Adv Aqib Younas Bajwa

Adv Aqib Younas Bajwa Loading....... Classified ads posting

01/12/2025

، جس جرم یعنی سیکشن 20، 21 اور 24 PECA 2016 کے تحت ملزم پر الزام عائد کیا گیا ہے، وہ دفعہ 497 ضابطہ فوجداری کی ممانعتی شق (prohibitory clause) کے زمرے میں نہیں آتا، لیکن اس کے باوجود ایسے معاملات میں ضمانت کا دیا جانا ہمیشہ کوئی عمومی اصول نہیں ہوتا۔

حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ملزم نے معصوم خواتین کی ایڈیٹ کی ہوئی نازیبا تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں جو کہ انتہائی سنگین بداخلاقی ہے اور معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے خلاف ہے۔

یہ واحد حقیقت ہی درخواست گزار کے مقدمے کو غیر معمولی اور استثنائی بنا دیتی ہے، لہٰذا بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔

{2025 PCr.LJ 1318}
The offence i.e. sec.20,21,24 PECA 2016, with which the accused has been charged does not attract the prohibitory limb of 497 Cr.PC yet grant of bail in such scenarios is not always a universal rule. Facts are to be seen that the edited n**e photographs of innocent ladies were uploaded by the accused on social media and it's grave immorality and against the conscience of society. This fact alone makes the case of petitioner being exceptional and extra ordinary, hence, post arrest bail denied.
{2025 PCr.LJ 1318}

Regards: Adv Aqib Younas Bajwa

27th constitutional Amendment (Summary)
10/11/2025

27th constitutional Amendment (Summary)

لاہور ہائی کورٹ کا ایک ڈاکٹر کو غفلت پہ مریض کو ایک کروڑ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم۔ڈاکٹر کی غفلت  کی  وجہ سے مریض کو نقصان ...
08/11/2025

لاہور ہائی کورٹ کا ایک ڈاکٹر کو غفلت پہ مریض کو ایک کروڑ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم۔

ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے مریض کو نقصان پہنچنے پہ ہرجانہ کس طرح لیا جائے؟ اس کیس پہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال صاحب کا بہت ہی اہم فیصلہ:

یہ کیس لاہور ہائی کورٹ کے سامنے سول عدالت فیصل آباد کے فیصلے خلاف بطور اپیل آیا۔

کیس کے حقائق:

اپیل کنندہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں سال 2012 میں پانچویں سمسٹر کی طالبہ تھی۔ 11 دسمبر 2012 کو اسے اپنے بازو میں درد محسوس ہوا جس پر وہ چیک اپ کے لیے الائیڈ ہسپتال ،فیصل اباد چلی گئی۔ میڈیکل چیک اپ کے بعد اس کو سرجری تجویز کی گئی اور 17 دسمبر کو اس کا آپریشن کیا گیا۔

18 دسمبر کو اس نے شکایت کی کہ اس کے بدن کا نچھلا حصہ کام نہیں کررہا۔ اس کے والد نے اس کو دوسرے ڈاکٹرز کو دکھایا جس سے یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے انتہائی غفلت سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے اس کے تین ریڑھ کی ہڈیاں اورSpinal Cord کٹا ہوا ہے ۔اس غفلت پر اس کے والد نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سامنے شکایت درج کی۔ جس کی تفتیش پر ڈاکٹر کو زمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ڈاکٹر نے اس کے خلاف اپیل اور بعد میں رٹ پٹیشن بھی دائر جو کہ دونوں مسترد کر دیے گیے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے بھی انکوائری کی اور اس کی پینشن ختم کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔

اپیل کنندہ/مدعیہ نے 75 کروڑ روپے کے ہرجانہ ادا کرنے کا دعویٰ دائر کیا ، جس پر سول کورٹ نے ہرجانہ کے رقم کو 50 لاکھ تک کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔ اس فیصلے کے خلاف دونوں مدعیہ اور مدعا علیہ نے اپیل دائر کی۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال :

