The Attorney

The Attorney The Attorney offers Legal services i.e. Civil ,Criminals ,family disputes, drugs & narcotics cases

جاٸیداد کی خرید وفروخت کرتے وقت ایگریمنٹ کرنے سے پہلے خیال رکھنا ھےکہ ۔دستخط اور انگوٹھا  ایگریمنٹ کے تمام صفوں پر ھوں گ...
24/05/2026

جاٸیداد کی خرید وفروخت کرتے وقت ایگریمنٹ کرنے سے پہلے خیال رکھنا ھےکہ ۔دستخط اور انگوٹھا ایگریمنٹ کے تمام صفوں پر ھوں گے ۔اور تمام مالکان کے ھوں گے۔

19/05/2026

جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے 18 بنیادی اصول

(1) ابتدائی 15 دنوں کے دوران مجسٹریٹ عموماً ملزم کو جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج سکتا ہے، مگر پولیس کسٹڈی (جسمانی ریمانڈ) صرف مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کی بنیاد پر اور کم سے کم مدت کے لیے دی جائے گی۔
(
2) مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ دیتے وقت اپنے حکم میں واضح وجوہات درج کرے گا۔

(3) دفعہ 167 ضابطہ فوجداری کے تحت جاری کردہ ریمانڈ آرڈر کی نقل متعلقہ سیشن جج کو ارسال کی جائے گی۔

(4) 15 دن گزرنے کے بعد مجسٹریٹ پولیس کو مکمل یا نامکمل چالان پیش کرنے کا پابند کرے گا، اور اگر چالان پیش نہ کیا جائے تو مزید حراست دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کرے گا، خواہ ضمانت مچلکوں کے ساتھ ہو یا بغیر۔

(5) 15 دن کے بعد مزید ریمانڈ صرف اسی صورت دیا جا سکتا ہے جب پولیس یا استغاثہ باقاعدہ درخواست دائر کرے۔

(6) 15 دن کے بعد پولیس/استغاثہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو دفعہ 344 ضابطہ فوجداری کے تحت التواء (Adjournment) کی درخواست تصور کیا جائے گا۔
(
7) ریمانڈ دینے سے پہلے مجسٹریٹ اس بات کا اطمینان کرے گا کہ پولیس نے ایسا مواد اکٹھا کر لیا ہے جس سے ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کا ابتدائی شبہ پیدا ہو، اور مزید شواہد ریمانڈ کے دوران حاصل کیے جا سکیں گے۔

(8) ملزم کی غیر موجودگی میں ریمانڈ یا التواء نہیں دیا جائے گا۔

(9) مجسٹریٹ حتی الامکان اپنی رہائش گاہ پر ریمانڈ دینے سے اجتناب کرے گا۔

(10) مجسٹریٹ ملزم کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ اگر اسے ریمانڈ یا التواء پر کوئی اعتراض ہو تو وہ پیش کر سکے۔

(11) ملزم کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو ریکارڈ پر لایا جائے گا اور ان کے مسترد کیے جانے کی وجوہات بھی لکھی جائیں گی۔

(12) ریمانڈ کے فیصلے سے قبل مجسٹریٹ پولیس فائل کا معائنہ کرے گا۔

(13) اگر سابقہ ریمانڈ کے دوران کوئی تفتیش نہ کی گئی ہو تو مزید ریمانڈ یا التواء نہیں دیا جائے گا۔

(14) ملزم کی گرفتاری کے دو ماہ بعد مزید ریمانڈ یا التواء نہ دیا جائے، الا یہ کہ ناگزیر حالات موجود ہوں۔

(15) اگر مکمل چالان جمع نہ ہو تو مجسٹریٹ نامکمل چالان کی بنیاد پر مقدمے کا ٹرائل شروع کرے گا اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرے گا۔

(16) اگر دو ماہ کے اندر چالان جمع نہ ہو تو مجسٹریٹ اس معاملے کی رپورٹ متعلقہ سیشن جج اور ضلعی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھیجے گا۔

(17) مجسٹریٹ محض پولیس یا استغاثہ کے ساتھ تعاون کی خاطر مشینی انداز میں ریمانڈ نہ دے۔

(18) مجسٹریٹ ہر صورت ریمانڈ اور التواء کی وجوہات اپنے حکم میں تحریر کرے گا۔

عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ مجسٹریٹس اپنے غیر قانونی یا بے ضابطہ احکامات پر ہائی کورٹ کے سامنے جوابدہ ہیں، اور

ہائی کورٹ دفعہ 439 ضابطہ فوجداری کے تحت ایسے احکامات کا جائزہ لینے کی مکمل مجاز ہے۔ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں مجسٹریٹ کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

