Muhammad Ali Naqi

Muhammad Ali Naqi Advocate High Court
0344 0225276
0303 7958023

11/04/2025

فیملی لاز بنیادی طور پر عورت کو facilitate کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اگر ازدواجی زندگی کامیاب نہ ہو تو فریقین انتقامی کارروائی کا ہر ہر حربہ آزمانے پر اتر آتے ہیں۔
لیکن جو مسئلہ طلاق کے معاملات میں عموماً سامنے آتا ہے وہ عورت کو طلاق مؤثرگی سرٹیفیکیٹ کی حصولی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ مرد طلاق دے دیتا ہے لیکن ثالثی کونسل سے طلاق مؤثرگی کے لئے کارروائی نہیں کرواتا جبکہ بمطابق قانون مرد پر لازم ہے کہ وہ طلاق کی صورت میں پہلے ثالثی کونسل اور پھر بیوی کو مطلع کرے اور ایسا نہ کرنا قانوناً جرم ہے جس کا عموماً لوگوں کو علم نہیں ہوتا، اگر مرد بیوی کو طلاق دینے کے بعد طلاق موثرگی کے لئے ثالثی کونسل کو آگاہ نہ کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ فیملی کورٹ میں شوہر کے اس عمل کے خلاف فیملی لاء آرڈینس کے تحت فوجداری استغاثہ دائر کرے۔ یاد رہے اس جرم کی سزا ایک برس تک قید اور پانچ ہزار جرمانہ ہے۔
قانون سے ناواقفیت قانونی معاملات میں بہانہ نہیں بن سکتا۔
نیز اگر فریقین کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہو تو مرد پر لازم ہے کہ وہ بصورت صیغہ طلاق دے وگرنہ قانون کی رو سے طلاق غیر مؤثر رہے گی اور اس جرم کی سزا بمطابق قانون مذکورہ بالا ایک سال تک قید اور پانچ ہزار تک جرمانہ ہوسکتی ہے۔

محمد علی نقی ایڈووکیٹ

16/03/2025

No child should lose their childhood to conflict.

Even though children are 40% of our protection and assistance activities beneficiaries, no assistance will be enough if parties to conflicts don't respect them.

15/03/2025
11/07/2023

Religious laws are ancient and were most needed for that society. The theories of these laws are seem very profound and meaningful, if we consider ourselves in that era while think and analysing the views of those jurists.
All of the ancient jurists paid pivotal role in the evolutionary process of law and justice system.
I think, we should think awhile before criticizing the ancient jurists and their theories, because we had not seen the that time's circumstances and culture. If those jurists had not paid their contribution at that time, than this era would be known as dark age in late future because the enlightenment began from the darkness.

09/07/2023

             قانون انسانی سماج کا بنیادی جز ہے کیونکہ انسانی سماج کی بقا اور اس کی تعمیر و ترقی قانون ہی سے مشروط ہے۔ قانون راتوں رات چھاپے جانی والی کتاب نہیں بلکہ ص....

