالیجز کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟
یہ معاملہ 2018 ء میں سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں بھی آیا ہوا تھا، مجھے تو کافی چیزیں مشکوک لگ رہی ہیں،
لطیف یونیورسٹی میں اسکروٹنی کے دوران کافی نوجوان ایسے بھی ملے جنہوں نے کہا کہ انہوں نے فیس بھی ادا کی ہے پیپرز بھی دیئے ہیں، ایک دو لاکھ اپر کالیجز والون نے وصول کیے ہیں پھر بھی ان کو مشکوک قرار دیکر بلایا گیا ہے،
برحال اس سارے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر، سندھ بار کونسل، پاکستان بار کونسل کو نوٹس لیکر تفتیش کرنی چاہیے،...!!
سینیئر جرنلسٹ علی انس گانگرو

18/10/2026

لطیف ورسٹی میں جعلی ڈگریاں ،ٹیبولیٹر ، چیکر رجسٹرار،کنٹرولر، وائس چانسلر زمیوار ہیں ! ڈگریاں پرنٹ کیسے ہوئیں؟اور یونیورسٹی کا ڈگری پیپر پاکستان پرنٹنگ پریس والا جعلی ڈگریوں میں کیسے استعمال ہوا ؟

18/10/2026

لطیف یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں کے دھندھے میں ملوث لوگ بینقاب ہونگے ؟ کیا ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی

ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 265-F استغاثہ کے شواہد پیش کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق ہے، جبکہ ہر گواہ کا بیان قلمبند کرنے کے لیے ...
18/10/2026

ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 265-F استغاثہ کے شواہد پیش کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق ہے، جبکہ ہر گواہ کا بیان قلمبند کرنے کے لیے ضابطۂ فوجداری کی دفعات 356 تا 360 کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان قانونی دفعات کو لاہور ہائیکورٹ کے قواعد و احکامات، جلد سوم، باب 24، حصہ B، نیز قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکلز 132 اور 133 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا۔ ان دفعات کے مطابق پہلے گواہ کا ابتدائی بیان (Examination-in-Chief)، اس کے بعد جرح (Cross-Examination) اور پھر، حسبِ ضرورت، جرح کے دوران سامنے آنے والے امور کی وضاحت کے محدود مقصد کے لیے دوبارہ بیان (Re-Examination) ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ گواہ کا بیان مکمل ہونے کے بعد دفعہ 360 ضابطۂ فوجداری کے تحت اسے پڑھ کر سنایا جاتا ہے، اور اگر گواہ کسی حصے کی صحت سے انکار کرے یا کتابتی غلطی کی نشاندہی کرے تو ٹرائل جج قانون کے مطابق ضروری تصحیح کر سکتا ہے۔

عدالت نے طبی شہادت کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ ویمن میڈیکل آفیسر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح طور پر درج کیا کہ میت پر پوسٹ مارٹم کے بعد ظاہر ہونے والے خون کے جمنے یا رنگت کی تبدیلی کے آثار (Postmortem Staining) موجود نہیں تھے۔ دوسری جانب پولیس کاغذات میں وقتِ وفات صبح 10 بجے درج تھا، جبکہ پوسٹ مارٹم دوپہر 3 بجے، یعنی مبینہ وقتِ وفات کے پانچ گھنٹے بعد کیا گیا۔ طبی اصولوں کے مطابق موت کے بعد جسم کے نچلے حصوں میں خون جمع ہونے سے جامنی یا سرخی مائل جامنی رنگت کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں، جو عموماً مخصوص وقت کے اندر نمایاں ہو جاتے ہیں۔ عدالت کے سامنے پیش کردہ طبی لٹریچر کے مطابق خون کی کمی (Anaemia) کی صورت میں بھی یہ آثار زیادہ سے زیادہ تقریباً چار گھنٹے میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا پوسٹ مارٹم کے وقت ان آثار کی عدم موجودگی نے استغاثہ کے پہلے سے کمزور مقدمے میں مزید شکوک پیدا کیے۔

