28/05/2026
1. سب سے اہم اصول: بچے کی فلاح و بہبود (Welfare of the Child)
عدالت کے سامنے سب سے پہلا اور سب سے اہم اصول بچے کی فلاح و بہبود (حضانت) ہوتا ہے۔ والدین کی اپنی خواہشات، ان کی لڑائیاں یا ان کا مالی رتبہ بعد میں آتا ہے، سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچے کے مستقبل کے لیے کیا بہتر ہے۔
جسمانی اور مادی بہبود: بچے کو کہاں اچھا گھر، خوراک اور صحت کی سہولیات مل سکتی ہیں۔
تعلیم و تربیت: کس کے پاس رہنے سے بچے کو بہتر تعلیمی ماحول ملے گا۔
نفسیاتی اور جذباتی سکون: بچہ کس والدین سے زیادہ اٹیچ (منسلک) ہے اور کہاں وہ ذہنی دباؤ سے آزاد رہے گا۔
2. اسلامی قانون کے تحت تحویل (حضانت)
عمومی طور پر عدالتیں شروعاتی طور پر اسلامی قوانین کے اصولوں کو مدنظر رکھتی ہیں:
بیٹا: عام حالات میں ماں کو بیٹے کی کسٹڈی 7 سال کی عمر تک ملتی ہے۔
بیٹی: ماں کو بیٹی کی کسٹڈی اس کے بالغ ہونے (Puberty) تک ملتی ہے۔
ایک اہم قانونی غلط فہمی کا ازالہ: لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ لڑکا 7 سال کا یا لڑکی بالغ ہو جائے تو کسٹڈی خود بخود باپ کو مل جاتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس عمر کے بعد بھی باپ کو عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے، اور عدالت کسٹڈی صرف اسی صورت میں باپ کو دے گی اگر اس میں بچے کا فائدہ ہو۔
3. کسٹڈی کا حق کب ختم ہو سکتا ہے؟
عدالت کسی بھی والدین سے بچے کی تحویل کا حق واپس لے سکتی ہے اگر:
بچے کے ساتھ بدسلوکی یا اس کی دیکھ بھال میں شدید غفلت برتی جا رہی ہو۔
والدین میں سے کوئی اخلاقی برائی، نشے کی لت، یا کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہو۔
ماں کی دوسری شادی (شرط کے ساتھ): ماں کی دوسری شادی کی صورت میں حقِ کسٹڈی خود بخود ختم نہیں ہوتا، بلکہ عدالت یہ دیکھتی ہے کہ نیا سوتیلا باپ یا گھر کا ماحول بچے (خصوصاً بیٹی) کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
4. کسٹڈی (تحویل) اور گارڈین شپ (سرپرستی) میں فرق
پاکستانی قانون میں بچے کو اپنے پاس رکھنے اور اس کا خرچہ اٹھانے کو دو الگ چیزوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
کسٹڈی (جسمانی دیکھ بھال): یہ عام طور پر (بچپن میں) ماں کے پاس رہتی ہے تاکہ بچہ ماں کی ممتا اور دیکھ بھال میں پرورش پا سکے۔
گارڈین شپ اور خرچہ (Maintenance): باپ بچے کا قدرتی سرپرست (Natural Guardian) ہوتا ہے۔ بچہ چاہے ماں کے پاس ہو، اس کی تعلیم، لباس، خوراک اور رہائش کا پورا خرچہ اٹھانا قانوناً باپ کی ذمہ داری ہے۔
ماں کی مالی حالت: اگر ماں غریب ہے اور کماتی نہیں ہے، تو عدالت اس بنیاد پر اس سے بچہ نہیں چھین سکتی، کیونکہ عدالت باپ کو بچے کا خرچہ ماں کو ادا کرنے کا حکم دیتی ہے۔
5. بچے کی اپنی خواہش
اگر بچہ سمجھدار عمر کو پہنچ چکا ہو (عام طور پر 9 سے 12 سال یا اس سے زیادہ)، تو فیملی کورٹ کا جج بچے سے اپنے چیمبر (دفتری کمرے) میں اکیلے میں ملاقات کرتا ہے۔ بچہ جس کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کرے، عدالت اس کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
゚viralシ