Adv Junaid Ahmed Shah

Adv Junaid Ahmed Shah آپکی ذبان اور قلم جہاد باللسان اور جہاد باالقلم کی عمل

نیو یارک کے میئر کی امریکہ و برطانیہ کے صدر/ وزیراعظم کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے ، کچھ بھی نہیں۔۔۔ اِسے مستقبل میں امریک...
06/11/2025

نیو یارک کے میئر کی امریکہ و برطانیہ کے صدر/ وزیراعظم کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے ، کچھ بھی نہیں۔۔۔ اِسے مستقبل میں امریکہ کا صدر بھی بنا دیا جائے تو یہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کی طے شدہ پالیسی سے باہر نکل کر نہیں کھیل سکتا۔۔۔(مکمل کالم پڑھنے کے لئے لنک کلک کیجئے)

https://www.baidaar.com/Column/11337

12/10/2023

Terms used in Investigation and Police Records : ⚖👮🇵🇰

AR Copy :- Accident Register Copy.
CD :- Case Diary.
Cr.No. :- Crime Number.
FIR :- First Information Report.
FP :- Finger Print.
FR :- Final Report.
IO :- Investigation Officer.
IP :- In Patient.
LCD :- Last Case Diary.
MO :- Modus Offender.
MO :- Medical Officer.
PM :- Post Mortem.
PMC :- Post Mortem Certificate.
PNR :- Prisoner Nominal Roll.(Prison Record ).
RCS :- Referred Charge Sheet.
r/w :- Read with.
Sec. :- Section.
SOC :- Scene of Crime.
UI :- Under Investigation.
u/s :- Under Section.
WC :- Wound Certificate.
AD :- Action Dropped.
UN :- Undetected.
MF :- Mistake of Fact.
ML :- Mistake of Law.
CSR :- Community Service Register.
GCR :- Grave Crime Report or General Conviction Register.
GD :- General. Diary.
LLI :- Loose Leaf Index.
OP :- Out Post / Out Patient.
PSR :- Prisoners Search Register.
SHO :- Station House Officer.
SHR :- Station House Report.
BC :- Bad Character.
DC :- Dossier Criminal.
HO :- Habitual Offender.
HS :- History Sheet.
KD :- Known Depredator.
LFO :- Local First Offender.
LKD :- Local Known Depredator.
NLFO :- Non Local First Offender.
NLKD :- Non Local Known Depredator.
L & O :- Law and Order.
OD :- Other Duty.
PSO :- Police Standing Order / Personnel Security Officer.
ID :- Illicit Distillation.
IMFL :- Indian Made Foreign Liquor.
IMFS :- Indian Made Foreign Sprit.
GSE :- Good Service Entry.
MSE :- Meritorious Service Entry.

Glimpse of Another talk show on the Legal Education, Practical Problems & The Steps of Criminal Proceeding.Will be Uploa...
19/07/2023

Glimpse of Another talk show on the Legal Education, Practical Problems & The Steps of Criminal Proceeding.

Will be Uploaded Soon

https://youtu.be/n2kDvJBRqwU
04/03/2023

https://youtu.be/n2kDvJBRqwU

پاکستان کے شرعی قوانین اور بڑھتی ہوئی طلاق کی ریشوطلاق ،خاندانی مسائل پر مرد اور عورت کے بارے میں شرعی قوانین کیا کہتے ہیںمفتی سید عبدالوکیل شاہ اور سید جنید...

https://youtu.be/hgr7vA6STAY
16/01/2023

https://youtu.be/hgr7vA6STAY

پاکستان میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح،درپیش قانونی مسائل اور ان کا حل ...

https://youtu.be/z_EtCCTwuVs
15/01/2023

https://youtu.be/z_EtCCTwuVs

پاکستان کے عدالتی سسٹم پر مکمل معلوماتی پروگرامانصاف کے حصول میں درپیش مشکلات اور ان کا حل!حق نیوز اسپیشل پروگرام ’’کورٹ اسٹوڈیوودعاشر تنویر’’ عدالتی سسٹم پر...