18/05/2022

دوسری عالمی جنگ کے اختیام پر برطانیہ دیوالیہ ہوچکا تھا، وہاں کے شہریوں کو بھوک مٹانے کے لئے غذا کی قلت کا سامنا تھا، اور وہ اپنا سارا سرمایہ جنگ میں اپنے حریفوں کو کچلنے میں خرچ کر چُکا تھا۔ ایسے میں اُسے اپنی رہی سہی عزت بچانے کے لئے امریکا کے پیچھے پیچھے چلنا پڑا۔
یہ ایک ایسی جنگ تھی جس نے برطانیہ کو مجبور کردیا تھا کہ وہ جن ممالک کو اپنی کالونیز میں بدل چُکا تھا اُن سے کسی بہانے چھٹکارہ حاصل کرے، لیکن یہ کام خاصا مشکل تھا کیونکہ کیمونسٹ تحریکیں اپنے عروج پہ تھیں اور سرمایہ دارانہ نظام کو شدید ترین جھٹکے کا سامنا تھا۔
اس قحط سے دوچار برطانیہ کو سب سے بڑا جھٹکا اُس وقت لگا جب وائسرے ہند لارڈ ویول نے حکومت برطانیہ سے ہندوستان کی غذائی ضرورت پورا کرنے لئے 23 ہزار ٹن گندم کا مطالبہ کردیا۔ اس مطالبے کے بعد برطانیہ کے لئے برصغیر کا بوجھ اٹھانا قریب قریب ناممکن ہوگیا۔ یوں حکومت برطانیہ نے تین اسکیمیں تیار کیں
اولاً اُن ممالک کو آزادی دے دی جائے گی جو ریاستِ برطانیہ کے مفادات کے تحفظ کے حامی ہونگے۔
ثانیاً اُن ممالک کو آزاد کردیا جائے گا جہاں کیمونسٹ انقلاب کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔
ثالثاً اُن ممالک کو قطعاً آزاد نہیں کیا جائے گا جہاں کیمونسٹ تحریکیں زور شور سے جاری ہیں تاوقتکہ اُن کا مکمل خاتمہ نہ کردیا جائے۔
برصغیر سامراجی قوت کے مفادات کا نہ صرف مکمل تحفظ کرنے کو تیار تھا بلکہ نیو کلونیل اسکیم پر بھی متفق تھا، یہی وجہ تھی کہ آزادی کے بعد بھی فوج، مالیات اور خارجہ امور میں انگریز سرکار کا واضح دخل رہا۔
اس میں شبہ نہیں کہ آزادیِ ہند کے لئے مقامی تحریکوں نے کافی زور لگایا لیکن آزادیِ برصغیر مقامی تحریکوں کا نہیں بلکہ برطانوی سامراجی کی پالیسی کا نتیجہ تھا، جس نے بہت سے امپورٹڈ، جاگیر دار اور سرمایہ دار لوگوں کو لیڈرز میں کنورٹ کردیا۔ یہ لیڈر عوامی فلاح کے لئے نہیں بلکہ برطانوی منشاء کی تکمیل کے معرضِ وجود میں آئے تھے یہی وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ آج تک حکمران چلا آرہا ہے اور اُن کے جور و ستم کو آئینی و قانونی تحفظ بھی میسر ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کی آزادی یہاں کی عوامی منشاء کا نتیجہ نہیں بلکہ برطانیہ کے اندورنی خلفشار کا شاخسانہ تھی لیکن عوام کو یہی باور کروایا گیا کہ ہم نے انگریز کو مار بھگایا ہے۔
اس قوم کی قسمت پہ وائے ہوتا ہے جب یہ آزادی کا جشن مناتے ہوئے باجے بجاتے سڑکیں اور گلیاں شور سے آلودہ کررہی ہوتی ہے لیکن اگر بیمار ہوجائے تو ہسپتال میں بیڈ تک میسر نہیں ہوتا۔
تعلیم کا حال یہ ہے کہ یونیورسٹیز نے فیسرز اس قدر بڑھا رکھی ہیں کہ اکثریت کی پہنچ سے دور ہیں۔
روزگار کا یہ حشر ہے کہ ماسٹرز ڈگری ہولڈر بے روزگاری سے تنگ آکر خود سوزی کرنے پر مجبور ہیں۔
حقیتاً ہم غلام قوم ہیں اور ہمارے مجرم صرف موجودہ حکمران ہی نہیں بلکہ ماضی کے وہ تمام حکمران ہیں جن پر تنقید کرنے سے حب الوطنی پہ شک کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ہی جاگیرداری اور سرمایہ داری کے اس نظام کو آسرا دے کر ہمیں غلامی کی تاریک وادیوں میں پہنچا دیا ہے۔ جہاں ہم جتنے چاہے جتن کرتے پھریں اس تاریکی سے ہمارا نکلنا محال ہے کیونکہ اس تاریکی کو اب ہم فطرت کا قانون تسلیم کر چُکے ہیں۔

محمد علی نقی

25/02/2021

تاریخی اعتبار سے لفظ قزاق ترک زبان سے اردو زبان میں اپنے معنی اور ساخت کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو گرائمر کی رو سے یہ لفط اسم نکرہ مذکر ہے...

14/02/2021

Status of an advocate as an officer of the court does not mean that they are subordinate to the judge. They are two branches of the same profession and neither is superior or inferior to other.
Indian Supreme Court

16/06/2020

انسان کی موت تو واقع ہو جاتی ہے لیکن شعور زندہ رہتا ہے۔ انسان کا شعور ہی اُس کی روح ہوتی ہے۔ شاید اسی لئے میکسم گورکی نے اس جملے کو اپنے معروف ناول "ماں" میں اِس خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا کہ "تم کبھی میری زندہ روح کو قتل نہیں کرسکتے"۔
ہم سب مر جاتے ہیں۔ پہلی اور پھر دوسری نسل ہمارا نام بھلا دیتی ہے۔ ہم تاریخ میں گمنام ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی نہیں مرتا تو وہ ہے شعور، جو زندہ رہتا ہے۔ ہم اُسے محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ اُسے سوچ اور اُس سے ہم کلام ہورہے ہوتے ہیں۔ کبھی سقراط کا شعور ہم سے سرگوشی کررہا ہوتا ہے تو کبھی تالیس، افلاطون، ارسطو، گورکی، شیکسپئیر، الفاربی، الکندی، مزدک، اخناتون، بدھا اور کنفوشش محوِ کلام ہوتے ہیں۔
کتنے ہی انسان ہیں جو مر گئے لیکن ہم اُنہیں نہیں جانتے کیونکہ اُن کے پاس جاہ و جلال، منصب، اور آسائش تو شاید ہو مگر شعور سے اُن کا یارانہ نہ تھا۔
شعور دولت سے خریدیا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ انسان کے اندر سورہا ہوتا ہے جسے جگانا پڑتا ہے۔ اور اسے جگانے کے لئے شبانہ روز دقت اور نفس پہ جبر درکار ہوتا ہے۔ پھر جو شعور کی دولت سے بہرہ مند ہوجاتا ہے وہ مر کر بھی نہیں مرتا درحقیقت وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجاتا ہے۔ ابو نصر الفاربی نے بھی کیا ہی خوب کہا تھا کہ
"مرنے کے بعد فقط انہی لوگوں کی ارواح زندہ رہتی ہیں جو شعور سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔"

محمد علی نقی

Address

Sargodha

Telephone

+923037958023

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ali Naqi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muhammad Ali Naqi:

Share