LAW And Associates

LAW  And Associates law of Pakistan

23/08/2026

PLD 2024 SC 843
نابالغ ملزم کی ضمانت کے موضوع پر سپریم کورٹ کا رہنما فیصلہ

A bare reading of the provisions of subsections (4) and (5) of Section 6 of the Juvenile Justice System Act 2018 shows that Section 6(4) of the 2018 Act provides that where a juvenile of more than sixteen years of age is arrested or detained for a heinous offence, he may not be released on bail if the Juvenile Court is of the opinion that there are reasonable grounds to believe that such juvenile is involved in the commission of a heinous offence. While, Section 6(5) of the 2018 Act provides that any juvenile who has been detained for a continuous period exceeding six months and whose trial has not been completed shall be released on bail, provided that the delay in the conclusion of the trial has not been occasioned by an act or omission of such juvenile.

It is thus evident that while Section 6(4) deals with the matter of bail on merits, while Section 6(5) provides for a distinct and separate ground of bail, namely, the delay in the conclusion of the trial of the juvenile. It is also important to underline that since both ‘minor offence’ and ‘major offence’ are treated as bailable under Section 6(3), the ground of delay in the(Naeem)conclusion of the trial provided by Section 6(5) for grant of bail applies solely to juveniles detained for a ‘heinous offence’.Therefore, post-arrest bail is to be granted as a matter of right to a juvenile detained for a heinous offence, regardless of his age, whether above or below sixteen years, provided the prerequisites of Section 6(5) are fulfilled.

The 2018 Act is a beneficial legislation that favors juvenile offenders. It not only reduces the period for granting bail on the statutory ground of trial delay for juveniles detained pending trial under the previous law, i.e., the Juvenile Justice System Ordinance, 2000 (“2000 Ordinance”), from one year to six months but also removes the disqualification of having a previous criminal record for bail on this ground. Unlike the 2000 Ordinance or Section 497 of the Criminal Procedure Code, 1898, the 2018 Act does not(Naeem) impose any other statutory disqualifications for granting bail to juveniles on the ground of delay in the conclusion of the trial. The subsequent ameliorative and benevolent legislation, i.e., the 2018 Act, reflects the legislature's intent to ensure that the trial of a juvenile is concluded within six months of his detention, and any delay beyond this period entitles the juvenile to be released on bail. Furthermore, since the denial of bail and detention of an accused pending trial curtail his fundamental rights to liberty, fair trial and dignity guaranteed by Articles 9, 10-A and 14 of the Constitution, statutory provisions on bail matters, such as Section 6(5) of the 2018 Act, must be interpreted in a manner that is progressive and expansive of these rights.
The nature of the offence is not a valid ground to withhold bail under Section 6(5) of the 2018 Act; in fact, this provision only applies to heinous offences, as other offences are bailable under Section 6(3) of the 2018 Act.

The High Court has also erred in law by attributing the delay in concluding the trial to the petitioner, who had filed an application for determination of his age under Section 8 of the 2018 Act, which took time. It is crucial to emphasize that the initial duty to determine the age of an accused who appears or claims to be a juvenile lies with the police. When the police fail in (Naeem)this duty, it passes on to the court. Therefore, the time spent by the court in making this determination constitutes an act of the court, which cannot be construed as delay caused by the petitioner in the trial, thereby depriving him of his right to bail on the statutory ground of delay.So far as the delay caused by the frequent absence of the co-accused during trial is concerned, the same cannot be attributed to the petitioner as one is responsible for his own acts or omissions, not of others.
Crl.P.L.A.80-P/2024

ضمانت (Bail) کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 3 اہم فیصلے: منشیات (9c)، اقدامِ قتل (324) اور اسمگلنگ (Customs)​1. منشیات کیس (9...
23/08/2026

ضمانت (Bail) کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 3 اہم فیصلے: منشیات (9c)، اقدامِ قتل (324) اور اسمگلنگ (Customs)

​1. منشیات کیس (9c CNSA): ویڈیو ریکارڈنگ اور غیر جانبدار گواہوں کے بغیر ضمانت کا اصول

​سائٹیشن: 2025 SCMR 721 SUPREME-COURT

​عنوان: محمد عابد حسین بنام ریاست
​متعلقہ قوانین: کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 (Sections 497, 103, S.9(c)) اور قانونِ شہادت آرڈر 1984 (Article 164)
​تفصیلی خلاصہ:
ملزم کو 1100 گرام ہیروئن کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پولیس تفتیش کے دوران برآمدگی کے وقت نہ تو کوئی ویڈیو ریکارڈنگ بنائی گئی اور نہ ہی جگہ کے کسی مقامی یا غیر جانبدار شخص کو بطور گواہ شامل کیا گیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جدید ٹیکنالوجی (ویڈیو/تصاویر) کا استعمال صرف ایک کارروائی نہیں بلکہ پولیس کی جانب سے غلط بیانی یا جھوٹے مقدمات سے عام شہریوں کو بچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایسے سنگین مقدمات میں پراسیکیوشن پر فرض ہے کہ وہ مضبوط ثبوت پیش کرے۔ محض پولیس اہلکاروں کی گواہی پر ملزم کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا ناانصافی ہے۔ اگر بعد میں ملزم بری ہو جائے تو اس کی بلاوجہ قید کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت (Bail After Arrest) منظور کر لی۔

​2. اقدامِ قتل (324 PPC): ہتھیار برآمد نہ ہونے اور "مزید تفتیش" پر قبل از گرفتاری ضمانت

