Adnan Saeed Law Associates

Adnan Saeed Law Associates Taxation, Banking, IPO, Corporate Law, Civil & Criminal, Family & Services, Startup of Business Portfolio, Commercial Contracts

09/07/2026

علم کی تشنگی بجھتی نہیں حاصل سے کبھی،
یہ وہ دریا ہے جو پینے سے اور بڑھتا ہے۔

02/07/2026

{489F Cheque pre-arrest Bail}

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری سے انکار نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس سے کوئی ریکوری نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ایسے غلط نقطہ نظر کو مسترد کرتے ہوئے، اس کے غلط نقطہ نظر کی بنیاد پر جاری کردہ حکم کو کالعدم قرار دیا-
NLR-2017-Criminal-SC-268

Cheque issue to self would seriously need consideration at a trial . bail allowed. (2014-YLR-640)

(Case Laws)
✨جزوی ادائیگی کی صورت میں مدعی اندراج FIR کا حقدار نہ ہے۔
ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہوئی۔👍 . .2019 PCrLJ 295

✨بینک میں Payment بھی Stop کروانا ضروری ہے محض چیک بک چوری کی رپٹ درج کروانے کی بناء پر 489-F ت پ کیس میں ضمانت منظور نہ ہو گی۔
. . .2013 YLR 626👍

✨اگر ملزم بطور گارنٹی چیک دینا تسلیم کرے تو ضمانت کا حقدار نہ ہو گا۔ . . .2011 YLR 1284👍

✨اگر چیک ایشو ہونے کے بعد چھ ماہ کے اندر بنک میں پیش نہ کیا جاۓ تو ملزم ضمانت کا حقدار ہو گا۔ . .2020 YLR 2064👍

✨اگر چیک بطور Security دیا گیا ہو تو ملزم کے خلاف 489- F ت پ کا اطلاق نہ ہو گا۔ ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا۔ . .2016 PCrLJ 769👍

✨اگر چیک ملزم کی بجاۓ کسی دیگر شخص نے جاری کیا ہو تو ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار ہو گا۔ . .2014 YLR 882👍

✨صرف چیک جاری کرنے کی بناء پر 489F ت پ ثابت نہ ہو گا۔ بلکہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ چیک بے ایمانی سے جاری کیا گیا۔ . .2021 YLR 324👍

✨بطور گارنٹی دیئے گئے چیک پر 489F ت پ کا اطلاق نہ ہوگا۔ ضمانت منظور ہوئی۔ . .2020 PCrLJ 268👍

✨Plaintiff registration is not entitled to FIR in case of partial payment.
*Bail confirmed before arrest. . . 2019 PCrLJ 295

✨It is also necessary to stop the payment in the bank. Just by filing a report of check book theft, the bail of 489-F case will not be accepted.
. . . 2013 YLR 626

✨If the accused agrees to give a guarantee check, he will not be entitled to bail. . . . 2011 YLR 1284

✨If the check is not presented to the bank within six months after the issue, the accused will be entitled to bail. . . . 2020 YLR 2064

✨If the check is given as security then 489-F will not be applicable against the accused. The accused will be entitled to pre-arrest bail. . . 2016 PCrLJ 769

✨If the check is issued by someone other than the accused, the accused will be entitled to pre-arrest bail. . . . 2014 YLR 882

✨Just issuing a check will not prove 489F. It is important to prove that the check was issued dishonestly. . . 2021 YLR 32

✨489F will not apply to guaranteed checks. Bail granted. . . 20
چیک اگر بطور گارنٹی دیا گیا ہو تو ملزم پر 489کا
پرچہ نہیں ہو سکتا
(Scmr- 2013 -51) (2016-pcrlj-769)

جہاں سول جج نے متنازعہ چیک کو منسوخ کر دیا ہو تو اس چیک کے خلاف کویی پرچہ درج نہیں ہو گا
(2016-pcrlj-1102)