18/05/2026

C.R.P. No.410/2023
In C.A No.310 of 2021

⚖️ Fazeelat Nasreen and another
Versus
Maqsood Begum and others

📘 اہم ترین فیصلہ — دیوانی مقدمات اور پلیڈنگز سے متعلق سپریم کورٹ کی نئی ہدایات
⚖️ دیوانی مقدمات میں نقائص، تاخیر اور ناقص پلیڈنگز کے حوالے سے نہایت اہم فیصلہ
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ:
✅ رجسٹریشن بذاتِ خود پوری دنیا کیلئے نوٹس تصور ہوتی ہے۔
یعنی اگر کوئی دستاویز رجسٹرڈ ہو چکی ہو تو بعد میں لاعلمی کا عذر قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
✅ قانونِ معیاد (Limitation Act, 1908) کی دفعہ 3 کے مطابق اگر دعویٰ مقررہ مدت کے بعد دائر کیا جائے تو عدالت اسے مسترد کرنے کی پابند ہے، چاہے مخالف فریق معیاد کا اعتراض نہ بھی اٹھائے۔
✅ 1978، 1989 اور 1991 کی انتقالات (Mutations) کو 2005 میں چیلنج کیا گیا، جو کئی دہائیوں کی خاموشی کے بعد تھا، لہٰذا ایسا دعویٰ قانوناً ناقابلِ سماعت قرار پایا۔
✅ ریونیو ریکارڈ میں طویل عرصہ سے موجود اندراجات کو معمولی بنیادوں پر ختم نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب ان کی بنیاد پر حقوق پیدا ہو چکے ہوں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ سپریم کورٹ کی ٹرائل کورٹس کیلئے اہم ہدایات ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📌 عدالت جب کوئی دعویٰ (Plaint) وصول کرے تو درج ذیل امور لازماً چیک کرے:
1️⃣ کیا دعویٰ CPC کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے؟
2️⃣ کیا فریقین یا اسبابِ دعویٰ میں غلط شمولیت یا عدم شمولیت تو نہیں؟
3️⃣ کیا نابالغ فریق درست نمائندگی میں ہیں؟
4️⃣ کیا دعویٰ درست طور پر دستخط شدہ اور تصدیق شدہ ہے؟
5️⃣ کیا عدالت کو دائرہ اختیار حاصل ہے؟
6️⃣ کیا دعویٰ مسترد کیے جانے کے قابل تو نہیں؟
7️⃣ کیا تمام دستاویزات مناسب فہرست کے ساتھ منسلک ہیں؟
8️⃣ کیا مدعی نے سروس کیلئے پتہ فراہم کیا ہے؟
9️⃣ کیا قانونی نمائندگان کی تفصیل فراہم کی گئی ہے؟
🔟 کیا تمام مدعا علیہان کیلئے نقول، سمن اور فیس مہیا کی گئی ہے؟
1️⃣1️⃣ کیا دعویٰ قانونِ معیاد سے باہر تو نہیں؟
1️⃣2️⃣ کیا رجسٹرڈ لفافے منسلک کیے گئے ہیں؟
1️⃣3️⃣ کیا دعویٰ میں واضح ریلیف اور درست کورٹ فیس درج ہے؟
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ جوابی دعویٰ (Written Statement) کیلئے بھی اہم اصول ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
✅ تحریری جواب عموماً پہلی پیشی پر جمع ہوگا۔
✅ بلاوجہ تاخیر قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
✅ 30 دن سے زیادہ مہلت معمول کے مطابق نہیں دی جائے گی۔
✅ تمام متعلقہ دستاویزات ساتھ لگانا ضروری ہوگا۔
✅ متعدد مدعا علیہان الگ الگ جواب جمع کریں گے، الا یہ کہ دفاع ایک جیسا ہو۔
✅ متضاد دفاع ایک ہی جواب میں شامل نہیں کیے جا سکیں گے۔
✅ سیٹ آف (Set-off) واضح اور مخصوص رقم پر مبنی ہونا چاہیے۔
✅ عدالت ضرورت پڑنے پر مزید پلیڈنگز طلب کر سکتی ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ بار کونسلز اور لا کالجز کیلئے بھی ہدایات ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
📚 بار کونسلز معیاری نمونہ جات (Model Formats) تیار کریں تاکہ نوجوان وکلاء بہتر پلیڈنگز تیار کر سکیں۔
📚 لا کالجز میں سول پروسیجر اور لیگل ڈرافٹنگ کی تعلیم میں ان اصولوں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━ ⚖️ عدالتی انتظامیہ کیلئے حکم ━━━━━━━━━━━━━━━━━━
یہ فیصلہ تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول ججز اور بار ایسوسی ایشنز کو بھیجا جائے تاکہ پورے صوبے میں یکساں طریقہ کار اور بہتر عدالتی نظم قائم ہو سکے۔
📖 حوالہ: C.R.P. No.410/2023
In C.A No.310 of 2021
⚖️ Fazeelat Nasreen and another
Versus
Maqsood Begum and others

