Legal Issues قانونی مسائل

Legal Issues قانونی مسائل Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Legal Issues قانونی مسائل, Lawyer & Law Firm, Sukkur.
(15)

ہم ایک قانونی فرم ہں جو مختلف قانونی مسائل میں پیشہ ورانہ اور قابلِ اعتماد قانونی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کسی بھی قانونی مسئلے کی صورت میں ہماری ٹیم سے انبکس میں رابطہ کریں۔

🫡کرایہ دار مالک کی ملکیت کا انکار نہیں کر سکتا، خاص طور پر جب اس کے پاس کوئی رجسٹرڈ دستاویز نہ ہو۔ اگر کرایہ دار کے پاس ...
11/06/2026

🫡کرایہ دار مالک کی ملکیت کا انکار نہیں کر سکتا، خاص طور پر جب اس کے پاس کوئی رجسٹرڈ دستاویز نہ ہو۔
اگر کرایہ دار کے پاس کوئی رجسٹرڈ دستاویز نہیں ہے تو وہ مالک کی ملکیت کا انکار کرتے ہوئے اخلاء (ejectment) نہیں روک سکتا۔ اس کیس میں مدعا علیہان (کرایہ دار) ایک غیر رجسٹرڈ معاہدہ مورخہ 13.05.1981 کی بنیاد پر خود کو مالک ظاہر کر رہے تھے، جبکہ ریکارڈِ مال (Jamabandi 2007-2008) کے مطابق درخواست گزار مالک ہیں اور کرایہ دار صرف کرایہ دار (Ghair Dakhilkari) ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ:
1. غیر رجسٹرڈ معاہدہ سے نہ تو ملکیت بنتی ہے اور نہ ہی کوئی حق (Section 54 Transfer of Property Act)۔
2. کرایہ دار عدالت میں جا کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ "میرا بھی اس جائیداد پر حق ہے" جب تک کہ اس کے پاس رجسٹرڈ دستاویز نہ ہو (Article 115 Qanun-e-Shahadat)۔
3. محض مقدمہ دائر کر دینے سے اخلاء نہیں روکی جا سکتی

نتیجہ: عدالت نے کرایہ داروں کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کا اخلاء (ejectment) برقرار رکھا۔

درخواست گزار فوجداری مقدمہ میں بری ہو گیا، جس کے بعد اس نے یہ استدعا کی کہ اس مقدمہ کے مدعی کے خلاف جھوٹی اطلاع دینے پر ...
11/06/2026

درخواست گزار فوجداری مقدمہ میں بری ہو گیا، جس کے بعد اس نے یہ استدعا کی کہ اس مقدمہ کے مدعی کے خلاف جھوٹی اطلاع دینے پر کارروائی شروع کی جائے، کیونکہ اس کے بقول مدعی نے پولیس کو غلط معلومات فراہم کی تھیں جس کی بنیاد پر اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا محض کسی مقدمہ میں بریت (acquittal) اس بات کا ثبوت ہے کہ مدعی کی طرف سے دی گئی اطلاع جھوٹی تھی اور کیا اس بنیاد پر دفعہ 182 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس نکتہ کو واضح کیا کہ اگر کوئی شخص کسی سرکاری اہلکار کو اطلاع اس نیک نیتی سے دیتا ہے کہ وہ درست ہے، تو اسے اس وقت تک "جھوٹی اطلاع" قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ اسے باقاعدہ عدالتی کارروائی کے ذریعے جھوٹا ثابت نہ کر دیا جائے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایسی معلومات جو عدالت میں ثابت نہ ہو سکیں، انہیں "غیر ثابت شدہ" (not proved) تو کہا جا سکتا ہے، لیکن صرف اسی بنیاد پر انہیں "جھوٹا" قرار دینا قانوناً درست نہیں۔ لہٰذا ہر بریت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مدعی نے جھوٹ بولا تھا۔ دفعہ 182 تعزیراتِ پاکستان کا اطلاق صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب متعلقہ سرکاری اہلکار، جس کے سامنے اطلاع دی گئی ہو، خود اس نتیجے پر پہنچے کہ اطلاع جھوٹی تھی اور وہ باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت اس کے خلاف کارروائی شروع کرے۔

