11/08/2022
آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کی 15 ویں آئینی ترمیم اور اس کے متوقع نتائج !
پندرویں آئینی ترامیم کے زریعہ حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر حکومت سے مالی اختیارات واپس لینے کے ساتھ ساتھ اس کی حثیت بھی پاکستان کے صوبوں کے برابر لاتے ہوئے اسے وفاقی اکائی بنانے کے لئے مسودہ قانون جو وزارتی کمیٹی نے 29 جون 2022 کو حتمی کیا اس کے مطابق لفظ ریاست اور اقوام متحدہ ختم کر دیے گے ہیں کونسل بحال کرتے ہوئے اس میں وزیراعظم پاکستان وزیر دفاع پاکستان وزیر خارجہ پاکستان سمیت 7 ممبرز اسلام آباد اور 6 آزاد کشمیر سے رکھے جانے کی تجویز ہے۔
کونسل کی قانون سازی کو بالا دستی حاصل ہو گی کونسل کے فیصلوں کو اسمبلی میں زیر بحث نہیں لایا جاسکتا نہ کسی عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس صاحبان ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز ، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم پاکستان کو حاصل ہوگا ان تقرریوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
کونسل کو ٹیکس اگٹھا کرنے اور اپنا بجٹ پیش کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
80 کھرب سے زائد مالیت کی پاکستان میں موجود کشمیر پراپرٹی کونسل کے دائرہ اختیار میں ہو گی۔
قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی تعداد 56 کرنے کی تجویز ہے جس میں بھارتی مقبوضہ لداخ کےمتعلقہ دو اراکینِ اسمبلی نمائندگی کریں گے۔
وزراء کی تعداد 27 اور مشیروں کی تعداد تین ہوگی ۔
مسودہ قانون ہے کیا ؟
مجوزہ مسودے کے preamble کے پانچویں پیراگراف میں "UN" کی جگہ "subject to recognition under" لکھا گیا ہے۔ باالفاظ دیگر اقوام متحدہ فارغ اب ہم اسلام آباد کی نظر میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان زمینی جھگڑے پر مشتمل خطے کے باسی ہیں ۔
آرٹیکل 2 کی ڈیفینیشن کلاز میں لفظ "گورنمنٹ" کی جگہ لفظ" جائنٹ سٹنگ " کی تجویز ہے ، یوں حکومت کی تعریف جو وزیراعظم اور اس کی کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے اب جائنٹ سٹنگ حکومت کے معنوں میں شمار ہو گی ۔
مجوزہ ترمیم نمبر 4 میں لفظ "ریاست" کی جگہ اب لفظ "آزاد جموں و کشمیر" شامل کرنے کی تجویز ہے ۔
عبارت ہے
Amendment in article 4
In paragraph 17 for the word "state" the word "Azad Jammu and Kashmir" shall be substituted.
دوسرے الفاظ میں ریاست ختم اب ہم صرف آزاد جموں و کشمیر ہیں ،صوبہ ہیں ؟ صوبے کی طرح ہیں؟ یا کسی اور حیثیت میں ؟....۔مگر ریاست نہیں ۔
آرٹیکل 5 کی مجوزہ ترمیم میں صدر ریاست کے انتخاب کے لیے اسمبلی کے ساتھ کونسل کو شامل کیا جا رہا ہے ۔
آرٹیکل 6 میں "اسمبلی" کی جگہ "جائنٹ سٹنگ" کا لفظ لکھا گیا ہے جس میں پاکستانی پارلیمنٹ کے وزیراعظم پاکستان سمیت 7 ممبرز شامل ہیں ۔
آرٹیکل 14 کی ترمیم میں وزراء کی تعداد 27 اور مشیروں کی تعداد 3 کرنے کی تجویز ہے۔
آرٹیکل 19 کی مجوزہ ترمیم کے مطابق شیڈول تھری کے پارٹ B کے 22 اختیارات جو قانون ساز اسمبلی کو حکومت پاکستان کی رضامندی/منظوری سے حاصل تھے انھیں کشمیر کونسل کو دے دیا گیا ہے ۔ان اختیارات کی فہرست دیکھیے
1.Railways
2.Mineral oil and natural gas; liquids and substances declared by Government of Pakistan to be dangerously inflammable.
