19/03/2026
کچھ لوگ سیاست کو تخت سمجھ بیٹھتے ہیں اور کچھ لوگ اسے خدمت کا میدان جانتے ہیں۔ فرق یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
منیر احمد خان کاکڑ کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ برسوں سے وکلاء کے درمیان کھڑے ہیں۔ نہ کوئی ذاتی مفاد، نہ کوئی ذاتی سودا۔ جس شخص نے ہمیشہ وکلاء کے حقوق کی بات کی ہو، جس نے کبھی اپنے لیے کچھ مانگنے کا رواج نہ ڈالا ہو، اس پر الزام تراشی دراصل اس معاشرے کی وہ پرانی بیماری ہے جس میں قد آور درختوں پر ہی پتھر زیادہ پھینکے جاتے ہیں۔
ان کے مدمقابل صف آراء ہونے والے لوگ سیاسی اور اخلاقی طور پر انتہائی بونے اور کم ظرف ثابت ہوئے ہیں۔ جب انسان کے پاس دلیل ختم ہو جائے اور مدمقابل کے دامن پر کوئی داغ نہ ملے، تو وہ ذاتیات کی نچلی سطح پر اتر آتا ہے۔
لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کردار کی بلندی کے سامنے، حسد کے مارے بونوں کی سازشیں کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
خدمت تو منیر لالا کے ڈی این اے میں ہے جسے کوئی سازش نہیں نکال سکتی۔ یہ کم ظرف اور حاسدین اپنی خفت مٹانے کے لیے یونہی چیختے اور ماتم کرتے رہیں گے، لیکن یہ شخص بنا رکے، بنا جھکے، وکلاء کی فلاح اور خدمت کا اپنا یہ سفر ہر حال میں جاری رکھے گا۔