Raees Muhammad

Raees Muhammad Advocate High Court at Peshawar. Constitutional, Criminal, Service, Educational Institutes, Civil & Family Laws of Pakistan.

23/03/2026

خرچہ نان و نفقہ کا فیصلہ کرتے وقت خاوند کی معاشی حالت کو نظر انداز نہ کیا جا سکتا ہے.

2014 YLR 1563.

21/03/2026

قیدیان کے لیے 100 دن کی سزا میں معافی کا اعلان
20/03/2026

قیدیان کے لیے 100 دن کی سزا میں معافی کا اعلان

لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ 2025 LHC 5162 میں یہ نہایت اہم اصول طے کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی فوجداری مقدمہ (FIR) ...
19/03/2026

لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ 2025 LHC 5162 میں یہ نہایت اہم اصول طے کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی فوجداری مقدمہ (FIR) میں باعزت طور پر بری ہو جائے تو پولیس حکام اس مقدمہ کا ذکر اس کے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں نہیں کر سکتے، کیونکہ بریت کے بعد وہ شخص قانون کی نظر میں مکمل طور پر بے گناہ تصور ہوتا ہے اور ایسے مقدمات کا اندراج اس کی ساکھ، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ مواقع پر بلاجواز منفی اثر ڈالتا ہے؛ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کا مقصد کسی فرد کے موجودہ کردار کی عکاسی ہے نہ کہ ماضی کے ان الزامات کو دہرانا جن سے وہ بری ہو چکا ہو، لہٰذا اس کے برعکس کوئی بھی اقدام نہ صرف قانونی طور پر ناقابلِ جواز ہوگا بلکہ آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور اگر کسی شہری کے سرٹیفکیٹ میں اس اصول کے برعکس اندراج کیا جائے تو اسے آئینی درخواست کے ذریعے عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

Bail under Section 14FA was granted on the basis of POC by the Chief Justice of the Peshawar High Court.
18/03/2026

Bail under Section 14FA was granted on the basis of POC by the Chief Justice of the Peshawar High Court.

عید الفطر کے موقع پر صرف دو چھوٹیاں ہوگی۔
15/03/2026

عید الفطر کے موقع پر صرف دو چھوٹیاں ہوگی۔

حکم نامہبتاریخ پشاور: 04 مارچ، 2026نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (NJPMC) کے فیصلے کی روشنی میں، سائلین کی بائیومیٹرک ت...
15/03/2026

حکم نامہ
بتاریخ پشاور: 04 مارچ، 2026
نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (NJPMC) کے فیصلے کی روشنی میں، سائلین کی بائیومیٹرک تصدیق کے نفاذ کے لیے تاکہ شناخت کی چوری (روپ بدلنے) کو روکا جا سکے، شفافیت کو تقویت ملے اور عدالتی کارروائیوں کی ساکھ کو یقینی بنایا جا سکے، معزز چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں سائلین کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے درج ذیل ہدایات فوری طور پر جاری کی ہیں:
یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ عدالتی کارروائیوں میں حصہ لینے والے درج ذیل زمروں کے افراد کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی:
i. کسی بھی نوعیت کے کیسز بشمول درخواستیں دائر کرنے والے سائلین۔
ii. تحریری بیانات، تحریری جوابات یا کوئی دوسرا جواب جمع کروانے والے مدعا علیہان/جواب دہندگان۔
iii. عدالتوں میں ضمانتی مچلکے جمع کروانے والے ضامن۔
بائیومیٹرک تصدیق نادرا ای-سہولت (NADRA e-Sahulat) مراکز کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔
ہر بائیومیٹرک تصدیق کے لیے 200 روپے نادرا فیس وصول کی جائے گی۔
پشاور ہائی کورٹ ہر سائل کے لیے ایک منفرد ٹریکنگ آئی ڈی (Tracking ID) تیار کرے گی جو بائیومیٹرک تصدیق کے مقصد کے لیے ان کے شناختی کارڈ (CNIC) سے منسلک ہوگی۔
سائلین کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ پشاور ہائی کورٹ کے دفتر/عدالت یا کسی بھی ای-سہولت فرنچائز نیٹ ورک کے ذریعے جاری کردہ ٹریکنگ آئی ڈی متعلقہ افسر یا فرنچائز مالک کو پیش کر کے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کروائیں۔ افسر/فرنچائز مالک ای-سہولت ایپلی کیشن میں ٹریکنگ آئی ڈی درج کرے گا اور مقررہ مقامات پر نادرا ای-سہولت آئی ڈیز کا استعمال کرتے ہوئے بائیومیٹرک تصدیق کرے گا۔
ایسے کیسز جن میں ایک سے زیادہ مدعی یا مدعا علیہان شامل ہوں، ان کی بائیومیٹرک تصدیق ان کے مقرر کردہ وکیل (Attorney) کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
متبادل کے طور پر، متعلقہ عدالت اپنی صوابدید پر کم از کم دو یا تین نمائندہ مدعیان/مدعا علیہان کو اس شرط کو پورا کرنے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کی ہدایت دے سکتی ہے۔
ان ہدایات کا اطلاق پشاور ہائی کورٹ کے پرنسپل سیٹ، اس کے بنچوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کی تمام ضلعی اور تحصیل عدالتوں پر ہوگا۔
تمام متعلقہ جوڈیشل افسران، عدالتی عملہ، وکلاء اور سائلین کو ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں ملزمان  نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی۔ ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 71 مورخہ 13-02-2026 ت...
14/03/2026

