Muhammad Nasir joiya advocate official

Muhammad Nasir joiya advocate official advocate

It is mandatory to pass the Law Admission Test (LAT) prior to seeking admission in law programs at any government or pri...
15/05/2026

It is mandatory to pass the Law Admission Test (LAT) prior to seeking admission in law programs at any government or private university in Pakistan. The deadline for applying for the LAT test for 4-year LL.B admission is May 25, 2026. Passing the test is a prerequisite for admission in any university or private college across Pakistan, which is scheduled on June 21, 2026.

تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تند...
10/05/2026

تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تندور سے روٹی چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا تندور مالک نے خاتون پے تشدد کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا کل پشاور پولیس نے خاتون کو چوری کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔ جج صاحب نے خاتون سے سارا معاملہ پوچھا عورت نے روتے ہوئے بتایا میرا نام گُل بانو ہے ایک حادثہ میں میرے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے میرے تین یتیم بچے ہیں جو دو روز سے بھوکے تھے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں میں نے مجبوری میں تندور سے روٹی اٹھائی۔ گُل بانو کے جسم پے تشدد کے واضح نشان نظر آ رہے تھے۔ جج صاحب نے سب سے پہلے تندور مالک کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس نے غریب بیوہ عورت پر تشدد کیا۔ تندور مالک کو دو سال جیل کی سزا اور خاتون کو 5 لاکھ روپے حرجانہ کا فیصلہ سنایا۔ s.h.o کینٹ کو تبادلے کا حکم دیا۔ اور ڈی-سی پشاور کو پابند کیا کے سرکاری خزانے سے بیوہ خاتون اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے۔بہترین فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیاپیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہپیٹرول کی نئی قی...
08/05/2026

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا

پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ

پیٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر

ہائی اسپیڈ ڈیزل 15 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر

نئی قیمتوں کا اطلاق 09 مئی 2026 سے ہوگا

وزارت توانائی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث اضافہ کیا گیا، ذرائع

پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ

عوام پر پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اضافی بوجھ پڑے گا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکلا کا درینہ مطالبہ پورا کر دیا، لاہور کی عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ تمام ضلعی عدالتو...
07/05/2026

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکلا کا درینہ مطالبہ پورا کر دیا، لاہور کی عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ تمام ضلعی عدالتوں کو ایک ہی مقام پر منتقل کرنے کیلئے جوڈیشل ٹاور فیز ون منصوبے کا سنگ بنیاد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم 8 مئی کو رکھیں گے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری سے جوڈیشل ٹاور کے منصوبہ سے لاہور کے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جس کے تحت لاہور شہر میں مختلف مقامات پر قائم سیشن، سول، فیملی اور فوجداری عدالتوں کو مرحلہ وار ایک ہی عمارت میں منتقل کیا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد سائلین اور وکلا کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلے کو یقینی بنانا ہے۔

منصوبے کے تحت جوڈیشل ٹاور میں تقریباً 200عدالتیں قائم کی جائیں گی، 17 منزلوں پر مشتمل عمارت میں 3 بیسمنٹ فلورز پارکنگ کیلئے مختص کر دیئے گئے، پہلے مرحلے میں جوڈیشل ٹاور فیز ون پرنٹنگ پریس کی جگہ پر بنایا جائے گا جس کے بعد فیز ون مکمل ہونے پر ایوان عدل میں تمام عدالتوں کو منتقل کرنے کے بعد فیز ٹو کا آغاز ہوگا۔

عمارت کو مختلف بلاکس میں تقسیم کیا جائے گا، ان میں کورٹس بلاک، ایڈمنسٹریٹو بلاک، وکلاء کیلئے علیحدہ بلاک، اے ڈی آر سنٹر، ریکارڈ رومز، جدید آرکائیوز، سکیورٹی کنٹرول رومز اور سائلین کیلئے ویٹنگ ایریاز شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ عمارت میں جدید لفٹس، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم اور سکیورٹی کے مؤثر انتظامات بھی کئے جائیں گے، جبکہ جوڈیشل ٹاور میں وکلا کی پارکنگ کے دیرینہ مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے میں ملٹی لیول پارکنگ بھی شامل کی گئی ہے، جہاں سیکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی گنجائش رکھی جائے گی، وکلاء، ججز اور سائلین کیلئے الگ الگ پارکنگ زونز مختص کئے جائیں گے تاکہ رش اور بدنظمی پر قابو پایا جا سکے۔

حکام کے مطابق منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور ابتدائی مرحلے (فیز ون) پر تقریباً 9 ارب 15 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے، اس مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ابتدائی بلاکس اور ضروری انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔

واضح رہے کہ تقریباً دو سال قبل جسٹس عالیہ نیلم نے جب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا عہدہ سنبھالا تو وکلا تنظیموں نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے تمام عدالتوں کو یکجا کرنے کا مطالبہ کیا جس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایت پر وکلا کی مشکلات کو دیکھتے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات شروع کئے گئے اور پھر جوڈیشل ٹاور کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔

اس دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خود جا کر دورہ بھی کیا جس کے بعد اس چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 8 مئی کو جوڈیشل ٹاور فیز ون کا سنگ بنیاد رکھیں گی، اس حوالے سے تقریب بھی منعقد ہوگی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جوڈیشل ٹاور کے قیام سے نہ صرف عدالتی نظام کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی بلکہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر کم ہونے کے ساتھ ساتھ سائلین اور وکلا کے وقت اور اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، یہ منصوبہ لاہور میں عدالتی سہولیات کی بہتری اور انصاف کی بروقت فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وکلاء اب اپنی بات منوانے کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ کیا بار کونسل کے سربراہ یا سیکرٹری اپنے وکلاء کے تحفظ کے لئے کو...
01/05/2026

