Al Rahman LAW Associats

Al Rahman LAW Associats free legal assistance for poors.....

اگر میاں بیوی کے مابین کسی تحفہ (Gift) کا دیا جانا اور وصول کیا جانا فریقین کی جانب سے تسلیم شدہ (Admitted) ہو، تو ایسے ...
25/05/2026

اگر میاں بیوی کے مابین کسی تحفہ (Gift) کا دیا جانا اور وصول کیا جانا فریقین کی جانب سے تسلیم شدہ (Admitted) ہو، تو ایسے تحفہ کی واپسی یا اس کی مالیت کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ میں دائر کردہ دعویٰ قانوناً قابلِ سماعت نہیں ہوتا۔ چنانچہ admitted gifts کی ریکوری کے لیے دائر کیا گیا دعویٰ Order VII, Rule 11 C.P.C. کے اصولوں کے تحت ابتدائی مرحلہ پر ہی ناقابلِ سماعت قرار دے کر فوری طور پر خارج کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسا دعویٰ کسی قابلِ نفاذ حقِ دعویٰ (cause of action) کو جنم نہیں دیتا۔

Admitted gifts inter se spouses are not recoverable; therefore, a suit for recovery of such gifts before the Family Court is not maintainable and is liable to be rejected forthwith under the principles embodied in Order VII, Rule 11, C.P.C.

PLD 2026 Lahore 436میت کو ایک جگہ/قبر سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ WP No.3893/2024 Mst. Sheh...
20/05/2026

PLD 2026 Lahore 436

میت کو ایک جگہ/قبر سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
WP No.3893/2024
Mst. Shehnaz Bibi Vs. Magistrate Ist Class, Sahiwal, and others

پنجاب جنرل کلاز ایکٹ 1956 کی دفعہ 8 و  9  کا تعلق وقت کے حساب (Computation of time) سےاگر کسی ایکٹ یا قانون میں کوئی ایس...
17/05/2026

پنجاب جنرل کلاز ایکٹ 1956 کی دفعہ 8 و 9 کا تعلق وقت کے حساب (Computation of time) سے
اگر کسی ایکٹ یا قانون میں کوئی ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہو جو وقت کی پیمائش یا میعاد کو ظاہر کرے (جیسے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک، یا کسی خاص دن سے شروع ہو کر)، تو اس قسم کے وقت کا حساب لگاتے وقت پہلے دن کو شمار نہیں کیا جائے گا اور گنتی اگلے دن سے شروع ہو گی۔
لفظ "From" (سے) کا استعمال: دنوں کی کسی سیریز یا وقت کی کسی مدت کی گنتی کرتے وقت، اگر لفظ "From" استعمال کیا گیا ہو، تو اس کا مقصد پہلے دن کو نکالنا (Exclude کرنا) ہوتا ہے۔
لفظ "To" (تک) کا استعمال: اسی طرح، اگر دنوں کی سیریز یا وقت کی مدت کے لیے لفظ "To" استعمال کیا گیا ہو، تو اس کا مقصد آخری دن کو شامل کرنا (Include کرنا) ہوتا ہے
(Punjab Rented Premises Act, 2009)
کے سیکشن (2)22 کے تحت، کرایہ دار (Respondent) کو رینٹ ٹریبونل (Rent Tribunal) میں پہلی پیشی کے بعد 10 دن کا وقت "Leave to Contest"کے لئے دیا جاتا ہے
یا نوٹس کی اطلاع کے دس دن کے بعد یا پیش ہونے کے بعد 10 دن کے اندر درخواست دینی ہوتی ہے
درخواست ٹائم بارڈ ہونے کی بناء پر بیدخلی کی درخواست منظور ہوئی اور اپیل بھی خارج ہوئی اور ہائیکورٹ نے بھی ٹائم بارڈ ہونے کی نسبت رٹ پیٹیشن خارج کر دی
2026 pld 172 lahore

15/05/2026

2018 SCMR 1885

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ ہے جو سول اپیل نمبر 14-L آف 2013 (سیف الرحمن بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ) میں سنایا گیا۔ اس فیصلے میں عدالت نے فیملی کورٹس ایکٹ کے تحت اپیل کے حق کی وضاحت کی ہے۔