پشاور ہائی کورٹ میں ملزمان نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی۔ ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 71 مورخہ 13-02-2026 تھانہ بلٹنگ، ضلع کوہاٹ میں فارینرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14(ii) کے تحت مقدمہ درج تھا۔ الزام یہ تھا کہ وہ افغان شہری ہیں اور بغیر کسی قانونی ویزہ یا اجازت نامہ کے پاکستان میں مقیم تھے۔

ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ رجسٹرڈ افغان مہاجر ہیں اور ان کے پاس PoR (Proof of Registration) کارڈز تھے لیکن کارڈز کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ حکومت پاکستان نے 31 جولائی 2025 کے SRO کے ذریعے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی (Repatriation) کا منصوبہ نافذ کیا ہے اور PoR کارڈز کی حتمی مدت 30 جون 2025 تک تھی۔ اس کے بعد ایسے افراد کا پاکستان میں قیام غیر قانونی تصور ہوگا اور متعلقہ اداروں کو انہیں گرفتار کر کے واپس بھیجنے کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ:

ملزمان کے PoR کارڈز کی مدت ختم ہو چکی تھی اور انہیں تجدید بھی نہیں کرایا گیا۔

گرفتاری کے وقت ان کے پاس پاکستان میں رہائش کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔

فارینرز ایکٹ کی دفعہ 14-A کے تحت ایسے غیر ملکیوں کو ضمانت دینے پر قانونی پابندی بھی موجود ہے۔

فیصلہ:
عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملزمان کو فارینرز ایکٹ کی دفعہ 14-B کے تحت ایک ماہ کے اندر افغانستان واپس (Repatriate) کیا جائے۔

آرڈر 9 رول 13 سی۔پی۔سی، آرٹیکل 164 اور سیکشن 5 لمیٹیشن ایکٹ کی روشنی میں “مناسب وجہ (Sufficient Cause)”:آرڈر 9 رول 13 ضا...
13/03/2026

آرڈر 9 رول 13 سی۔پی۔سی، آرٹیکل 164 اور سیکشن 5 لمیٹیشن ایکٹ کی روشنی میں “مناسب وجہ (Sufficient Cause)”:

آرڈر 9 رول 13 ضابطہ دیوانی (CPC) کے مطابق اگر کسی مقدمے میں عدالت مدعا علیہ کی غیر حاضری کی وجہ سے یک طرفہ فیصلہ (Ex-parte Decree) صادر کر دے تو مدعا علیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دے کر اس فیصلے کو منسوخ کرانے کی استدعا کرے۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مدعا علیہ عدالت کو مطمئن کرے کہ:

1۔ یا تو اسے سمن درست طریقے سے موصول نہیں ہوئے تھے،

2۔ یا پھر وہ کسی مناسب اور معقول وجہ (Sufficient Cause) کی بنا پر مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکا۔

اگر عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہو جائے تو وہ مناسب شرائط کے ساتھ (جیسے اخراجات یا دیگر شرائط) یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کر سکتی ہے۔

تاہم آرڈر 9 رول 13 کے ساتھ موجود وضاحت (Proviso) کے مطابق اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ مدعا علیہ کو مقدمے کی تاریخ کا بروقت علم تھا اور اس کے باوجود وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا تو صرف سمن کی ترسیل میں کسی معمولی بے ضابطگی کی بنیاد پر یک طرفہ ڈگری منسوخ نہیں کی جائے گی۔

یہاں “مناسب وجہ” کی کوئی حتمی یا سخت تعریف قانون میں موجود نہیں ہے۔ اس کا تعین ہر مقدمے کے مخصوص حالات اور حقائق کو دیکھ کر عدالت اپنی دانش، فہم اور صوابدید کے مطابق کرتی ہے۔

صرف یہ کہہ دینا کہ وکیل مقرر کر دیا تھا کافی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری صرف وکیل پر نہیں بلکہ فریق پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں باقاعدہ معلومات لیتا رہے۔ اگر وکیل اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عموماً اس کی غفلت کا نقصان اسی فریق کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس نے اسے مقرر کیا تھا۔

🟢 لمیٹیشن ایکٹ (Limitation Act) کے تحت مدت:

آرٹیکل 164، Limitation Act کے مطابق یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کرانے کے لیے 30 دن کے اندر درخواست دائر کرنا ضروری ہے۔

▪️اگر سمن درست طور پر موصول ہوئے تھے تو مدت کا آغاز فیصلے کی تاریخ سے ہوگا۔

▪️اگر سمن درست طور پر موصول نہیں ہوئے تھے تو مدت کا آغاز اس تاریخ سے ہوگا. جب درخواست گزار کو فیصلے کا علم ہوا۔

سن 1980 کی ترمیم کے بعد سیکشن 5 Limitation Act بھی اس معاملے میں قابل اطلاق ہے، جس کے تحت اگر درخواست تاخیر سے دائر ہو تو عدالت تاخیر کو معاف کر سکتی ہے، بشرطیکہ درخواست گزار ہر دن کی تاخیر کی معقول اور قابلِ قبول وضاحت پیش کرے۔

قانونِ میعاد (Limitation Law) کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جائے۔ اگر کوئی فریق مقررہ مدت میں کارروائی نہ کرے اور اس کے پاس تاخیر کی معقول وجہ بھی نہ ہو تو دوسرے فریق کو حاصل ہونے والا قانونی حق برقرار رہتا ہے۔

عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے بارے میں سرکاری اداروں کی ذمہ داری سرکاری اداروں پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی مستعدی اور سنجیدگی سے پیروی کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو یہ ان کی ذمہ داری کی خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔

زیرِ بحث مقدمے میں ریکارڈ سے واضح تھا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی طرف سے سنگین غفلت اور لاپرواہی برتی گئی۔ متعدد مواقع ملنے اور وکلاء کی تبدیلی کے باوجود نہ تو تحریری جواب (Written Statement) جمع کروایا گیا اور نہ ہی یک طرفہ قرار دیے جانے کے بعد مدعی کے گواہوں پر جرح کے لیے وکیل عدالت میں پیش ہوا۔ اس طرزِ عمل نے مدعی کے مقدمے کو مضبوط کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ صرف وکیل مقرر کر دینا فریق کو اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ وکیل کی غفلت کو عموماً موکل کی غفلت تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وکیل اور موکل کا تعلق اصولاً ایجنٹ اور پرنسپل کا ہوتا ہے۔ اگر وکیل عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت اس پر براہِ راست قابو نہیں رکھتی، لیکن اس کے نتائج فریق کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ہر فریق پر لازم ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی باقاعدہ پیروی کرے اور اس کی پیش رفت سے باخبر رہے۔