​سائٹیشن: 2025 SCMR 629 SUPREME-COURT

​عنوان: محمد سعید بنام ریاست

​متعلقہ قوانین: پاکستان پینل کوڈ (Sections 324, 337F(ii))، آئینِ پاکستان (Article 185(3)) اور ضابطہ فوجداری (Section 498)
​تفصیلی خلاصہ:
اس مقدمے میں مدعی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت ملزم کو قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest bail) دی گئی تھی۔ واقعہ اقدامِ قتل اور ضربات کا تھا۔ کیس میں فریقین کی جانب سے دوطرفہ موقف (Cross-version) سامنے آیا تھا۔
تفتیش کے دوران واقعہ کی جگہ سے گولیوں کا کوئی خالی خ*ل (Crime Empty) برآمد نہیں ہوا تھا، اور جرم میں استعمال ہونے والا مبینہ ہتھیار بھی پولیس پہلے ہی اپنے قبضے میں لے چکی تھی۔ اس لیے ملزم سے مزید کچھ برآمد ہونا باقی نہیں تھا۔ ہائی کورٹ نے درست نقطہ اٹھایا کہ یہ معاملہ "مزید تفتیش" (Further Inquiry) کے زمرے میں آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن کے پاس ملزم کو جرم سے براہ راست جوڑنے کے لیے کافی ثبوت نہیں ہیں، لہٰذا ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق تھا اور اپیل کی درخواست خارج کر دی گئی۔

​3. اسمگلنگ کیس (Customs Act): خاتون ملزمہ کی ضمانت کا قانونی حق

​سائٹیشن: 2025 SCMR 432 SUPREME-COURT

​عنوان: آمنہ ناز بنام ریاست

​متعلقہ قوانین: کسٹمز ایکٹ 1969، امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 1950، آئینِ پاکستان (Article 185(3)) اور ضابطہ فوجداری (Section 497(1) - First Proviso)
​تفصیلی خلاصہ:
خاتون ملزمہ کو ایئرپورٹ پر غیر ملکی موبائل فون لانے (اسمگلنگ) کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور کیس کا چالان بھی پیش کیا جا چکا تھا۔
عدالت نے وضاحت کی کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے پہلے تحفظ (First Proviso) کے تحت خاتون ملزمہ کی ضمانت کا جائزہ نچلی عدالتوں کو ترجیحی بنیادوں پر لینا چاہیے تھا، جو کہ نہیں لیا گیا۔ کیس کے تمام ثبوت پولیس پہلے ہی جمع کر چکی تھی اور خاتون سے جیل میں مزید تفتیش کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ حتمی عدالتی فیصلے سے قبل کسی بھی خاتون کو جیل میں رکھنا اسے بغیر ججمنٹ کے سزا دینے کے مترادف ہے۔ اسی نقطے کی بنیاد پر عدالت نے خاتون ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی۔

22/08/2026

قانون شہادت آرڈر کے چند اہم آرٹیکلز

```Article 5: Communication During Marriage```
_کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دوسرے شخص کے راز افشاں کرے جس سے اسکی شادی ہوئی ہو۔_

```Article 38: Confession To Police Officer not to be Proved```
_پولیس کے سامنے دی جانے والی شہادت (اقبال جرم) کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔_

```Article 44: Accused Person to be Laible to Cross-Examination```
_ملزم کو جرح کا حق حاصل ہے۔_

```Article 59: Opinion of Expert```
_عدالت کسی ٹیکنیکل معاملہ وغیرہ کے لیے اس (متعلقہ) شعبہ کے ماہر کی رائے لے سکتی ہے، جیساکہ میڈیکل وغیرہ کے بارے میں ڈاکٹر سے رائے لینا وغیرہ۔_

```Article 67: In Criminal Cases Previous Good Character is Relevant```
_فوجداری مقدمات میں اگر ملزم کا سابقہ ریکارڈ اچھا ہوگا تو ملزم کو اسکا فائدہ دیا جائے گا۔_

```Article 71: Oral Evidence must be Direct```
_زبانی شہادت کا براہ راست ہونا ضروری ہے۔_

```Article 73: Primary Evidence```
_پرائمری شہادت سے مراد اصل کاغذات عدالت میں پیش کرنا ہے۔_

```Article 74: Secondry Evidence```
_سیکنڑری شہادت سے مراد پرائمری شہادت کے علاوہ کوئی بھی شہادت ہے۔ جیساکہ اصل کاغذات کی فوٹو کاپی وغیرہ۔_

```Article 85: Public Documents```
_تمام وہ کاغذات جو سرکاری دفاتر، پٹوار خانہ، پولیس روز نامچہ اور عدالتی فائلیں وغیرہ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جس کا مشاہدہ پاکستان کا ہر شہری کرسکتا ہے۔_

```Article 86: Private Documents```
_مذکورہ بالا کاغذات کے سوا باقی ہر قسم کے کاغذات پرائیویٹ کاغذات ہیں۔_

```Article 114: Estoppel```
_اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی بات بندہ عدالت میں کوئی بیان دے دے تو اپنے اس بیان سے مکر نہیں سکتا۔_

```Article 117: Burdun ofy Proof```
_اس سے مراد جو بھی شخص عدالت میں کوئی مقدمہ پیش کرتا ہے تو اسکو ثابت کرنا بھی اسی شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔_

```Article 136: Leading Questions```
_ایسے سوالات جس میں گواہ کو صرف ہاں یا نا میں جواب دینا ہوتا ہے۔_

```Article When Leading Question may by Asked```
_لیڈنگ سوالات جرح میں کہے جا سکتے ہیں۔_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دستاویزات جو پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتے ہیں
قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق مندرجہ ذیل کاغذات پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتے ہیں

Passport
قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق پاسپورٹ بھی پبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتا ہے