مزید برآں، عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ نہ تو تفتیشی افسر کی جانب سے کوئی ایسی رائے موجود تھی کہ اطلاع جھوٹی تھی، اور نہ ہی کسی عدالتی فورم نے یہ قرار دیا کہ مدعی کی فراہم کردہ معلومات غلط یا من گھڑت تھیں۔ صرف یہ حقیقت کہ مدعی اپنے الزامات کو ثابت نہ کر سکا، دفعہ 182 کے اطلاق کے لیے کافی نہیں ہے۔

چنانچہ سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر مداخلت سے انکار کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس کیس میں دفعہ 182 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں بنتی، اور یوں درخواست برائے اجازتِ اپیل مسترد کر دی گئی۔ یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ فوجداری قانون میں "جھوٹ" اور "ثبوت میں ناکامی" دو الگ الگ چیزیں ہیں، اور انہیں خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔

11/06/2026

جب ناانصافی پر دل نہ دکھے ، ظلم پر آواز نہ اٹھے ، اور حق تلفی کو روزمرہ کی حقیقت سمجھ لیا جائے ، تو سمجھ لیجیے کہ معاشرہ اپنے زوال کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ⚖️💔🙏

مُلک بھر کی ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں دو چھٹیوں کی پالیسی ختم، 6 روزہ ورکنگ ویک بحال ہوگئے، چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صد...
11/06/2026

مُلک بھر کی ضلعی عدلیہ میں ہفتے میں دو چھٹیوں کی پالیسی ختم، 6 روزہ ورکنگ ویک بحال ہوگئے، چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت اجلاس میں 6 روزہ ورکنگ ویک بحال کرنے کی منظوری دی گئی۔

🏥 "ڈاکٹر نے آرام کا کہا تھا... دفتر نے حاضری کا!"سرکاری ملازم جب بیمار ہوتا ہے تو اُسے صرف بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑت...
11/06/2026

🏥 "ڈاکٹر نے آرام کا کہا تھا... دفتر نے حاضری کا!"

سرکاری ملازم جب بیمار ہوتا ہے تو اُسے صرف بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا...

اکثر اُسے یہ فکر بھی کھائے جاتی ہے کہ

"چھٹی منظور ہوگی یا نہیں؟"
"افسر کیا سوچے گا؟"
"کہیں غیر حاضر تو نہیں لگا دیں گے؟"

اور یوں بیماری کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ 😔

سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

جب ایک ملازم اسپتال کے بستر پر بھی دفتر کے فون سن رہا ہوتا ہے۔

جب ڈاکٹر آرام کا مشورہ دے رہا ہوتا ہے...

اور ملازم فائلوں کی فکر میں مبتلا ہوتا ہے۔

کیونکہ اُسے ڈر ہوتا ہے کہ

"کہیں میری بیماری کو بہانہ نہ سمجھ لیا جائے۔"

بیماری اجازت لے کر نہیں آتی

نہ دل کا دورہ وقت دیکھ کر آتا ہے...

نہ حادثہ...

نہ اچانک ہونے والی سرجری۔

مگر اکثر ملازمین سے ایسے سوال کیے جاتے ہیں جیسے بیماری بھی پیشگی پلان کی جا سکتی ہو۔

اصل نقصان کہاں ہوتا ہے؟

بعض ملازمین چھٹی لینے کے بجائے بیماری میں بھی کام کرتے رہتے ہیں۔

نتیجہ؟

⚠️ صحت مزید خراب ہو جاتی ہے

⚠️ علاج طویل ہو جاتا ہے

⚠️ ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے

⚠️ خاندان بھی متاثر ہوتا ہے

اور آخرکار وہ نقصان ہوتا ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔

ایک حقیقت جو اکثر نظر انداز ہوتی ہے

مریض ملازم...

سست ملازم نہیں ہوتا۔

بیمار ہونا کوتاہی نہیں ہوتی۔

اور علاج کروانا ذمہ داری سے فرار نہیں ہوتا۔

سوچنے کی بات

اگر ایک مشین خراب ہو جائے تو ہم اسے مرمت کے لیے روک دیتے ہیں...