07/05/2026

تنسیخ نكاح كيبعد حق مہر کا سونا پلاٹ رقم واپس نہ کرنے کا حکم

بیوی نے عدالت میں فسخ نکاح/تکزیب نکاح کا دعویٰ داٸر کیا کہ شوہر نے اس کے ساتھ ظلم کیا اور اجازت کے بغیر دوسری شادی کر لی۔ فیملی کورٹ نے خود ہی کیس کو خلع میں تبدیل کر دیا اور بیوی کو مہر (پلاٹ سونا اور رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ بیوی کی اپیل اور آئینی درخواست بھی مسترد ہو گئی جس پر معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شوہر کی طرف سے اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا بذات خود ظلم ہے اور یہی بنیاد نکاحِ ختم کرنے کے لیے کافی تھی۔ مزید یہ کہ فیملی کورٹ کو اختیار نہیں تھا کہ بیوی کی مرضی کے بغیر خلع دے
سپریم کورٹ نے فیصلے کالعدم قرار دے کر نکاح کو فسخ کر دیا بیوی کو مہر (پلاٹ سونا اور رقم) واپس نہ کرنے کا حکم
PLD 2026 SC 91

05/05/2026

2026 ایم ایل ڈی 716
2026 MLD 716
اگر کوئی گاڑی بینک سے ہائر پرچیز معاہدے کے تحت حاصل کی گئی ہو اور وہی گاڑی کسی فوجداری مقدمے میں پولیس کے قبضے میں لے لی جائے تو ایسی گاڑی اس شخص کو سپرداری پر دی جا سکتی ہے جس نے یہ گاڑی بینک سے حاصل کی ہو اور اس کے پاس اس سلسلے میں تمام دستاویزات، بشمول بینک کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات، موجود ہوں۔

رابطہ فوجداری عرضی نمبر 9627/23
یو بی ایل بذریعہ محمد امتیاز احمد بمقابلہ ایڈیشنل سیشن جج وغیرہ

05/05/2026

⚖️ اہم قانونی نکات (2026 LHC 2859)
Crl. Misc. 531-B-26
Syed Muhammad Zahid Munawar بنام ریاست وغیرہ
بذریعہ: Muhammad Amjad Rafiq
بتاریخ: 02-04-2026
🔹 (i) دفعہ 174 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کی کارروائی کب ہوتی ہے؟
جب کسی شخص کی پُراسرار، غیر طبعی یا مشکوک موت واقع ہو (مثلاً حادثہ، خودکشی یا نامعلوم حالات)، تو پولیس ابتدائی انکوائری کے لیے دفعہ 174 Cr.P.C. کے تحت کارروائی کرتی ہے، جسے عام طور پر انکوائری برائے موت (Inquest Proceedings) کہا جاتا ہے۔
🔹 (ii) کیا پولیس مدعی کے بیان کے برخلاف مختلف دفعات کے تحت FIR درج کر سکتی ہے؟
❌ نہیں۔
پولیس مدعی کے بیان (Narrative) کے خلاف جا کر اپنی مرضی سے مختلف تعزیری دفعات لگا کر FIR درج نہیں کر سکتی، خصوصاً جب معاملہ صرف دفعہ 174 Cr.P.C. کی رپورٹ پر مبنی ہو۔
🔹 (iii) کیا پراسیکیوٹر FIR موصول ہونے پر دفعات میں تبدیلی کی ہدایت دے سکتا ہے؟ (سیکشن 12 CPS Act)
❌ نہیں۔
پراسیکیوٹر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ FIR میں درج دفعات کو تبدیل کرنے کا حکم دے۔ اس کا کردار صرف قانونی رائے (Legal Opinion) دینا ہے، نہ کہ تفتیش یا FIR میں مداخلت کرنا۔
🔹 (iv) کیا پراسیکیوٹر عدالت کا دائرہ اختیار (Jurisdiction) تبدیل کر سکتا ہے؟
❌ ہرگز نہیں۔
عدالت کا دائرہ اختیار قانون کے مطابق طے ہوتا ہے، اور پراسیکیوٹر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اسے تبدیل کرے۔
🔹 (v) کیا دفعہ 173 Cr.P.C. کی رپورٹ کے بعد پراسیکیوٹر دوبارہ کیس ریویو رپورٹ دے سکتا ہے؟ (سیکشن 9(7) CPS Act)
❌ نہیں۔
جب پولیس چالان (Report under section 173 Cr.P.C.) عدالت میں جمع کرا دے، تو اس کے بعد پراسیکیوٹر از خود نئی ریویو رپورٹ جمع نہیں کرا سکتا۔
⚖️ اہم اصول (Principle of Law)
👉 صرف دفعہ 174 Cr.P.C. کی رپورٹ کی بنیاد پر:
ایف آئی آر مدعی کے بیان کے برعکس مختلف دفعات کے تحت درج نہیں کی جا سکتی۔
⚖️ پراسیکیوٹر اور عدالت کا کردار (Alternate Charge)
عدالت نے واضح کیا کہ:
پراسیکیوٹر کا کردار مشاورتی (Advisory) ہے، تفتیشی نہیں
اگر کیس کے حقائق اجازت دیں تو
👉 عدالت خود متبادل دفعات (مثلاً 302 یا 322 PPC) کے تحت چارج فریم کر سکتی ہے
حتمی اختیار عدالت کے پاس ہے، نہ کہ پولیس یا پراسیکیوٹر کے.
طالب دعا۔

