Ali & Zeb law firm

Ali & Zeb law firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ali & Zeb law firm, Lawyer & Law Firm, Office No. b-11, Al-Nimra Plaza, Oppisite to Govt College, Faqir Abad, KPK, Peshawar.

⚖️ ALI & ZEB LAW FIRM | Professional & Result-Oriented Legal Services | Integrity • Dedication • Client Satisfaction | Protecting Your Rights with Excellence |
📞 +92 305 9297957
+92 332 9696342

شہریوں کے حقوق کا تحفظ — پشاور ہائی کورٹ کا بڑا اور دوٹوک حکمپشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ میں قرار دیا کہ وہ افراد ج...
29/04/2026

شہریوں کے حقوق کا تحفظ — پشاور ہائی کورٹ کا بڑا اور دوٹوک حکم

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ میں قرار دیا کہ وہ افراد جنہوں نے POC (Proof of Citizenship) کے حصول کے لیے درخواست جمع کر رکھی ہو، ان کے کیس کا فیصلہ ہونے تک انہیں ہراساں نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں ڈیپورٹ کیا جا سکتا۔

عدالت کے دو رکنی بینچ نے حکم دیا کہ:

* متعلقہ حکام درخواست گزار کا POC تین ماہ کے اندر جاری کریں
* درخواست گزار کے خلاف کسی قسم کی ہراسانی یا ڈیپورٹیشن کی کارروائی نہ کی جائے

📌 اہم نکتہ:
عدالت نے واضح کیا کہ زیرِ التواء درخواست کے دوران شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی غیر قانونی کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

0332-9696342
0305-9297957

#شہریت
#شہریت

پولیس اختیارات کی حد — سول معاملات میں مداخلت غیر قانونی قرارپشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جب کوئی...
27/04/2026

پولیس اختیارات کی حد — سول معاملات میں مداخلت غیر قانونی قرار

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جب کوئی معاملہ پہلے ہی سول عدالت میں زیرِ سماعت (sub judice) ہو تو پولیس اس میں مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ ہی خود کو فیصلہ کرنے والا فورم بنا سکتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ:

* پولیس کا سول تنازعات میں دخل دینا اختیار سے تجاوز ہے۔
* CCPO کو دی گئی درخواست بھی پولیس کو زیرِ التواء سول کیس میں کارروائی کا اختیار نہیں دیتی۔
* پولیس صرف اسی صورت میں کارروائی کر سکتی ہے جب کوئی الگ اور واضح فوجداری شکایت موجود ہو۔

📌 عدالت نے پولیس کو ہراسانی سے روک دیا اور قانون کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے رٹ پٹیشن نمٹا دی۔

👉 اہم نکتہ:
سول کیس کے دوران پولیس کی مداخلت غیر قانونی ہے — شہریوں کو ہراسانی سے تحفظ حاصل ہے۔
0332-9696342
0305-9297957

عدالتی تحفظ یافتہ افراد (POC ہولڈرز) کی ملک بدری پر پابندی — عدالت کا اہم فیصلہپشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی اصول وا...
25/04/2026

عدالتی تحفظ یافتہ افراد (POC ہولڈرز) کی ملک بدری پر پابندی — عدالت کا اہم فیصلہ

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جن افراد کی قانونی حیثیت (POC/شہریت) عدالت یا متعلقہ حکام کے سامنے زیرِ التواء ہو اور جنہیں عدالت پہلے ہی ملک بدری سے عبوری تحفظ فراہم کر چکی ہو، انہیں فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت مزید حراست میں رکھنا قانوناً درست نہیں۔

اسی بنیاد پر عدالت نے ایسے گرفتار افراد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔

👉 اہم نکتہ:
جب کسی شخص کا امیگریشن یا شہریت سے متعلق کیس زیرِ سماعت ہو اور اسے عدالتی تحفظ حاصل ہو، تو اس کی فوری ملک بدری یا غیر ضروری حراست قانون کے منافی ہے-

اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو امیگریشن، شہریت یا فارنرز ایکٹ سے متعلق مسئلہ درپیش ہے تو بروقت قانونی مشاورت آپ کا بنیادی حق ہے۔

0332-9696342
0305-9297957

دورانِ معطلی مکمل تنخواہ و مراعات لازمی” — سپریم کورٹ آف پاکستان کا اصولی فیصلہ ⚖️کیا آپ کو سسپنڈ کر کے تنخواہ اور الاؤن...
24/04/2026

دورانِ معطلی مکمل تنخواہ و مراعات لازمی” — سپریم کورٹ آف پاکستان کا اصولی فیصلہ ⚖️

کیا آپ کو سسپنڈ کر کے تنخواہ اور الاؤنسز بھی روک دیے گئے؟
یہی وہ نکتہ ہے جس پر سپریم کورٹ نے واضح لائن کھینچ دی ہے…

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا:
معطلی (Suspension) ملازمت کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے، اس دوران ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے۔

👉 لہٰذا:
ملازم مکمل تنخواہ، الاؤنسز اور تمام سروس بینیفٹس کا حق دار ہے۔

مزید یہ کہ:
بغیر قانونی جواز کے تنخواہ کی کٹوتی یا ریکوری غیر قانونی اور ناانصافی ہے۔

یہ فیصلہ صرف ایک کیس نہیں—
بلکہ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ایک مضبوط قانونی تحفظ ہے۔

📌 اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ ایسا ہوا ہے، تو یہ فیصلہ آپ کا حق واپس دلا سکتا ہے-
0332-9696342
0305-9297957

آپ کی سینیارٹی خاموشی سے بدل دی گئی؟ پھر یہ فیصلہ آپ کے لیے ہے… ⚖️اکثر سرکاری ملازمین کو بغیر نوٹس سینیارٹی میں پیچھے کر...
23/04/2026

آپ کی سینیارٹی خاموشی سے بدل دی گئی؟ پھر یہ فیصلہ آپ کے لیے ہے… ⚖️

اکثر سرکاری ملازمین کو بغیر نوٹس سینیارٹی میں پیچھے کر دیا جاتا ہے—اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا۔

لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے:
سینیارٹی کو بغیر نوٹس اور قانونی طریقہ کار کے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

مزید یہ کہ اگر کسی ملازم کو بحال کیا جائے تو
اس کی سینیارٹی اس کی ابتدائی تقرری سے ہی شمار ہوگی۔

ایک فیصلہ… جو آپ کا حق واپس دلا سکتا ہے۔

📌 اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے، تو خاموش نہ رہیں—قانون آپ کے ساتھ ہے۔

0332-9696342
0305-9297957


شناخت کا حق بحال — پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ⚖️پشاور ہائی کورٹ نے نادرا کو ہدایت دی کہ ایک خاتون کی CNIC درخواست فوری...
22/04/2026

شناخت کا حق بحال — پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ⚖️

پشاور ہائی کورٹ نے نادرا کو ہدایت دی کہ ایک خاتون کی CNIC درخواست فوری پراسیس کی جائے اور انہیں ٹوکن جاری کیا جائے۔

خاتون کے پاس والد کا ریکارڈ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ موجود ہونے کے باوجود نادرا درخواست لینے سے انکار کر رہا تھا، جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تھی۔

عدالت کا واضح حکم: غیر ضروری رکاوٹیں ختم کر کے شناختی کارڈ جاری کیا جائے۔

یہ فیصلہ اُن تمام افراد کے لیے اہم ہے جو شناختی مسائل کا شکار ہیں۔

03329696342
03059297957

وہ افراد جو حقیقتاً پاکستانی ہیں مگر افغان سٹیزن کارڈ رکھتے ہیں — پشاور ہائی کورٹ کا اہم اور بڑا ریلیف ⚖️اکثر لوگ راشن ی...
20/04/2026