تو پھر انسان کو صحت یاب ہونے کا وقت دینا اتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟

یاد رکھیں

نوکری اہم ہے...

لیکن صحت اُس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

کیونکہ اگر صحت نہ رہے تو

نہ عہدہ کام آتا ہے...

نہ تنخواہ...

نہ ترقی۔

💬 آپ کے خیال میں سرکاری ملازمین کو میڈیکل لیو کے دوران سب سے بڑی مشکل کس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

👇 اپنی رائے ضرور شیئر کریں۔



#صحت



Postings of 02-D&SJs as Judge, Banking Courts
10/06/2026

Postings of 02-D&SJs as Judge, Banking Courts

10/06/2026

Partial not allowed...

جزوی تقسیم (Partial Partition) ناقابل سماعت ہے

کوئی شریک صرف کسی ایک مخصوص یا قیمتی حصے کی تقسیم کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

تمام مشتر کہ جائیداد کو ایک مشترکہ پول میں شامل کر نالازم ہے۔

قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شریک بہتر حصہ لے اور کم قیمت یا کم اہم حصے کو چھوڑ دے۔

2026 SCP 281

10/06/2026

سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے پاس گوشوارہ جمع کرانے کی آخری مہلت 30 ستمبر مقرر کر دی گئی۔ آئندہ مالی سال یکم اکتوبر سے سوشل میڈیا پر دکھاوا کرنے والے نان فائلرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی ہوگی۔ آئندہ بجٹ میں روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کے شیڈول 3 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔

20کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کےشیڈول 3 میں شامل ہونے سے 60 ارب روپے کا سیلز ٹیکس حاصل ہوسکتا ہے ۔ایف بی آر تمام سوشل میڈیا لائف سٹائل کی مانیٹرنگ کرے گا۔ سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے لیکن گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر اپنی دولت دکھانے والے مگر گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کو ٹیکس حکام نوٹس بھجوائیں گے ۔ سوشل میڈیا پر مہنگی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، کشتیوں، بنگلوں، فلیٹس، فارم ہاؤسز، مہنگے کپڑوں، جیولری اور گھڑیوں کی نمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف کارروائی ہوگی۔ شادی، قوالی، موسیقی اور رقص کی تقریبات میں نوٹ نچھاور کرنے والے نان فائلرز بھی ایکشن کی زد میں آئیں گے ۔ایف بی آر نے رواں مالی سال سوشل میڈیا پر دکھاوا کرنے والے امرا کا مکمل ڈیٹا حاصل کر لیا ہے جبکہ شناخت کے لیے نادرا نے بھرپور معاونت کی ہے ۔
سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے اخراجات، کریڈٹ و اے ٹی ایم کارڈز اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے لیکن گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوگا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کے شیڈول 3 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔ 20 کیٹیگریز کی آئٹمز پر اس وقت سیلز ٹیکس کا سٹینڈرڈ ریٹ لاگو ہوتا ہے جو تھرڈ شیڈول میں آنے سے 18 فیصد ہوجائے گا۔ روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کے شیڈول 3 میں آنے سے اس پر قیمت اور سیلز ٹیکس لکھنا لازمی ہوگا۔ 20 کیٹیگریز کی آئٹمز میں 3000 سے زائد اشیا شامل ہوں گی جن پر قیمت اور سیلز ٹیکس درج کرنا لازمی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے ڈبے میں بند دودھ، دہی، پنیر، ملک کریم، ٹی کریم، ملک پاؤڈر اور فیٹ ملک پر قیمت اور سیلز ٹیکس شائع کرنا ہوگا۔ بچوں کے دودھ، نرم غذاؤں، دلیہ جات، فوڈ سپلیمنٹس، فروزن پراٹھوں، فروزن کباب، فروزن نگٹس اور دیگر فروزن اشیا کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس درج کرنا ہوگا۔ ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، شیونگ کریم، شیونگ فوم، شیونگ برش، مایونیز، بار بی کیو اور پیزا ساسز کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس شائع کرنا لازمی ہوگا۔ذرائع کے مطابق پالتو جانوروں کی خوراک کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم شائع کرنا ہوگی۔ تمام الیکٹرانکس آئٹمز بھی سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل ہوسکتی ہیں۔ ایل ای ڈی، فریج، واشنگ مشین، جوسر، بلینڈرز، ایئر کنڈیشنرز، روم کولرز، پنکھے ، چولہے ، گیزر، کوکنگ رینج اور تمام گیس اپلائنسز کو بھی سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔


10/06/2026
09/06/2026

🏠 رجسٹری کا نیا طریقہ کار — ابھی جان لیں!
پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری مکمل ڈیجیٹل ہو گئی!
پرانے زمانے میں رجسٹری کروانا کتنا مشکل تھا —
کہیں دھکے، کہیں رشوت، کہیں مہینوں انتظار!
اب سب کچھ بدل گیا — نیا ڈیجیٹل نظام آ گیا! ✅
📌 7 آسان مراحل — رجسٹری کا نیا طریقہ
مرحلہ 1️⃣ — ای اسٹامپ چالان
آن لائن ای اسٹامپ پورٹل سے تمام چالان حاصل کیے جائیں گے
مرحلہ 2️⃣ — چالان تصدیق
ای اسٹامپ چالان رجسٹری سسٹم میں تصدیق اور استعمال کیے جائیں گے
مرحلہ 3️⃣ — رجسٹری تفصیلات
🔹 فروخت کنندہ کی معلومات
🔹 خریدار کی معلومات
🔹 رقم
🔹 گرین برانڈیڈ سرٹیفکیٹ خودکار طور پر حاصل ہوگا
مرحلہ 4️⃣ — ایف بی آر — پلرا مربوط نظام
سسٹم ذیل معلومات ایف بی آر کو ارسال کرے گا:
🔹 شناختی کارڈ نمبر (CNIC)
🔹 حصہ ملکیت
🔹 بک مالیت
مرحلہ 5️⃣ — خود کار ٹیکس تعین
🔹 ایف بی آر خود کار طور پر ٹیکس تعین کرے گا
🔹 فائلر/نان فائلر حیثیت
🔹 مکمل اطلاق ٹیکس شرح
مرحلہ 6️⃣ — ایف بی آر چالان
سسٹم خود 2 ایف بی آر چالان بنائے گا:
🔹 236-C — فروخت کنندہ
🔹 236-K — خریدار
مرحلہ 7️⃣ — ادائیگی اور آگے منتقلی
چالان کی ادائیگی کسی بھی بینک برانچ، کاؤنٹر، JazzCash، EasyPaisa یا کسی بھی بینک کی موبائل ایپ پر PSID کے ذریعے کی جائے گی۔ ادائیگی کے بعد رجسٹری سب رجسٹرار کو اگلے مرحلے کیلئے بھیجی جائے گی!
❌ پرانے نظام کے تحت
🔹 صرف ایف بی آر پورٹل سے پہلے چالان بنانا پڑتا تھا
🔹 پھر PLRA پورٹل پر رجسٹری پراسیس ہوتی تھی
🔹 دو الگ الگ سسٹم — وقت اور پیسے کا نقصان!
✅ نئے نظام کے تحت
🔹 چالان براہِ راست PLRA سسٹم سے جزیت ہوگا
🔹 پلرا خود کار طور پر تفصیلات ایف بی آر کو ارسال کرے گا
🔹 مل پہلے سے زیادہ تیز، شفاف اور آسان! ✅
💪 عوام کے لیے اہم پیغام
اب رجسٹری کروانے کے لیے:
✔️ کسی دلال کی ضرورت نہیں
✔️ رشوت کی ضرورت نہیں
✔️ مہینوں انتظار نہیں
✔️ سب آن لائن — سب شفاف! ✅

📢 یہ پوسٹ شیئر کریں — ہر جائیداد خریدار کو یہ معلوم ہونا چاہیے!

Address

Sukkur

Telephone

+923013430060

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Issues قانونی مسائل posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share