03/03/2026
نبی کریم ﷺ نے ان کے ماموں ، ام سلیم ( انس کی والدہ ) کے بھائی کو بھی ان ستر سواروں کے ساتھ بھیجا تھا ۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے حضور اکرم ﷺ کے سامنے ( شرارت اور تکبر کی راہ سے ) تین صورتیں رکھی تھیں ۔ اس نے کہا کہ یا تو یہ کیجئے کہ دیہاتی آبادی پر آپ کی حکومت ہو اور شہری آبادی پر میری ہو یا پھر مجھے آپ کا جانشین مقرر کیا جائے ورنہ پھر میں ہزاروں غطفانیوں کو لے کر آپ پر چڑھائی کروں گا ۔ ( اس پر حضور ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی ) اور ام فلاں کے گھر میں وہ مرض طاعون میں گرفتار ہوا ۔ کہنے لگا کہ اس فلاں کی عورت کے گھر کے جوان اونٹ کی طرح مجھے بھی غدود نکل آیا ہے ۔ میرا گھوڑا لاؤ ۔ چنانچہ وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر ہی مر گیا ۔ بہرحال ام سلیم کے بھائی حرام بن ملحان ایک اور صحابی جو لنگڑے تھے اور تیسرے صحابی جن کا تعلق بنی فلاں سے تھا ، آگے بڑھے ۔ حرام نے ( اپنے دونوں ساتھیوں سے بنو عامر تک پہنچ کر پہلے ہی ) کہہ دیا کہ تم دونوں میرے قریب ہی کہیں رہنا ۔ میں ان کے پاس پہلے جاتا ہوں اگر انہوں نے مجھے امن دے دیا تو تم لوگ قریب ہی ہو اور اگر انہوں نے قتل کر دیا تو آپ حضرات اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جائیں ۔ چنانچہ قبیلہ میں پہنچ کر انہوں نے ان سے کہا ، کیا تم مجھے امان دیتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ کا پیغام تمہیں پہنچا دوں ؟ پھر وہ حضور ﷺ کا پیغام انہیں پہنچانے لگے تو قبیلہ والوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے آ کر ان پر نیزہ سے وار کیا ۔ ہمام نے بیان کیا ، میرا خیال ہے کہ نیزہ آرپار ہو گیا تھا ۔ حرام کی زبان سے اس وقت نکلا ” اللہ اکبر ، کعبہ کے رب کی قسم ! میں نے تو اپنی مراد حاصل کر لی ۔“ اس کے بعد ان میں سے ایک صحابی کو بھی مشرکین نے پکڑ لیا ( جو حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور انہیں بھی شہید کر دیا ) پھر اس مہم کے تمام صحابہ کو شہید کر دیا ۔ صرف لنگڑے صحابی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے ۔ ان شہداء کی شان میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ، بعد میں وہ آیت منسوخ ہو گئی ( آیت یہ تھی ) إنا قد لقينا ربنا فرضي عنا وأرضانا ۔ آنحضرت ﷺ نے ان قبائل رعل ، ذکوان ، بنو لحیان اور عصیہ کے لیے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی ۔