کیا ٹرانس جینڈر ایکٹ ملک کا بنیادی مسلہ ہے ؟ |روزنامہ جموں و کشمیر|23 ستمبر 2022|جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ (راولپنڈی)https:...
26/09/2022

کیا ٹرانس جینڈر ایکٹ ملک کا بنیادی مسلہ ہے ؟
|روزنامہ جموں و کشمیر|23 ستمبر 2022|
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ (راولپنڈی)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=558512272941884&id=100063493496419

ٹرانس جینڈر ایکٹ پر ہر طرف شور مچا ہوا ہے۔ کوئی اسے ہم جنسی پرستی کی وجہ قرار دے رہا ہے اور کوئی اسے خواجہ سراؤں کے حقوق کا چارٹر سمجھ کر تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے ، کوئی بنیادی اصطلاحات کے فہم پر مباحث میں حصہ لے رہا ہے اور کوئی میڈیکل سائنس کی معلومات شئیر کر رہا ہے۔۔۔

یہ کمیونٹی پاکستان کی ٹوٹل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہے جنکے حقوق کا غم ہماری سیاسی مذہبی جماعتوں کو کھائے جا رہا ہے اور نہ اس کمیونٹی کا ووٹ بینک اتنا زیادہ ہے کہ جنکے حقوق کا تحفظ کرنے سے انکو وزارت عظمیٰ کی کرسی مل جائے گی اور نہ ہی اس کمیونٹی کے کسی فرد کو انہوں نے کبھی پارٹی ٹکٹ دینا ہے کہ وہ مقننہ کا حصہ بن کر اپنی کمیونٹی کی نمائندگی خود کریں۔۔

ہمارے ملک کی معقول انسانوں کی 95 فیصد آبادی غربت ، مہنگائی ، بیروزگاری ، صحت اور تعلیم جیسے گھمبیر مسائل کا شکار ہے اور انہی مسائل کی وجہ سے چوری چھپے ہم جنس پرستی کا مرض بھی عروج پر ہے اور جسم فروشی کا دھندا بھی سرکار کی سرپرستی میں جاری ہے۔ لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کے پوش اسیکٹرز میں عیاشی کے اڈوں پر یہ سب کچھ چل رہا ہے ، لاہور اور ملتان کے بازار حسن زبان ذد عام ہیں۔ پاکستان میں ہر سال جنسی ذیادتی کا شکار ہونے والے بچے اور بچیوں کا ذرا ڈیٹا بھی دیکھ لیں تو ہوش ٹھکانے آ جائیں گے اور ان میں سے بھی معاشرتی دباؤ اور شرمندگی کیوجہ سے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔۔

اس ملک کی اکثریتی آبادی کے حقوق کا خیال کبھی کسی جماعت کو آیا ہے یا اس پر کبھی قانون سازی کی ہے۔۔حقوق نسواں بل ، تحفظ بچگان بل اور تحفظ ٹرانس جینڈر بل تو آ گئے اور متنازعہ بھی بن گئے ، کیا کبھی تحفظ انسان بل بھی اس ریاست کے اعلی ترین ایوان میں پیش ہوا ہے۔۔ پوری قوم کو غیر ضروری مباحث میں الجھا کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانا نظام سرمایہ داریت کا پرانا طریقہ واردات ہے اور اس نظام کی آلہ کار تمام جماعتیں اس دجل اور فریب کے گھناؤنے دھندے کو بہت اچھے سے اپنا فرض عین سمجھ کر نبھاتی ہیں۔۔

آپ پچھلے 75 سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، ہمارے ملک کی مقننہ ، عدلیہ ، انتظامیہ اور بطور خاص میڈیا نے ہمیشہ حقیقی عوامی مسائل جنکا تعلق ایک عام فرد کے جسم ، ذہن اور روح کے ساتھ جڑا ہوا ہے ، اس پر نہ کبھی سنجیدہ بنیادوں پر بات کی ہے ، نہ قانون سازی کی ہے اور نہ ہی کوئی حکمت عملی ترتیب دی ہے اور نہ ہی کبھی عوامی بیداری کی مہم چلائی ہے۔۔۔ حالیہ سیلابی صورتحال میں تقریباً پورا ملک ڈوبا ہوا ہے ، ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں ، لاکھوں مالیت کے مال مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں ، بستیوں کی بستیاں اجڑ گئی ہیں اور ہمارے ظالم حکمران اپنی مرحوم آقا ملکہ برطانیہ کے انتقال پر مگر مچھ جیسے آنسو بہا رہے ہیں ، تعزیتی بیانات جاری کر رہے ہیں اور اسکی آخری رسومات میں شرکت کے لیے برطانیہ بھی پہنچ گئے ہیں۔۔ سیلابی متاثرین کے نام پر پوری دنیا سے آنے والی امداد غبن کرنے اور ہڑپ کرنے کی خبریں ہر طرف گردش کر رہی ہیں لیکن ان تمام مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے " ٹرانس جینڈر ایکٹ" کو زندگی اور موت کا مسلہ بنا دیا گیا ہے۔۔۔