ابتدائی ڈگری: ایک خاتون (مدعیہ) نے جہیز کے سامان کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا۔ فیملی کورٹ نے صرف 25,000 روپےکی حد تک ڈگری جاری کی۔
پہلی اپیل: خاتون نے اس کم رقم کے خلاف اپیل کی، جس پر اپیلٹ کورٹ نے رقم بڑھا کر 4,00,000 روپےکر دی۔
ہائیکورٹ کا فیصلہ: شوہر نے اس اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائیکورٹ نے رقم کم کر کے 3,00,000 روپے کر دی لیکن اپیل کو قانونی طور پر درست قرار دیا۔
سپریم کورٹ میں موقف: شوہر کا موقف تھا کہ فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 14(2)(b) کے تحت، اگر ڈگری کی رقم مخصوص حد سے کم ہو تو اپیل دائر ہی نہیں ہو سکتی۔

سپریم کورٹ نے شوہر کی اپیل خارج کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات بیان کیے:
1. قانون کا مقصد (Beneficial Legislation)
عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو خواتین اور بچوں جیسے معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔
ایسے قوانین کی تشریح اس طرح ہونی چاہیے جس سے مظلوم فریق کو فائدہ پہنچے، نہ کہ ان کے حقوق ختم ہوں۔
2. اپیل کے حق پر پابندی کا اطلاق
عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 14(2) کے تحت اپیل پر پابندی صرف شوہر (مدعی علیہ)کے لیے ہے۔
اس پابندی کا مقصد یہ ہے کہ شوہر چھوٹی رقم کی ڈگریوں کو اپیلوں میں الجھا کر خاتون کو اس کے حق سے محروم نہ رکھے۔
3. بیوی کا حقِ اپیل.
عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کسی خاتون کا مہر یا جہیز کا دعویٰ جزوی طور پر منظور ہو یا بالکل خارج ہو جائے، تو اسے اپیل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
اگر بیوی اپنی ڈگری کی رقم سے مطمئن نہ ہو، تو وہ اسے بڑھانے کے لیے اپیل کرنے کا مکمل قانونی حق رکھتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خاتون کی اپیل قانونی طور پر درست تھی اور عدالت نے شوہر کی اپیل کو "بے بنیاد" قرار دے کر خارج کر دیا۔

> اگر فیملی کورٹ جہیز یا مہر کے دعوے میں بہت کم رقم مقرر کرے، تو بیوی کے پاس یہ قانونی حق ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف بڑی عدالت میں اپیل کرے، چاہے ڈگری کی رقم کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔

Mian khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

15/05/2026

اگر کسی ڈگری کے خلاف اپیل دائر ہی نہ کی جائے تو ایسی اپیل قانوناً قابلِ سماعت نہیں ہوتی۔

مزید یہ کہ اگرچہ اپیلیٹ کورٹ کے حکم پر اپیل کے دوران ڈگری تیار کر لی گئی ہو، لیکن اپیل کنندگان نے اسے ریکارڈ پر پیش نہیں کیا تاکہ ضابطہ دیوانی کے آرڈر XLI رول 1 کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

اسی طرح ڈگری تیار ہونے کے بعد بھی اپیل کنندگان نے اپنی اپیل میں کوئی ترمیم نہیں کی تاکہ باقاعدہ طور پر ڈگری کو چیلنج کیا جا سکے۔ لہٰذا ایسی اپیل برقرار نہیں رہ سکتی۔

⚖️ حوالہ جات:
PLD 2026 Lahore 404
PLJ 2025 Lahore 987

📘 مقدمہ:
C.R. No. 830-16
Syed Imtiaz Hussain Vs. Muhammad Hussain etc. Mian khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ عدالت صرف اُس دفعہ کی پابند نہیں ہوتی جو پولیس نے ایف آئی آر میں لگائی ہو۔ عدالت ایف آئی آ...
12/05/2026

یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ عدالت صرف اُس دفعہ کی پابند نہیں ہوتی جو پولیس نے ایف آئی آر میں لگائی ہو۔ عدالت ایف آئی آر اور تفتیش کے دوران جمع ہونے والے مواد کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بادی النظر میں کون سی دفعہ بنتی ہے۔