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا مدعیہ واقعی 75 کروڑ روپے بطور ہرجانہ کی حقدار ہے۔؟

یہ چیزیں ثابت کرنے کا بارثبوت مدعیہ پر تھا۔

عدالت کے سامنے مدعیہ بذات خود پیش ہوئی۔ جس پر اس نے اپنا بیان پیش کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر شہزاد انور جو کہ مدعیہ کے چچا نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ اس کے بعد مدعیہ کے ماں کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ۔
مدعا علیہ کی طرف سے مدعا علیہ خود اور ڈاکٹر ارشد علی چیمہ [میڈیکل سپرنٹینڈنٹ الائیڈ ہسپتال] نے اپنے اپنے بیان ریکارڈ کروائے ۔
عدالت نے سب سے پہلے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010 میں " میڈیکل نیگلیجنس" کے تعارف پر غور کیا ۔ اس کے بعد ایکسپرٹ ڈاکٹرز کے بورڈ کی میڈیکل رپورٹ بھی دیکھی اور ساتھ میں مدعا علیہ/ڈاکٹر' کے بیان کو بھی دیکھا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ اس ڈاکٹر کے پاس یہ آپریشن کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی اور اس نے آپریشن کے دوران غفلت سے کام لیا ہے ۔
اس کے بعد عدالت آئین میں موجود بنیادی حقوق کے طرف آتی ہے اور ساتھ ایک کیس
2006 SCMR 207

کابھی ذکر کرتی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ لاء آف ٹارٹ کے فعالیت آج کے دور کی ضرورت ہے ،تاکہ لوگ سمجھے کہ ایک قوم قانون میں مذکور زمہ داریوں کو پورا کیے بغیر کبھی بھی آگے نہیں جاسکتی،ساتھ میں اس بات پر زور دیا کہ قانون کے اچھے اثرات تب تک نہیں آتے جب تک اس کو سختی سے نافذ العمل نہ کیا جائے۔ ساتھ میں سورۃ البقرہ کا بھی حوالہ دیا۔ اس کے علاوہ طبی غفلت پر متعدد عدالتی نظائر کا بھی زکر کیا۔ جو کہ اہل ہیں:
1996 CLC 1440
1969 AIR SC 128
2000 AIR SC 1888
2019 SCMR 143
2016 SCMR 663
2011 SCMR 1836
عدالت اس بات کی طرف بھی آتی ہے کہ مدعا علیہ کا یہ موقف تھا کہ یہ کیس سرے سے نہیں بنتا کیونکہ جو شکایت اس نے کی تھی چارہ جوئی[ریمیڈی] پہلے سے ہی اس نے لے رکھی ہے، اس پر عدالت نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمشن ایکٹ 2010 پر غور کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کمیشن کو صرف ہیلتھ سروس پرواڈر یعنی ہسپتال وغیرہ کے بد انتظامی اور غفلت اور ان پر الزامات کے تفتیش کے اختیار ہے ہرجانہ طے کرنے کا اختیار اس کمیشن کے پاس نہیں ہے یہ صرف سول کورٹ کے پاس اختیار ہے۔
عدالت نے آخر میں یہ کیا کہ میڈیکل بر انتظامی کے کیس کو " لاء اف ٹارٹ" کے تحت ڈیل کیا جائے ، اور پاکستان اس میں انگلش لاء کی پیروی کرتا ہے ۔
عدالت نے کہا کہ ہرجانہ کی رقم کا تعین کرنے کے لیے عدالت کو اپنے سامنے یہ بنیادی اصول رکھنے ہے۔
1.نقصان کے وجہ سے معقول اور منصفانہ مالی معاوضہ
2.تکلیف اور درد کے وجہ سے مالی معاوضہ
3.سہولتوں کے ختم ہونے کہ وجہ سے نقصان کے تلافی کے لئے معاوضہ
4.طبی اخراجات
5.پیسے کمانے سے محروم ہونے کا نقصان، اس رقم کا اندازہ کرنے کے لیے کم سے کم 2 سال کا وقت پر غور کرنا پڑے گا۔
6.مالی نقصان: سفر کے اخراجات ، سپیشل کیئر کا خرچہ، وغیرہ
7.درد اور تکلیف کے وجہ سے نقصان جیسے کے زلت آمیز رویے ، جسم میں بگاڑ، عمر متوقع میں کمی وغیرہ۔
عدالت کا فیصلہ:
عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر کے غفلت کی وجہ سے مدعیہ کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جس کو پیسوں سے پورا نہیں کیا جاسکتا ،لیکن اس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ مدد مل سکتی ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے 50 لاکھ ہرجانہ کی رقم کو بڑھا کر 1 کروڑ تک کرنے کا فیصلہ جاری کردیا ۔