Roznamcha Waqiati

قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق روزنامچہ واقعاتی بھی ہبلک ڈاکومنٹ کی تعریف میں آتا ہے

Register of birth

قانون شہادت کے آرٹیکل 85 کے مطابق فوتگی و پیدائشی رجسٹر بھی ہبلک ڈاکومنٹ شمار ہوگا

اسکے علاوہ عدالتی فیصلہ جات، نکاح نامہ ،سرکاری محکمہ کے آمدن وخرچ کا ریکارڈ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جنکی نقول آرٹیکل 87 کے تحت ہر شہری وصول کرسکتا ہے. مختلف قسم کے ثبوت جو آپ کو قانونی کیریئر میں نظر آئیں گے

آپ نے شاید ان شرائط میں سے کچھ اپنے پسندیدہ سچے جرم کی دستاویزی فلموں یا کورٹ روم ڈراموں میں سنا ہو ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مطلب کیا ہے؟ بہت سی مختلف قسم کے ثبوتوں کو سمجھنے کے لئے اپنی دھوکہ دہی پر اس پر غور کریں۔

1. براہ راست ثبوت

عام طور پر ، ثبوت کی دو بنیادی اقسام ہیں: براہ راست اور حالات۔ براہ راست ثبوت ، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ، وہ ثبوت ہے جو مدعا علیہ کو براہ راست اس جرم سے جوڑتا ہے جس کے لئے وہ بغیر کسی مداخلت کی مقدمہ چل رہا ہے۔ ایک عام مثال عینی شاہد کی حلف برداری ہوگی۔

2. موضع ثبوت

دوسری طرف ، صورت حال کا ثبوت وہ ثبوت ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرد جرم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ، جب کہ براہ راست شواہد میں گواہ شامل ہوسکتا ہے جس میں مدعا علیہ کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھتا ہو ، صورت حال کا ثبوت گواہ ہوسکتا ہے کہ مدعا علیہ کسی جرم کے منظر سے بھاگتے ہوئے دیکھ رہے ہوں۔ کسی بھی صورت حال میں ، اس طرح کے ثبوتوں کی ایک بڑی تعداد کو کوئی اثر مرتب کرنے کے لئے مرتب کیا جانا چاہئے۔

3. جسمانی ثبوت

اصل ثبوت بھی کہا جاتا ہے ، جسمانی شواہد سے مراد وہ مادی شے ہیں جو معاملے میں کردار ادا کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام طور پر جسمانی شواہد میں کسی جرم کے موقع پر پائی جانے والی اشیاء پر مشتمل ہوگا ، چاہے یہ ممکنہ ہتھیار ہو ، جوتوں کا پرنٹ ہو ، ٹائر کے نشان ہوں یا یہاں تک کہ کپڑے کے ٹکڑے سے مائنسول ریشے ہو — شاید مجرم نے پہنا ہوا لباس کا ایک شے۔

4. انفرادی جسمانی ثبوت

جسمانی ثبوت کی چھتری میں ثبوت کی دو الگ الگ قسمیں ہیں: انفرادی اور طبقاتی ثبوت۔ انفرادی خصوصیات کے حامل شواہد میں جسمانی خصوصیات موجود ہیں جو ایک فرد کے وسیلہ سے منفرد ہیں۔ انفرادی شواہد کی مثالوں میں انگلیوں کے نشانات ، ڈی این اے یا فائر شدہ گولی پر مارنے والے نشان شامل ہیں۔

5. طبقاتی جسمانی ثبوت

طبقاتی خصوصیات کے ساتھ جسمانی شواہد میں ایسی خصوصیات ہیں جو کسی گروپ کے ساتھ وابستہ ہوسکتی ہیں۔ اس طرح کے ثبوت عام طور پر مشتبہ افراد ، اسلحہ یا اس طرح کے تالاب کو تنگ کرنے میں مدد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ کلاس ثبوت کی مثالوں میں خون کی قسم ، جوتے کے کسی خاص برانڈ کے چلنے کے نمونے یا آتشیں اسلحے کا میک اپ اور ماڈل شامل ہیں۔

6. فارنسک ثبوت

سائنسی ثبوت کے طور پر بھی کہا جاتا ہے ، فارنسک ثبوت اکثر مجرمانہ قانونی چارہ جوئی میں سب سے مددگار اقسام میں سے ہیں۔ عام طور پر ، سائنسی ثبوت وہ ثبوت ہے جو علم پر مبنی ہے جو سائنسی طریقہ استعمال کرکے تیار کیا گیا ہے۔ ایسے ہی ، قابل قبول فرانزک شواہد کی بنیاد پر قیاس ، جانچ اور عام طور پر سائنسی برادری کے اندر قبول کیا گیا ہے۔ اس میں ڈی این اے میچنگ ، فنگر پرنٹ کی شناخت ، بالوں کا ثبوت ، فائبر کے ثبوت اور بہت کچھ شامل ہے۔

7. ٹریس ثبوت

سیدھے الفاظ میں ، جب دو چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کریں تو ٹریس ثبوت تیار ہوجاتا ہے۔ ٹریس شواہد کی مثالوں میں گن شاٹ کی باقیات ، بال ، ریشے ، مٹی ، لکڑی اور جرگ شامل ہیں۔ اس طرح کے ثبوت تفتیش کاروں کو مدعا علیہ اور / یا شکار کو باہمی جگہ سے جوڑنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

