Sharif Law Associate

22/05/2026

پہلے دن کو شمار نہیں کیا جائے گا اور گنتی اگلے دن سے شروع ہو گی

پنجاب جنرل کلاز ایکٹ 1956 کی دفعہ 8 و 9 کا تعلق وقت کے حساب (Computation of time) سے

اگر کسی ایکٹ یا قانون میں کوئی ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہو جو وقت کی پیمائش یا میعاد کو ظاہر کرے (جیسے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک، یا کسی خاص دن سے شروع ہو کر)، تو اس قسم کے وقت کا حساب لگاتے وقت پہلے دن کو شمار نہیں کیا جائے گا اور گنتی اگلے دن سے شروع ہو گی۔

لفظ "From" (سے) کا استعمال: دنوں کی کسی سیریز یا وقت کی کسی مدت کی گنتی کرتے وقت، اگر لفظ "From" استعمال کیا گیا ہو، تو اس کا مقصد پہلے دن کو نکالنا (Exclude کرنا) ہوتا ہے۔

لفظ "To" (تک) کا استعمال: اسی طرح، اگر دنوں کی سیریز یا وقت کی مدت کے لیے لفظ "To" استعمال کیا گیا ہو، تو اس کا مقصد آخری دن کو شامل کرنا (Include کرنا) ہوتا ہے

(Punjab Rented Premises Act, 2009)

کے سیکشن (2)22 کے تحت، کرایہ دار (Respondent) کو رینٹ ٹریبونل (Rent Tribunal) میں پہلی پیشی کے بعد 10 دن کا وقت "Leave to Contest"کے لئے دیا جاتا ہے

یا نوٹس کی اطلاع کے دس دن کے بعد یا پیش ہونے کے بعد 10 دن کے اندر درخواست دینی ہوتی ہے

درخواست ٹائم بارڈ ہونے کی بناء پر بیدخلی کی درخواست منظور ہوئی اور اپیل بھی خارج ہوئی اور ہائیکورٹ نے بھی ٹائم بارڈ ہونے کی نسبت رٹ پیٹیشن خارج کر دی

2026 pld 172 lahore

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہرقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے...
22/05/2026

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ

رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔

​۱۔ کیس کے حقائق (Facts of the Case)

​شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی ۱۷ ستمبر ۲۰۰۹ کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔

​راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۱۰ کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
​بیوی کو ۲,۰۰۰ روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
​بیٹے نور اللہ کے نام ۵ مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
​اس ۵ مرلہ زمین پر ۳ ماہ کے اندر کم از کم ۱۳ لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کر کے دے گا۔
​بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔

​خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

​مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔

​۲۔ سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
​ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

​ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
​شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
​شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

​۳۔ اپیلٹ کورٹ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات

​شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

​اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔

​عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔

​۴۔ لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات

​بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔

​ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات

​ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔

​جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔

​شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

​مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔

​۵۔ زرِ تلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
​عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
​عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
​یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
​یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)
Mr. Justice Raheel Kamran

11/05/2026

2026 P Cr. L J 71

لیڈنگ سوال Leading Question پر انتہائی اہم فیصلہ

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا استغاثہ (Prosecution) کی طرف سے گواہ/شکایت کنندہ سے یہ پوچھنا کہ:

"وقوعہ رپورٹ کرنے میں تاخیر کی کیا وجہ تھی؟"

ایک Leading Question تھا یا نہیں، اور کیا ٹرائل کورٹ نے اسے حذف (Expunge) کرکے درست فیصلہ کیا تھا یا نہیں۔

مقدمہ کے حقائق
ایک ایف آئی آر زیر دفعات 302، 324، 34 PPC درج ہوئی۔ مقدمہ ٹرائل میں آیا تو مدعی PW-2 کے طور پر پیش ہوا۔
استغاثہ کے وکیل نے دوران Examination-in-Chief گواہ سے سوال کیا:
وقوعہ رپورٹ کرنے میں تاخیر کی کیا وجہ تھی؟
دفاعی وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ Leading Question ہے۔
ٹرائل کورٹ نے اعتراض منظور کرتے ہوئے سوال حذف کردیا اور کہا کہ Articles 136 & 137 Qanun-e-Shahadat Order 1984 کے تحت ایسا سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔

اس حکم کے خلاف مدعی اور ریاست نے Criminal Revision دائر کی۔

عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات

عدالت نے درج ذیل نکات طے کیے:

ا) Leading Question کیا ہے؟

ب) Examination-in-Chief میں کب ایسے سوالات منع ہیں؟

ج) کیا مذکورہ سوال Leading Question تھا؟

د) کیا ٹرائل کورٹ کا حکم درست تھا؟

Leading Question کی تعریف
عدالت نے کہا:
قانونِ شہادت Article 136 QSO کے مطابق ایسا سوال جو گواہ کو مطلوبہ جواب سجھائے یا بتائے، Leading Question ہوتا ہے۔
مثلاً:
کیا ملزم نے آپ کے سامنے فائر کیا؟
یہ سوال جواب بھی بتا رہا ہے۔
جبکہ:
وقوعہ کیسے ہوا؟
یہ کھلا سوال ہے، اس میں جواب تجویز نہیں کیا گیا۔

عدالت کی اہم قانونی تشریح
عدالت نے مختلف کتابوں، انگریزی قانون اور عدالتی نظائر سے اصول اخذ کیے کہ:

لیڈنگ Leading Question کی پہچان
عام طور پر:
جو سوال Yes/No میں جواب لیا جا سکے، وہ اکثر Leading ہوتا ہے۔
جو سوال What, Where, Who, How سے شروع ہو، وہ اکثر Non-Leading ہوتا ہے۔
مگر یہ کوئی مطلق اصول نہیں، ہر کیس کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔

عدالت نے موجودہ سوال کا جائزہ لیا
سوال تھا:
تاخیر کی وجہ کیا تھی؟
عدالت نے کہا:
یہ سوال:
جواب تجویز نہیں کرتا
صرف تاخیر کی وجہ پوچھتا ہے
کھلا سوال (Open-ended) ہے
گواہ کوئی بھی وجہ بتا سکتا تھا
لہٰذا یہ لازماً Leading Question نہیں بنتا۔

گواہ نے کیا جواب دیا؟
مدعی نے کہا:
گاڑی دستیاب نہ تھی
علاقہ پہاڑی تھا
عدالت نے کہا یہ فطری جواب ہے اور حقیقت پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔

عدالت کا اہم مشاہدہ
مدعی نے اپنے بیان میں وقوعہ کی اصل تفصیلات بیان کر دی تھیں:
وقوعہ کیسے ہوا
کس نے کیا
ملزمان کو نامزد کیا
لیکن وہ تاخیر کی وجہ بیان کرنا بھول گیا۔
عدالت نے کہا:
یہ omission غالباً قانونی باریکیوں سے ناواقفیت کی وجہ سے تھا، بدنیتی سے نہیں۔

دفاع کے حقوق محفوظ تھے
عدالت نے کہا:
اگر سوال پوچھا جاتا تو دفاع کو مکمل حق حاصل تھا کہ:
جرح کرے
وجہ تاخیر کو چیلنج کرے
تضاد دکھائے
ساکھ متاثر کرے
لہٰذا دفاع کو کوئی prejudice نہیں تھا۔

ٹرائل کورٹ کے اختیارات
عدالت نے تسلیم کیا کہ:
سوال کی admissibility کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کی صوابدید ہے۔
کیونکہ وہ گواہ کے انداز، تعلیم، سماجی حیثیت، حالات کو سامنے دیکھتی ہے۔
لیکن:
یہ اختیار Judiciously استعمال ہونا چاہیے، محض technicality پر نہیں۔
بنیادی اصول: انصاف procedural technicalities پر غالب ہے۔

عدالت نے زور دیا:
فوجداری مقدمات میں اصل مقصد Substantial Justice ہے، نہ کہ صرف فنی اعتراضات۔
اگر سوال سے حقیقت سامنے آتی ہے اور کسی فریق کو نقصان نہیں تو اسے روکنا مناسب نہیں۔

عدالت کا فیصلہ
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا حکم Set Aside کر دیا۔
اور حکم دیا کہ:
مدعی کو یہ سوال جواب دینے دیا جائے۔
یعنی استغاثہ سوال پوچھ سکتا ہے:
تاخیر کی وجہ کیا تھی؟

اس فیصلے سے اخذ شدہ قانونی اصول
1. ہر سوال جو اہم نکتہ پوچھے، Leading نہیں ہوتا۔
اگر سوال صرف موضوع کی طرف توجہ دلائے مگر جواب نہ بتائے، تو جائز ہو سکتا ہے۔

2. Open-ended سوالات زیادہ قابل قبول ہیں
مثلاً:
کیا ہوا؟
کب ہوا؟
کیوں تاخیر ہوئی؟

3. عدالت کو لچک اختیار کرنی چاہیے
خاص طور پر:
دیہی گواہ
ناخواندہ گواہ
سادہ گواہ
قانونی نکات سے ناواقف افراد

4. فوجداری مقدمات میں سچائی سامنے لانا مقصد ہے
عملی اہمیت (Trial Courts / Prosecutors / Defence)
Prosecutor کیلئے
گواہ سے سوالات اس انداز میں کریں کہ:
جواب خود گواہ دے
سوال جواب نہ بتائے
Defence کیلئے
ہر سوال پر Leading کا اعتراض نہیں بنے گا۔
صرف تب جب سوال جواب سجھائے۔
Trial Judge کیلئے
Technical objections پر ضرورت سے زیادہ سختی مناسب نہیں۔
مختصر نتیجہ
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:
اگر سوال صرف وضاحت طلب کرے، جواب dictate نہ کرے، اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو، تو اسے محض technical بنیاد پر Leading Question قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اور تاخیر کی وجہ پوچھنا، موجودہ حالات میں، جائز سوال تھا۔

08/05/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان: منتخب اہم فیصلے (2026 SCMR)
آسان اردو میں مختصر اور جامع خلاصہ
1. 2026 SCMR 1 (حقِ نان و نفقہ)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس عقیل احمد عباسی
خلاصہ: غیر رخصتی شدہ شادی میں بھی بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہے۔ حقِ نان و نفقہ نکاح کے وقت سے شروع ہوتا ہے، رخصتی ہونا شرط نہیں ہے۔ شوہر صرف اس صورت میں نفقہ سے بری ہوگا جب وہ ثابت کرے کہ بیوی بلاوجہ نان و نفقہ لینے یا آباد ہونے سے انکاری ہے۔
2. 2026 SCMR 22 (کنٹریکٹ ملازمین - قانون کو چیلنج)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ
خلاصہ: عدالت نے قرار دیا کہ اہم قانونی نکات پر بحث کیے بغیر درخواست خارج کرنا (Sub Silentio) درست نہیں۔ کیس دوبارہ ہائی کورٹ کو بھیجا گیا تاکہ قانونی نکات پر تفصیلی فیصلہ کیا جائے۔
3. 2026 SCMR 31 (کرایہ داری - ثبوت اور تاخیر)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ اے ملک
خلاصہ: مالک مکان نے 8 سال بعد کرایہ کا دعویٰ کیا جو کہ تاخیر کا شکار تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹھوس ثبوت کے بغیر محض دعویٰ کافی نہیں۔ ہائی کورٹ کو دوبارہ ثبوت دیکھنے کی ہدایت کی گئی۔
4. 2026 SCMR 36 (بیع نامہ - سپیسیفک پرفارمنس)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس ایم علی مظہر
خلاصہ: اگر خریدار بدنیتی پر مبنی ہو یا معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرے، تو عدالت اسے ریلیف دینے کی پابند نہیں۔ مخصوص کارکردگی (Specific Performance) ایک اختیاری ریلیف ہے۔
5. 2026 SCMR 42 (شہید ملازم کوٹہ - برابر سلوک)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس عقیل احمد عباسی
خلاصہ: سرکاری محکموں میں "چنیدہ بھرتیاں" (Cherry Picking) غیر قانونی ہیں۔ تمام اہل افراد کے ساتھ برابر سلوک ہونا چاہیے۔ پالیسی موجود نہ ہونے کا عذر بنا کر درخواست مسترد نہیں کی جا سکتی۔
6. 2026 SCMR 47 (قتل کا مقدمہ - شک کا فائدہ)
ججز: جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد بلال حسن
خلاصہ: اگر استغاثہ کا کیس کمزور ہو، گواہ مشکوک ہوں یا فارنزک ثبوت نہ ہوں، تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے گا۔ میڈیکل رپورٹ صرف معاون ثبوت ہوتی ہے، فیصلہ کن نہیں۔
7. 2026 SCMR 54 (حقِ شفعہ - صرف فروخت میں)
ججز: جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد بلال حسن
خلاصہ: حقِ شفعہ صرف "فروخت" (Sale) کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ تبادلہ (Exchange) یا تحفہ کی صورت میں شفعہ کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ قیمت کی ادائیگی ثابت کرنا لازمی ہے۔
8. 2026 SCMR 60 (پوسٹ مارٹم میں تاخیر)
ججز: جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد بلال حسن
خلاصہ: پوسٹ مارٹم میں غیر ضروری تاخیر استغاثہ کے کیس کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ اگر ایک ملزم کو شک کی بنیاد پر بری کیا جائے تو وہی فائدہ دوسرے شریکِ ملزم کو بھی مل سکتا ہے۔
9. 2026 SCMR 69 (ٹیکس قانون - ریمانڈ کا اختیار)
ججز: جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن
خلاصہ: 2005 کے بعد کمشنر اپیل کے پاس کیس دوبارہ ریمانڈ (واپس) بھیجنے کا اختیار ختم ہو گیا ہے۔ اسے خود کیس کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ قانون کی تشریح سادہ الفاظ میں کی جائے گی۔
10. 2026 SCMR 74 (پرموشن اور منفی ریمارکس)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس ایم علی مظہر
خلاصہ: اگر پرموشن روکنے کی بنیاد "منفی ریمارکس" (Adverse Remarks) ہوں اور وہ ریمارکس ختم ہو جائیں، تو پرموشن سے انکار کا فیصلہ بھی خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
11. 2026 SCMR 77 (جھوٹی اطلاع - دفعہ 182)
ججز: جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس ایم علی مظہر
خلاصہ: محض الزام ثابت نہ ہونا اس کے "جھوٹا" ہونے کی دلیل نہیں۔ دفعہ 182 کی کارروائی کے لیے ٹھوس ثبوت چاہیے کہ اطلاع جان بوجھ کر بدنیتی سے دی گئی تھی۔
12. 2026 SCMR 87 (قانونی اصول اور طریقہ کار)
ججز: جسٹس امین الدین خان، جسٹس عقیل احمد عباسی
خلاصہ: اگر قانون کسی کام کو کرنے کا ایک خاص طریقہ مقرر کر دے، تو وہ کام اسی طریقے سے ہونا چاہیے۔ اس سے انحراف قانونی طور پر جائز نہیں۔