وہ افراد جو حقیقتاً پاکستانی ہیں مگر افغان سٹیزن کارڈ رکھتے ہیں — پشاور ہائی کورٹ کا اہم اور بڑا ریلیف ⚖️

اکثر لوگ راشن یا دیگر سہولتوں کے لیے افغان سٹیزن کارڈ (ACC) بنوا لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ پاکستانی ہوتے ہیں۔ بعد میں یہی ریکارڈ ان کے خلاف استعمال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

لیکن حالیہ عدالتی فیصلہ (2026 MLD 18) ایک بڑا ریلیف لے کر آیا ہے…

عدالت نے واضح کر دیا:
صرف نادرا کے ریکارڈ یا کسی ایک اندراج کی بنیاد پر کسی کی پاکستانی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی۔

اگر آپ کے پاس پاکستانی ہونے کے شواہد موجود ہیں —
تو محض ACC یا کسی غلط اندراج کی بنیاد پر آپ کو غیر ملکی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اہم بات:
شہریت دینا یا ختم کرنا صرف Pakistan Citizenship Act, 1951 کے تحت، مکمل قانونی طریقہ کار اور ٹھوس ثبوتوں سے ہی ممکن ہے۔

یعنی… ایک کارڈ آپ کی اصل شناخت ختم نہیں کر سکتا۔

📌 اگر آپ یا آپ کے کسی قریبی شخص کو اس قسم کے مسئلے کا سامنا ہے، تو بروقت قانونی رہنمائی آپ کا حق محفوظ کر سکتی ہے -

03329696342
03059297957

پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ — افغان شہریوں کو ریلیفاس کیس میں پیٹیشنر کی نمائندگی Ali & Zeb Law Firm نے کی، اور مؤکلین ...
16/04/2026

پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ — افغان شہریوں کو ریلیف

اس کیس میں پیٹیشنر کی نمائندگی Ali & Zeb Law Firm نے کی، اور مؤکلین کو مذکورہ مندرجہ ذیل تمام ریلیف حاصل ہوا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغان شہری جو پاکستانی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں، انہیں نہ ہراساں کیا جائے اور نہ ہی گرفتار کیا جائے۔

عدالت نے ان کی ڈیپورٹیشن (ملک بدری) پر بھی اسٹے دے دیا ہے۔

مزید برآں، عدالت نے نادرا کو ہدایت دی ہے کہ ایسے کیسز کو قانون کے مطابق دیکھے اور جہاں حق بنتا ہو وہاں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور شہریت کے معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔

یہ فیصلہ ان خاندانوں کے لیے بڑی سہولت ہے جہاں ایک شریکِ حیات پاکستانی اور دوسرا افغان ہے، تاکہ خاندان ایک ساتھ رہ سکیں۔
03329696342
03059297957

The petitioner was effectively represented by the Senior Partner of Ali & Zeb law firm , securing protection of fundamen...
13/04/2026

The petitioner was effectively represented by the Senior Partner of Ali & Zeb law firm , securing protection of fundamental rights including dignity, privacy, and access to lawful opportunities.

A significant relief granted by the Peshawar High Court in W.P. No. 1043-P/2026, where the Court held that minor convictions carrying nominal fines cannot be used to create lifelong civil disabilities. Authorities were directed not to disclose such minor past convictions in Police Clearance Certificates for ordinary civil purposes.

قومی شناختی کارڈ منقولہ جائیداد نہ ہے اس لیے دیوانی عدالت بطور coercive measure اسے بلاک یا منسوخ  کرنے کی  مجاز نہ ہےCN...
09/04/2026

قومی شناختی کارڈ منقولہ جائیداد نہ ہے اس لیے دیوانی عدالت بطور coercive measure اسے بلاک یا منسوخ کرنے کی مجاز نہ ہے
CNIC issued by NADRA cannot be treated as a movable property of its holder, as such it cannot be attached, impounded, cancelled or blocked by the civil courts in civil proceedings as coercive measure.