8. تعریفی ثبوت

ہم ٹی وی پر ایک عام کمرہ عدالت والے ڈرامے میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ شہادت کا ثبوت ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی گواہ کو موقف کے مطابق جج کے سامنے بولنے کے لئے بلایا جاتا ہے اور حلف کے تحت جیوری کی حیثیت سے۔ گواہی کے گواہوں کو مقدمے کی سماعت میں استغاثہ اور دفاع دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب استغاثہ کے ذریعہ استغاثہ کے گواہوں سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو ، اسے براہ راست معائنہ کہا جاتا ہے۔ جب بعد میں ان سے دفاعی وکیلوں سے پوچھ گچھ ہوتی ہے تو ، اسے کراس معائنہ کہتے ہیں۔ جب دفاعی گواہوں کے کردار کو الٹ کیا جاتا ہے تو یہی بات پیش آتی ہے۔

9. ماہر گواہ کے ثبوت

زیادہ تر تمام عدالتیں گواہوں کو ان کی ذاتی رائے کی بنیاد پر گواہی دینے سے روکتی ہیں — یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس گواہ کے پاس ماہر ثبوت ہیں۔ ماہر گواہوں کو اپنی مہارت کے شعبے میں معاملات کے بارے میں گواہی دینے کی اجازت ہے۔ اس میں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں گواہی دینے والا فرانزک تجزیہ کار ، ایک ڈاکٹر ایکس رے کے سیٹ کے تجزیہ کے بارے میں گواہی دینے والا یا فنگر پرنٹ تجزیہ کار کسی جرم منظر یا ہتھیار سے اٹھائے گئے پرنٹس سے متعلق نتائج کی گواہی دیتا ہے۔

10۔ڈیجیٹل ثبوت

ہماری تکنیکی طور پر منسلک دنیا میں ، ڈیجیٹل شواہد انتہائی اہم ہوگئے ہیں ، کیوں کہ کمپیوٹر ڈیٹا جرائم کی ایک بڑی تعداد کو چھوڑ سکتا ہے۔ ڈیجیٹل شواہد میں کوئی بھی متعلقہ معلومات شامل ہے جو بائنری شکل میں اسٹور یا منتقل ہوتی ہے۔ اس میں کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو ، ایک سیل فون ، فلیش ڈرائیو اور اس طرح کی کوئی چیز بھی شامل ہے۔ قبل ازیں ای جرائم کے قانونی چارہ جوئی میں مکمل طور پر استعمال ہوتا تھا ، اب ڈیجیٹل شواہد کا استعمال وسیع پیمانے پر جرائم پراسیکیوشن میں کیا جاتا ہے ، ای میل مواصلات ، ٹیکسٹ میسجز اور سیل فون لوکیشن جیسی چیزوں کی روشنی میں۔

11. دستاویزی ثبوت

دستاویزی ثبوت کا مناسب طور پر نام ، دستاویزات سے متعلق دستاویزات میں یا موجود کسی بھی متعلقہ ثبوت سے مراد ہے۔ اس میں ایک دستخط شدہ معاہدہ ، عمل یا وصیت شامل ہوسکتی ہے۔ کسی عدالتی مقدمے میں داخل ہونے کے ل all ، تمام دستاویزی ثبوتوں کو مستند ہونا ضروری ہے۔

12. مظاہرے کے ثبوت

مظاہرے کے ثبوت کی چھتری میں بہت سے مختلف عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ حقائق کو ظاہر کرنے یا سمجھانے کے لئے آزمائش میں استعمال ہونے والی کوئی بھی چیزیں ، تصاویر ، ماڈل یا دوسرے آلات مظاہرے کا ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔

13. خصوصیت کا ثبوت

کسی شخص کے متعلقہ معاشرے میں ان کی ساکھ کی بنیاد پر اخلاقی موقف کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہونے والے شواہد کو چہرہ کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، ایک خاص گواہ وہ شخص ہے جو کسی اور کی جانب سے عدالت میں گواہی دیتا ہے تاکہ وہ ان کے مثبت یا منفی کردار کی بات کرے۔

14. عادت کے ثبوت

اگرچہ پروانسیٹی ثبوت — یا یہ ثبوت کہ ماضی میں برے سلوک میں ملوث شخص court عام طور پر عدالت کے معاملات میں قابل اعتنا نہیں ہے ، لیکن عادت کے ثبوت اس اصول کی استثناء کے طور پر قابل اعتراف ہیں۔ عادت کے ثبوت سے مراد کسی شخص کے مخصوص حالات میں دہرائے جانے والے ردعمل کے ثبوت ہیں۔ یہ عدالتی مقدمات میں استعمال کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ شخص اسی طرح کی صورتحال میں کیسے کام کرے گا۔

15. ثبوت سماعت

یہ سچ ہے کہ سماعت کے شواہد سے متعلق قواعد دائرہ اختیار سے مختلف ہیں ، لیکن عام طور پر یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ناقابل سماعت رہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سماعت کے ثبوت کسی مقدمے کی سماعت کے دوران زیر بحث آنے والے معاملے کے سلسلے میں متعلقہ فریق کے ذریعہ عدالت سے باہر بیان بیان کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے کیونکہ دوسرے فریق کی طرف سے اس سوال پر غور کرنے والے شخص کی جانچ پڑتال کرنے سے قاصر ہے۔

16. ثبوت کی تصدیق

پہلے سے موجود شواہد کو مضبوط بنانے ، شامل کرنے ، توثیق کرنے یا اس کی تصدیق کرنے کے لئے استعمال ہونے والے شواہد کو مربوط ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کسی مقتول کی گواہی اپنے ذاتی تجربے کی تکرار کرتی ہے تو ، اس کی گواہی کے مختلف پہلوؤں کی تصدیق کرکے اپنے دعووں کو دبانے کے ل cor اکثر ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔

17. عذر ثبوت

مقدمے کی کارروائی کے دوران ، دفاعی ٹیمیں اکثر ایسے شواہد پیش کریں گی جو مدعا علیہ کے مبینہ اقدامات یا ارادوں کے بارے میں معقول شبہات کا جواز پیش کرنے ، عذر کرنے یا تعی .ن کرنے کا کام کرتی ہیں۔ اسے استثناءی ثبوت کہا جاتا ہے ، اور یہ عام طور پر یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ قصوروار نہیں ہے۔ جب استغاثہ جان بوجھ کر ممکنہ عذر کے ثبوت کو روکیں تو ، یہ بریڈی رول کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

18. قابل قبول ثبوت

بہت سی مختلف قسم کے ثبوتوں کے درمیان ، دو بنیادی قسمیں ہیں جو عدالت کے مقدمے کے نتائج کو بہت زیادہ متاثر کرے گی: قابل قبول اور ناقابل تسخیر ثبوت۔ عام طور پر ، ان تمام شواہد کو جو باضابطہ طور پر کسی جج یا جیوری کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہو ، قابل اعتراف ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ مقدمے کی سماعت سے قبل جج کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ کوئی خاص ثبوت شامل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

19. ناقابل تسخیر ثبوت

اس کے برعکس ، جج جو فیصلہ کرتے ہیں کہ جج جیوری کے سامنے پیش نہیں ہوسکتے وہ ناقابل قبول شہادت سمجھا جاتا ہے۔ ناقابل تسخیر ہونے کے ثبوت کو سمجھنے کی وجوہات میں مندرجہ ذیل شامل ہوسکتے ہیں: یہ غلط طریقے سے حاصل کیا گیا تھا ، یہ تعصب ہے ، یہ معاملے سے متعلق نہیں ہے یا یہ سماعت ہے۔

20. ناکافی ثبوت

عدالتی معاملات میں ، استغاثہ ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت کے بوجھ کو پورا کرے — یا یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو کسی معقول شک سے بالاتر ثابت کریں۔ ثبوت کے بوجھ کو پورا کرنے میں ناکام ہونے والے ثبوت کو ناکافی ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ، جج دفاع کی طرفداری پیش کرنے سے پہلے ہ

18/08/2026

سزائے موت (Capital Punishment) کے cases میں متضاد عینی شہادت، FIR میں عدم نامزدگی، شریک ملزمان کی بریت، injured witness کی شہادت، اور benefit of doubt کے اصولوں کے حوالے سے نہایت اہم فیصلہ۔

قانونی نکات (Legal Propositions)

1۔ سنگین اور لرزہ خیز جرم بھی ناقابلِ اعتماد شہادت کو قابلِ اعتماد نہیں بنا سکتا

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرم خواہ کتنا ہی سنگین، سفاکانہ اور دل دہلا دینے والا ہو، عدالت جذبات سے متاثر ہو کر سزا نہیں دے سکتی۔

عدالت کا بنیادی فرض یہ دیکھنا ہے کہ:

> کیا استغاثہ نے ملزم کا جرم بلا شک و شبہ (beyond reasonable doubt) ثابت کیا ہے؟

لہٰذا heinousness of offence، قابلِ اعتماد شہادت کا متبادل نہیں بن سکتی۔

---

2۔ شک کی بنیاد پر کسی شخص کو سزا دینا قانوناً جائز نہیں

عدالت نے بالخصوص اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی شخص پر توہینِ قرآن کا محض الزام یا شک ہو تو بھی کسی فرد یا ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں۔

قانونی طریقہ یہ ہے کہ معاملہ ریاستی اداروں کے سپرد کیا جائے اور due process of law کے مطابق کارروائی ہو۔

یہ اصول اقلیتی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی نہایت اہم ہے۔

---

3۔ FIR اور عینی شہادت میں بنیادی تضاد ہو تو استغاثہ کا مقدمہ مشکوک ہوجاتا ہے

اس مقدمے میں FIR میں سات افراد کو مقتولین کو بھٹے کی آگ میں پھینکنے کا مخصوص کردار دیا گیا، لیکن بعد میں نجی عینی گواہوں نے ان میں سے چھ افراد کو بری الذمہ قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس صورتحال نے FIR کی کہانی کی بنیاد ہی کو شدید متاثر کر دیا۔

اصول:

اگر FIR کی بنیادی کہانی بعد کی شہادت سے خود prosecution witnesses ہی کے ذریعے متصادم یا مسترد ہوجائے تو عدالت کو conviction برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور آزادانہ corroboration درکار ہوگی۔

---

4۔ ایک ہی شہادت سے کچھ ملزمان کو جھوٹا ملوث قرار دے کر باقی کو سزا نہیں دی جاسکتی، جب تک آزادانہ تائید موجود نہ ہو

یہ اس فیصلے کا اہم ترین قانونی اصول ہے۔

اگر prosecution witnesses نے ایک ہی واقعہ، ایک ہی کردار اور ایک ہی شہادت کی بنیاد پر متعدد ملزمان کو نامزد کیا، مگر عدالت نے انہی گواہوں کی شہادت پر بعض ملزمان کو بری کردیا، تو باقی ملزمان کے خلاف وہی شہادت بلا کسی independent corroboration کے استعمال نہیں کی جاسکتی، خصوصاً جب ان کے خلاف کوئی الگ اور مضبوط شہادت موجود نہ ہو۔

سپریم کورٹ نے اس اصول کے لیے:

Akhtar Ali v. The State (2008 SCMR 6)

Muhammad Pervaiz v. The State (PLD 2019 SC 592)

Liaqat Ali v. The State (2021 SCMR 455)

Shaukat Hussain v. The State (2024 SCMR 929)

پر reliance کیا۔

---

5۔ شریک ملزمان کی بریت کا فائدہ صرف اسی صورت میں ملے گا جب ملزم کا کیس distinguish نہ ہوتا ہو