اگر چیک کو ڈس آنر نہ کروایا اور چھ ماہ کا عرصہ گزر گیاتو آپ آرڈر 37کا داد رسی سے بھی محروم ہو گیے پھر سادہ دعوی براے برآمدگی رقم دایر کرنا ہو گا
(2016-CLC-932)

اگر چھ ماہ کے بعد آپ چیک کو بینک میں پیش کرتے ھیں تو بینک ایسے چیک کو کیش کرنے کا پابند نہیں جب تک اکاؤنٹ ھولڈر خود بینک کو نہ کہے۔ اگر اس چیک کو اگر بینک مسترد کر دے تو نہ تو نہ تو اس چیک پر پرچہ ھو گا اور نہ ھی ارڈر 37 کا دعوئ۔ 2021 pcrlj 1071 A

اگر کسی نے بینک کا قرضہ دینا ہو اور اس کو چیک جاری کرے جو ڈس آنر ہو جائے اس پر 489F لاگو نہیں ہو گا
2019 PCrLJ 902 Lahore
چیک چھ ماہ کے اندر بینک میں پیش کرنا لازمی ہے
2004MLD 951‏
بینک میں چیک پیش کیئے بغیر دعویٰ دلاپانے قابل رواں نہ ہے ‏2016 CLC937‏
مدعاعلیہ نے چیک پر دستخط کرنا تسلیم کیا دعویٰ ڈگری
‏2014 CLC244‏
چیک کی بناء پر عام دعویٰ دلاپانے بھی کیا جا سکتا ہے
‏2014 CLC 837‏
پرونوٹ پر دو گواہان کی تصدیق اور رسیدی ٹکٹ لگانا لازمی ہیں ہے 2006 SCMR 895
گواہان کے دستخط پرونوٹ کو مصدقہ دستاویز نہیں بناتے
2016-PLJ-SC-169

پرونوٹ کے لئے ضروری ہے کہ لائسنس یافتہ وثیقہ نویس تحریر شدہ ہو بصورت دیگر پرونوٹ لائسنس یافتہ وثیقہ نویسں کا تحریر کردہ نہ تھا دعویٰ خارج
2016 CLC 848

پرامیسری نوٹ لکھنے والے دن رقم ادا کرنا ضروری نہ ہے رقم بعد میں بھی دی جا سکتی ہے۔مدعاعلیہ نے بغیر کوئی رقم وصول کیے بغیر چیک کیسے دیا دعوی ڈگری شده
2017YLR 416
مدعاعلیہ نے کہا کہ چیک پر میرے دستخط نا ہے ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کو پیش نہ کیا دعویٰ ڈگری ہوا
‏2016 ScMR 2163‏

پرونوٹ 5 لاکھ سے زائد رقم کا ہو تواس پر 100 سے بطور Stamp قابل ادائیگی ہے۔بصورت دیگر قابل ادخال شہادت ہے‏2012 CLC 1679‏

منسوخی چیک دفعہ39 قانون دادرسی ایکٹ
سول کورٹ نے دعویٰ منسوخی چیک میں قرار دیا تھا کہ چیک بلا بدل جاری کیاگیا اور سول کورٹ کی اس ڈگری کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔عدالت عالیہ نے حکم زیر اعتراض بابت اندراج مقدمہ منسوخ کر دیا اور سائل کی آئینی درخواست منظور فرما لی۔
2016 PcrLJ 1102 Lah

پرونوٹ کی بنیاد پر زرنقد کا دعوی آرڈر 37 کے تحت دائر هوا جبکہ مدعاعلیہ فریق نے منسوخی دستاویز کا دعوی سول کورٹ میں دائر کیا اور ساتھ ھی ڈسٹرکٹ جج کو ہر دو دعوی جات یکجا کرنے کی درخواست گذاری جو منظور هوكر دعوى جات consolidate ھو گئے جس کیخلاف نگرانی ہائی کورٹ دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ نے نگرانی خارج فرمائی

PLJ 2023 Lahore 199
[Multan Bench Multan]

Title: Lahore High Court Grants Post-Arrest Bail in Cheque Dishonour Case

Article:

In a recent judgment by the Lahore High Court, Lahore, in Case No. Crl. Misc. No.18392-B/2024, Syed Muhammad Ali sought post-arrest bail in a case arising from F.I.R. No.1042/2024 under Section 489-F PPC at Police Station Raiwind City, District Lahore.