اس کیس کو ریگلولر فرسٹ اپیل نمبر 70634 آف 2023 کے تحت تلاش کیا جاسکتا ہے .

If you live in Punjab, this news is for you! The Government of Punjab and CM Maryam Nawaz have announced strict action a...
18/10/2025

If you live in Punjab, this news is for you! The Government of Punjab and CM Maryam Nawaz have announced strict action against illegal weapons across the province. People possessing unregistered or illegal arms have been given 30 days to register their weapons at the nearest Police Khidmat Markaz.

After this deadline, anyone found with illegal weapons will face 14 years in jail and a fine of Rs. 20 lakh. The government has also banned new weapon licenses and decided to closely monitor weapon dealers.

Adv Aqib Bajwa
پسرور کی آواز

02/10/2025
دفعہ 406 (پاکستان پینل کوڈ)اگر کوئی شخص امانت یا کسی دوسرے کی ملکیت اپنے پاس رکھ کر اس سے خیانت کرے یا اس کو ہڑپ کرے تو ...
22/09/2025

دفعہ 406 (پاکستان پینل کوڈ)

اگر کوئی شخص امانت یا کسی دوسرے کی ملکیت اپنے پاس رکھ کر اس سے خیانت کرے یا اس کو ہڑپ کرے تو یہ جرم امانت میں خیانت ( Criminal Breach of Trust) کہلاتا ہے اور دفعہ 406 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔

سزا زیادہ سے زیادہ تین سال قید یا جرمانہ ، یادونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔

21/09/2025

اب سائبر کرائم کی شکایات کو درج کرانے کے لیے ایک نئی اور آسان پروسس متعارف کرائی گئی ہے۔ اب آپ پولیس کے پاس جانے کے بجائے براہ راست نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ NCCIA کے دفتر جا کر یا ریجنل دفاتر میں تحریری درخواست دے کر شکایات درج کر سکتے ہیں۔ NCCIA کے پاس آن لائن ہراسانی، جعلی آئی ڈیز، سائبر فراڈ، ڈیٹا چوری، غیر اخلاقی مواد اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ سمیت مختلف قسم کے سائبر جرائم کی شکایات درج کی جا سکتی ہیں۔ پنجاب پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اب سائبر کرائمز کے مقدمات درج نہ کریں، کیونکہ یہ اختیار اب NCCIA کے پاس ہے۔

جنسی ہراسانی صرف فحش الفاظ یا حركات تک محدود نہیں، بلکہ جب کوئی طاقتور شخص اپنے عہدے یا اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے ...
18/09/2025

جنسی ہراسانی صرف فحش الفاظ یا حركات تک محدود نہیں، بلکہ جب کوئی طاقتور شخص اپنے عہدے یا اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی کمزور یا ماتحت کو دباؤ میں رکھے تو وہ بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہر شخص، چاہے مرد ہو یا عورت، کام کی جگہ پر عزت اور تحفظ کا حقدار ہے ۔

PLD 2025 SC 354

⚖️
15/08/2025

⚖️

Address

Sialkot

Telephone

+923450345679

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Aqib Younas Bajwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Aqib Younas Bajwa:

Share

Category