Peshawar Tax Consultant

Peshawar Tax Consultant Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Peshawar Tax Consultant, Lawyer & Law Firm, Peshawar Dalazak Road, Peshawar.

Tax Consultant Peshawar
Sikandar khan Advocate hight court and Tax consultant Peshawar
What'sapp 03159945670
⭐NTN Registration
⭐Company Registration, AOP, Partnership
⭐Custom
⭐sales Tax
⭐imoprt exports license
⭐chamber certificate
⭐Password recovery

سکندر خان لا اسوسیٹس ایڈووکیٹ  اور ماہر قانون ٹیکس ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور What apps 0333 9256771 Email address Khansik...
27/08/2025

سکندر خان لا اسوسیٹس
ایڈووکیٹ اور ماہر قانون ٹیکس
ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور
What apps 0333 9256771
Email address [email protected]
خیبرپختونخوا حکومت نے ستمبر (September) سے ای-سٹامپ پیپر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، اور اس سلسلے میں پورا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس کا جامع، مرحلہ وار طریقہ کار پیش کیا جا رہا ہے:
ای-سٹامپ پیپر کا طریقہ کار (فی الحال موجود نظام کے تحت)
1. اقدام اور تعمیل
سٹیمپ ایکٹ، 1899 میں ضروری ترامیم کر کے - e.stamps paper ای سٹامپ پیپر کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔

2. ویب پورٹل کے ذریعے درخواست
صارفین www.estamp.kp.gov.pk پر جائیں گے جہاں وہ:
Challan Form 32-A تیار کر سکتے ہیں۔

Challan کو پرنٹ یا دوبارہ پرنٹ کر سکتے ہیں۔

Stamp Duty کی رقم کا حساب لگا سکتے ہیں۔

ای-سٹامپ پیپر کی آن لائن توثیق (Verify) کر سکتے ہیں۔

3. Challan Form 32-A کی تیاری

پورٹل پر "Generate Challan 32-A" کے آپشن پر کلک کریں:

اس کے بعد فارم میں ضروری معلومات شامل کریں:

ضلع، تحصیل، کس قسم (Judicial یا Non-Judicial)، Deed نام، CNIC وغیرہ۔

فارم کو جمع (Submit) کریں، جس کے بعد سسٹم ایک 16 ہندسوں پر مبنی منفرد Challan نمبر (Challan ID) تخلیق کرتا ہے۔
یہ Challan پرنٹ کر کے یا PDF کے طور پر بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس میں QR کوڈ شامل ہوتا ہے جو بینک اور صارف دونوں کے لیے قابل خوانش ہوتا ہے۔

4. بینک میں فیس کی ادائیگی

Challan کو لے کر آپ قریبی نامزد بینک شاخ (جیسا کہ NBP یا Bank of Khyber وغیرہ) پہنچتے ہیں۔

ادائیگی کے بعد، بینک ایک قانونی سائز کے Yellow Security Featured Paper پر ای-سٹامپ پیپر جاری کرتا ہے۔

5. تصدیق اور شفافیت

ہر ای-سٹامپ پیپر کو آن لائن یا SMS کے ذریعے تصدیق (Verify) کیا جا سکتا ہے تاکہ جعلی اور پرانی تاریخ کے سٹامپ پیپر کا خاتمہ ممکن ہو۔
پورے عمل کے دوران ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم رہتا ہے جو شفافیت اور ریونیو کی نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔

خلاصہ: پورا مرحلہ وار سلسلہ

مرحلہ نمبر تفصیل

1⃣ ویب سائٹ پر Challan فارم بھرنا (تحصیل، Deed کی قسم، CNIC وغیرہ)
2⃣ فارم جمع کرانا اور Challan نمبر حاصل کرنا
3⃣ Challan کو پرنٹ کرنا یا PDF میں محفوظ کرنا
4⃣ بینک میں Challan جمع کروانا اور فیس ادا کرنا
5⃣ Yellow Security Paper پر ای-سٹامپ پیپر حاصل کرنا
6⃣ QR کوڈ یا Challan نمبر کے ذریعے آن لائن تصدیق کرنا

اضافی اہم نکات

بینک آف خیبر (BoK)، Board of Revenue اور KPITB کے مابین ایک سروس لیول ایگریمنٹ (SLA) ہوا ہے، جس کے تحت بینک آف خیبر اب جمع کرنے والے ایجنٹ (collecting agent) کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔

اس پورے نظام کا مقصد جعلی اور پرانی تاریخ کے سٹامپ پیپر کے مسئلے سے نجات، جائیداد سے متعلق تنازعات میں کمی، اور آمدن میں اضافہ (تقریباً سالانہ 50 کروڑ روپے تک) !

Sikandar Khan law Associate Taxation,trade  mark registration, company registration, civil ,family...What apps 0333 9256...
25/08/2025

Sikandar Khan law Associate
Taxation,trade mark registration, company registration, civil ,family...
What apps 0333 9256771
Email address [email protected]
For information and guidance...

