18/05/2026
لاہور ہائی کورٹ نے دیوانی مقدمہ میں ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلوں Concurrent Findings کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سائلین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
ذیل میں ماتحت عدالتوں کا موقف اور ہائی کورٹ کی طرف سے اس کی تردید (Rebuttal) کی تفصیل دی جا رہی ہے:
کیس کے بنیادی حقائق Brief Facts درج ذیل ہیں:
۱۔ متنازع جائیداد اور اس کی اصل ملکیت
جائیداد کی تفصیل: تنازع کی بنیاد 02 کنال 14 مرلہ اراضی تھی، جو موضع بنسریاں، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات میں واقع ہے۔
اصل مالکان: یہ زمین بنیادی طور پر مدعا علیہان نمبر 2 اور 3 (Respondents No. 2 & 3) کی ملکیت تھی۔
۲۔ مدعی (منور حسین) کا موقف اور دعویٰ
مدعی (منور حسین/Respondent No.1) نے سول کورٹ میں استقرارِ حق (Suit for Declaration) کا دعویٰ دائر کیا، جس میں اس نے درج ذیل بنیادی باتیں موقف کے طور پر اپنائیں:
زبانی خرید و فروخت کا دعویٰ:
مدعی کا کہنا تھا کہ اس نے یہ پوری 02 کنال 14 مرلہ زمین اصل مالکان سے ایک "زبانی سودے" کے تحت خریدی تھی۔
رقم کی ادائیگی اور قبضہ:
مدعی نے موقف اختیار کیا کہ اس نے سودے کی پوری رقم (Sale Consideration) ادا کر دی تھی، جس کے بعد زمین کا قبضہ اسے سونپ دیا گیا تھا۔ قبضہ ملنے کے بعد اس نے زمین پر چاردیواری اور ایک کمرہ تعمیر کیا، اور وہاں بجلی کا میٹر اور واٹر پمپ بھی لگوایا۔
انتقالِ اراضی میں رکاوٹ: مدعی کے مطابق، کل رقبے میں سے 13 مرلہ زمین کا انتقال (Mutation) اس وقت منظور نہیں ہو سکا تھا، کیونکہ اصل مالکان میں سے کچھ وہاں موجود نہیں تھے۔
مبینہ فراڈ کا الزام:
مدعی نے الزام لگایا کہ مدعا علیہ نمبر 4 (بشیر احمد)، جو کہ اصل مالکان کا مبینہ مختارِ عام (Attorney) تھا، نے سائلین کے مورثِ اعلیٰ (سردار خان) کے ساتھ ساز باز اور ملی بھگت کی۔ اس نے مدعی کے حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے اسی 13 مرلہ زمین کا تبادلہ (Exchange) سردار خان کے نام کر دیا، جس کا باقاعدہ انتقال ریونیو ریکارڈ میں انتقال نمبر 3264 اور 3265 (مورخہ 27.07.2004) کے ذریعے درج کروا دیا گیا۔
ریلیف کی استدعا:
مدعی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ زمین کا مالک قابض ہے، اس لیے سردار خان کے نام ہونے والے تبادلے کے ان دونوں انتقالات کو فراڈ، غیر قانونی اور کالعدم (Void) قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔
۳۔ سائلین (سردار خان کے ورثاء) کا جوابِ دعویٰ
سردار خان (جو دورانِ مقدمہ وفات پا گئے اور ان کے قانونی ورثاء/Petitioners کیس کا حصہ بنے) نے مدعی کے دعوے کو سخت چیلنج کیا اور درج ذیل حقائق سامنے لائے:
قانونی منتقلی کا تحفظ: سائلین کا موقف تھا کہ متنازع 13 مرلہ زمین اصل مالکان نے باقاعدہ قانونی طریقے سے، منظور شدہ سرکاری انتقالات (تبادلہ) کے ذریعے سردار خان کو منتقل کی تھی۔ چونکہ یہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کا حصہ ہے، اس لیے قانوناً اسے سچا تسلیم کیا جانا چاہیے۔
زبانی معاہدے کی تردید:
انہوں نے مدعی کے زبانی سودے اور رقم کی ادائیگی کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی سودا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔
