11/04/2025
فیملی لاز بنیادی طور پر عورت کو facilitate کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اگر ازدواجی زندگی کامیاب نہ ہو تو فریقین انتقامی کارروائی کا ہر ہر حربہ آزمانے پر اتر آتے ہیں۔
لیکن جو مسئلہ طلاق کے معاملات میں عموماً سامنے آتا ہے وہ عورت کو طلاق مؤثرگی سرٹیفیکیٹ کی حصولی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ مرد طلاق دے دیتا ہے لیکن ثالثی کونسل سے طلاق مؤثرگی کے لئے کارروائی نہیں کرواتا جبکہ بمطابق قانون مرد پر لازم ہے کہ وہ طلاق کی صورت میں پہلے ثالثی کونسل اور پھر بیوی کو مطلع کرے اور ایسا نہ کرنا قانوناً جرم ہے جس کا عموماً لوگوں کو علم نہیں ہوتا، اگر مرد بیوی کو طلاق دینے کے بعد طلاق موثرگی کے لئے ثالثی کونسل کو آگاہ نہ کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ فیملی کورٹ میں شوہر کے اس عمل کے خلاف فیملی لاء آرڈینس کے تحت فوجداری استغاثہ دائر کرے۔ یاد رہے اس جرم کی سزا ایک برس تک قید اور پانچ ہزار جرمانہ ہے۔
قانون سے ناواقفیت قانونی معاملات میں بہانہ نہیں بن سکتا۔
نیز اگر فریقین کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہو تو مرد پر لازم ہے کہ وہ بصورت صیغہ طلاق دے وگرنہ قانون کی رو سے طلاق غیر مؤثر رہے گی اور اس جرم کی سزا بمطابق قانون مذکورہ بالا ایک سال تک قید اور پانچ ہزار تک جرمانہ ہوسکتی ہے۔
محمد علی نقی ایڈووکیٹ