خواجہ سراء کمیونٹی کے حقوق انسانی سے انکار قطعاً ممکن نہیں ہے ، اس مظلوم کمیونٹی کو ضرور قومی دھارے میں شامل کرنا چاہیے تاکہ انکو جسم فروشی اور بھیگ مانگنے جیسی مکروہ سرگرمیوں سے نکال کر حلال رزق کمانے کے قابل بنایا جا سکے۔۔ بالکل اسی طرح ہمارے ملک کی جتنی اقلیتیں ہیں ، انکو بھی انسان اور پاکستانی سمجھ کر خیال رکھنا چاہیے لیکن اس ملک کی 95 فیصد آبادی تو اپنی بنیادی ضروریات کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہو اور 70 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے ذندگی گزار رہی ہو اور صرف آٹے میں نمک کے برابر کمیونٹی کے حقوق کے نام پر دیگر مسائل پر شور مچانے کے لیے اپنی سیاست چمکائی جائے ، عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے راہ ہموار کی جائے تو ایسا دوغلا پن سوالیہ نشان بنے گا اور ایسی منافقت کو واضح کیا جائے گا ۔۔۔ ہمیں اب منافقت سے باہر آ جانا چاہیے ، حقیقی عوامی مسائل کی جڑ تلاش کرنی چاہیے ، ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے اور مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی راہ عمل کا تعین کر کے عملی کردار ادا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔۔۔

ٹرانس جینڈر ایکٹ ہے کیا ، اسکے مقاصد کیا ہیں اور اس پر اعتراضات کیا ہیں ، ان سوالات پر علمی و قانونی حلقوں میں پہلے ہی بہت سارے تجزیات سامنے آ چکے ہیں ، سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں بھی طویل مباحث چل رہے ہیں ، بہت سارے احباب نے مجھ سے بھی رابطہ کر کے تبادلہ خیال کیا ہے۔۔ اس ایکٹ میں اگر کوئی خرابی ہے تو اس خرابی کو متعلقہ فورمز پر حل کیا جائے ۔۔ مشاورتی فورم اسلامی نظریاتی کونسل کا موجود ہے ، عدالتی فورم وفاقی شرعی عدالت کا موجود ہے ، قانونی سازی کا فورم پارلیمنٹ کا موجود ہے۔۔ جن جماعتوں نے اس مسلہ کو عوام کی ذندگی و موت کا مسلہ بنا دیا ہے ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ ان فورمز پر جا کر اپنا موقف منوا لیں اور قانون میں ترامیم کروا لیں ۔۔

عوام پہلے ہی مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت کی چکی میں پس رہی ہے اور یہ مسائل حل نہ ہونے کیوجہ سے وہ سارے امراض پہلے ہی سے موجود ہیں جنکا شور اس ایکٹ کے ضمن میں مچایا جا رہا ہے۔۔۔ ان بنیادی مسائل کو اگر حل نہیں کیا جائے گا تو جتنے مرضی اچھے سے اچھے قوانین بنا لیے جائیں لیکن انکے عوامی و سماجی سطح پر نتائج کبھی بھی نہیں آئیں گے۔۔۔ کوئی بھی قانون اصل نہیں ہوتا بلکہ اس قانون کے پیچھے کار فرما مقاصد کا حصول پیش نظر ہوتا ہے اور وہ مقاصد کسی بھی معاشرے کے تعلیمی ، اخلاقی اور سماجی نظام کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔۔ ایک قانون کتنے ہی خوبصورت انداز میں تحریر کر کے اسے آئینی و قانونی کتب کا حصہ بنا دیا جائے ، اگر عملی نظام ظالمانہ فکر و فلسفہ پر کھڑا ہے تو ایک صحیح اور درست قانون کا بھی غلط استعمال کیا جائے گا اور اس قانون کے ذریعے اپنی مرضی کے نتائج لئیے جائیں گے۔۔۔

جس ملک کا نظام اپنی جڑ کے اعتبار سے سرمایہ دارانہ فلسفہ کا حامل ہو اس نظام میں بتدریج اصلاحات لانے اور اسلامائزیشن جیسے فرسودہ نعروں میں کوئی جان نہیں ہے۔۔ یہ نعرے قیام پاکستان کے وقت سے لگ رہے ہیں اور آج تک نہ اسلام قائم ہوا ہے ، نہ جمہوریت آئی ہے اور نہ ہی اصل عوامی مسائل کو حل کیا جا سکا ہے۔۔

‏پنجاب بار کونسل نے وکلاء کو ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ فوری  بند کرنے کی ہدایت کردی...قانون سے متعلق عوام کو غلط انفارمیشن دینے پ...
27/08/2022

‏پنجاب بار کونسل نے وکلاء کو ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ فوری بند کرنے کی ہدایت کردی...