عدالت کے مطابق میڈیکل آفیسر کا یہ بیان کہ میت پر پوسٹ مارٹم سٹیننگ موجود نہیں تھی، عینی شہادت اور پولیس کاغذات میں درج وقتِ وفات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اس تضاد سے دو امکانات سامنے آتے ہیں: یا تو موت صبح 10 بجے واقع نہیں ہوئی، جیسا کہ استغاثہ کا مؤقف تھا، یا پولیس کاغذات میں وقتِ وفات کو استغاثہ کی کہانی کے مطابق درج کیا گیا۔ دونوں صورتیں استغاثہ کے مقدمے کی بنیاد کو متاثر کرتی ہیں۔ اگر موت کسی بعد کے وقت واقع ہوئی تو وقوعے کے وقت سے متعلق استغاثہ کا بیان مشکوک ہو جاتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں ایف آئی آر کو وقوعے کے بعد درست وقت پر درج کیے جانے کے دعوے پر سوال اٹھتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ طبی شہادت، جو بذاتِ خود حملہ آور کی شناخت ثابت نہیں کر سکتی، یہاں عینی شہادت کی تائید کرنے کے بجائے اس سے متصادم تھی؛ چنانچہ اسے استغاثہ کے مؤقف کی تائید میں مؤثر شہادت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے مقتولہ کے ان بچوں کو بطور گواہ پیش نہ کرنے کے معاملے کو بھی اہمیت دی جو وقوعے کے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ عدالت کے مطابق جب ایسے گواہ دستیاب ہوں جو وقوعے کے متعلق براہِ راست اور اہم معلومات فراہم کر سکتے ہوں، تو استغاثہ کی جانب سے انہیں پیش نہ کرنا قابلِ غور امر ہے۔ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 129(g) کے تحت عدالت یہ قرینہ اخذ کر سکتی ہے کہ جو شہادت پیش کرنے سے گریز کیا گیا، اگر اسے پیش کیا جاتا تو ممکن ہے وہ اسے روکنے والے فریق کے مؤقف کے خلاف جاتی۔ عدالت نے اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے دستیاب بہترین شہادت پیش نہ کرنا اس کے بیان کردہ مؤقف پر مزید شبہات پیدا کرتا ہے۔

قانونی نکتہ: فوجداری مقدمے میں محض عینی شہادت پیش کر دینا کافی نہیں؛ اس کا طبی شہادت اور دیگر دستیاب شواہد کے ساتھ قابلِ اطمینان مطابقت رکھنا بھی ضروری ہے۔ جہاں طبی شہادت استغاثہ کے بیان کردہ وقتِ وفات سے متصادم ہو اور اہم دستیاب گواہوں کو بھی پیش نہ کیا جائے، وہاں قانونِ شہادت کے تحت منفی قرینہ اخذ کیا جا سکتا ہے، اور استغاثہ کے مقدمے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

حوالہ:
Allah Ditta v. The State, etc. — Criminal Appeal No. 607-J of 2022، 2026 LHC 7010۔

فیصلہ 8 اکتوبر 2026 کو صادر ہوا، 12 اکتوبر 2026 کو تحریر و مرتب کیا گیا اور 13 اکتوبر 2026 کو دستخط کیے گئے۔

17/10/2026

گود لینا نسب کا متبادل نہیں — حقیقی ماں کے حقِ تحویل پر اہم عدالتی اصول

کیا کسی بچے کو گود لے کر پالنے سے گود لینے والے شخص کے ساتھ حقیقی نسب یا والدین جیسا شرعی رشتہ قائم ہو جاتا ہے؟ اور اگر ڈی این اے ٹیسٹ سے حقیقی ماں کی شناخت ثابت ہو جائے تو بچے کی تحویل کے بارے میں عدالت کیا حکم دے سکتی ہے؟

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے اپنے فیصلے میں گود لیے گئے بچے کی شرعی حیثیت، حقیقی نسب اور حقِ تحویل کے حوالے سے اہم قانونی اصول واضح کیے۔

عدالت کے اہم قانونی اصول

1️⃣ گود لینے سے نسب تبدیل نہیں ہوتا
اسلامی قانون کے تحت کسی بچے کی پرورش، کفالت اور نگہداشت ایک نیک عمل ہے، تاہم محض گود لینے سے بچے کا حقیقی نسب تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی گود لینے والے شخص کے ساتھ حقیقی نسب کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

2️⃣ بچے کی نسبت حقیقی والدین سے ہوگی
بچے کی شناخت اور نسب اس کے حقیقی والدین سے منسلک رہتے ہیں۔ محض پرورش کرنے والا شخص اس بنیاد پر بچے کا حقیقی والد یا والدہ نہیں بن جاتا۔

3️⃣ ڈی این اے ٹیسٹ کی قانونی اہمیت
موجودہ مقدمے میں فارنسک سائنس ایجنسی کے ڈی این اے ٹیسٹ سے پٹیشنر کا بچے کی حقیقی ماں ہونا ثابت ہوا۔ اس سائنسی شہادت نے بچے کی حقیقی شناخت اور ماں سے تعلق کے تعین میں اہم کردار ادا کیا۔

4️⃣ حقیقی ماں کے سپردگی کا حکم
ہائی کورٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کو گود لینے والے شخص سے لے کر حقیقی ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ بچے کی کفالت اور پرورش کو حقیقی نسب کے قائم مقام نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم، بچوں کی تحویل کے مقدمات میں بچے کی فلاح و بہبود اور مقدمے کے مخصوص حقائق بھی اہم قانونی عوامل ہوتے ہیں۔

Address

Sukkur

Telephone

+923013430060

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Issues قانونی مسائل posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share