19/09/2025
گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا جو ایک پاکستان کی تاریخ میں بڑا فیصلہ معلوم ہوتا ہے- البتہ پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ اپنے بین الاقوامی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دے۔ اس طرح کے دفاعی معاہدے پہلے بھی دنیا میں ہو چکے ہیں مثلاً نیٹو معاہدہ جس کی ارٹیکل پانچ کے مطابق ایک ریاست کے خلاف حملہ تمام نیٹو ریاستوں کے خلاف مانا جائے گا۔ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدہ صرف ایک Deterance ہے لیکن اس کو مکمل تحفظ نہیں سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ نیٹو معاہدہ میں کئی ممالک شامل ہیں اور پاکستان کے دفاعی معاہدہ میں کل دو ملک شامل ہیں۔ اسلامی راستوں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے دفاعی معاہدے اپس میں کریں تاکہ حملہ ور ریاستوں کو معلوم ہو کہ کسی ایک اسلامی ریاست کے خلاف حملہ تمام اسلامی ریاستوں کے خلاف سمجھا جائے گا۔