وکلاء اب اپنی بات منوانے کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ کیا بار کونسل کے سربراہ یا سیکرٹری اپنے وکلاء کے تحفظ کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے؟ پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل ایک آمرانہ نظام رائج کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی بار کے سربراہ یا سیکرٹری کے لئے احتجاج کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں وکلاء کو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اصل دو قومی نظریہ اب کہاں ہے؟ہمیں تاریخ میں بتایا گیا تھا کہ دو قومی نظریہ ہندو اور مسلمان کے درمیان تھا، لیکن آج اگر زم...
01/05/2026

اصل دو قومی نظریہ اب کہاں ہے؟

ہمیں تاریخ میں بتایا گیا تھا کہ دو قومی نظریہ ہندو اور مسلمان کے درمیان تھا، لیکن آج اگر زمینی حقیقت دیکھی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل دو قومی نظریہ اب اسی ملک کے اندر قائم ہو چکا ہے۔

ایک قوم وہ ہے جس میں سیاست دان، بیوروکریٹس، اعلیٰ سرکاری افسران، ججز، جرنیل اور بااثر طبقہ شامل ہے۔ اس قوم کے لیے بجلی مفت، پٹرول مفت، بڑی بڑی سرکاری گاڑیاں، بہترین علاج، مفت یا انتہائی سستی تعلیم، سرکاری بنگلے، سکیورٹی، مراعات اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروٹوکول اور سہولیات موجود ہیں۔

ان کے بچوں کے لیے بہترین سکول، غیر ملکی تعلیم کے مواقع، مضبوط سفارشیں، اور اعلیٰ عہدوں تک آسان رسائی ہوتی ہے۔ ان کے لیے قوانین نرم اور راستے ہموار ہوتے ہیں، احتساب کمزور ہوتا ہے، اور مشکلات کم ہی ان کے دروازے تک پہنچتی ہیں۔

دوسری طرف ایک دوسری قوم ہے، جسے عام عوام کہا جاتا ہے۔

اس قوم کے لیے مہنگی بجلی، مہنگا پٹرول، مہنگی گیس، مہنگی تعلیم اور مہنگے ہسپتال مقدر بن چکے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں لمبی قطاریں، ادویات کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان معمول بن چکا ہے، جبکہ پرائیویٹ ہسپتال عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

عام آدمی کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم ایک خواب بنتی جا رہی ہے۔ مہنگی فیسیں، کتابوں کی بڑھتی قیمتیں اور روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

ٹیکسوں کا بوجھ بھی زیادہ تر اسی دوسری قوم پر ڈالا جاتا ہے۔ بجلی کے بلوں میں بھاری ٹیکس، پٹرول پر لیویز، سیلز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، اور ہر روز کوئی نہ کوئی نیا ٹیکس عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اکثر ان بوجھوں سے محفوظ رہتا ہے۔

ایک طرف سرکاری گاڑیوں کے قافلے، پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات ہیں، تو دوسری طرف عام شہری کے لیے موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانا بھی ایک مشکل مرحلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے سرکاری گھروں کی روشنیاں کبھی بند نہیں ہوتیں، تو دوسری طرف عام آدمی لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کے بلوں کے درمیان پستا رہتا ہے۔

یہ فرق صرف سہولیات کا نہیں بلکہ مواقع کا بھی ہے۔ ایک طبقے کے لیے ترقی کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، جبکہ دوسرے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا ہی سب سے بڑی جدوجہد بن چکی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ ملک ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟ کیا دو قومی نظریہ کا مقصد یہی تھا کہ ایک ہی ملک کے اندر دو الگ الگ قومیں بن جائیں، ایک مراعات یافتہ اور دوسری محروم؟

جب تک اس فرق کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، جب تک انصاف اور سہولیات کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی، تب تک یہ اندرونی تقسیم مزید گہری ہوتی جائے گی۔

شاید آج سب سے بڑا سوال یہی ہے:
کیا ہم واقعی ایک قوم ہیں، یا ایک ہی ملک میں دو الگ قوموں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں؟

غریب کی روٹی اور حکمرانوں کی عیاشی۔  ایک طرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، دوسری طرف آٹا، بجلی، کرایہ سب کچھ آسمان پر۔  غر...
01/05/2026

غریب کی روٹی اور حکمرانوں کی عیاشی
۔
ایک طرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ،
دوسری طرف آٹا، بجلی، کرایہ سب کچھ آسمان پر۔
غریب آدمی صبح مزدوری پر نکلتا ہے تو شام کو سوچتا ہے کہ بچوں کے لیے روٹی لائے یا دوائی؟
حکمرانوں کی گاڑیوں کا قافلہ لمبا ہوتا جا رہا ہے اور عوام کی زندگی تنگ۔
یہ کیسا انصاف ہے کہ قربانی ہمیشہ عام آدمی ہی دے؟

پیٹرول مہنگا = سبزی مہنگی = کرایہ مہنگا = زندگی مہنگی
حکمرانوں کی عیاشیاں ویسے کی ویسے۔
غریب جائے تو کہاں جائے؟
بس اب بہت ہو گیا!

01/05/2026

Address

Sahiwal
Punjab

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Nasir joiya advocate official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share