The petitioner, Syed Muhammad Ali, had issued a cheque of Rs.32,00,000/- to the complainant, which was dishonoured by the bank upon presentation. The case was registered under Section 489-F PPC, which deals with dishonestly issuing a cheque for repayment of a loan or fulfilment of an obligation.

Upon examination of the available evidence, the court noted that there was insufficient proof to establish that the cheque was issued for repayment of a loan or fulfilment of an obligation. The court emphasized that Section 489-F PPC was not intended for the recovery of amounts but for punishing those who dishonestly issue cheques.

The court further observed that the petitioner had been detained in jail since his arrest, and mere detention served no useful purpose to the prosecution's case. Therefore, considering the totality of circumstances, the court granted post-arrest bail to the petitioner.

It is essential to note that the court's observations are tentative and confined to the disposal of the bail petition. The trial of the case will proceed on its merits, and any interference in the trial process may lead to the recall of the bail order.

This judgment underscores the importance of adhering to legal standards and ensuring that bail is not withheld as a form of punishment. It also reaffirms the principle that bail is a rule and refusal is an exception, particularly in cases where further probe or inquiry is required.

#489-F

14/04/2026

پاکستان میں فوجداری قانون کے مطابق، جب ایک ہی وقوعہ کے بارے میں ایف آئی آر (FIR) بھی درج ہو اور استغاثہ (Private Complaint) بھی دائر کیا گیا ہو، تو یہ ایک بہت اہم قانونی صورتحال بن جاتی ہے۔
اس حوالے سے پاکستانی عدالتوں کا ایک طے شدہ اصول ہے جسے "استغاثہ کو ترجیح" دینا کہا جاتا ہے۔ ذیل میں اس کی مکمل تفصیل اور سپریم کورٹ کی ججمنٹس درج ہیں:
بنیادی قانونی اصول: استغاثہ پہلے چلے گا
پاکستان میں رائج قانون کے مطابق، اگر ایک ہی جرم پر پولیس کیس (FIR) اور نجی استغاثہ (Complaint) دونوں موجود ہوں، تو استغاثہ کو پہلے فائنل (سنا) جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استغاثہ میں شکایت کنندہ خود اپنے گواہ لاتا ہے، جبکہ FIR میں پولیس اپنی مرضی کے گواہ اور تفتیش پیش کرتی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی اہم ججمنٹس
1. نور الہی بنام ریاست (PLD 1966 Supreme Court 708)
یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور بنیادی فیصلہ (Locus Classicus) ہے۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:
• جب ایک ہی وقوعہ پر FIR اور استغاثہ دونوں ہوں، تو پہلے استغاثہ کا ٹرائل کیا جائے گا۔
• پولیس کیس (FIR) کے گواہان کو تب تک نہیں سنا جائے گا جب تک استغاثہ کا فیصلہ نہ ہو جائے، تاکہ ملزم کے دفاع کو نقصان نہ پہنچے۔
2. ظفر اقبال بنام ریاست (2005 SCMR 1400)
سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں دوبارہ واضح کیا کہ:
• اگر استغاثہ اور ایف آئی آر دونوں ایک ساتھ چل رہے ہوں، تو پہلے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلمبند ہوں گے۔
• اگر استغاثہ میں ملزم بری ہو جاتا ہے، تو عام طور پر اسی بنیاد پر پولیس کیس (FIR) بھی ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ دونوں کے واقعات ایک ہی ہوتے ہیں۔
3. ذوالفقار علی بنام ریاست (PLD 1991 Supreme Court 161)
اس ججمنٹ میں عدالت نے کہا کہ استغاثہ کو پہلے سننے کی منطق یہ ہے کہ شکایت کنندہ کو یہ موقع ملے کہ وہ اپنی مرضی کے شواہد براہِ راست عدالت کے سامنے رکھے، کیونکہ ہو سکتا ہے پولیس تفتیش میں اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہو۔
طریقہ کار (Procedure in Court)
عدالتیں عام طور پر درج ذیل طریقہ کار اپناتی ہیں:
1. ٹرائل کا آغاز: عدالت استغاثہ اور FIR دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے لیکن پہلے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات درج کیے جاتے ہیں۔
2. بیاناتِ گواہان: استغاثہ کے گواہوں پر جرح (Cross-examination) پہلے ہوتی ہے۔
3. فیصلہ: اگر استغاثہ ثابت ہو جائے تو سزا دی جاتی ہے، اور اگر استغاثہ خارج ہو جائے تو پھر دیکھا جاتا ہے کہ کیا پولیس کیس میں کچھ اضافی مواد موجود ہے یا نہیں۔س
پاکستانی قانون کے مطابق، استغاثہ (Private Complaint) کو ایف آئی آر (FIR) پر فوقیت حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے (نور الہی کیس) کے تحت، عدالت پہلے استغاثہ کا ٹرائل مکمل کرنے کی پابند ہے تاکہ مدعی کو پولیس کی ناقص تفتیش کے بجائے براہِ راست عدالت میں اپنا موقف ثابت کرنے کا موقع ملے۔
ایک مشورہ: اگر آپ یہ معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، تو PLD 1966 SC 708 کا حوالہ ضرور دیں، کیونکہ یہ اس موضوع پر سب سے بڑی اتھارٹی مانی جاتی ہے۔