06/05/2026

جاز سم کے خفیہ کوڈز اور ضروری سیٹنگز
​✨ بیلنس معلوم کریں ← #111*
✨ اپنا موبائل نمبر معلوم کریں ← #99*
✨ جاز بیلنس ٹرانسفر کریں ← #100*
✨ کال ویٹنگ آن کریں ← #43*
✨ موبائل IMEI نمبر چیک کریں ← #06 #*
✨ اپنی سم رجسٹریشن چیک کریں ← #16444*
✨ بقیہ ریسورسز چیک کریں ← #100*
✨ ایڈوانس بیلنس حاصل کریں ← #112*
✨ اپنا نمبر چھپائیں (Hide) ← #31 #*
✨ کالر ٹیون حاصل کوڈ ← #7773*
✨ مِسڈ کال ڈائیورٹ کریں ← #62*
✨ جاز بیلنس رپورٹ حاصل کریں ← #275*
✨ کال ویٹنگ آف کریں ← #43 #*
✨ استعمال کی تاریخ چیک کریں ← #21300
✨ اپنا نمبر دکھائیں (Show) ← #31*
✨ کال فارورڈنگ آن کریں ← #21*

06/05/2026

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔
لاہور ہائیکورٹ۔

​کیس کے مختصر حقائق
​یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں شاہد عمران (درخواست گزار) کی جانب سے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے لیے دائر کی گئی۔ درخواست گزار پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک سکول جانے والی لڑکی، مسماۃ علینہ کرن کو اغوا کیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس حوالے سے تھانہ مڈھ رانجھا، سرگودھا میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365-B اور 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

​درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے جو کہ شرعی طور پر جائز ہے، جبکہ مدعیہ (لڑکی کی ماں) کا کہنا تھا کہ لڑکی نابالغ ہے اور یہ نکاح "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ" کی خلاف ورزی اور زبردستی پر مبنی ہے۔

​عدالتی فیصلے کے اہم نکات

​1. عمر کا تعین اور قانونی حد:
​عدالت نے واضح کیا کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال اور لڑکے کے لیے 18 سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی قانوناً جرم ہے۔
​عدالت نے مختلف قوانین (جیسے نادرا آرڈیننس، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں "بالغ" ہونے کی عمومی عمر 18 سال تسلیم کی جا رہی ہے۔

​2. نکاح اور رضامندی:
​عدالت نے فیڈرل شرعی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں شادی کے لیے صرف جسمانی بلوغت کافی نہیں، بلکہ ذہنی پختگی اور شعور بھی ضروری ہے تاکہ انسان اپنے فیصلے کے نتائج کو سمجھ سکے۔
​فیصلے میں کہا گیا کہ شادی محض ایک جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سول معاہدہ ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر بھی پڑتے ہیں۔

​3. بین الاقوامی معاہدات اور آئینی حقوق:
​پاکستان نے بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن (UNCRC) پر دستخط کر رکھے ہیں، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر ہر فرد بچہ ہے۔
​عدالت نے قرار دیا کہ کم عمری کی شادی بچوں کے بنیادی حقوق (تعلیم اور باوقار زندگی) کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی پابند ہے، اور شادی اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

​4. ریپ (Zina-bil-Jabr) کی تعریف:
​تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

​5. خیار البلوغ (Option of Puberty):
​عدالت نے مسلم پرسنل لاء کے تحت "خیار البلوغ" کی وضاحت کی کہ اگر سرپرست نے بچپن میں نکاح کر دیا ہو، تو لڑکی کو 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اسے ختم (Repudiate) کرنے کا حق حاصل ہے۔

​عدالت نے قرار دیا کہ محض "بلوغت" کا دعویٰ کر کے کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو استحصال سے بچائے اور ان کی تعلیم و نشوونما کو یقینی بنائے۔ اس کیس میں چونکہ لڑکی کی عمر اور اغوا و زیادتی کے سنجیدہ الزامات موجود تھے، اس لیے عدالت نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت کی۔