جب کسی مقدمے میں یک طرفہ فیصلہ ہو جاتا ہے تو کامیاب فریق کے حق میں ایک قیمتی قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے، جسے محض وکیل کی عام سی غفلت کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وکیل کی غفلت کو ہمیشہ معقول وجہ مان لیا جائے تو یہ طریقہ مقدمات کو بلاوجہ طول دینے کا آسان ذریعہ بن جائے گا۔

البتہ اگر وکیل کی غیر حاضری کسی ناقابلِ اختیار صورتحال مثلاً وکیل کی وفات، شدید بیماری یا کسی غیر معمولی مجبوری (Force Majeure) کی وجہ سے ہو تو عدالت انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مداخلت کر سکتی ہے۔

📚 حوالہ: C.P.L.A. 2284/2025
فیصلہ از مسٹر جسٹس محمد علی مظہر
مورخہ 23 جنوری 2026
Capital Development Authority (CDA) v. Dr. Sheikh Muhammad Shoaib Shafi

کیونکہ ریونیو حکام ایک نیم عدالتی (Quasi-Judicial) فورم ہوتے ہیں اس لئے ان کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ ان کا اختیار صرف ...
12/03/2026

کیونکہ ریونیو حکام ایک نیم عدالتی (Quasi-Judicial) فورم ہوتے ہیں اس لئے ان کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ ان کا اختیار صرف ریکارڈ آف رائٹس، پیریاڈیکل ریکارڈ اور رجسٹر آف میوٹیشن میں اندراجات کی درستگی یا تصحیح تک محدود ہے۔ ریونیو حکام کے فیصلے انتظامی اور عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لئے وہ فریقین کی ملکیت (Title) کا حتمی تعین یا فراڈ کے سوال کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

🙃

اگر کوئی شخص ریکارڈ یا میوٹیشن کی قانونی حیثیت کو دھوکہ دہی (Fraud) یا غلط بیانی (Misrepresentation) کی بنیاد پر چیلنج کرے تو اس معاملہ کے لئے ثبوت اور باقاعدہ ٹرائل درکار ہوتا ہے جو ریونیو حکام کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ایسے معاملات میں دیوانی عدالت (Civil Court) کو سیکشن 9 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ ملکیت اور فراڈ کے سوالات کا فیصلہ کرے۔

مزید یہ کہ خیبر پختونخوا لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشن 172 کے تحت دیوانی عدالت کے اختیار پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ دیوانی عدالت خاص طور پر ملکیت کے بنیادی سوال اور ریکارڈ یا میوٹیشن کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کر سکتی ہے، خاص طور پر جب معاملہ فراڈ سے متعلق ہو۔

اس لئے دیوانی عدالت کا فیصلہ، جو ملکیت اور فراڈ کے سوالات پر دیا جائے، ریونیو حکام پر لازمی اور حتمی طور پر قابلِ عمل ہوتا ہے۔



Facts in brief are that the

appellants filed a suit for declaration and permanent injunction

against the respondents in the court of Senior Civil Judge, Mithi (Trial Court). The private respondents contested the suit on legal

as well as factual grounds. It was mainly contended that the matter has already been decided by the revenue hierarchy,

therefore, the suit of the appellants against the order of the revenue hierarchy was not maintainable. The suit was dismissed

by the Trial Court. The appellants challenged the same before the Appellate Court, which allowed the appeal and set aside the

judgment and decree of the Trial Court. The respondents feeling aggrieved preferred a revision application before the High Court

of Sindh, Circuit Court, Hyderabad, which was allowed, setting aside the judgment and decree of the Appellate Court andupholding that of the Trial Court, in result whereof, the suit was

dismissed by means of the impugned order, hence, the instant

direct appeal.