21/03/2026
ضابطہ فوجداری میں تین ترامیم ہوئی جو کہ خوش آئند ہیں۔1. 59-اے۔کسی بھی ملزم کو جب گرفتار کیا جائے گا تو اسک بھائی، دوست، ...
27/02/2026

ضابطہ فوجداری میں تین ترامیم ہوئی جو کہ خوش آئند ہیں۔
1. 59-اے۔
کسی بھی ملزم کو جب گرفتار کیا جائے گا تو اسک بھائی، دوست، یا رشتے دار کو اسکی گرفتاری کے بارے آگاہ کیا جائے گا، اس سے ملزم کی گرفتاری جو غیر قانونی ہوتی ہے محفوظ ہوگی،
2۔ 154 میں ہوئی ہے اب متعلقہ مجسٹریٹ کو بھی ایف آئی آر درج کرنے/حکم صادر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، پہلے صرف جسٹس آف پیس کے پاس تھا یعنی اب ایک اور فورم مہیا کردیا گیا ہے،
3.
431 اے۔
اگر کوئی ملزم جسکو سزا ہوئی ہے اور وہ فوت ہوگیا ہے تو اسکی سزا کے خلاف اسکے وارثان اپیل کر سکتے ہیں اور وہ اسی ملزم کی طرف سے سمجھیں جائے گی۔۔

PLD 2026 SC 75سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ  #وکیل کے پروفیشنل  #فیس کی ادائیگی کیلئے دیا گیا  #چیک...
07/02/2026

PLD 2026 SC 75
سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ #وکیل کے پروفیشنل #فیس کی ادائیگی کیلئے دیا گیا #چیک اگرعدم ادائیگی کی وجہ سے ڈس آنر ہو جائے تو #جرم کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں ؟؟؟؟؟