6. قانون کی برتری (Statutory Law vs Personal Law)
​عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1962 شادی بیاہ کے معاملات کو دیکھتا ہے، لیکن اس کی دفعہ 2 واضح کرتی ہے کہ یہ ملک میں نافذ العمل دیگر قوانین کے تابع ہے۔

​چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929: عدالت کے مطابق لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے اور یہ قانون کسی بھی غیر منضبط مذہبی رائے پر برتری رکھتا ہے۔

​7. عمر کا تعین اور جے جے ایس اے (JJSA)
​عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اغوا یا کم عمری کی شادی کے کیسز میں متاثرہ لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔ اس لیے عدالت نے جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (JJSA) 2018 کے طریقہ کار کو اپنانے کی ہدایت کی:

​عمر کا تعین برتھ سرٹیفکیٹ یا تعلیمی اسناد سے کیا جائے۔
​اسناد نہ ہونے کی صورت میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائے۔ اس کیس میں لڑکی کی عمر 13/14 سال پائی گئی جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

​8. دفعہ 79 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی تشریح
​درخواست گزار نے دفعہ 79 پی پی سی (جو نیک نیتی میں کی گئی قانونی غلطی کو تحفظ دیتی ہے) کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ممتاز قادری کیس کا حوالہ دیا:

​نیک نیتی (Good Faith): اگر کوئی شخص قانون توڑ کر کمسن بچی سے شادی رچاتا ہے تو وہ "نیک نیتی" یا "حقیقت کی غلطی" (Mistake of Fact) کا دفاع نہیں لے سکتا۔ قانون کی خلاف ورزی پر مبنی عمل کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

9. اہم قانونی اصول (Legal Maxims)
​عدالت نے فیصلے میں چند عالمی تسلیم شدہ اصولوں کا حوالہ دیا:
​کوئی شخص اپنے ہی غلط عمل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا: اگر کسی نے غیر قانونی شادی کی ہے، تو وہ اسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔

​غلط کام سے حق پیدا نہیں ہوتا: غیر قانونی فعل (کم عمری کی شادی) کسی قانونی حق کو جنم نہیں دے سکتا۔

10. پولیس اور پراسیکیوٹرز کی ذمہ داری
​عدالت نے حکومتی اہلکاروں کی غفلت پر سخت ریمارکس دیے:
​پراسیکیوٹرز: پنجاب کرمنل پراسیکیوٹر سروس ایکٹ 2006 کے تحت پراسیکیوٹر کا فرض ہے کہ وہ چالان (دفعہ 173) کا باریک بینی سے جائزہ لے تاکہ کوئی مجرم بچ نہ سکے۔
​پولیس: پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی قانونی طور پر پابند ہے۔

​عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری عدالت فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، لیکن وہ کم عمری کی شادی جیسے جرم کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتی۔ آرٹیکل 35 (خاندان کا تحفظ) کے تحت اس شخص کو تحفظ نہیں مل سکتا جس نے خود قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔

مرکزی فیصلہ اور نتائج

ضمانت کی مستردگی: عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest bail) کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور 19 مئی 2023 کو دی گئی عبوری ریلیف (Ad-interim relief) کو واپس لے لیا ہے۔

فیصلے کی بنیاد: عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسے "معقول دلائل" موجود ہیں جو درخواست گزار کو اغوا اور زیادتی جیسے ناقابلِ ضمانت جرائم سے جوڑتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار پولیس یا شکایت کنندہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی بدنیتی (Mala-fide) ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جو کہ قبل از گرفتاری ضمانت کی توثیق کے لیے لازمی شرط ہے۔

دیوانی اور فوجداری کارروائی: عدالت نے قرار دیا کہ دیوانی (Civil) اور فوجداری (Criminal) کارروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے Sikandar Ali Mohi Ud Din (2021 SCMR 1486) میں طے کیا گیا ہے۔

نظامی اصلاحات کے لیے ہدایات
جسٹس صاحب نے کم عمری کی شادیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں:

ایس او پیز (S.O.P.s) کی تیاری: پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئی جی پنجاب پولیس اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مل کر ایس او پیز تیار کریں تاکہ کم عمری کی شادیوں کے ناسور کو ختم کیا جا سکے۔
عدالتی نظائر کا نفاذ: ان ضابطوں کی تیاری میں درج ذیل اہم فیصلوں کی روشنی میں قانون نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:

Mst. Tahira Bibi Vs. SHO (PLD 2020 Lahore 811)
Zeeshan Ali Zafar Vs. S.H.O (2021 MLD 880)
آفیشل مانیٹرنگ: اس حکم نامے کی نقول آئی جی پنجاب، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ صوبے کے کرمنل جسٹس سسٹم میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
فیصلے میں دیے گئے اہم حوالہ جات
2020 SCMR 168: قبل از گرفتاری ضمانت کے اصولی قواعد۔
2019 SCMR 1129: بے گناہ افراد کو ریلیف دینے کے ضوابط۔
PLD 2021 Lahore 783: فیملی کورٹس ایکٹ اور فوجداری کارروائی کا تعلق۔
نوٹ: عدالت نے اس کیس میں جناب راشد محمود صاحب (سول جج فرسٹ کلاس/ریسرچ آفیسر) کی محنت اور قانونی معاونت کی خصوصی تعریف کی ہے۔

05/05/2026

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔
لاہور ہائیکورٹ۔

​کیس کے مختصر حقائق
​یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں شاہد عمران (درخواست گزار) کی جانب سے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے لیے دائر کی گئی۔ درخواست گزار پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک سکول جانے والی لڑکی، مسماۃ علینہ کرن کو اغوا کیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس حوالے سے تھانہ مڈھ رانجھا، سرگودھا میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365-B اور 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

​درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے جو کہ شرعی طور پر جائز ہے، جبکہ مدعیہ (لڑکی کی ماں) کا کہنا تھا کہ لڑکی نابالغ ہے اور یہ نکاح "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ" کی خلاف ورزی اور زبردستی پر مبنی ہے۔

​عدالتی فیصلے کے اہم نکات

​1. عمر کا تعین اور قانونی حد:
​عدالت نے واضح کیا کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال اور لڑکے کے لیے 18 سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی قانوناً جرم ہے۔
​عدالت نے مختلف قوانین (جیسے نادرا آرڈیننس، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں "بالغ" ہونے کی عمومی عمر 18 سال تسلیم کی جا رہی ہے۔