اختیارِ سماعت کا فقدان (Lack of Lawful Authority): سائلین نے یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ جس وقت مدعی اصل مالکان کے مبینہ مختار (بشیر احمد) کے ساتھ زبانی سودے کا دعویٰ کر رہا ہے، اس وقت بشیر احمد کے پاس اصل مالکان کی طرف سے زمین بیچنے کا کوئی قانونی مختارنامہ (Power of Attorney) موجود ہی نہیں تھا۔ لہٰذا، ایک ایسا شخص جس کے پاس کوئی قانونی اختیار نہ ہو، وہ کسی دوسرے کو زمین کیسے بیچ سکتا ہے؟
ناقص دعویٰ:
سائلین نے اعتراض اٹھایا کہ مدعی نے اپنے دعوے میں زبانی سودے کی ضروری تفصیلات (جیسے سودے کی تاریخ، وقت، جگہ، طے شدہ رقم اور گواہوں کے نام) کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو کہ قانون کی نظر میں لازمی ہے۔
۴۔ تنازع کا نچوڑ
مختصر یہ کہ کیس کا بنیادی تنازع ایک طرف مدعی کے مبینہ زبانی سودے، بلا اختیار مختارِ عام سے لین دین اور زمین پر مادی قبضے کے گرد گھوم رہا تھا، جبکہ دوسری طرف سائلین کے حق میں ریونیو ریکارڈ میں درج باقاعدہ سرکاری انتقالات (Mutations) موجود تھے، جنہیں ہائی کورٹ نے آخر کار قانون کے مطابق درست اور بحال تسلیم کیا۔
5۔ ماتحت عدالتوں (Trial Court & Appellate Court) کے فیصلوں کی وجوہات
سول جج فرسٹ کلاس کھاریاں نے (15.12.2008) کو مدعی کے حق میں ڈگری جاری کی، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کھاریاں نے (22.06.2010) کو اس فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی بنیادی وجوہات درج ذیل تھیں:
گواہ (DW-1) کے بیان پر انحصار:
ٹرائل کورٹ نے بشیر احمد (DW-1) کے بیان کے کچھ حصوں پر انحصار کیا جس میں اس نے رقم کی وصولی اور مدعی کے قبضے کا تذکرہ کیا تھا۔
بارِ ثبوت کی منتقلی (Shifting of Burden of Proof): ماتحت عدالتوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ مدعی زمین پر قابض ہے اور ریونیو انتقالات کو چیلنج کر رہا ہے، اس لیے اب یہ سائلین (Defendants) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے انتقالات کی قانونی حیثیت اور شفافیت کو ثابت کریں۔
دعویٰ کی نوعیت:
عدالتوں نے مدعی کے دعوٰی برائے استقرارِ حق (Suit for Declaration) کو ہی تسلیم کر کے انتقالات کو منسوخ کر دیا۔
۳۔ ہائی کورٹ کی طرف سے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی تردید (Rebuttal by High Court)
لاہور ہائی کورٹ نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو قانون اور شہادتوں کی غلط تشریح (Misreading and Non-reading of Evidence) قرار دے کر مسترد کر دیا، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
الف۔ زبانی معاہدے میں ضروری تفصیلات کا غائب ہونا (Defective Pleadings)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ مدعی کا پورا کیس ایک مبینہ "زبانی معاہدے" پر قائم تھا۔
ہائی کورٹ کا اصول:
قانون (Order VI Rules 2 & 4 CPC) کے تحت اگر کوئی دعویٰ زبانی سودے پر مبنی ہو، تو اس میں سودے کی تاریخ، وقت، جگہ، گواہان کے نام اور طے شدہ رقم کی تفصیلی وضاحت لازمی ہے۔ مدعی کے دعوے (Plaint) میں یہ بنیادی تفصیلات مکمل طور پر غائب تھیں، جو کہ کیس کے لیے مہلک (Fatal) ہے۔
ب۔ مختارِ عام کے پاس قانونی اختیار کا نہ ہونا (Lack of Lawful Authority)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے بشیر احمد کے بیان کو ادھورا پڑھا۔