قانون سے متعلق عوام کو غلط انفارمیشن دینے پر ایکشن لیا گیا ہے۔۔۔ شہریوں کو قانونی معاونت غلط فراہم کی جارہی ہے۔۔۔

پنجاب بار کونسل کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی ہوگی۔۔۔پنجاب بار کونسل

سیاسی جماعتیں یا شخصیات کا فین کلب |روزنامہ جموں و کشمیر|18اگست2022|جنید احمد شاہ (ایڈووکیٹ) راولپنڈی https://m.facebook...
18/08/2022

سیاسی جماعتیں یا شخصیات کا فین کلب
|روزنامہ جموں و کشمیر|18اگست2022|
جنید احمد شاہ (ایڈووکیٹ) راولپنڈی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=528955479230897&id=100063493496419

پاکستان کے سیاسی ماحول میں ملکی مسائل کے حل کے لیےآج تک جماعت کے حقیقی تصور کی بنیاد پر تنظیمی تشکیل اور اس کے کردار پر کبھی گفتگو ہی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کا نوجوانوں کو شعور دیا گیا ہے۔اس لیے کہ یہاں ہر پارٹی کسی نہ کسی شخصیت کا فین کلب ہے۔اسی کی فین فالونگ ہے۔ہر جگہ اسی شخصیت کا نام چلتا ہے اور اس شخصیت کے دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ جماعت مختلف گروہوں میں تقسیم ہوکر کمزور ہوجاتی ہے اور اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ریاست و مملکت کا نظام اس طرح نہیں چلایا جا سکتا ۔۔اقوام کی ترقی کا طویل سفر ایک منظم اور تربیت یافتہ جماعت کے ذریعے ہی طے ہوتا ہے وگرنہ کسی بھی شخصیت کے دنیا سے چلے جانےکے ساتھ ہی وہ سارا بیانیہ اور جدوجہد ختم ہو جاتی ہے۔

شخصیت کے نفسیاتی اَثرات کا بالکل انکار تو نہیں کیا جا سکتا لیکن انقلابات اور سماجی تبدیلیوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ہر لیڈر نے جماعتی طاقت اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے سے اپنی قوم کو زوال سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کیا۔

ہمارے ملک کا سیاسی نظام کسی خاص شخصیت کی اِنفرادی خوبیوں کی خوب تشہیر کر کے ہیرو اِزم کا تصور تو پیدا کرتا ہے لیکن سماجی تبدیلی کی سائنس اور اجتماعی تبدیلی کے درست تصور پر کبھی بات نہیں کرتا۔اس لیے آج ہمارے ہاں مختلف شخصیات کا تو خوب چرچا ہے،لیکن ایک حقیقی جماعت کا تصور ناپید ہے۔ایک حقیقی جماعت میں چند بنیادی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔

نصب العین: یعنی بنیادی نظریہ جس پر جماعت سازی کی جاتی ہے۔
فکری ہم آہنگی: جماعت کا تعلیمی و تربیتی نظام۔
عملی ہم آہنگی:جماعتی نظم و نسق اور ڈسپلن۔

انقلابات کی تاریخ کے مطالعہ سے منظم جماعت اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اس حوالے سے دورِحاضر میں چین کی مثال ہمارے سامنے ہےکہ چین کے انقلابی لیڈر ماؤزے تنگ نے سوشلسٹ نظریے کی بنیاد پر ایک منظم جماعت تیار کی اور اس کی وفات کے بعد اس کی تیار کردہ جماعت آج چین کو سپرپاور بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ماؤزے تنگ نے اپنی شخصیت کا فین کلب تیار نہیں کیا بلکہ آنے والے دور کی قیادت پیدا کی۔ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کی جدوجہد کا مطالعہ بھی جماعت سازی کی اہمیت کو واضح کرتا ہےکہ لیڈر کے دنیا سے جانے کے بعد انقلابی جماعت نے استعماری سازشوں کا مقابلہ کیا اور آج ایران پوری اسلامی دنیا کے 57 اسلامی ممالک کی صف میں پوری طاقت و قوت کے ساتھ امریکا کے مقابلے پر ڈٹ کر کھڑا ہے۔اگر امام خمینی کی شخصیت کا صرف فین کلب ہوتا تو استعماری حملوں کے پہلے جھٹکے میں ہی ملکی نظام زمین بوس ہوجاتا۔۔۔