​2. نکاح اور رضامندی:
​عدالت نے فیڈرل شرعی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں شادی کے لیے صرف جسمانی بلوغت کافی نہیں، بلکہ ذہنی پختگی اور شعور بھی ضروری ہے تاکہ انسان اپنے فیصلے کے نتائج کو سمجھ سکے۔
​فیصلے میں کہا گیا کہ شادی محض ایک جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سول معاہدہ ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر بھی پڑتے ہیں۔

​3. بین الاقوامی معاہدات اور آئینی حقوق:
​پاکستان نے بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن (UNCRC) پر دستخط کر رکھے ہیں، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر ہر فرد بچہ ہے۔
​عدالت نے قرار دیا کہ کم عمری کی شادی بچوں کے بنیادی حقوق (تعلیم اور باوقار زندگی) کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی پابند ہے، اور شادی اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

​4. ریپ (Zina-bil-Jabr) کی تعریف:
​تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

​5. خیار البلوغ (Option of Puberty):
​عدالت نے مسلم پرسنل لاء کے تحت "خیار البلوغ" کی وضاحت کی کہ اگر سرپرست نے بچپن میں نکاح کر دیا ہو، تو لڑکی کو 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اسے ختم (Repudiate) کرنے کا حق حاصل ہے۔

​عدالت نے قرار دیا کہ محض "بلوغت" کا دعویٰ کر کے کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو استحصال سے بچائے اور ان کی تعلیم و نشوونما کو یقینی بنائے۔ اس کیس میں چونکہ لڑکی کی عمر اور اغوا و زیادتی کے سنجیدہ الزامات موجود تھے، اس لیے عدالت نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت کی۔

6. قانون کی برتری (Statutory Law vs Personal Law)
​عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1962 شادی بیاہ کے معاملات کو دیکھتا ہے، لیکن اس کی دفعہ 2 واضح کرتی ہے کہ یہ ملک میں نافذ العمل دیگر قوانین کے تابع ہے۔

​چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929: عدالت کے مطابق لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے اور یہ قانون کسی بھی غیر منضبط مذہبی رائے پر برتری رکھتا ہے۔

​7. عمر کا تعین اور جے جے ایس اے (JJSA)
​عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اغوا یا کم عمری کی شادی کے کیسز میں متاثرہ لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔ اس لیے عدالت نے جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (JJSA) 2018 کے طریقہ کار کو اپنانے کی ہدایت کی:

​عمر کا تعین برتھ سرٹیفکیٹ یا تعلیمی اسناد سے کیا جائے۔
​اسناد نہ ہونے کی صورت میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائے۔ اس کیس میں لڑکی کی عمر 13/14 سال پائی گئی جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

​8. دفعہ 79 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی تشریح
​درخواست گزار نے دفعہ 79 پی پی سی (جو نیک نیتی میں کی گئی قانونی غلطی کو تحفظ دیتی ہے) کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ممتاز قادری کیس کا حوالہ دیا:

​نیک نیتی (Good Faith): اگر کوئی شخص قانون توڑ کر کمسن بچی سے شادی رچاتا ہے تو وہ "نیک نیتی" یا "حقیقت کی غلطی" (Mistake of Fact) کا دفاع نہیں لے سکتا۔ قانون کی خلاف ورزی پر مبنی عمل کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

9. اہم قانونی اصول (Legal Maxims)
​عدالت نے فیصلے میں چند عالمی تسلیم شدہ اصولوں کا حوالہ دیا:
​کوئی شخص اپنے ہی غلط عمل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا: اگر کسی نے غیر قانونی شادی کی ہے، تو وہ اسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔

​غلط کام سے حق پیدا نہیں ہوتا: غیر قانونی فعل (کم عمری کی شادی) کسی قانونی حق کو جنم نہیں دے سکتا۔

10. پولیس اور پراسیکیوٹرز کی ذمہ داری
​عدالت نے حکومتی اہلکاروں کی غفلت پر سخت ریمارکس دیے:
​پراسیکیوٹرز: پنجاب کرمنل پراسیکیوٹر سروس ایکٹ 2006 کے تحت پراسیکیوٹر کا فرض ہے کہ وہ چالان (دفعہ 173) کا باریک بینی سے جائزہ لے تاکہ کوئی مجرم بچ نہ سکے۔
​پولیس: پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی قانونی طور پر پابند ہے۔

​عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری عدالت فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، لیکن وہ کم عمری کی شادی جیسے جرم کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتی۔ آرٹیکل 35 (خاندان کا تحفظ) کے تحت اس شخص کو تحفظ نہیں مل سکتا جس نے خود قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔

مرکزی فیصلہ اور نتائج

ضمانت کی مستردگی: عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest bail) کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور 19 مئی 2023 کو دی گئی عبوری ریلیف (Ad-interim relief) کو واپس لے لیا ہے۔

فیصلے کی بنیاد: عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسے "معقول دلائل" موجود ہیں جو درخواست گزار کو اغوا اور زیادتی جیسے ناقابلِ ضمانت جرائم سے جوڑتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار پولیس یا شکایت کنندہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی بدنیتی (Mala-fide) ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جو کہ قبل از گرفتاری ضمانت کی توثیق کے لیے لازمی شرط ہے۔

دیوانی اور فوجداری کارروائی: عدالت نے قرار دیا کہ دیوانی (Civil) اور فوجداری (Criminal) کارروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے Sikandar Ali Mohi Ud Din (2021 SCMR 1486) میں طے کیا گیا ہے۔

نظامی اصلاحات کے لیے ہدایات
جسٹس صاحب نے کم عمری کی شادیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں:

ایس او پیز (S.O.P.s) کی تیاری: پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئی جی پنجاب پولیس اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مل کر ایس او پیز تیار کریں تاکہ کم عمری کی شادیوں کے ناسور کو ختم کیا جا سکے۔
عدالتی نظائر کا نفاذ: ان ضابطوں کی تیاری میں درج ذیل اہم فیصلوں کی روشنی میں قانون نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:

Mst. Tahira Bibi Vs. SHO (PLD 2020 Lahore 811)
Zeeshan Ali Zafar Vs. S.H.O (2021 MLD 880)
آفیشل مانیٹرنگ: اس حکم نامے کی نقول آئی جی پنجاب، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ صوبے کے کرمنل جسٹس سسٹم میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
فیصلے میں دیے گئے اہم حوالہ جات
2020 SCMR 168: قبل از گرفتاری ضمانت کے اصولی قواعد۔
2019 SCMR 1129: بے گناہ افراد کو ریلیف دینے کے ضوابط۔

04/05/2026

*بوقت ریمانڈ، مجسٹریٹ، تفتیشی کو صفحہ مثل پر موجود مواد کے مطابق، کوئی جرم لگانے یا حذف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔*
. *(2021 PCrLJ 293).*

*کوئی شخص قانون سے بالاتر نہ ہے جرم کرنے کی صورت ميں کسی قاضی، مجسٹریٹ جج یا جوڈیشل آفیسر کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔*
*(PLD 2020 QUE 26).*

*مدعی، مجسٹریٹ کی، پولیس کی استدعا ریمانڈ جسمانی، مسترد کر کے، ملزم کو حوالات جوڈیشل بھجوانے کے آرڈر کو، چیلنچ نہ کر سکتا ہے۔ یہ اختیار تفتیشی کا ہے۔*
. *(2017 PCrLJ 691).*

*اگر دوران تفتیش، ریمانڈ جسمانی کوئی پراگرس نہ ہو، تو چوری کیس میں 7/8 یوم سے زائد ریمانڈ جسمانی نہ ہو گا۔*
. *(2005 PCrLJ 1709).*

*اگر پولیس 6/7 روز کے ریمانڈ جسمانی میں کوئی پراگرس نہ کر سکے تو ملزم کا مزید ریمانڈ جسمانی دینا قرین انصاف نہ ہے.*
. . *(2005 YLR 854).*

RMS LEGAL INN Lawyer & Law Firm

*بوقت ریمانڈ، مجسٹریٹ، تفتیشی کو صفحہ مثل پر موجود مواد کے مطابق، کوئی جرم لگانے یا حذف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔*

04/05/2026

⚖️ PLD 2026 SC 53
👉 Province of Punjab vs Muhammad Chiragh and others

سپریم کورٹ آف پاکستان
ججز: جسٹس شاہد وحید، جسٹس شاہد بلال حسن
حوالہ: PLD 2026 SC 53
فیصلہ: 22-08-2025

⚖️ 2. مقدمہ کا پس منظر (Background of the Case)
حکومت پنجاب نے زمین کے حوالے سے ڈگری کے خلاف اپیل دائر کی
اپیل میں court-fee کم ادا کی گئی
ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپیل مسترد کر دی
ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا
سپریم کورٹ میں سوال اٹھا کہ کیا یہ مستردی قانونی تھی؟

📜 3. متعلقہ قانون (Relevant Law)
📖 Court Fees Act, 1870
دفعہ 25، 28 — کورٹ فیس کی ادائیگی

📖 ضابطہ دیوانی (C.P.C)
دفعہ 149 — کورٹ فیس کی کمی پوری کرنے کا اختیار
Order VII Rule 11(c) — plaint کی مستردی
Order XLI Rule 3 — اپیل پر اطلاق

📖 آئین پاکستان
آرٹیکل 10-A — منصفانہ ٹرائل کا حق

Posted by Legal Luminaries

🧾 4. مقدمہ کے حقائق (Facts of the Case)
زمین کی الاٹمنٹ کے بعد تنازع پیدا ہوا
مدعی نے specific performance کا دعویٰ جیت لیا
حکومت نے اپیل دائر کی مگر court-fee مکمل ادا نہ کی
عدالت نے کئی تاریخیں دیں مگر deficiency واضح نہ کی
بالآخر اپیل مسترد کر دی گئی

⚖️ 5. اہم قانونی سوالات (Legal Issues)
کیا court-fee کی کمی پر اپیل مسترد کی جا سکتی ہے؟
کیا عدالت کا فرض ہے کہ deficiency واضح کرے؟
کیا مناسب موقع دیے بغیر اپیل مسترد کرنا درست ہے؟

🏛️ 6. عدالت کے مشاہدات (Court Findings)
💰 Court-fee deficiency
❌ عدالت نے واضح رقم متعین نہیں کی
👉 یہ بنیادی قانونی تقاضا تھا
⚖️ عدالت کا فرض (Duty of Court)
✔ لازم ہے کہ:
deficiency کی exact رقم بتائے
مناسب وقت دے
📄 Procedure میں خرابی
❌ بار بار adjournments دی گئیں مگر رہنمائی نہ دی گئی
👉 اس سے انصاف متاثر ہوا

📜 Section 149 C.P.C
✔ عدالت کو اختیار ہے کہ:
بعد میں بھی court-fee مکمل کروائے

👉 document کو valid مانا جا سکتا ہے
⚖️ Fair Trial (Art. 10-A)
❌ petitioner کو fair trial سے محروم کیا گیا
🏛️ High Court کی غلطی
❌ اس اہم قانونی نکتے کو نظر انداز کیا

⚖️ 7. عدالت کا فیصلہ (Final Decision)
✔ سپریم کورٹ نے:
ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے
کیس واپس ڈسٹرکٹ جج کو بھیج دیا
ہدایت دی کہ:
court-fee کی exact رقم مقرر کرے
مناسب وقت دے
پھر کیس کا فیصلہ کرے

⭐ 8. اہم قانونی اصول (Key Legal Principles)
✔ Court-fee deficiency:
👉 پہلے exact رقم بتانا لازمی ہے
✔ Court کا فرض:
👉 موقع فراہم کیے بغیر مستردی غیر قانونی
✔ Section 149 C.P.C:
👉 بعد میں deficiency پوری کی جا سکتی ہے
✔ Appellate Court:
👉 trial court جیسی ذمہ داریاں رکھتی ہے
✔ Fair trial:
👉 procedural غلطی بھی fundamental right کو متاثر کر سکتی ہے
✔ Substantial justice:
👉 technicalities پر ترجیح دی جائے گی
✔ اصول:
👉 "قانون کا مقصد انصاف ہے، نہ کہ محض technicalities"

📚 9. حوالہ جات (Case Laws Relied Upon)
Siddique Khan v. Abdul Shakur Khan (PLD 1984 SC 289)
Mst. Parveen v. Mst. Jamsheda Begum (PLD 1983 SC 227)
Yaqoob Khan v. Rasool Khan (1981 SCMR 155)

🔍 اہم قانونی نکتہ (Practical Insight)
👉 یہ کیس ایک اہم اصول واضح کرتا ہے:
court-fee کی کمی ایک procedural defect ہے،
جس کا مقصد انصاف کو روکنا نہیں ہونا چاہیے
👉 اہم نکتہ:
عدالت کا فرض ہے کہ رہنمائی دے، صرف سزا نہ دے
👉 بنیادی اصول:
"substantial justice ہمیشہ technical غلطیوں پر غالب رہتی ہے"

Posted by Legal Luminaries

PLD 2026 Supreme Court 53

Present: Shahid Waheed and Shahid Bilal Hassan, JJ

PROVINCE OF PUNJAB through the District Collector, Bhakkar---Petitioner

versus

MUHAMMAD CHIRAGH and others---Respondents

Civil Petition No. 385-L of 2021. decided on 22nd August, 2025.