۔۔۔ میں آپ کو دبئی میں Mainland اور Free Zone کمپنی رجسٹریشن کا موازنہ بتاتا ہوں تاکہ آپ آسانی سے سمجھ سکیں:

Mainland Company (Onshore)

اتھارٹی: Dubai Department of Economic Development (DED)

فوائد
پورے UAE
میں بزنس کر سکتے ہیں
(فری زون تک محدود نہیں)
سرکاری پروجیکٹس اور کنٹریکٹس لے سکتے ہیں۔

بینک اکاؤنٹ کھولنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

ملازمین کے ویزے زیادہ تعداد میں نکل سکتے ہیں۔
کچھ نقصانات
کچھ بزنس ایکٹیویٹیز میں Local Emirati Sponsor یا Service Agent لینا پڑتا ہے (حالانکہ زیادہ تر ایکٹیویٹیز اب 100% اونرشپ پر بھی مل رہی ہیں)۔
اخراجات فری زون کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
فزیکل آفس لینا لازمی ہے (Flexi Desk نہیں چلتا)۔

اخراجات (تقریباً)

رجسٹریشن اور لائسنس فیس
: AED 15,000 – 25,000

آفس رینٹ: AED 15,000 سے اوپر (لوکیشن پر منحصر)
کل بجٹ: AED 30,000+ (PKR 22-25 لاکھ کے قریب)
🔹 Free Zone Company
اتھارٹی: مخصوص فری زون اتھارٹیز (جیسے DMCC, JAFZA, IFZA, DSO وغیرہ)
فوائد

100% فارن اونرشپ (کسی لوکل پارٹنر کی ضرورت نہیں)۔
ٹیکس فری انکم (UAE میں کوئی انکم ٹیکس نہیں)۔
رجسٹریشن پروسیس بہت تیز اور آسان (3-5 دن میں لائسنس)۔
Virtual Office یا Flexi Desk کافی ہے۔
انویسٹر ویزا اور ملازمین کے ویزے آسانی سے ملتے ہیں۔

انٹرنیشنل بزنس اور امپورٹ/ایکسپورٹ کے لیے بہترین۔
نقصانات
بزنس ایکٹیویٹیز صرف اسی فری زون یا انٹرنیشنل لیول پر کر سکتے ہیں، UAE Mainland پر ڈائریکٹ نہیں (لیکن Mainland ڈسٹری بیوٹر کے ذریعے کر سکتے ہیں)۔
کچھ فری زونز میں سالانہ آڈٹ لازمی ہے۔
💰 اخراجات (تقریباً)
رجسٹریشن اور لائسنس فیس: AED 10,000 – 15,000
Flexi Desk/Virtual Office: AED 4,000 – 8,000
کل بجٹ: AED 12,000 – 20,000 (PKR 9–15 لاکھ کے قریب)
خلاصہ فیصلہ
اگر آپ کا بزنس UAE کے اندر لوکل مارکیٹ، گورنمنٹ کنٹریکٹس یا ریٹیل/شاپنگ مالز سے متعلق ہے → Mainland بہتر ہے۔
اگر آپ کا فوکس آن لائن بزنس، IT، کنسلٹنسی، امپورٹ/ایکسپورٹ، یا انٹرنیشنل مارکیٹ ہے → Free Zone بہترین اور سستا ہے۔
؟

سکندر خان  لا اسوسیٹس ماھر قانون  ٹیکس،  انکم ٹیکس    سیلز ٹیکس،  ٹریڈ مارک، کمپنی رجسٹریشنسول، فیملی، بنکیکنگ کورٹ، Wha...
22/08/2025

سکندر خان لا اسوسیٹس
ماھر قانون ٹیکس، انکم ٹیکس سیلز ٹیکس، ٹریڈ مارک، کمپنی رجسٹریشن
سول، فیملی، بنکیکنگ کورٹ،
What apps 0333 9256771
Email address [email protected]

ریمیٹینس (Remittances)
اور فارن انکم (Foreign Income) میں بنیادی فرق یہ ہے:
1. ریمیٹینس (Remittances)
اس سے مراد وہ رقوم ہیں جو پاکستانی شہری یا پاکستانی نژاد افراد بیرونِ ملک سے اپنے خاندان یا ذاتی اکاؤنٹ میں بھیجتے ہیں۔
یہ زیادہ تر اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر ہوتی ہیں جو اپنے گھر والوں کو خرچ یا سرمایہ کاری کے لیے بھیجتے ہیں۔
ٹیکس کا معاملہ: پاکستان کے انکم ٹیکس قوانین کے مطابق ریمیٹینس پر انکم ٹیکس نہیں لگتا، بشرطیکہ یہ رقم باقاعدہ بینکاری چینلز (مثلاً بینک، منی ایکسچینج، SWIFT وغیرہ) کے ذریعے پاکستان آئی ہو۔