دفعہ 279، 320 اور 322 PPC تینوں کی نوعیت اور دائرہ الگ الگ ہے۔ بعض اوقات یہ طے کرنے کے لیے کہ کون سی دفعہ زیادہ مناسب ہے، مکمل شواہد اور حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ مرحلہ پر یہ حتمی فیصلہ کرنا ضروری نہیں کہ یہ معاملہ دفعہ 320 PPC کے تحت آتا ہے یا دفعہ 322 PPC کے تحت۔ یہ بات تفتیش اور بعد میں ٹرائل کورٹ کے سامنے آنے والے مواد کی بنیاد پر طے ہوگی۔

البتہ ضابطۂ فوجداری کے شیڈول دوم میں درج الفاظ “may arrest without warrant” کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ جرائم قابلِ دست اندازی پولیس ہیں، یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے اور تفتیش بھی کر سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم کو لازماً جیل بھیجا جائے یا اسے قبل از گرفتاری ضمانت نہ دی جائے۔

موجودہ ایف آئی آر میں شامل دفعہ 322 PPC شیڈول دوم کے مطابق ناقابلِ ضمانت جرم ہے، اس لیے قبل از گرفتاری ضمانت کا فیصلہ قانون کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہوگا۔

درخواست گزار کا مؤقف یہ ہے کہ دفعہ 322 PPC میں صرف دیت کی سزا ہے، قید کی سزا نہیں، اس لیے سزا سے پہلے اُسے گرفتار کرنا یا جیل میں رکھنا درست نہیں۔ اس معاملہ پر عدالتوں میں دو مختلف آراء موجود ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ یہ جرم ناقابلِ ضمانت اور قابلِ دست اندازی پولیس ہے، اس لیے پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے اور ملزم کو ضمانت ملنے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ صرف یہ بات کہ سزا دیت تک محدود ہے، رہائی کا حق پیدا نہیں کرتی۔

دوسری رائے یہ ہے کہ جب جرم کی سزا صرف دیت ہو تو مقدمہ ثابت ہونے سے پہلے کسی شخص کو جیل میں رکھنا گویا اُسے پہلے ہی سزا دینا ہے۔

تاہم عدالتیں بعد از گرفتاری ضمانت کے معاملات میں عموماً نرم رویہ اختیار کرتی ہیں کیونکہ دفعہ 322 PPC ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے ممنوعہ دائرہ میں شامل نہیں ہے۔

ہائیکورٹ سےبطوروکیل امیدوارنمبردار حق میں فیصلہ۔ممبربورڈکاریمانڈکاحکم برقرارخود بطور وکیل امیدوار نمبردار ہوں ۔۔مخالف ام...
09/05/2026

ہائیکورٹ سےبطوروکیل امیدوارنمبردار حق میں فیصلہ۔ممبربورڈکاریمانڈکاحکم برقرار
خود بطور وکیل امیدوار نمبردار ہوں ۔۔مخالف امیدوار کو سیکنڈ بلڈ میں 15 نمبر دیے گئے تھے جسکو ہائیکورٹ میں بذریعہ رٹ سیکنڈبلڈرول 17/ نوٹیفکیشن 20-4-2010کوچیلنج کیا جس پررپورٹڈ ججمنٹ 2023CLC825( Ahsan khan vs GOP) ہوئی ۔۔پھر ڈپٹی کمشنر اور کمشنر ساہیوال ڈویژن کے فیصلہ جات کے خلاف بورڈ میں نگرانی دائر کی جو ممبر بورڈ نے میری نگرانی منظورکرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساہیوال کو نئے سرے سے سماعت کرنے کا حکم دیا اور سیکنڈ بلڈ کے 15 نمبرمخالف امیدوار کے ختم کردےفیصلہ مورخہ 18-12-2025بعنوان (احسان خان بنام آفتاب حسین ) ممبر بورڈ لاہور (ریمانڈ) رپورٹیڈ ججمنٹ ہوا۔۔۔ جسمیں سیکنڈ اور فرسٹ بلڈ کی نمبرداری تقرری پر 20-4-2010 کے نوٹیفکیشن کےبعد پہلی بار تشریح کی گئی ہے کہ فرسٹ اور سیکنڈ بلڈ میں کونسے سے رشتہ دار آتے ہیں دونوں رپورٹڈ ججمنٹس تقرری نمبرداری پروکلا صاحبان کے ریونیو پریکٹس میں معاون ثابت ہو گے ۔۔