05/05/2026

لاھور ہائیکورٹ نے سولہ سال سے کم عمر لڑکی سے شادی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضمانت خارج کردی۔
یاد رہے کہ اس فیصلے کے وقت Child Marriage Restraint Act 1929 نافذ العمل تھا۔ اب اس سے بھی زیادہ سخت قانون نافذ ہے
The State had since fixed the age of minority/majority to protect the minors through the provisions of the relevant laws, which are presently holding the field, the noncompliance whereof would amount to frustrate the object behind the laws. Implementation of the statutory provisions of Act of 1929, read with all other allied enactments made by the legislature, while giving it a preference over uncodified divergent opinions of religious scholars, by way of strict compliance with the provisions pertaining to fixation of sixteen years of age of female for her marriage, as aforesaid, shall enable the state to discharge its international obligations being signatory to the UNCRC besides providing safeguard to the female minors from infringement of their fundamental rights guaranteed under Articles 4, 9, 14, 25 of the Constitution read with all other enabling provisions of law. It will also tend to create a sense of harmony with its consequential effect of definiteness about the law amongst various sections of the society.

To decide the fate of this petition, while weighing up the swinging contentions of parties projected through their counsels, on perusal of available record, it transpires that the age of alleged abductee, as per the medicolegal certificate issued by M.O, after her physical/medical examination, is 13/14 years. The acclaimed marriage of the petitioner with the abductee, refuted by her, prima facie has illegally been contracted in clear violation of the provisions of the Act of 1929, which unambiguously prescribes sixteen years of age as threshold to enter into a marriage contract by a female and violation thereof is punishable under Section 4 of the Act ibid with imprisonment of six month and fine 50,000/- rupees. According to the celebrated maxim “Jus ex injuria non oritur” a right does not arise from a wrong, the petitioner prima facie himself has not only violated law, but with the same stroke he has dislodged legal & constitutional protection available with the alleged abductee under Article 4 of the Constitution. Whereas, the petitioner was bound to follow & abide by law prescribing age of majority whilst entering into contract of marriage, which obligation otherwise is clearly cast upon him by the Constitution through Article 5 (2) stating that “obedience to the Constitution and law is inviolable obligation of every citizen whereever he may be and of every other person for the time being within Pakistan”. Moreover, as per section 375(d) PPC, the consent of a female below the age of sixteen years is otherwise immaterial.

Crl. Misc.
33583/23
Shahid Imran Vs The State etc.
Mr. Justice Anwaarul Haq Pannun
31-05-2023
2023 LHC 4435

2023 PCrLJ 1623لاھور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں پٹواریوں کے غیر سرکارین عمارتوں میں دفتر بنانے اور  پرائیویٹ شخص کو ملازم...
03/05/2026

2023 PCrLJ 1623
لاھور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں پٹواریوں کے غیر سرکارین عمارتوں میں دفتر بنانے اور پرائیویٹ شخص کو ملازم (منشی ) رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔ خلاف ورزی پر مقدمات کے اندراج اور گرفتاریاں ۔
لاھور ہایئکورٹ کی طرف سے حکم نامہ جاری کیا گیا ھے کہ پٹواریوں کو غیر سرکارین عمارتوں میں دفتر بنانے اور پرائیویٹ شخص کو ملازم (منشی ) رکھنے کی اجازت نہ ھے