اسی طرح ہمارے ہاں سیرت النبیﷺ پر شخصی بحث تو بہت کی جاتی ہے،لیکن ریاستِ مدینہ کے قیام کے حوالے سے اجتماعی اقدامات اور تصورات پر بہت کم بحث کی جاتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منظم اور تربیت یافتہ جماعت تیار کی جس جماعت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد قیصر و کسریٰ کی بین الاقوامی طاقتوں کا غلبہ توڑا اور دین اسلام کے عادلانہ اصولوں پر اپنا نظام قائم فرمایا ۔۔ اگر صرف شخصیت ہی سب کچھ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی جماعت سازی کا عمل نہ کرتے اور نہ ہی انکی تربیت فرماتے ۔۔ آج شاید ہمیں مکمل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام تک نہ معلوم ہوں لیکن بطور جماعت صحابہ انکی عظمت اور قدرو منزلت پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور کامیابی کا اولین راستہ ہے۔۔۔ہمارے ملک کے نظام کا یہ طے شدہ فیصلہ ہے کہ ملک میں موروثی اور خاندانی گروہ اور کسی نہ کسی شخصیت کا فین کلب تیار کرنا ہے لیکن قومی قیادت اور باشعور منظم جماعت پیدا نہیں ہونے دینی ہے۔

ملک کی دیگر جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے حوالےسے ایک فین کلب تو موجود ہے۔لیکن ایک منظم نظریاتی جماعت نہیں ہے۔اگرچہ تحریک انصاف نے دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں مروجہ نظام کی خامیوں کے بارے میں نوجوانوں میں آگہی پیدا کی اور نوجوانوں کو اس سیاسی نظام میں دلچسپی لینے کے لیے تیار کیاہے۔جو نوجوان قوت طویل عرصہ سے اس سیاسی کھیل سے کنارہ کر چکی تھی۔
بعدازاں جماعت کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب ملنےکےبعد مختلف مواقع پر مرکزی رہنما اپنی بے بسی کا اِظہار کرتے ہوئے کہتےہیں کہ "یہاں کی بیوروکریسی چلنے نہیں دے رہی"۔ "بغیر تیاری کے اقتدار میں کبھی نہیں آنا چاہیے"۔" ہمیں تو ڈیڑھ سال تک معیشت کی سمجھ ہی نہیں آئی"۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور چند دن قبل بانی جماعت کا تازہ ترین یہ ارشاد بھی سامنے آ چکا ہے کہ " 26 سال میں ہم نے تنظیم سازی پر کوئی توجہ نہیں دی ، میرا نظریہ میرے اپنے کارکنان تک کو نہیں معلوم اور اب ہمیں تنظیم سازی پر توجہ دینی چاہیے"۔۔

گویا اس سسٹم میں کوئی لیڈر چاہے وہ کتنا ہی بہادر اور باصلاحیت کیوں نہ ہو بغیر منظم جماعت کے معمول کی تبدیلیاں لانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔جب کہ ہمارے ملک کا مسئلہ رائج سرمایہ داری نظام ہےجو استحصال پر مبنی ہے اور اس نظام کو چلانے والا طبقہ استعماری طاقتوں کا آلہ کار ہے اور اس سیاسی کھیل کے ذریعے سے صرف آلہ کار بدلتے ہیں۔جب کہ ضرورت اس نظام کو بدلنے کی ہے۔اس کے لیے نوجوانوں کو سیاسی و تاریخی شعور بیدار کرنے اور ایک منظم جماعت تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔۔۔

اس وقت شخصیات ، مسائل اور جماعتوں کی مخالفت در مخالف میں حصہ لینا اپنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔۔۔ نظام سرمایہ داریت یہی تو چاہتا ہے کہ ملک کی نوجوان قوت کو غیر ضروری مباحث میں الجھا کر انکی طاقت کو ضائع کر دیا جائے تاکہ ہم بھی محفوظ رہیں اور یہ نوجوان طاقت بھی اپنے آپ کو منظم کرنے کی طرف متوجہ نہ ہو سکے ۔ اس وقت ضرورت صرف ایک بات کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نظام کی حقیقت کو سمجھیں ، اسکی چالوں پر غور کریں اور اسکے خلاف اپنے آپ کو منظم کریں۔۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے ۔۔ باقی تو سب کہانیاں ہیں۔۔۔

Address

Rawalpindi

Telephone

+923005572996

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Junaid Ahmed Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Junaid Ahmed Shah:

Shortcuts

Share