23/08/2025
پرومسری نوٹ کی تصدیق
(Ex*****on of Promissory Note)
PLD 2025 Lahore 486
پس منظر
اس کیس میں بنیادی سوال یہ تھا کہ پرومسری نوٹ (Promissory Note) کو عدالت میں ثابت کرنے کے لیے کیا صرف دستخطوں کی شناخت کافی ہے یا پورے لین دین (Transaction) کو بھی گواہی سے ثابت کرنا ضروری ہے؟
---
عدالت کا اصولی مؤقف
1. صرف دستخط کی شناخت کافی نہیں
اگر گواہ صرف یہ کہے کہ "دستخط میرے سامنے ہوئے تھے" مگر یہ نہ بتائے کہ اصل قرض یا رقم کی ادائیگی بھی ہوئی تھی، تو پرومسری نوٹ ناقابلِ اعتماد ہو جاتا ہے۔
اصل consideration (رقم کی ادائیگی/لین دین) کو شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔
2. گواہ کی گواہی لازمی
قانون شہادت آرڈیننس 1984، دفعہ 118 کے تحت کم از کم ایک گواہ کو بلانا ضروری ہے جو یہ تصدیق کرے کہ:
دستخط اس کے سامنے ہوئے تھے؛
اور اصل رقم/معاملہ بھی اس کے سامنے ہوا تھا۔
3. سٹامپ ڈیوٹی کا اعتراض
اگر پرومسری نوٹ پر سٹامپ ڈیوٹی درست نہ لگی ہو تو اصولاً وہ قابلِ شہادت نہیں (Stamp Act، دفعہ 35)۔
مگر اگر عدالت نے ایک بار اسے داخل شہادت (Exhibit) کر لیا، تو بعد میں اس پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا (CPC، Order XIII Rule 4)۔
---
متعلقہ قانونی دفعات
قانون شہادت آرڈیننس 1984 (QSO)
دفعہ 73 → عدالت دستخطوں کا موازنہ کر سکتی ہے لیکن اصل لین دین بھی ثابت ہونا ضروری ہے۔
دفعہ 118 → Attesting witness کی گواہی لازم ہے، ورنہ دستاویز ناقابلِ اعتماد ہوگی۔
Code of Civil Procedure, 1908 (CPC)
Order XIII Rule 4 → ایک بار اگر دستاویز کو شہادت کے طور پر قبول کر لیا جائے تو بعد میں اس کی admissibility پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔
Stamp Act, 1899
دفعہ 35 → غیر مختوم (unstamped) دستاویز ناقابلِ شہادت ہے، مگر عدالت میں ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ اعتراض قابلِ سماعت نہیں رہتا۔
---
فیصلہ (Court’s Reasoning)
پرومسری نوٹ کو enforce کرنے کے لیے لازمی ہے کہ:
1. دستخطوں کی شناخت کے ساتھ اصل لین دین بھی گواہی سے ثابت کیا جائے۔
2. اگر گواہ صرف دستخط دیکھنے کا کہے لیکن رقم دینے یا لینے کا گواہ نہ ہو تو نوٹ ناقابلِ اعتبار ہوگا۔
3. ایک بار جب پرومسری نوٹ عدالت میں بطور شہادت داخل ہو جائے تو بعد میں اس پر سٹامپ ڈیوٹی یا admissibility کا اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔
---
نتیجہ
پرومسری نوٹ کو ثابت کرنے کے لیے صرف signature identification کافی نہیں، بلکہ اصل transaction کو گواہوں اور شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔
اگر عدالت نے ایک بار نوٹ کو شہادت میں شامل کر لیا تو بعد میں اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔
Posted by Legal Luminaries
پرومسری نوٹ کی تصدیق — صرف دستخط کی شناخت کافی نہیں، لین دین کی حقیقت ثابت کرنا لازمی ہے — ایک بار دستاویز بطور شہادت قبول ہو جائے تو بعد میں اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔
Ex*****on of Promissory Note — Mere identification of signatures is not sufficient, actual transaction must be proved — Once a document is admitted in evidence, its admissibility cannot be challenged later.
پرومسری نوٹ کی تصدیق
(Ex*****on of Promissory Note)
PLD 2025 Lahore 486
پرومسری نوٹ کو ثابت کرنے کے لیے لازمی ہے کہ گواہان صاف اور واضح گواہی دیں، اگر گواہ خود اس بات کی تائید کردے کہ اس کے سامنے دستخط بذا ریہ دستخط ہوئے تھے، تو پرومسری نوٹ ناقابلِ اعتبار ہو جاتا ہے۔ صرف دستخطوں کی شناخت (Identification of Signature) کافی نہیں، بلکہ پورا لین دین ثابت کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی دستاویز پر سٹامپ ڈیوٹی لگی ہو اور پھر بھی عدالت اسے بطورِ شہادت قبول کرے تو بعد میں اس بنیاد پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔
(Ex*****on of Promissory Note
1. قانون شہادت آرڈیننس، 1984 (Qanun-e-Shahadat Order, 1984)
دفعہ 73 – Proof of Signature and Handwriting
"In order to ascertain whether a signature, writing or seal is that of the person by whom it purports to have been written or made, any signature, writing, or seal admitted or proved to the satisfaction of the Court to have been written or made by that person may be compared with the one which is to be proved, although that signature, writing, or seal has not been produced or proved for any other purpose."