واقعات:
مقدمہ کرنے والا وکیل تھا۔ الزام لگایا گیا شخص اس کا کلائنٹ تھا۔ کلائنٹ نے وکیل کی فیس کے طور پر چیک دیا۔ جب چیک پیش کیا گیا تو وہ ڈس آنر ہوگیا۔ وکیل نے سیکشن 489-F کے تحت کرمنل کیس دائر کیا۔ الزام لگائے گئے شخص نے ضمانت کے لیے درخواست دی۔
مسئلہ:
کیا پیشہ ور قانونی فیسوں کی عدم ادائیگی کو سیکشن 489-F کے تحت کرمنل جرم قرار دیا جاسکتا ہے؟
عدالت کا فیصلہ:
فیس کی عدم ادائیگی بنیادی طور پر معاہدے کی ہے، نہ کہ خودکار طریقے سے جرم۔ #کرمنل قانون کو کی #وصولی کے لیے کیا جاسکتا۔ ایک موکل جو قانونی فیس ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے اسے عام طور پر اس طرح نمٹا جانا چاہیے:
سول مقدمہ دائر کرکے وصولی کے لیے،
یا
کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے سیکشن 73 کے تحت معاوضہ۔

سیکشن 489-F کا مقصد جعل سازی کو سزا دینا ہے، نہ کہ رقم کی ادائیگی کو یقینی بنانا۔ مجرمانہ نیت (بدنیتی) ضروری ہے۔ محض ایک چیک جاری کرنا جو بعد میں ڈس آنر ہوجائے، بدنیتی ثابت نہیں کرتا۔ اپنے ہی موکل کے خلاف کرمنل کارروائی صرف استثنائی صورتوں میں جائز ہے جہاں کوئی دوسرا حل موجود نہ ہو۔ سول کے حل موجود تھے، اس لیے کرمنل مقدمہ غیرضروری تھا۔
عدالت کا فیصلہ:
ضمانت منظور کر لی گئی۔
Facts:
The complainant was an advocate. The accused was his client. The client gave a cheque as professional fee. When the cheque was presented, it was dishonoured.
The advocate filed a criminal case under section 489-F PPC. The accused applied for bail.
Issue:
Can non-payment of professional legal fees through a dishonoured cheque be treated as a criminal offence under section 489-F PPC?
Court’s Findings:
Non-payment of fees is basically a breach of contract, not automatically a crime. Criminal law cannot be used to recover civil dues.
A client failing to pay legal fees should normally be dealt with through:
Civil suit for recovery, or
Compensation under Section 73 of the Contract Act, 1872.
Section 489-F PPC is meant to punish fraud, not to force payment of money. Mens rea (dishonest intention) is essential. Simply issuing a cheque that later bounces does not prove dishonest intent. Criminal action against one’s own client is allowed only in exceptional cases, where no other remedy exists. Civil remedies were clearly available, so criminal prosecution was unnecessary.
Court Decision:
Bail was Granted

سیکشن 182 ت پ کی کارروائی مجسٹریٹ ازخود نہیں کر سکتا جب تک کہ متعلقہ پولیس آفیسر کی طرف سے استغاثہ ارسال نا کیا گیا ہو20...
30/01/2026

سیکشن 182 ت پ کی کارروائی مجسٹریٹ ازخود نہیں کر سکتا جب تک کہ متعلقہ پولیس آفیسر کی طرف سے استغاثہ ارسال نا کیا گیا ہو
2026 SCMR 77
Proceeding under section 182 PPC can not be initiated by Magistrate itself unless written complaint is not forwarded by concerned police Officer or his high ups.
Even Ex Justice of Peace can not direct SHO for Initiating FIR under 182 ppc against complainant.

