01/11/2024
آج میرا جنم دن تھا.....
خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کی
تمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہو
......صبع سے لے کر رات گۓ تک دوستوں نے خوشیوں اور نیک تمناؤں سے بخشا ہے دن بھر رونقوں میں گزرا ___لیکن سمجھ نہیں آتا، خوشی مناؤں یا اداس رہوں۔ لوگ کہتے ہیں ہماری عمر بڑھ گئی لیکن نہیں، ہماری زندگی کا ایک اور دن کم ہوگیا زندگی کا ہر سانس انسان کو قبر کے نزدیک کر رہا ہے اور ہم ابھی تک غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔ہر نئی صبح ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم اس زندگی میں کچھ اچھا کر جائیں___
ایسی اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو کبھی زندگی ہوا کرتے تھے مگر وقت نے کایا پلٹی اور وہ لوگ اپنی دعائیں لے کر کے حاضر نہیں ہوۓ رات کے اخری پہر تک کچھ مسنگ تھا کہ اسے کچھ اس طرح بیان کرنا چاہتا ہوں....
سالگرہ پر کتنی نیک تمنائیں موصول ہوئیں
لیکن ان میں ایک مبارک باد ابھی تک باقی ہے
زندگی کا ہر لمحہ بہت قیمتی اور بہت خوبصورت ہے لیکن افسوس ہم اپنی زندگی کے لمحوں کو خود ہی ضائع کردیتے ہیں۔ کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہم کونسی راہ پہ چل رہے ہیں__
خدایا میرے گناہوں کو ایسے ختم کردے گویا اپنی ماں کے پیٹ سے آج ہی جنم لیا ہو۔ 😢
اک شعر یاد ایا ہے
خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول
ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول
آپ سب کی دعاؤں کا بہت طلبگار ہوں، ۔۔۔
شعر.
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا
دعاگو ندیم شہزاد جھمٹ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