ہائی کورٹ کا اصول: ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ جس وقت بشیر احمد نے مدعی کے ساتھ مبینہ زبانی سودا کیا، اس وقت اس کے پاس اصل مالکان کی طرف سے کوئی "مختارنامہ" (Power of Attorney) موجود ہی نہیں تھا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے: "کوئی بھی شخص اپنی ملکیت اور اختیار سے بڑھ کر کسی کو حقوق منتقل نہیں کر سکتا"۔ بعد میں (سنہ 2004 میں) ملنے والا مختارنامہ ماضی کے کسی مبینہ زبانی سودے کو قانونی تحفظ نہیں دے سکتا۔
ج۔ بارِ ثبوت کا غلط منتقل کیا جانا (Wrong Burden of Proof)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: عدالتوں نے بارِ ثبوت غلط طور پر مدعا علیہان (Petitioners) پر ڈال دیا کہ وہ اپنے انتقالات کو سچا ثابت کریں۔
ہائی کورٹ کا اصول: قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 117 اور 118 کے تحت، جو شخص عدالت سے ریلیف مانگتا ہے اور کسی معاہدے کا دعویٰ کرتا ہے، اسے ہی سب سے پہلے اپنا کیس ثابت کرنا ہوتا ہے۔ مدعی زبانی معاہدے کو ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا، اس لیے سائلین پر یہ ذمہ داری عائد ہی نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس کے جھوٹے دعوے کو غلط ثابت کرتے۔
د۔ ریونیو ریکارڈ کو قانونی تحفظ (Presumption of Correctness)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے سائلین کے حق میں منظور شدہ سرکاری انتقالات (Mutation Nos. 3264 & 3265) کو بلاوجہ منسوخ کیا۔
ہائی کورٹ کا اصول: سرکاری ریونیو ریکارڈ میں درج انتقالات کے ساتھ قانوناً سچائی کا گمان وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک مدعی انتہائی ٹھوس، ناقابلِ تردید اور مضبوط شہادتوں کے ذریعے اسے جھوٹا ثابت نہ کر دے (جو وہ نہیں کر سکا)، محض قبضے یا مبہم باتوں کی بنیاد پر سرکاری ریکارڈ منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
ہ۔ دعوے کی نوعیت میں تضاد (Suit for Specific Performance vs. Declaration)
ہائی کورٹ کا اصول: مدعی کا مناسب علاج زبانی معاہدے کی تکمیلِ تعمیل (Suit for Specific Performance) کا دعویٰ دائر کرنا تھا، نہ کہ استقرارِ حق (Declaration) کا۔ ماتحت عدالتیں دعوے کی اس بنیادی اور فاؤنڈیشنل خامی کو خود سے درست کر کے کیس ازسرِنو تیار نہیں کر سکتی تھیں۔
6۔ ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ (Final Outcome)
لاہور ہائی کورٹ نے ان تمام قانونی نکات کی روشنی میں قرار دیا کہ:
ماتحت عدالتوں کے فیصلے قانون کی نظر میں پائیدار نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے شہادتوں کو پڑھنے میں سنگین غلطیاں کیں اور طے شدہ قانونی اصولوں کا غلط اطلاق کیا۔
یہ سول ریوائزن (Civil Revision) منظور (Allowed) کی جاتی ہے۔
ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلوں اور ڈگریوں کو کالعدم (Set Aside) قرار دیا جاتا ہے۔
مدعی (منور حسین) کا دعویٰ خارج (Dismissed) کیا جاتا ہے۔
سائلین کے حق میں کیے گئے تبادلے کے انتقالات نمبر 3264 اور 3265 بحال (Restored) کیے جاتے ہیں۔
اس فیصلے کو "Approved for Reporting" (نظیر کے طور پر شائع کرنے کی منظوری) قرار دیا گیا۔