27/11/2025
ایک دفعہ کسی محفل میں علامہ اقبال موجود تھے، جہاں ایک نوجوان نے علامہ سے ان کے اس مشہور شعر کے بارے میں سوال کیا:
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"
نوجوان نے بڑے ادب سے پوچھا کہ اس شعر کا کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی انسان اس قدر خودی میں بلند ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں؟ یہ تو ایک ناممکن بات معلوم ہوتی ہے۔
علامہ اقبال نے مسکرا کر جواب دیا:
"دیکھو! اگر ایک انسان اپنی 'خودی' کو محنت، یقینِ کامل، اور مسلسل عمل (عملِ پیہم) سے اس قدر مضبوط اور بلند کر لے کہ وہ وقت کے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے، اپنے مقصد پر قائم رہے، اور کبھی مایوس نہ ہو، تو اس کی یہ محنت اور ایمان اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا اور منشا کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔"
پھر انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
"دراصل، جب بندہ اپنی تمام تر قوت اور صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے خدا کے حکموں پر مکمل عمل پیرا ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی کا ہر عمل خدا کی مرضی کے مطابق ڈھل جاتا ہے، تو پھر بندے کی رضا ہی خدا کی رضا بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کہتا ہے کہ خدا خود بندے سے پوچھتا ہے کہ 'بتا تیری رضا کیا ہے'، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے نیک اور باہمت بندے کی رضا، اس کی اپنی رضا سے مختلف نہیں ہو سکتی۔"
اس وضاحت سے نوجوان کی تسلی ہو گئی اور وہ علامہ اقبال کے فلسفے کی گہرائی سے بہت متاثر ہوا۔
علامہ اقبال کے اس شعر کا مفہوم:
اس شعر میں وہ مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اپنی شخصیت اور کردار (خودی) کو اس قدر مضبوط اور اعلیٰ بناؤ کہ تم دنیا کی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل ہو جاؤ اور تمہارے مقاصد اور ارادے اتنے سچے اور پختہ ہوں کہ تمہاری زندگی اللہ کی منشاء کے عین مطابق بن جائے۔