The Legal Tribune

The Legal Tribune welcome to "The Legal Tribune" official.

20/07/2025
08/07/2025

*وکیل کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے جج کے لیے سزا*

اگر کوئی جج کسی وکیل کی بے عزتی کرتاہے تو وہ اسی عدالت کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور اسکی خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرکے سزا دلوائی جاسکتی ہے

ایک مقدمہ اے آئی آر *(AIR)1949 کے صفحہ نمبر 470* پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ *اگر کوئی جج کسی وکیل کے بے عزتی کرتا ہے تو توہین عدالت کا مرتکب ہوگا*

مذکورہ بالا مقدمہ کے حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ

*مجسٹریٹ نے بھری عدالت میں وکیل کو بے وقوف کہا تھا جس پر وکیل نے مجسٹریٹ کے خلاف کاروائی کی تھی اور مجسٹریٹ کو قید کی سزا ہوئی تھی*

اس سزا کو مجسٹریٹ نے ہائیکورٹ چیلنج کیا تھااور موقف لیا تھا کہ اسکا یہ عمل توہین عدالت کے ذمرہ میں نہیں آتا مگر *ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوے قرار دیا تھا کہ وکلاء آفیسر آف دی کورٹ ہیں لہذا اگر کوئی جج وکیل کی بے عزتی کرے گا تو توہین عدالت کا مرتکب ہوگا*

*لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اب کیس لاء کی شکل اختیار کرچکا ہے اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ انڈیا میں بھی عدالتوں میں بطور ریفرنس استعال ہورہا ہے*

دہلی ہائیکورٹ نے بھی اسی فیصلہ کو ریفرنس استعمال کرتے ہوے اپنے فیصلہ *1984(سی آر ایل جے) کے صفحہ نمبر 481* پر قرار دیا ہے کہ وکلاء کو ججز کے رویہ پر ہڑتال کرنے کی بجاے ججز کے خلاف توہین عدالت کی پیٹیشن دائر کرنی چاہیے

*AIR 1949 Lahore 470*

07/07/2025

فریقین دعویٰ اور عدالت، پلیڈنگ سے ہٹ کر اپنا موقف پیش نہ کر سکتے ہیں.
(2019 YLR 646).
دعویٰ یا جواب دعویٰ سے ہٹ کر کوئی شہادت پیش کرنے کی اجازت نہ دی جا سکتی ہے ایسی شہادت اگر صفحہ مثل پر آ بھی جائے تو عدالت اسے Consider نہ کرے گی ۔
(2021 MLD 252).
پلیڈنگ کو شہادت Conseder نہ کیا جا سکتا ہے، بلکہ فریقین کا Pleading کو ،بذریعہ شہادت ثابت کرنا ہو گا.
(2020 SCMR 202).
کوئی پارٹی پلیڈنگ سے ہٹ کر کوئی شہادت پیش نہ کر سکتی ہے، اور نہ پلیڈنگ سے ہٹ کر دی گئی شہادت پر کوئی ریلیف دیا جا سکتا ہے.
(2017 CLC 1090).
پلیڈنگ پر محض دستخط نہ ہونے کی بناء پر اسے Out of Consideration نہ کیا جا سکتا ہے.
(2016 CLC 1922).

18/08/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.....
اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے: ’’اور جب لوگوں کا (خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں) تصفیہ (فیصلہ) کیاکرو تو عدل سے تصفیہ کیا کرو۔‘‘ (سورۃ النساء، آیت نمبر:۵۸)
مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ’’لوگوں میں تصفیہ کیا کرو‘‘ فرمایا ہے، مسلمانوں میں تصفیہ کیا کرو نہیں فرمایا، اس میں اشارہ ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں سب انسان مساوی ہیں، مسلم ہوں یا غیر مسلم، دوست ہوں یا دشمن، فیصلہ کرنے والوں پر فرض ہے کہ ان سب تعلقات سے الگ ہوکر جو بھی حق و انصاف کا تقاضا ہو وہ فیصلہ کریں۔ (معارف القرآن: ج۲،ص:۴۴۸)
دوسری جگہ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ: ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے لئے پوری پابندی کرنے والے انصاف کے ساتھ شہادت ادا کرنے والے رہو اور کسی خاص قوم کی عداوت تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہوجائے کہ تم عدل نہ کرو، عدل کیا کرو۔ (ہر ایک کے ساتھ) کہ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت نمبر :۸)
مذکورہ آیت میں واضح طور پر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ انصاف قائم کرنا اور اس پر قائم رہنا حکومت اور عدالت ہی کا فریضہ نہیں، بلکہ ہر انسان اس کا مکلف و مخاطب ہے کہ وہ خود بھی انصاف پر قائم رہے اور دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رکھنے کی کوشش کرے۔ (معارف القرآن: ج۲،ص۵۷۲)
تیسری جگہ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ: ’’بیشک اللہ تعالیٰ اعتدال اور احسان اور اہلِ قرابت (رشتہ داروں) کو دینے کا حکم فرماتے ہیں، اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم (خواہ کسی مذہب کے ماننے والے بلکہ کسی بھی مخلوق پر ہو) کرنے سے منع کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ تم کو اس لئے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو۔‘‘ (سورۃ النحل، آیت نمبر:۹۰)

Address

Chamber #15 Ali Block District Courts RWP
Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Legal Tribune posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share