3.National planning and national economic coordination, including planning and coordination of scientific and technological
research.
4. Supervision and management of public debt.
5.Boilers
6.Census.
7. State Property until transfer to the Government of AJK.
8.Electricity except the power generation planned and made byGovernment of AJK.
9.Terminal taxes on goods or passengers carried by railway or air.taxes on their fares and freights.
10. Extension of the powers and jurisdiction of members of a policeforce belonging to Azad Jammu and Kashmir, or any Province of Pakistan to any area in such province or the Azad Jammu and Kashmir but not so as to enable the police of Azad Jammu and Kashmir or such province to exercise power and jurisdiction in such province or Azad Jammu and Kashmir and without the consent of the Government of that province or the Azad Jammu and Kashmir.
11. Measures to combat certain offences committed in connection with matters concerning the subjects included in this list.
12. Removal of prisoners and accused persons from Azad Jammu and Kashmir to Pakistan or from Pakistan to Azad Jammu and
Kashmir.
13. Prevention of the extension from Azad Jammu and Kashmir to Pakistan or from Pakistan to Azad Jammu and Kashmir of
infections of contagious diseases or pests affecting men; animals or plants.
14. Curriculum, syllabus, planning, policy, centers of excellence and standards of education.
15. Medical and other professions excluding legal profession. 16. Standards in institutions for higher education and research, scientific and technical institutions.
17. Matters concerning coordination between Azad Jammu and Kashmir and other Provinces of Pakistan.
18. The salaries, allowance and privileges of the members and including salaries and pension payable to employees of the council.
19. Jurisdiction and powers of all courts with respect to any of the matters enumerated in this list.
20. Offences against laws with respect to any of the matters in this Part.
21. Inquiries and statistics for the purposes of any of the matters in this Part.
22. Matters incidental or ancillary to any matter enumerated in this Part.
اب چھوٹے بڑے تمام ہائیڈل پراجیکٹ ان سے پیدا ہونے والی بجلی ، زیرِ زمین معدنیات، آزاد کشمیر کی عدالتوں کے دائرہ اختیار کا تعین ، تعلیمی نصاب ، سلیبس سب کے بارے قانون سازی ہماری اسمبلی نہیں کر سکتی ۔
آرٹیکل 19 کے تحت کونسل کا بنایا ہوا قانون وزیراعظم پاکستان کی منظوری سے قانون بن جائے گا، اس معاملے میں قانون ساز اسمبلی کی قانون سازی کی حیثیت اب نام تک محدود کرنے کی تجویز ہے
آرٹیکل 22 کی مجوزہ ترمیم کے مطابق اسمبلی ممبرز کی تعداد 56 کرنے کی تجویز ہے جس میں بھارتی مقبوضہ لداخ کی نمائندگی کے لیے دو نشستیں شامل ہیں ۔
آرٹیکل 41 کی مجوزہ ترمیم کے مطابق وزیراعظم پاکستان کے منظور کیے گے مسودہ کو قانون ساز اسمبلی رد نہیں کر سکتی۔
آرٹیکل 42 کے مجوزہ مسودے کے مطابق چیف جسٹس آف آزاد جموں و کشمیر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم پاکستان کو حاصل ہوگا اس تقرری کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کے بارے میں صدر ریاست اور کسی عدالت کو رائے دینے یا سماعت کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کا اختیار بھی وزیراعظم پاکستان کے پاس ہوگا اور اسے آزاد کشمیر کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔
آرٹیکل 50 اور 50 اے کے تحت بالترتیب چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل کی تقرری کا اختیار وزیراعظم پاکستان کے پاس ہوگا اور اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق کم وبیش 80 سے 85 کھرب مالیت کی کشمیر پراپرٹی کونسل کی ملکیت ہو گی ۔
آرٹیکل 53 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق آزاد کشمیر میں ایمرجنسی لگانے کا اختیار وزیراعظم پاکستان کو دیا جا رہا ہے۔