23/08/2024
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ
جو دریا یا سمندر میں ڈوب جائے وہ شہید کے حکم میں ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
الشُّهداءُ خَمسةٌ : المطعونُ ، والمبطونُ ، والغرِقُ ، وصاحبُ الهدمِ ، والشَّهيدُ في سبيلِ اللهِ
📗صحيح البخاري:2829
ترجمہ: شہید پانچ ہیں،
مطعون(طاعون کا مریض)،
اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا،
اورڈوب کر مرنے والا ،
اورملبے میں دب کر مرنے والا،
اور الله کی راہ میں شہید ہونے والا۔
جو شخص سمندر میں ڈوب کر مرجائے
اور اس کی لاش نہیں ملے تو
اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جائے
جیساکہ نبیﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر سن کر پڑھا تھا ۔
حضرت ابوھریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ نعى النجاشيَّ في اليومِ الذي مات فيهِ ، خرج إلى المُصلَّى ، فصَفَّ بهم ، وكَبَّرَ أربعًا .
📗صحيح البخاري:1245
ترجمہ: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی
جس دن اس کی وفات ہوئی تھی۔
پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ گئے
اور لوگوں کے ساتھ صف باندھ کر(جنازہ کی نماز میں) چار تکبیریں کہیں۔