03/02/2026
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ: پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت / خارج شدہ مقدمات ظاہر نہ کرنے کا حکم
عدالت نے واضح کیا ہے کہ جب کسی ملزم کو اہل عدالت کے ذریعہ بری کر دیا جائے، تو قانون کی نظر میں وہ تمام الزامات سے مکمل طور پر آزاد سمجھا جائے گا۔
ایسی صورت میں، کسی بھی سرکاری دستاویز، جیسے کہ پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں متعلقہ ایف آئی آر کا ذکر یا شامل کرنا، جب کہ بریت کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہو، غیر ضروری اور غیر قانونی ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ عمل نہ صرف آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک شہری پر غیر منصفانہ اور دائمی بدنامی بھی عائد کرتا ہے، حالانکہ وہ عدالتی کارروائی کے ذریعہ مکمل طور پر بے قصور ثابت ہو چکا ہے۔
حتمی بریت کے بعد، اگر کوئی سرکاری اتھارٹی کسی فرد کو دوبارہ مجرمانہ الزام سے جوڑتی ہے تو یہ نہ صرف بریت کے فیصلے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ انصاف، وقار اور معصومیت کے بنیادی اصولوں کو بھی پامال کرتا ہے۔
لہٰذا، درخواست گزار کو پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حق ہے جو اس کی بریت اور کسی بھی موجودہ مجرمانہ ذمہ داری کی غیر موجودگی کو ظاہر کرے۔
WP 40844/25
عبدالرحمن فریاد بنام حکومت پنجاب وغیرہ
PLJ 2026 LHR.84