08/11/2025
Some of the major changes brought in through the proposed 27th Constitutional Amendment.
⬅️27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ سامنے آگیا
⬅️آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز
⬅️ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ" کے قیام کی تجویز
⬅️سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کرنے کی شق
⬅️وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا
⬅️چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر
⬅️وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے
⬅️آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار
⬅️آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار
⬅️آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز
⬅️آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم
⬅️سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل
⬅️آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز
⬅️جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل
⬅️وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے
⬅️آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم
⬅️سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان
⬅️آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
⬅️آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کا اضافی عہدہ دیا گیا
⬅️"فیلڈ مارشل" کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز
⬅️آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار
⬅️آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ
⬅️آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور
⬅️آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط
⬅️آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار
⬅️آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی
⬅️آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز
⬅️آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