(On appeal against the judgment dated 03.12.2020 passed by the Lahore High Court, Lahore in Civil Revision No.75892 of 2017).

(a) Court-fees Act (VII of 1870)---

Ss. 25 & 28---Constitution of Pakistan, Arts. 10-A & 185(3)---Deficiency in payment of court-fee---Inadequately stamped memorandum of appeal---Effect---Consequent rejection of appeal---Legality---Courts to allow rectification of deficiency in court-fees---Scope---Duty of Courts to ascertain precise amount of deficient court-fee and then grant a reasonable period to petitioner to remedy the deficiency---The Province of Punjab allotted 100 kanals of land to "A" under a tubewell scheme, and after his death, his heirs executed a general power of attorney in favour of "MH" who agreed to sell the land to respondent "MC"---When "MH" failed to honor the agreement, MC filed a suit for specific performance, which the Trial Court decreed in his favour---The Province challenged this decree through an appeal, but its counsel filed an inadequately stamped memorandum of appeal and, despite seeking repeated adjournments, failed to deposit the proper court-fees---Consequently, the District Court rejected the appeal, and the High Court, in revision, upheld that rejection---Therefore, the core issue before the Supreme Court for determination was as to "whether the rejection of the petitioner's first appeal due to insufficiently stamped court-fees was lawful"?---Held: When the memorandum of appeal was initially presented, the ministerial staff reported that court-fees was needed---However, the specific amount of the deficient court-fee was not indicated, leaving a crucial gap in the proceedings---The file was subsequently presented to the district judge, who, rather than determining the exact sum owed in court-fees, opted to adjourn the case at the petitioner's request to allow time to submit the required fee---In a bid to rectify the situation, the petitioner sought seven adjournments to address the fee deficiency---Despite these attempts, the petitioner failed to fulfil this requirement---As a result, the district judge ultimately rejected the memorandum of appeal---This procedural approach, characterized by an improper handling of the case, defeated substantial justice and fell short of the established principles of law---It was incumbent upon the district judge to first ascertain the precise amount of the deficient court-fee and subsequently grant a reasonable period for the petitioner to remedy this shortfall---This essential exercise was neglected, rendering the rejection of the memorandum of appeal invalid---Consequently, the petitioner was deprived of a fair trial, which is a right protected under Article 10-A of the Constitution---The significance of this oversight alone warranted a revision of the order that led to the rejection of the first appeal, however, the High Court overlooked this critical aspect when it dismissed the petitioner's application under Section 115, C.P.C.---So viewed, the order of the High Court was also illegal---Consequently, the High Court judgment along with the district judge's order was set aside---The case was referred back to the district judge, who was directed to determine the exact amount of the court-fee owed---After this assessment, the district judge was directed to provide the petitioner with a reasonable opportunity to rectify any deficiencies in the payment of the court-fee and after granting that opportunity the district judge could proceed to adjudicate the matter according to the law---Present petition was converted into appeal and was allowed, in circumstances. [p. 63] G

(b) Court-fees Act (VII of 1870)---

----S.28---Collection of court-fees---Purpose and object---True object is to facilitate administration of justice while protecting State interests without undermining fairness or integrity of proceedings---Scope---The primary intention behind this legislation (Court-fees Act, 1870) is to ensure a steady stream of revenue that benefits the State rather than to empower litigants with a tool of technicality that could be used to burden their adversaries unjustly---This understanding underscores the importance of upholding justice and fairness within the legal system---Thus, the focus should remain on the true purpose of the Act, facilitating the administration of justice while safe guarding the interests of the State without compromising the integrity of legal proceedings. [p. 59] В

Siddique Khan and 2 others v. Abdul Shakur Khan and another PLD 1984 SC 289 and Sardar Muhammad Kazim Ziauddin Durrani and others v. Sardar Muhammad Asim Fakhuruddin Durrani 2001 SCMR 148 rel.

Banwari Lal v. Mahesh and others AIR 1918 PC 188 ref.

(c) Court-fees Act (VII of 1870)---

----Ss. 25, 26 & 28---Collection of court-fees by the State---Balancing the State's revenue interests with the imperatives of fairness and justice in legal proceedings---Scope and guiding principles---Discretion of Presiding Officer to allow subsequent proper stamping---Rectification in deficiency of court-fee---Procedure stated---According to section 25 of the Court-fees Act 1870, in conjunction with section 26 thereof, the collection of court-fees is mandated to be executed through the use of stamps--The legislation specifies that the stamps intended to signify the payment of these fees may be of impressed, adhesive, or a combination of both types---Moreover, section 28 of the Act 1870 stipulates that a document requiring a stamp will be deemed invalid unless it bears the appropriate markings indicating that the court-fee has been duly paid---However, the statute recognizes the possibility of human error; if a document is inadvertently accepted, filed, or utilized in any court without the necessary stamping, the presiding judge possesses the discretion to allow for its subsequent proper stamping---If the judge deems it appropriate to grant this allowance, once the document is correctly stamped, it and all related proceedings will be considered as valid as if the necessary stamping had been executed at the outset---These provisions impose a dual responsibility on the court, particularly when documents are not properly stamped---Firstly, the court must ascertain the exact amount of applicable court-fees---Secondly, it may provide the necessary timeframe for the party involved to remedy any deficiencies in the payment, ensuring both compliance with the law and the preservation of fairness in the legal process. [p. 60] C