02/05/2026
23/04/2026

گاؤں کا لمبردار
برصغیر میں نمبرداری (Lambardari) کا نظام قائم ہوا:Punjab Land Revenue Act 1887
یہ قانون برطانوی دور میں بنایا گیا
اسی کے تحت:
لمبردار مقرر ہوتے تھے
ان کے فرائض اور ذمہ داریاں طے تھیں

قیام پاکستان کے بعد:
پرانے قوانین کو ختم نہیں کیا گیا
بلکہ:
انہی کو جاری رکھا گیا
بعد میں اپڈیٹ کیا گیا
اسی تسلسل میں:
Punjab Land Revenue Act 1967 بنایا گیا
جو دراصل 1887 کے قانون کا ترمیم شدہ/نیا ورژن ہے

برطانوی دور میں:
لمرردار کا نظام زیادہ روایتی اور مقامی اثر و رسوخ پر چلتا تھا
بعض جگہ:
لمبر@
ڑلمبردار اپنی غیر موجودگی میں کسی کو نمائندہ بنالم دیتا تھا
مگر:
یہ زیادہ تر رواج (Custom) تھا
باقاعدہ قانونی اختیار نہیں تھا
موجودہ قانون کے مطابق:
نمبردار:
خود کسی کو مقرر نہیں کر سکتا
تقرری کا اختیار ہمیشہ: حکومت/AC کے پاس ہی رہا ہے (چاہے 1887 ہو یا 1967)
⚖️ "سربراہ نمبڑدار" کی اصل حقیقت
یہ اصطلاح:
زیادہ تر دیہی رواج (Customary Practice) ہے
قانون میں واضح عہدہ نہیں
لیکن:
بعض علاقوں میں: نمبردار کا نمائندہ

“سربراہ” نمبردار کہلانے لگتا ہے
لمبرداری نظام برطانوی دور میں شروع ہوا، لیکن اس وقت بھی لمبڑدار کو اپنی جگہ کسی کو مستقل یا قانونی طور پر مقرر کرنے کا اختیار نہیں تھا—یہ زیادہ تر رواجی یا عارضی انتظام ہوتا تھا۔ہ
لمبڑداری نظام → برطانوی دور (1887)
موجودہ نظام → اسی کا تسلسل (1967)
“سربراہ نمبردار” → قانونی عہدہ نہیں،

لمبر دار کے کام کیا ہوتے ہیں سرکاری احکامات کی تعمیل
گاؤں کے لوگوں تک:
سرکاری نوٹس
احکامات
پہنچانا اس کی ذمہ داری ہے
امن و امان کی اطلاع
اگر گاؤں میں:
لڑائی جھگڑا
مشکوک سرگرمی ہو
تو لمبردار قانوناً پابند ہے کہ انتظامیہ کو اطلاع دے شناخت اور گواہی
پرانے زمانے میں شناختی کارڈ نہیں ہوتے تھے
نمبردار:
افراد کی شناخت میں مدد دیتا ہے
سرکاری معاملات میں گواہ بنتا ہے
ریکارڈ میں معاونت
پٹواری کو:
زمین کے معاملات میں معلومات فراہم کرنا
موقع پر شناخت کروانا
اختیارات (قانونی حیثیت)
نمبردار کے پاس:
کوئی عدالتی اختیار نہیں ہوتا
وہ:
صرف معاون اور نمائندہ ہوتا ہے
کن کاموں کی اجازت نہیں
قانون کے مطابق نمبردار:
کسی پر زبردستی فیصلہ نافذ نہیں کر سکتا
سرکاری افسر نہیں ہوتا

لمبردار کو ہٹانے کے قانونی اسباب
نمبردار کو اسسٹنٹ کمشنر ہٹا سکتا ہے اگر:
بدعنوانی کرے
فرائض انجام نہ دے
جرم میں ملوث ہو
عوامی شکایات زیادہ ہوں
تقرری کا اختیار
لمبردار کی تقرری اور برطرفی کا اختیار:
اسسٹنٹ کمشنر (AC) کے پاس ہوتا ہے


قانون کے مطابق لمبردار گاؤں میں حکومت کا معاون ہوتا ہے، جس کی ذمہ داریاں ٹیکس کی وصولی میں مدد، اطلاع رسانی اور شناخت تک محدود ہیں، جبکہ اسے کوئی عدالتی یا مکمل انتظامی اختیار حاصل نہیں ہوتا
copied

Address

Professional Block Chamber No#5 District Court Rawalpindi
Rawalpindi
46000

Telephone

00923335992493

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Attorney posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Attorney:

Share

Category