یہ دفعہ عدالت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ دستخط یا تحریر کو موازنہ کے ذریعے پرکھ سکتی ہے۔ مگر صرف دستخط کی شناخت کافی نہیں، بلکہ پورے لین دین کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ یہی اصول مذکورہ فیصلے میں بیان کیا گیا۔
دفعہ 118 – Proof of Ex*****on of Documents Required by Law to be Attested
"If a document is required by law to be attested, it shall not be used as evidence until one attesting witness at least has been called for the purpose of proving its ex*****on, if there be an attesting witness alive and subject to the process of the Court and capable of giving evidence."
قانون کے مطابق اگر کوئی دستاویز (جیسا کہ پرومسری نوٹ) گواہوں کے دستخط سے تصدیق شدہ ہے تو کم از کم ایک گواہ کو عدالت میں طلب کرنا لازمی ہے۔ اگر گواہ لین دین اور دستخط دونوں کی تصدیق نہ کرے تو پرومسری نوٹ ناقابلِ اعتبار ہو جائے گا۔
2. Code of Civil Procedure, 1908 (CPC)
Order XIII Rule 4 – Endorsements on Documents Admitted in Evidence
"There shall be endorsed on every document which has been admitted in evidence the number and title of the suit, the name of the person producing the document, the date on which it was produced, and a statement of its having been so admitted."
اگر کوئی پرومسری نوٹ عدالت میں بطور شہادت پیش ہوتا ہے اور داخل شہادت (Exhibit) ہو جاتا ہے تو بعد میں اس کی admissibility پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ اصول مذکورہ فیصلے میں بھی بیان ہوا ہے کہ اگر کسی دستاویز پر سٹامپ ڈیوٹی کی کمی کے باوجود عدالت نے اسے شہادت کے طور پر قبول کر لیا تو بعد میں اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔
3. Stamp Act, 1899
دفعہ 35 – Instruments not duly stamped inadmissible in evidence
"No instrument chargeable with duty shall be admitted in evidence for any purpose by any person having by law or consent of parties authority to receive evidence, unless such instrument is duly stamped."
Proviso:
"...Provided that any such instrument shall be admitted in evidence on payment of the duty with which the same is chargeable, or in the case of an instrument insufficiently stamped, of the amount required to make up such duty, together with a penalty..."
بظاہر غیر مختوم
(unstamped/insufficiently stamped)
پرومسری نوٹ قابلِ شہادت نہیں، لیکن اگر عدالت نے قبول کر لیا اور اس پر اعتراض اُس وقت نہ کیا گیا تو بعد میں اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہی اصول PLD 2025 Lahore 486 میں بیان کیا گیا۔
M.farooq Khilji Advocate
قانونی تجزیاتی جائزہ
(Analytical Review)
پرومسری نوٹ کا Ex*****on:
صرف دستخط کی شناخت
(Identification of Signature)
کافی نہیں۔
لازمی ہے کہ گواہ اس پورے لین دین کی گواہی دے کہ ادھار یا قرض کی رقم حقیقتاً دی گئی تھی۔
شہادت کا معیار:
QSO 1984 کی دفعہ 118 کے مطابق کم از کم ایک گواہ کو پیش کرنا ضروری ہے۔
اگر گواہ کہے کہ وہ صرف دستخط کا گواہ ہے لیکن ادائیگی/لین دین نہیں دیکھا تو پرومسری نوٹ ناقابلِ اعتبار ہو جاتا ہے۔
Stamp Defect:
Stamp Act دفعہ 35 کے تحت غیر مختوم نوٹ ناقابلِ شہادت ہے، لیکن اگر عدالت نے اسے داخل شہادت (Exhibit) بنا لیا تو پھر CPC Order XIII Rule 4 کے مطابق بعد میں اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔
فیصلہ PLD 2025 Lahore 486 کا اصول:
لین دین کی حقیقت اور consideration ثابت کرنا لازم ہے۔
صرف signature identification کافی نہیں۔
ایک بار دستاویز بطور شہادت قبول ہو جائے تو بعد میں اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔
نتیجتآً
پرومسری نوٹ کو enforce کرنے کے لیے صرف signatures کی تصدیق نہیں بلکہ اصل transaction (consideration) کو گواہوں اور شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔ عدالت اگر ایک بار نوٹ کو بطور شہادت داخل کر لے تو Stamp Defect کے اعتراضات بعد میں نہیں اٹھائے جا سکتے۔