(d) Civil Procedure Code (V of 1908)----

S.149---Court-fees Act (VII of 1870), S.28---Deficiency in payment of court-fee---Rectification of deficiency---Party to be allowed to rectify the deficiency/shortfall---Scope---There exists an additional legal provision that facilitates the rectification of certain procedural deficiencies which is articulated in section 149 of C.P.C.---This section empowers the court to permit a party to remedy any shortcomings in the court-fees owed on various legal documents, including plaints, memorandum of appeal, and applications for the review of judgments, etc---Notably, this allowance extends even beyond the expiration of the statutory limitation period required for the submission of these documents---In essence, Section 149, C.P.C. provides a mechanism by which a flawed document can be retrospectively validated, provided that the deficiency in the court-fee is rectified with the leave of the court---. When one examines Section 28 of the Court-fees Act, 1870, in conjunction with Section 149, the law can be summarized as follows: (a) Ordinarily, a document that is insufficiently stamped is not to be received, filed, or recorded in a court; (b) When, however, an insufficiently stamped document is presented, the court has the authority to assess the precise amount of court-fees required and may grant the submitting party a reasonable timeframe to address the deficiency; (c) Should the party rectify the fee shortfall within the given time limit, the document is to be considered to have been presented and accepted on the original date of its filing; (d) If the deficiency is not remedied within the timeframe fixed, the document will be rendered invalid and without legal effect---It is important to emphasize a significant aspect of Section 28 of the Court-fees Act, 1870, along with Section 149, C.P.C.--These provisions do not obligate the Court to grant an extension of time for parties to address any deficiencies in court-fees---Instead, the authority to remedy such deficiencies lies within the Court's discretion, meaning that it cannot be assumed as an automatic right---However, it is essential to recognize that the pursuit of law fundamentally aims to deliver justice; it is not merely a series of rigid procedures but a pathway to achieving fair outcomes. (pp. 60, 61] D & E

Mst. Parveen v. Mst. Jamsheda Begum and another PLD 1983 SC 227; Siddique Khan and 2 others v. Abdul Shakur Khan and another PLD 1984 SC 289; Yaqoob Khan v. Rasool Khan and others 1981 SCMR 155; Ch. Nazir Ahmed v. Abdul Karim and another PLD 1990 SC 42 and Assistant Commissioner and Land Acquisition Collector, Badin v. Haji Abdul Shakoor and others 1997 SCMR 919 rel.

(e) Civil Procedure Code (V of 1908)---

----O. VII, R.11(c), O. XLI, R. 3 & S. 107---Court-fees Act (VII of 1870), S.28---Deficiency in payment of court-fees---Rectification of deficiency---Scope---Duty of Court to determine the deficiency and provide opportunity to a party to rectify such deficiency---Duty of party to rectify the deficiency in the timeframe permitted by court---Order VII, Rule 11 (c) of C.P.C. stipulates that a plaint must be rejected if the relief sought is appropriately valued, yet the plaint is submitted on insufficiently stamped paper---In such instances, if the Court directs the plaintiff to provide the proper stamped paper within a specified timeframe and the plaintiff fails to comply, the plaintiff's claim stands to be rejected---It is also crucial to note that, under the provisions of section 107, C.P.C. in conjunction with Order XLI, Rule 3, C.P.C., the stipulations of Order VII, Rule 11(c), C.P.C. extend to the memorandum of appeal as well---Consequently, an appellate Court possesses the same authority and obligations as a Court of original jurisdiction when dealing with suits filed before it---Therefore, just as a Court of original jurisdiction is mandated by Order VII, Rule 11(c), C.P.C. to grant sufficient time for rectifying any court-feeds efficiencies in the plaint, an appellate Court is equally obliged to do the same concerning a memorandum of appeal---In this context, it is essential to emphasize that the question of discretion does not come into play---The appellate Court is required to first explicitly and accurately assess the amount of the Court-fee deficiency before proceeding further---Following this determination, the Court must grant a reasonable period for the appellant to rectify the deficiency---Thus, rejecting a memorandum of appeal is deemed unlawful without first adhering to these essential criteria---It is necessary to clarify that when a plaintiff or an appellant is granted time to rectify a deficiency in court-fees as stipulated under Order VII, Rule 11, C.P.C., they must conform to this requirement within the given time frame---Should they fail to fulfil this obligation and subsequently request additional fime without providing a valid justification, it may be interpreted as an act of obstinacy and a deliberate disregard for the authority of the law---In such circumstances, the court may reasonably determine that the plaintiff or appellant forfeits his entitlement to any further extensions, as his actions reflect a refusal to comply with legal mandate. [p. 61] F

Siddique Khan and 2 others v. Abdul Shakur Khan and another PLD 1984 SC 289; Assistant Commissioner and Land Acquisition Collector, Badin v. Haji Abdul Shakoor and others 1997 SCMR 919; Noor Muhammad and others v. Muhammad Sharif and others 1988 SCMR 1955; Malik Allah Dad deceased through his legal representatives and others v. Yasin and another 1990 SCMR 1638; Muhammad Hanif and others v. Muhammad and others PLD 1990 SC 859; Mukhi Chatromal and another v. Khubchand and 6 others 1993 SCMR 1113; Sardar Ahmed Yar Jang v. Sardar Noor Ahmed Khan PLD 1994 SC 688 and Zulfiqar Ali and others v. Mst. Sajida Begum 1995 SCMR 911 rel.

(Administration of justice---

----Substantial justice over technical compliance---Minor unintentional mistakes---Legal practitioners sometimes make unintentional mistakes when drafting pleadings or filing cases---Such errors, while regrettable, often result in outcomes that can attract sanctions or penalties---However, in the administration of justice, it is crucial to recognize that not all mistakes warrant strict punitive measures---To give life to the principle that wrong must not go unpunished, and that right must not go un enforced, a degree of leniency must be accorded to errors that do not stem from contumacy or intentional misconduct---By adopting a more forgiving approach towards certain minor mistakes, the judiciary can prevent the rigid application of rules from hindering the broader mission of justice delivery---This perspective is vital because the judiciary is respected not because it has the technical ability to legitimize unfairness, instead, its respect is rooted in its fundamental role as an arbiter of fairness, capable of identifying and rectifying injustices---The expectation that the judiciary must act to eliminate any form of injustice serves as a cornerstone of trust in the legal system---It is this ability to prioritize substantial justice over mere technical compliance that fortifies the integrity and efficacy of our legal processes. [p. 58] A

Address

Sharif Law Associate, Opposite To District Bar Association Sargodha
Sargodha

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03216013424

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sharif Law Associate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sharif Law Associate:

Share