08/05/2026
(1) The relationship between an advocate and his client is of principal and agent (2) The authority of advocate ceases o...
07/05/2026

(1) The relationship between an advocate and his client is of principal and agent

(2) The authority of advocate ceases on death of client

(3) It is the professional duty of advocate to intimate the Court forthwith

(4) Concealment of death is against the professional etiquettes

(5) Advocate cannot continue without proper authorization of legal representatives of the deceased

(6) If the explanation of advocate is found unreasonable, the Court may refer the matter to the concerned Bar Council to initiate misconduct proceedings.
C.P.L.A.1006-K/2025
Ejaz Ahmed v. Israr-ul-Ebad Khan (Since Deceased) & others
Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar

یہ ایک مسلمہ، مروجہ اور مستحکم اصولِ قانون ہے کہ کوئی جانشین اپنے مورث سے بہتر عنوانِ ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جب خو...
06/05/2026

یہ ایک مسلمہ، مروجہ اور مستحکم اصولِ قانون ہے کہ کوئی جانشین اپنے مورث سے بہتر عنوانِ ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جب خود مورث نے اپنی زندگی میں متعلقہ انتقال (Mutation) کو چیلنج نہیں کیا تو بعد ازاں جانشینوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کئی دہائیوں بعد ایسے پرانے اور میعادِ مقررہ سے باہر دعوؤں کو بلا جواز دوبارہ زندہ کریں۔ معزز اپیلیٹ عدالت نے بجا طور پر قرار دیا ہے کہ جہاں مورثِ مفاد نے اپنی حیات میں کسی منفی اندراج کو چیلنج نہ کیا ہو، وہاں جانشین طویل اور غیر معمولی تاخیر کے بعد ایسا کرنے سے محروم رہتے ہیں۔

زیرِ نظر مقدمہ کی سب سے نمایاں اور فیصلہ کن خصوصیت غیر معمولی، طویل اور بلا توضیح تاخیر ہے۔ یہ ایک مسلمہ اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ متنازعہ انتقال سال 1929 میں منظور ہوا، جبکہ دعویٰ سال 2007 میں، تقریباً 78 سال کے طویل عرصہ کے بعد دائر کیا گیا۔ مزید برآں، یہ بھی تسلیم شدہ امر ہے کہ درخواست گزاران کے مورث ولی محمد اس انتقال کے بعد کئی دہائیوں تک حیات رہے، مگر انہوں نے اپنی زندگی میں اسے چیلنج نہیں کیا۔ اس غیر معمولی خاموشی اور تاخیر کے جواز میں نہ تو دعویٰ میں اور نہ ہی شہادت کے ذریعے کوئی معقول، مضبوط یا قابلِ قبول وجہ پیش کی گئی۔

یہ امر بھی بلا نزاع ہے کہ Limitation Act 1908 کے آرٹیکل 120 کے تحت دعویٰ برائے استقرارحق (Declaration) کی میعاد چھ سال جبکہ آرٹیکل 91 کے تحت کسی دستاویز کی منسوخی (Cancellation) کے لیے میعاد تین سال مقرر ہے۔ مقررہ مدت کے اندر اپنے حق کا دعویٰ نہ کرنا محض ایک تکنیکی کوتاہی نہیں بلکہ یہ معاملہ کی جڑ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قانون کا یہ بھی مستحکم اصول ہے کہ جو حقوق غیر معمولی طویل مدت تک استعمال نہ کیے جائیں، وہ ترک شدہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اصولِ تاخیر (Doctrine of Laches) پوری طرح لاگو ہوتا ہے، اور عدالتِ انصاف ایسے فریق کے حق میں مائل نہیں ہوتی جو اپنے حقوق پر طویل عرصہ تک غفلت کا مظاہرہ کرے۔ برعکس اس کے، میعادِ مقررہ کے گزرنے کے بعد مخالف فریق کے حق میں ایک مستحکم اور قابلِ تحفظ حق پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید برآں، اس مقدمہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ متنازعہ انتقال کی بنیاد پر متعدد انتقالات اور تصرفات وقوع پذیر ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں تیسرے فریقین، بشمول بعد کے خریداروں، کے حق میں قیمتی حقوق پیدا ہو چکے ہیں۔ ریونیو ریکارڈ میں طویل عرصہ سے موجود اندراجات درستگی کے قرینہ کے حامل ہوتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ کئی دہائیوں بعد ایسے اندراجات کو چیلنج کرنا جائیدادی تعلقات میں بے یقینی، عدم استحکام اور انتشار کو جنم دے گا۔ مزید یہ کہ ایسے دیرینہ اندراجات کو West Pakistan Land Revenue Act 1967 کی دفعہ 52 کے تحت قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔

اگرچہ بعض حالات میں وراثتی حقوق کو مسلسل نوعیت کا حامل سمجھا جا سکتا ہے، تاہم یہ اصول مطلق نہیں بلکہ تاخیر، رضا مندی (Acquiescence) اور فریقین کے طرزِ عمل جیسے منصفانہ عوامل کے تابع ہوتا ہے۔ موجودہ مقدمہ میں تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاخیر نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ کسی صورت قابلِ معافی نہیں، اور اسے وراثت کے پردے میں جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں، یہ بھی طے شدہ اصولِ قانون ہے کہ جہاں پنجاب مسلم پرسنل لا (شریعت) ایکٹ 1948 کے نفاذ سے قبل زرعی اراضی (Custom) کے تحت منتقل ہوئی ہو، وہاں ایسا شخص جس کے نام پر اراضی منتقل ہوئی، West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Application Act 1962 کی دفعہ 2-A کے تحت اس کا مطلق مالک تصور کیا جائے گا۔

آخر میں، یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ جہاں ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلوں میں اختلاف ہو، وہاں اپیلیٹ عدالت کی رائے کو فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ تمام اصول جان محمد بنام احمد بخش میں بھی مؤکداً بیان کیے گئے ہیں، جہاں معزز عدالتِ عالیہ نے طویل اور بلا جواز تاخیر کی بنیاد پر ایسے دعووں کو ناقابلِ قبول قرار دیا.C.R.697.D.2015۔.justice Raza Qurashi. Mian khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

04/05/2026

**سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: پولیس حراست میں میڈیا کے سامنے اعترافِ جرم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں**

سپریم کورٹ آف پاکستان نے **شاہد علی بنام ریاست** (PLD 2026 SC 126) کے اہم مقدمے میں ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ **پولیس حراست کے دوران کسی صحافی یا میڈیا کے سامنے کیا گیا اعترافِ جرم قانوناً ناگزیر (Inadmissible) ہے**۔,

اس فیصلے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

* **قانونِ شہادت کا آرٹیکل 39:** عدالت نے واضح کیا کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 39 کے تحت، پولیس کی تحویل میں دیا گیا کوئی بھی بیان تب تک عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ **مجسٹریٹ کی موجودگی میں** نہ دیا گیا ہو۔,,
* **میڈیا ٹرائل کی مذمت:** سپریم کورٹ نے **"میڈیا ٹرائل"** کے رجحان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے **آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق)** اور ملزم کی "بے گناہی کے تصور" کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔,,
* **پولیس کا دائرہ اختیار:** پولیس افسران کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ تفتیش کا اختیار کسی نجی شخص یا صحافی کو تفویض کریں یا انہیں ملزم تک رسائی دے کر اعترافی بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت دیں۔, ایسا کرنا تفتیشی افسر کی جانب سے **بدانتظامی (Misconduct)** تصور ہوگا۔,
* **ملزم کی بریت:** اس کیس میں ملزم کو محض میڈیا پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو کی بنیاد پر سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملزم کو **شک کا فائدہ** دے کر بری کر دیا ہے۔,,

یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ کسی بھی ملزم کو سزا صرف عدالت میں پیش کیے گئے مستند اور قانونی شواہد کی بنیاد پر ہی دی جا سکتی ہے، نہ کہ سنسنی خیز میڈیا بیانات پر۔,

Mian khalil ur rahman advocate watsap 0300 8671125

Address

Adeel Filling Station, Thalli Chowk, Bypass Road, Rahimyar Khan
Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Rahman LAW Associats posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al Rahman LAW Associats:

Share