🔴 30 IMPORTANT CRIMINAL CASE LAWS ✍️1)  Prosecution did not produce evidence even after 8 months of framing of charge.Ac...
21/01/2026

🔴 30 IMPORTANT CRIMINAL CASE LAWS
✍️1) Prosecution did not produce evidence even after 8 months of framing of charge.
Accused ACQUITTED . 2017 - SCMR - 19
✍️2) Accused involved in the murder case on account of joint extra judicial confession would be entitled to ACQUITTAL .2012 - PCRLJ - 258
✍️3) In murder case empty handed accused due to common intention would not be entitled to the confirmation of PRE ARREST BAIL.
2015 - PCRLJ - 1531
✍️4) Bail GRANTED to accused by following RULE of CONSISTENCY.
2017 - MLD - 349
2016 - YLR - 2507
2008 - SCMR - 173
✍️5) If weapon is recovered but NO empties were recovered then recovery of weapon will be useless .
2015 - MLD- 432
2013 - YLR - 272
✍️6) In dacoity case plea of alibi will not be considered at bail stage.
2014 - PCRLJ - 1002
✍️7) Even after completion of statutory period if delay is attributed to accused then he will not be entitled to concession of bail . 2016 - SCMR - 1538
✍️8) If evidence of a witness is contradictory to his statement recorded u/s 161 crpc then such evidence would not be believable.
2014 - YLR - 548
✍️9) Recovery of articles of the deceased from the accused at the time of their arrest sixteen days after the occurrence was not believable . 1996 - SCMR - 188 ( LB ) .
✍️10) Non recovery of some of the crime empties was not of much importance as the occurrence had taken place in a field.
2006 - SCMR - 672 ( LB ) .
✍️11) Recovery at JOINT POINTATION of two accused would have no evidentiary value.
2008 - SCMR - 1064
✍️12) EXTRA- JUDICIAL CONFESSION is a very WEAK type of evidence and no conviction can be awarded without its strong corroboration on the record . 2005 - SCMR - 277
✍️13) EXTRA JUDICIAL CONFESSION must be proved by evidence of very high and un impeachable character.
PLD - 2006 - SC - 538
✍️14) Unexplained delay of 10 / 11 hours in lodging of FIR . Such delay would lead to inference that occurrence was un- witnessed . 2008 - SCMR - 6 (LB ) .
✍️15) Site plan loses its evidentiary value if it is not prepared on the pointation of a witness .2001 - SCMR - 424
✍️17) S . 302 / 34 . Art 3 . Child witness . Evidence of child witness possessing sufficient understanding can be believed and relied upon for conviction . 1995 - SCMR - 1615
✍️20) No doubt the conviction can be based on the retracted confession alone but if it is found voluntary true and confidence inspiring . PLJ - 2014 - CRC - 791 (DB ) .
✍️22) S . 426 . S . 302 (b ) . For non fixation or non hearing of the appeal the petitioner can not be held responsible . He has earned a statutory right by now to be released on bail after suspension of sentence . PLJ - 2014 - CRC - 547 (a ) .
✍️23) Concealment of facts is also a type of FRAUD .2015 - CLC - 39
✍️24) Courts should not interfere in the policy matters of financial institutions . 2015 - SCMR - 445
✍️25) Due to NON PAYMENT of maintenance allowance right of defense struck off and suit decreed .2015 - CLC - 349
✍️26) It is the duty of the court to take notice of limitation although party has raised objection or not . 2015 - SCMR - 380
✍️27) If process fee is not deposited then due to this reason revision can not be dismissed . PLD - 1998 - Lah - 342
✍️28) S. 489 - F . Cheque was bounced . Offence with which accused was charged was punishable with imprisonment for three years or fine or with both . No useful purpose to be served by remitting petitioner into custody so as to be released on post arrest bail after expiry of some period . PLJ - 2016 - CRC - 547
✍️29) Two versions registered with the police both sides sustained injuries . There was no explanation in FIR regarding injuries sustained by petitioners side . Pre arrest bail confirmed . PLJ - 2016 - CRC - 546 (a ) .
✍️30) Although accused was armed with 12 bore pump action but he did not raise any lalkara nor caused any injury to anybody therefore it is matter of further inquiry . Bail allowed.
PLJ - 2016 - CRC - 483 (a)

Address

The Business Consultants
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00

Telephone

+92514426579

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adnan Saeed Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adnan Saeed Law Associates:

Shortcuts

Share