It is duty of every person to get himself registered with the authority. Card issued by NADRA is a proof of identity of a person. It remains property of Federal Government as described in Section 18 of Ordinance supra. It cannot be sold, transferred or possessed by any other person. It cannot be inherited on the death of its holder. It does not create any proprietary right in favour of its holder. It only proves identity of a person. It cannot be treated as movable property despite of the fact that it is a movable physical object.Government issues the Card as identity document, hence cannot be considered as property.

Nut shall of the above discussion was that since the Card issued by NADRA cannot be treated as a movable property of its holder, as such it cannot be attached, impounded, cancelled or blocked by the civil courts in civil proceedings as coercive measure. It can only be cancelled or impounded or confiscated by the authority only in the manner and by the circumstances prescribed under Section 18 of the Ordinance, 2000.

Writ Petition No. 8895 of 2025
Muhammad Ali Ansari. Versus Federation of Pakistan and 04

اگر کسی فریق کو اپیل کے مرحلے پر آرڈر 1 رول 10 سی پی سی کے تحت شامل کیا جائے، تو انصاف کے تقاضے یہ ہیں کہ مقدمہ دوبارہ ٹ...
09/04/2026

اگر کسی فریق کو اپیل کے مرحلے پر آرڈر 1 رول 10 سی پی سی کے تحت شامل کیا جائے، تو انصاف کے تقاضے یہ ہیں کہ مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجا جائے تاکہ نئے شامل ہونے والے فریق کو جواب داخل کرنے، ثبوت پیش کرنے اور مکمل طور پر کیس لڑنے کا موقع مل سکے-

08/04/2026

PLD 2026 SC 20

Nikkahnama constitutes a civil contract, the interpretation whereof must primarily be governed by the intention of the parties rather than the mere headings or columns of the document. In the present case, Column No. 13 reflected the dower amount (Rs. 500,000), whereas Column No. 16 specified an immovable property (plot) as dower. The Court rejected the contention that the property was contingent upon non-payment of the amount mentioned in Column No. 13, and held that dower may validly be stipulated in multiple forms, including cash and property, simultaneously. Both forms constitute independent and enforceable rights if so intended by the parties.

The Court further observed that a registered Nikahnama carries a presumption of correctness as a public document, and any ambiguity therein must be resolved by ascertaining the true intent of the contracting parties. Such interpretation must be undertaken with due care, ensuring that the rights of both parties, particularly the bride, are not prejudiced on the basis of presumptions favouring the husband.

نکاح نامہ ایک باقاعدہ سول کنٹریکٹ ہے جس کی تعبیر و تشریح کرتے وقت اصل معیار فریقین کی نیت (intention of the parties) ہے، نہ کہ محض اس کے کالمز یا ہیڈنگز۔ زیرِ بحث معاملہ میں کالم نمبر 13 میں رقمِ مہر (Rs. 500,000) جبکہ کالم نمبر 16 میں غیر منقولہ جائیداد (پلاٹ) بطور مہر درج تھی۔ عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ جائیداد کی ادائیگی کالم 13 میں درج رقم کے عدم ادائیگی سے مشروط ہے، اور قرار دیا کہ مہر بیک وقت نقد اور جائیداد دونوں صورتوں میں مقرر کیا جا سکتا ہے اور دونوں اپنی حیثیت میں مستقل اور قابلِ نفاذ حقوق ہیں۔ مزید برآں، عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامہ ایک پبلک ڈاکومنٹ ہے جس کے مندرجات کو درست تصور کیا جاتا ہے، اور کسی بھی ابہام کی صورت میں عدالت فریقین کی حقیقی نیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشریح کرے گی، نہ کہ کسی ایک فریق کے حق میں محض مالی ذمہ داری کی بنیا

Address

Office No. B-11, Al-Nimra Plaza, Oppisite To Govt College, Faqir Abad, KPK
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali & Zeb law firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share