2. The learned counsel for the appellants states that though earlier the petitioners had challenged the mutation of the

disputed property before the revenue hierarchy, but that does not take away the jurisdiction of the civil court. He states that

section 172 of the West Pakistan Land Revenue Act, 1967 (‘Act

of 1967’) bars the jurisdiction of civil court in certain circumstances, which does not include the claim of a party with

regard to his right, title or interest. Besides, the learned counsel adds that the question of fraud alleged by an aggrieved party

requires evidence to prove, which exercise can only be done by a civil court, therefore, there is no findings of the revenue forum

with regard to the factum of fraud. He states that in the given circumstances, the civil court having the power to decide the

entitlement of a rightful owner and to declare any order of the revenue hierarchy void, was rightly approached. He contends

that the learned High Court has failed to appreciate this legal aspect of the case and has reached a wrong conclusion.

3. The learned counsel for the respondents opposed the contention and states that the decision of the revenue authorities was against the appellants, but they did not challenge the same, which attained finality, therefore, the appellants are estopped to

agitate their claim again. The learned counsel further states that the suit filed by the appellants was otherwise not maintainable in

view of bar contained in section 172 of the Act of 1967.

4. Arguments heard and have perused the record. The contents of the plaint reveal that the appellants are claiming to be owners of the property through a registered sale deed. It is

alleged that the respondents with connivance of the revenue

authorities, fraudulently transferred the property of the appellants in their name without adopting the procedure

provided by the Act of 1967, which is an illegality. There is no denial of the fact that the mutation in question was once

challenged before the revenue hierarchy by the appellants on the ground that it is a result of fraud and misappropriation. The

revenue hierarchy being a quasi-judicial forum has limited jurisdiction of rectification, specifically, regarding record of

rights, periodic record or correction of entries in the register of mutations. Their decisions are administrative and tentative in

nature, which neither determine the title of the parties nor resolve the factum of fraud. However, when an aggrieved person

challenges the title or validity of the record or mutation, on the plea of fraud or misrepresentation, such controversy requires

evidence to prove, which is not within the domain of revenue authorities. For such purpose, the civil court has the ultimate

jurisdiction by virtue of section 9 of the Code of Civil Procedure (‘CPC’). Section 172 of the Act of 1968 does not debar the civil court from adjudicating on fundamental question of ownership and legality of record or mutation assailed particularly on the ground of fraud. The decision of the civil court regarding determination of question of title and factum of fraud in the record of rights1 is therefore, binding upon the revenue hierarchy. The jurisdiction of civil courts is barred only in respect of the matter specifically provided for in section 172 of the Act of

The subject matter of the suit in hand and the cause of action disclosed in the plaint do not fall within the ambit of

section 172 of the Act of 1967, therefore, the suit was not barred by the said law. The High Court while making a reference to

section 172 of the Act of 1968 has wrongly dismissed the suit of the appellant. In such view of the matter, the findings of the High

Court suffers from misappreciation of the relevant law, hence came to a wrong conclusion, therefore, the impugned order and

decree are not sustainable.

Thus, in view of the above, the appeal is allowed. The impugned order of the High Court dated 23.12.2022 is set aside.

The suit filed by the appellants is deemed to be pending before the Civil Court, which after providing opportunity of hearing to

all concerned, should proceed with the matter expeditiously and decide the same, strictly in accordance with law and on its own

merits. The parties are under litigation since long period of time, the Trial Court should take all necessary steps to conclude the

trial as early as possible. No unnecessary adjournments shall be granted to the parties and their counsels.

‏وفاقی شرعی عدالت، چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس اور ماتحت عدلیہ میں بھی چار روز عدالتیں کام کریں گی اور تین دن چھٹی ہوگی۔ چ...
11/03/2026

‏وفاقی شرعی عدالت، چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس اور ماتحت عدلیہ میں بھی چار روز عدالتیں کام کریں گی اور تین دن چھٹی ہوگی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ہنگامی اجلا س میں فیصلہ

11/03/2026

Address

Haji Mir Azal Plaza Near MMC General Hopsital
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raees Muhammad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Raees Muhammad:

Share