یہ کہنا کافی نہیں کہ:

"میرے شریک ملزمان بری ہو گئے ہیں، لہٰذا مجھے بھی بری کیا جائے۔"

اصل سوال یہ ہے:

> کیا موجودہ ملزم کے خلاف کوئی ایسی independent incriminating evidence موجود ہے جو اسے بری ہونے والے ملزمان سے ممتاز کرتی ہو؟

اس کیس میں سپریم کورٹ نے پایا کہ موجودہ تینوں petitioners کا case بھی prosecution کی اسی ناقابلِ اعتماد شہادت پر قائم تھا، اس لیے ان کا کیس acquitted co-accused سے distinguish نہیں ہوتا تھا۔

---

6۔ FIR میں نامزدگی نہ ہونا، بعد میں نام شامل ہونا، prosecution کے لیے اہم کمزوری ہوسکتی ہے

محمد عرفان:

FIR میں بالکل نامزد نہیں تھا؛

FIR میں 59 افراد کے نام موجود تھے؛

اس کے باوجود FIR میں اس کا نام نہیں آیا؛

complainant نے بعد میں کوئی supplementary statement بھی نہیں دی؛

نجی گواہوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے FIR لکھتے وقت اس کا نام complainant کو بتایا تھا۔

سپریم کورٹ نے اسے ناقابلِ فہم قرار دیا۔

اصول:
اگر گواہ کے مطابق اس نے موقع پر ہی ملزم کا نام پولیس کو بتایا تھا، مگر FIR میں نام شامل نہیں ہوا، اور بعد میں بھی اس omission کی کوئی وضاحت یا فوری protest نہیں کیا گیا، تو یہ serious doubt پیدا کرسکتا ہے۔

---

7۔ FIR میں مخصوص کردار نہ ہونا اور بعد میں مخصوص کردار assign کرنا material improvement ہوسکتا ہے

محمد ریاض FIR میں نامزد تھا، مگر FIR میں اسے مقتولین کو بھٹے میں پھینکنے کا کردار نہیں دیا گیا۔

بعد کی شہادت میں اسے ایسا مخصوص کردار دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اس discrepancy کو prosecution case کے لیے اہم سمجھا۔

اصول:
بعد کی شہادت میں ایسا نیا اور بنیادی کردار شامل کرنا جو FIR میں موجود نہ ہو، محض معمولی contradiction نہیں بلکہ حالات کے مطابق material improvement بن سکتا ہے۔

---

8۔ Injured witness ہونا credibility کی ضمانت نہیں

یہ فیصلہ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا:

زخمی گواہ (injured witness) کا زخمی ہونا صرف اس کی موقع پر موجودگی (presence) کو support کرتا ہے؛ یہ لازماً اس کی truthfulness یا credibility ثابت نہیں کرتا۔

یعنی:

> Injury ≠ Truthfulness

عدالت نے:

Amin Ali v. The State (2011 SCMR 323)
Nazir Ahmad v. Muhammad Iqbal (2011 SCMR 527)
Muhammad Pervez v. The State (2007 SCMR 670)
Rooh Ullah v. The State (2022 SCMR 888)

پر reliance کیا۔

لہٰذا injured witness کی شہادت بھی دیگر evidence کی طرح scrutiny سے گزرے گی۔

---

9۔ اگر injured witness کی شہادت دوسرے عینی گواہوں اور FIR سے متصادم ہو تو محض injury کی بنیاد پر conviction نہیں ہوسکتی

اس کیس میں پولیس کے injured witnesses کی موجودگی تو injury سے ظاہر ہوتی تھی، مگر:

ان کی شہادت FIR سے مختلف تھی؛

private witnesses سے مختلف تھی؛

مختلف ملزمان کو مختلف کردار دیے گئے؛

اور انہی witnesses کی شہادت پر متعدد ملزمان پہلے ہی acquit ہوچکے تھے۔

اس لیے injury نے ان کی پوری شہادت کو automatically قابلِ اعتماد نہیں بنایا۔

---

10۔ گواہوں کے بیانات میں material contradictions معمولی تضادات نہیں رہتے

عدالت نے material contradictions اور minor contradictions میں واضح فرق کیا۔

معمولی تضاد قابلِ نظرانداز ہوسکتا ہے، لیکن اگر تضاد متعلق ہو:

ملزم کی شناخت سے؛

اس کے کردار سے؛

مقتول کو پکڑنے یا گھسیٹنے سے؛

مقتول کو آگ میں پھینکنے سے؛

وقوعہ کے بنیادی sequence سے؛

یا FIR اور ocular account کے بنیادی facts سے،

تو ایسا تضاد fatal contradiction بن سکتا ہے۔

---

11۔ ایک ہی واقعہ کے متعلق گواہوں کے مختلف versions prosecution case کو ناقابلِ اعتماد بنا سکتے ہیں

اس مقدمے میں تین مختلف versions سامنے آئے:

FIR کا version



Police eye-witnesses کا version



Deceased کے relatives/private witnesses کا version

اور تینوں میں اہم فرق موجود تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسے self-contradictory prosecution case پر capital conviction برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

---

12۔ Section 161 Cr.P.C. اور عدالتی بیان میں بنیادی تبدیلی credibility کو متاثر کرتی ہے

PW-17 تا PW-22 کے Section 161 Cr.P.C. کے بیانات میں متعدد افراد کو مقتولین کو آگ میں پھینکنے کا الزام دیا گیا۔

لیکن trial میں یہی الزام خاص طور پر محمد عرفان کے خلاف محدود ہوگیا۔

سپریم کورٹ نے اس تبدیلی کو اہم سمجھا اور قرار دیا کہ witnesses نے مختلف stages پر مختلف موقف اختیار کیا، جس سے ان کی reliability متاثر ہوئی۔

