22/08/2026
کیا کسی ملازم کے خلاف متنازع اور قابلِ ثبوت الزامات ہوں تو اسے باقاعدہ انکوائری کے بغیر، صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر بڑی سزا دی جاسکتی ہے؟
شوکاز نوٹس میں بغیر وجوہات انکوائری ختم کی جاسکتی؟
جب کارروائی PEEDA Act کے تحت شروع کی گئی تھی تو ایسی سزا جو Act میں موجود ہی نہیں قانونی طور پر دی جاسکتی ہے؟
یہ فیصلہ ملازمین کے محکمانہ احتساب، باقاعدہ انکوائری، حقِ سماعت، آرٹیکل 10-A اور PEEDA Act, 2006 کے حوالے سے خاصا اہم ہے۔ عدالت نے بنیادی طور پر یہ قرار دیا کہ متنازع حقائق پر مبنی الزام لگا کر، باقاعدہ انکوائری کے بغیر اور PEEDA Act میں موجود نہ ہونے والی سزا دے کر ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔
1۔ مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار Shafique Khushnood لاہور جنرل ہسپتال میں مستقل بنیادوں پر Security Guard (BS-01) تھا۔
اس پر دو بنیادی الزامات لگائے گئے:
1. 01.05.2024 کو رات تقریباً 4:30 بجے ہسپتال کے آرتھو وارڈ سے A.C. pipes چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے کا الزام۔
2. 15.06.2024 تا 22.07.2024 ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا الزام۔
محکمے نے 15.07.2024 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، مگر باقاعدہ انکوائری نہیں کرائی اور 24.07.2024 کو اسے ملازمت سے "termination" کے ذریعے فارغ کر دیا۔
اس کی محکمانہ اپیل بھی مسترد ہوگئی۔
بعد ازاں پنجاب سروس ٹربیونل نے بھی یہ کہہ کر اپیل خارج کردی کہ وہ مناسب فورم نہیں تھا، چنانچہ ملازم نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
---
2۔ اصل قانونی سوال کیا تھا؟
عدالت کے سامنے بنیادی طور پر یہ سوال تھا:
کیا کسی ملازم کے خلاف متنازع اور قابلِ ثبوت الزامات ہوں تو اسے باقاعدہ انکوائری کے بغیر، صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر بڑی سزا دی جاسکتی ہے؟
عدالت کا جواب واضح طور پر نہیں تھا۔
---
3۔ انکوائری کیوں ضروری تھی؟
یہ اس فیصلے کا سب سے اہم حصہ ہے۔
ملازم نے چوری کے الزام سے صاف انکار کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ:
> اسے سیکیورٹی سپروائزر نے بتایا کہ کوئی شخص A.C. pipe کاٹ رہا ہے، وہ موقع پر گیا لیکن وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔
لہٰذا معاملہ admitted fact نہیں تھا بلکہ disputed question of fact تھا۔
ایسی صورت میں یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ:
چوری کس نے دیکھی؟
سیکیورٹی سپروائزر نے کیا دیکھا؟
درخواست گزار واقعی موقع پر موجود تھا یا نہیں؟
کوئی A.C. pipe برآمد ہوا یا نہیں؟
کوئی گواہ موجود تھا؟
CCTV یا کوئی دوسری دستاویزی شہادت موجود تھی؟
درخواست گزار ڈیوٹی پر تھا یا غیر حاضر؟
یہ تمام سوالات evidence سے طے ہونے تھے۔
اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر الزام ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
---
4۔ شوکاز نوٹس میں انکوائری ختم کرنے کی وجہ کیوں ناکافی تھی؟
محکمے نے شوکاز نوٹس میں صرف یہ لکھا کہ متعلقہ اتھارٹی کی رائے میں انکوائری ضروری نہیں۔
لیکن عدالت نے کہا کہ صرف یہ کہنا کہ:
"It is not necessary to hold an inquiry"
کافی نہیں ہے۔
اگر محکمہ باقاعدہ انکوائری ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے وجوہات (reasons) تحریری طور پر بیان کرنا ہوں گی کہ:
آخر کن غیر معمولی یا قابلِ جواز حالات کی وجہ سے انکوائری ضروری نہیں ہے۔
اس مقدمے میں ایسی کوئی cogent and justifiable reason موجود نہیں تھی۔
لہٰذا انکوائری ختم کرنا محض ایک whimsical / arbitrary exercise قرار پایا۔
---
5۔ Article 10-A کا اہم کردار
عدالت نے آئین کے Article 10-A کو خاص اہمیت دی۔
Article 10-A کا بنیادی اصول fair trial and due process ہے۔
محکمانہ کارروائی میں بھی جب کسی ملازم پر سنگین الزام لگا کر اسے بڑی سزا دی جارہی ہو تو اسے مناسب موقع ملنا چاہیے کہ وہ:
الزام کا جواب دے؛
شہادت پیش کرے؛
اپنے گواہ پیش کرے؛
مخالف گواہوں سے جرح کرے؛
دستاویزی شہادت کو challenge کرے؛
اور اپنا مکمل دفاع پیش کرے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کو یہ مواقع نہیں دیے گئے۔
لہٰذا کارروائی Articles 4 & 10-A کے خلاف تھی۔
---
6۔ Article 4 بھی کیوں اہم ہے؟
Article 4 ہر شخص کے اس حق سے متعلق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
یعنی محکمہ کسی ملازم کے خلاف من مانی کارروائی نہیں کرسکتا۔
اگر قانون کسی خاص طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے تو محکمہ کو اسی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔
اس کیس میں عدالت نے یہی اصول لاگو کیا کہ:
قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو نظرانداز کرکے ملازم کو سزا دینا قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔
---
7۔ Attendance Register کا کیا اثر تھا؟
درخواست گزار نے جون اور جولائی 2024 کا attendance register بھی پیش کیا۔
عدالت کے مطابق اس میں وہ اکثر تاریخوں پر حاضر دکھائی دے رہا تھا۔
لہٰذا اس کا یہ دفاع بھی ایسا معاملہ تھا جسے محض افسر کی رائے سے ختم نہیں کیا جاسکتا تھا۔
یہ بھی ایک disputed question of fact تھا جسے باقاعدہ انکوائری میں evidence کے ذریعے determine کیا جانا چاہیے تھا۔
---
8۔ Supreme Court کے اہم اصول
عدالت نے کئی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر انحصار کیا۔
(الف) 2026 SCMR 300 — Arbab and others
اس اصول کو reinforce کیا گیا کہ disciplinary proceedings کا مقصد ملازم کو الزام کا دفاع کرنے کا fair and reasonable opportunity دینا ہے۔
(ب) 1996 SCMR 201 — National Bank of Pakistan v. Basharat Ali
قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحت ملازم کو اپنے خلاف الزام کا مناسب دفاع کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔
(ج) 2007 SCMR 1726 — Saad Salam Ansari
یہ مقدمہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ PEEDA Act کے تحت ملازم کو بڑی سزا دینے سے پہلے عمومی طور پر inquiry ضروری ہے۔
خصوصاً جب ملازم اپنے خلاف الزام سے انکار کرے تو اسے evidence پیش کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔
(د) 2023 SCMR 291 — Chief Engineer GEPCO v. Khalid Mehmood
یہ اس فیصلے کا انتہائی اہم precedent ہے۔
اصول یہ ہے:
> اگر الزام disputed facts پر مبنی ہو تو باقاعدہ انکوائری ضروری ہے۔
البتہ اگر معاملہ ایسے admitted documents پر مبنی ہو جن پر کوئی حقیقی تنازع نہ ہو تو ہر کیس میں full-fledged inquiry لازمی نہیں۔
یعنی:
Admitted facts/documents → inquiry dispense ہوسکتی ہے
لیکن:
Disputed facts → regular inquiry ضروری
---
9۔ Major Penalty کے معاملے میں اصول
عدالت نے Naseeb Khan v. Divisional Superintendent Pakistan Railways (2008 SCMR 1369) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ:
جب major penalty دی جارہی ہو تو اصولِ قدرتی انصاف کے تحت ملازم کو:
باقاعدہ انکوائری،
دفاع کا موقع،
personal hearing،
اور مناسب طور پر اپنا مؤقف ثابت کرنے کا موقع
دینا ضروری ہے۔
اس کیس میں یہ safeguards فراہم نہیں کیے گئے۔
---
10۔ "Termination" سب سے اہم قانونی نکتہ
یہ فیصلہ صرف عدمِ انکوائری کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ PEEDA Act کے تحت سزا کی قانونی نوعیت کے حوالے سے بھی بہت اہم ہے۔
عدالت نے Section 4 PEEDA Act, 2006 کا جائزہ لیا۔
اس میں major penalties میں شامل ہیں:
Recovery
Reduction to lower post/pay scale
Forfeiture of past service
Compulsory retirement
Removal from service
Dismissal from service
لیکن:
"Termination from service"
بطور penalty PEEDA Act کی Section 4 میں موجود نہیں۔
لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ جب کارروائی PEEDA Act کے تحت شروع کی گئی تھی تو ایسی سزا جو Act میں موجود ہی نہیں، یعنی termination from service، قانونی طور پر نہیں دی جاسکتی۔
یہ ایک independent ground بھی تھا جس کی بنیاد پر impugned order غیر قانونی قرار پایا۔
---
11۔ "Removal" اور "Dismissal" بمقابلہ "Termination"
یہ distinction عملی طور پر بہت اہم ہے۔
عدالت نے یہ نہیں کہا کہ محکمہ کسی ملازم کو کبھی ملازمت سے الگ نہیں کرسکتا۔
بلکہ عدالت نے کہا:
اگر PEEDA Act کے تحت disciplinary proceedings شروع کی گئی ہیں تو سزا بھی اسی Act میں prescribed penalties میں سے ہونی چاہیے۔
یعنی اتھارٹی اپنی طرف سے ایک نئی penalty:
"Termination from service"
نہیں بنا سکتی جب Act میں ایسی penalty موجود نہ ہو۔
---
12۔ Appellate Authority کی غلطی
محکمانہ اپیل مسترد کرتے وقت appellate authority نے بھی معاملے کو مناسب طور پر examine نہیں کیا۔
ہائی کورٹ نے اسے:
mechanical, stereotype and perfunctory
قرار دیا۔
یعنی appellate authority کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ:
الزام کس evidence پر ثابت ہوا؟
inquiry کیوں dispense کی گئی؟
employee کو defence کا موقع ملا یا نہیں؟
penalty قانون میں موجود ہے یا نہیں؟
لیکن ایسا meaningful consideration نہیں ہوا۔
---
13۔ High Court کا حتمی حکم
ہائی کورٹ نے:
دونوں impugned orders set aside کردیئے۔
یعنی:
24.07.2024 کا termination order ختم۔
19.09.2024 کا departmental appellate order ختم۔
اور درخواست گزار کو:
service میں reinstate
کرنے کا حکم دیا۔
---
14۔ لیکن back benefits خودکار طور پر نہیں دیے گئے
یہ ایک اہم نکتہ ہے۔
عدالت نے فوراً مکمل back benefits دینے کا حکم نہیں دیا۔
بلکہ competent authority کو ہدایت کی کہ:
back benefits کا معاملہ قانون کے مطابق decide کیا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ reinstatement تو ہوگئی، لیکن پچھلی مدت کی تنخواہ، واجبات وغیرہ کا فیصلہ متعلقہ اتھارٹی کو قانون کے مطابق کرنا ہوگا۔
---
15۔ محکمہ دوبارہ کارروائی کرسکتا ہے؟
جی ہاں۔
یہ بھی فیصلے کا بہت اہم حصہ ہے۔
ہائی کورٹ نے صرف یہ کہا کہ موجودہ کارروائی اور سزا غیر قانونی تھی۔
عدالت نے competent authority کو اجازت دی کہ:
الزامات کے بارے میں قانون کے مطابق regular inquiry conduct کی جاسکتی ہے۔
یعنی:
Reinstatement ≠ acquittal from charges
یہ فرق یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔
ملازم کو ابھی چوری کے الزام سے judicially بری قرار نہیں دیا گیا۔
بلکہ عدالت نے کہا کہ:
اس کا جرم یا بے گناہی مناسب انکوائری کے ذریعے طے ہوگی۔
---
16۔ اس فیصلے سے نکلنے والے اہم Legal Propositions
1۔
متنازع حقائق پر مبنی الزام صرف show-cause notice کی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
2۔
Major penalty کی صورت میں regular inquiry عمومی اصول ہے۔
3۔
Inquiry dispense کی جائے تو competent authority کو واضح، منطقی اور قابلِ جواز وجوہات تحریری طور پر دینی ہوں گی۔
4۔
Article 10-A کے تحت fair hearing اور due process محکمانہ disciplinary proceedings میں بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
5۔
ملازم کو مخالف گواہوں سے cross-examination کا مناسب موقع دینا ضروری ہے، جہاں الزام evidence پر منحصر ہو۔
6۔
اگر الزام disputed question of fact ہو تو regular inquiry سے گریز نہیں کیا جاسکتا۔
7۔
Admitted documents یا admitted facts کی صورت میں ہر کیس میں مکمل inquiry لازمی نہیں۔
8۔
محکمہ PEEDA Act میں موجود نہ ہونے والی penalty impose نہیں کرسکتا۔
9۔
"Termination from service" Section 4 PEEDA Act میں prescribed penalty نہیں؛ لہٰذا PEEDA proceedings میں اس نام سے major penalty دینا غیر قانونی قرار دیا گیا۔
10۔
Mechanical اور non-speaking departmental appellate order بھی judicial review میں برقرار نہیں رہ سکتا۔