---

13۔ گواہ اگر ایک ملزم کو exonerate اور دوسرے کو implicate کرے تو عدالت کو محتاط ہونا ہوگا

استغاثہ کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ private witnesses نے بعض accused کو brick-kiln owner کے اثر و رسوخ کی وجہ سے exonerate کیا۔

سپریم کورٹ نے اس justification کو قبول نہیں کیا۔

عدالت کا نہایت اہم observation تھا کہ گواہ اپنی مرضی سے کچھ ملزمان کو بری الذمہ قرار دے کر باقی کے خلاف اپنی شہادت کو قابلِ اعتماد قرار نہیں دلا سکتا، جب تک باقی کے خلاف کوئی independent corroboration نہ ہو۔

---

14۔ Prosecution evidence کا selective acceptance خطرناک ہے

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عدالت prosecution evidence کو محض اپنی ضرورت کے مطابق selective طور پر قبول نہیں کرسکتی۔

اگر ایک ہی source سے آنے والی شہادت کسی اہم حصے میں ناقابلِ اعتماد ثابت ہوچکی ہو، تو باقی حصے کو برقرار رکھنے کے لیے strong corroboration ضروری ہوسکتی ہے۔

---

15۔ Recovery اور motive کے ناکام ہونے سے prosecution کا corroborative structure کمزور ہوجاتا ہے

Trial Court پہلے ہی:

alleged motive، یعنی قرآن کی توہین/جلانے؛

اور Dandas/Sotas کی recoveries

کو ناقابلِ اعتماد قرار دے چکی تھی۔

اس لیے petitioners کے خلاف باقی رہ جانے والی بنیادی شہادت ocular evidence تھی، جو خود material contradictions کا شکار تھی۔

نتیجتاً independent corroboration کا فقدان prosecution کے لیے fatal ثابت ہوا۔

---

16۔ Burn injuries کا نہ ہونا prosecution story کے خلاف اہم circumstance تھا

گواہوں نے تسلیم کیا کہ بھٹے کی furnace میں کام کرنے والے شخص کو:

wooden shoes

اور بعض حالات میں wet clothes

استعمال کرنا پڑتے تھے تاکہ شدید گرمی اور آگ سے بچا جاسکے۔

لیکن petitioners کے بارے میں:

ایسے protective clothing کا کوئی ثبوت نہیں تھا؛

burn injuries کا بھی کوئی ثبوت نہیں تھا۔

چونکہ prosecution کا الزام یہ تھا کہ petitioners نے انتہائی گرم furnace کھول کر مقتولین کو آگ میں پھینکا، اس لیے burn injuries کا نہ ہونا prosecution version کے خلاف ایک incriminating circumstance کی عدم موجودگی بن گیا۔

---

17۔ عدالت نے circumstantial probability کو بھی evidence کے مجموعی جائزے میں اہم سمجھا

سپریم کورٹ نے دیکھا کہ اگر واقعی petitioners نے furnace کے قریب جاکر مقتولین کو آگ میں پھینکا ہوتا تو ان کے جسم پر burn injuries یا protective measures کا کوئی نہ کوئی ثبوت ہونا متوقع تھا۔

یہ circumstance، دوسرے contradictions کے ساتھ مل کر، prosecution story کو مزید doubtful بناتا تھا۔

---

18۔ Eye-witness کی موقع پر موجودگی بھی circumstances کے مطابق assess ہوگی

Private witnesses مقتولین کے relatives تھے اور Christian community سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ موقع پر 500/600 افراد کا مشتعل mob موجود تھا۔

عدالت نے یہ سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں کیا وہ واقعی موقع پر کھڑے ہوکر مکمل وقوعہ دیکھنے کی پوزیشن میں تھے؟

خصوصاً جب police witnesses خود بیان کررہے تھے کہ mob نے پولیس پر حملہ کیا تھا۔

اس لیے ان کی presence itself بھی surrounding circumstances کے تناظر میں doubtful ہوگئی۔

---

19۔ FIR میں موجود facts کو بعد کے witnesses خود deny کریں تو FIR کی evidentiary foundation متاثر ہوتی ہے

FIR میں جن چھ افراد کو مخصوص کردار دیا گیا تھا، deceased کے relatives نے trial میں ان سب کو exonerate کردیا۔

سپریم کورٹ نے اسے محض معمولی discrepancy نہیں سمجھا بلکہ FIR کی basic foundation کے لیے serious dent قرار دیا۔

---

20۔ Benefit of doubt ملزم کا حق ہے، رعایت نہیں

یہ فیصلہ ایک بنیادی اصول دوبارہ واضح کرتا ہے:

> Benefit of doubt is a right, not a concession.

یعنی اگر کوئی ایسا circumstance موجود ہو جو ایک محتاط اور معقول ذہن میں ملزم کے جرم کے بارے میں reasonable doubt پیدا کردے تو ملزم اس benefit کا حق دار ہے۔

اس کے لیے متعدد doubts ضروری نہیں۔

سپریم کورٹ نے:

Tariq Pervez v. The State (1995 SCMR 1345)

اور

Muhammad Akram v. The State (2009 SCMR 230)

پر reliance کرتے ہوئے یہی اصول دہرایا۔

---

21۔ ایک ہی reasonable doubt بھی acquittal کے لیے کافی ہے

یہ فیصلہ اس classical principle کو مضبوط کرتا ہے:

"A single circumstance creating reasonable doubt is sufficient for acquittal."

یعنی:

> اگر prosecution case میں صرف ایک ایسی circumstance بھی ہو جو prudent mind میں reasonable doubt پیدا کردے، تو accused کو benefit of doubt دینا لازم ہے۔

موجودہ کیس میں تو عدالت کے مطابق کئی doubts موجود تھے۔

---

22۔ Capital punishment کے مقدمات میں evidence کی scrutiny مزید سخت ہوگی

یہ انتہائی اہم proposition ہے۔

جب سزا:

Death sentence

ہو تو عدالت محض possibility یا probability پر conviction برقرار نہیں رکھ سکتی۔

استغاثہ کو ایسا evidence پیش کرنا ہوگا جو:

credible ہو؛

consistent ہو؛

confidence-inspiring ہو؛

material contradictions سے پاک ہو؛

اور accused کے خلاف guilt کو beyond reasonable doubt ثابت کرے۔

---

23۔ Double presumption of innocence — بریت کے خلاف State appeal کا معیار

Criminal Petition No.1109-L of 2019 میں State نے 102 acquitted accused کی بریت کے خلاف petition دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

جو شخص competent court سے acquit ہوجائے، اسے double presumption of innocence حاصل ہوجاتی ہے۔

یعنی:

پہلی presumption:
شروع سے ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری presumption:
جب competent court اسے acquit کردے تو اس کی innocence کی presumption مزید مضبوط ہوجاتی ہے۔

---

24۔ Acquittal میں مداخلت کے لیے strong and exceptional grounds ضروری ہیں

Acquittal کو overturn کرنے کے لیے محض یہ کافی نہیں کہ appellate court evidence کو مختلف انداز میں interpret کرسکتی تھی۔

State کو دکھانا ہوگا کہ judgment میں مثلاً:

material illegality

serious irregularity

misreading of evidence

non-reading of material evidence

موجود ہے۔

موجودہ case میں State ایسا کوئی ground establish نہ کرسکی۔

لہٰذا State کی petition dismiss کردی گئی۔

IMPORTANT LEGAL PROPOSITIONS:

1. Injuries establish presence, not credibility.

2. Material contradictions regarding the role of accused are fatal, particularly in a capital case.

3. Where co-accused with similar roles have been acquitted on the same evidence, the remaining accused cannot ordinarily be convicted without independent corroboration.

4. Non-mention of accused in FIR, followed by subsequent nomination without satisfactory explanation, creates serious doubt.

5. Material improvement in the role assigned to an accused in subsequent statements affects the credibility of prosecution evidence.

6. Benefit of doubt is a right and even a single circumstance creating reasonable doubt is sufficient for acquittal.

7. An acquitted accused enjoys double presumption of innocence and acquittal can be interfered with only on strong and exceptional grounds.

16/08/2026

Two places for lodging FIR of Bounce cheque

Ss.22-A, 22-B & 179, S. 489-F --Dishonestly issuing a cheque.

Complainant could initiate criminal proceedings at any of the two places i.e. where the cheque was deposited for encashment or where it was dishonoured.

Constitutional petition was allowed, impugned order was set aside and the application under Ss.22-A & 22-B, Cr.P.C. was allowed.

Accused triable in the district where act is done or where consequence ensues. Powers of Ex-officio Justice of Peace.

Both Police Stations at place `A' and 'F.S'. had got jurisdiction to lodge F.I.R.-Complainant/drawee opted to lodge F.I.R. in Police Station at place `F.S. where Bank was situated and where he deposited the cheque in question.

Police Station at place F.S. was competent to conduct inquiry/investigation in the matter.

Impugned F.I.R. could not be quashed merely on sole ground that same had. not been registered within the jurisdiction where cheque was dishonored.

1) 2021 YLR 1436 ISLAMABAD,
2) 2019 PCrLJ 1558 PESHAWAR,
3) 2015 MLD 1151 QUETTA,
4) 2010 PLD 60 LAHORE.
Rafiq Khan Advocate High Court LLM 03336023706 Rafiq Khan Lound Adv

" Good case laws"
(FAKE POLICE ENCOUNTERS)
Ss. 22-A & 22-B-- Application for registration of case/F.I.R, Remedy of private complaint under S.200, Cr.P.C. before Court was also available to complainant,

It is observed that now a days fake police encounters are increasing day by day, such tendency needs to be curbed. Rightly reliance has been placed upon the cases reported as Muhammad Bashir v. Station House Officer, Okara Cantt. and others (PLD 2007 Supreme Court 539) and Hyder Ali and another v. DPO Chakwal and others (2015 SCMR 1724).

No notice to be given to any body for forming an opinion--Ex-of ficio Justice of the peace who is a senior Judicial officer has to form an opinion about the of fence being cognizable or non-cognizable from the facts narrated to him by the complainant orally or in writing and for such purpose he is not required to issue notice to accused or to police officer or to anybody else; he has to form his own independent opinion from the facts narrated to him (2005 PLD 621 KARACHI).

2019 MLD 1192 KARACHI (Murdered in fake encounter)
2022 PCrLJN 78 KARACHI (Fake police encounter),
2010 PCrLJ 1629 LAHORE( Fake encounter),

2022 PCrLJ 21 KARACHI,
2021 MLD 1120 KARACHI,
2020 PCrLJN 151 KARACHI,
2020 PCrLJN 154 KARACHI,
2020 YLRN 21 KARACHI,
2020 MLD 1028 KARACHI,
2019 YLR 1104 KARACHI,
2019 YLR 951 KARACHI,
2017 PCrLJ 92 KARACHI,
2014 PCrLJ 1347 KARACHI,
2013 PCrLJ 1226 KARACHI,
2011 YLR 2466 KARACHI,
2009 YLR 1036 KARACHI,
2019 MLD 1766 KARACHI

Address

Quetta
Quetta Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LAW And Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share