2. فارن انکم (Foreign Income)
اس سے مراد وہ آمدنی ہے جو پاکستان کے "ٹیکس ریذیڈنٹ" شہری کو بیرونِ ملک سے حاصل ہوتی ہے، جیسے:
بیرونِ ملک نوکری کی تنخواہ (اگر آپ ٹیکس ریذیڈنٹ ہیں اور باہر نوکری کرتے ہیں)
بیرون ملک بزنس یا سرمایہ کاری سے منافع
بیرون ملک جائیداد سے کرایہ وغیرہ

ٹیکس کا معاملہ:
اگر کوئی شخص پاکستان میں ٹیکس ریذیڈنٹ ہے (یعنی سال میں 183 دن یا زیادہ پاکستان میں مقیم ہو، یا اس کی "worldwide income" یہاں chargeable ہو) تو اس کی دنیا بھر کی آمدنی (worldwide income) پر پاکستان میں ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
البتہ اگر اس آمدنی پر بیرونِ ملک پہلے ہی ٹیکس ادا کیا گیا ہے، تو Double Taxation Treaties (DTT) یا Foreign Tax Credit کے ذریعے ایڈجسٹمنٹ لی جا سکتی ہے۔
اگر آپ نان ریذیڈنٹ پاکستانی ہیں (سال میں 183 دن سے کم پاکستان میں رہے ہیں)، تو آپ پر صرف وہی انکم پاکستان میں ٹیکس ایبل ہے جو پاکستان سے کمائی گئی ہو، فارن انکم پر پاکستان میں ٹیکس نہیں لگے گا۔
Conclusion
ریمیٹینس = صرف بھیجی گئی رقم → ٹیکس فری (no income tax in Pakistan)
فارن انکم = بیرون ملک کمایا ہوا ذریعہ آمدن → ٹیکس ایبل ہے اگر آپ پاکستان میں ٹیکس ریذیڈنٹ ہیں

Sikandar Khan advocate High Court

11/08/2025

اگر کوئی سپلائر سیلز ٹیکس میں رجسٹر نہ ہو اور وہ ٹیکس ایبل سپلائیز کر چکا ہو، تو اس سے سابقہ سیلز ٹیکس بالکل وصول کیا جا سکتا ہے۔

اس کی قانونی بنیاد Sales Tax Act, 1990 میں موجود ہے، خاص طور پر:
اہم دفعات
1. سیکشن 3(1) – لیوی آف ٹیکس
ہر ٹیکس ایبل سپلائی پر سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے، چاہے سپلائر رجسٹرڈ ہو یا نہیں۔ رجسٹریشن نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکس واجب الادا نہیں ہوگا
۔
2. سیکشن 14 – رجسٹریشن کی لازمی شرط
اگر کوئی شخص رجسٹریشن کے قابل ہو اور وہ رجسٹریشن نہ کرائے، تو وہ ڈیفالٹر تصور ہوگا۔

3. سیکشن 11 – اسیسمنٹ آف ٹیکس

اگر کوئی شخص ٹیکس ادا نہ کرے یا رجسٹر نہ ہو اور سپلائیز کر چکا ہو، تو کمشنر ان لینڈ ریونیو اس کے خلاف اسیسمنٹ آرڈر جاری کر کے پچھلا ٹیکس، جرمانہ اور سود وصول کر سکتا ہے۔

سیکشن 11(1): واجب الادا ٹیکس کا تخمینہ

سیکشن 11(2): ریکارڈ یا شواہد کی بنیاد پر ٹیکس کا تعین ھوگا

4. سیکشن 33 – جرمانے اور سزا

رجسٹریشن نہ کرانے اور ٹیکس نہ دینے پر بھاری جرمانہ اور سزا بھی ہو سکتی ہے۔

نتیجہ:

ایف بی آر ایسے نان رجسٹرڈ سپلائر سے پچھلے تمام عرصے کا سیلز ٹیکس وصول کر سکتا ہے سیکشن 3، 11 اور 14 کے تحت، اور ساتھ جرمانہ و ڈیفالٹ سرچارج بھی لگ سکتا ہے۔

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور اور ماہر قانون ٹیکس What apps 0333 9256771 Email address Khansikandarkhan256@gmail.co...
11/08/2025

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور اور ماہر قانون ٹیکس
What apps 0333 9256771
Email address [email protected]

نان رجسٹرڈ سپلائر سے سیلز ٹیکس وصول
– قانونی ریفرنس چارٹ
مرحلہ وار تفصیل اور متعلقہ شق (Section)
1.
ڈیٹیکشن / شناخت
ایف بی آر بینک ریکارڈ، انکم ٹیکس ریٹرنز، کسٹمز ڈیٹا یا مارکیٹ سروے سے پتہ لگاتا ہے کہ ٹیکس ایبل سپلائیز کی گئی ہیں۔ -
2.
رجسٹریشن نوٹس
نان رجسٹرڈ شخص کو رجسٹریشن کے لیے نوٹس دیا جاتا ہے۔ جو کہ سیکشن 14 سلیز ٹیکس ایکٹ 1990
3
شوکاز نوٹس میں ان سے وضاحت طلب کی جاتی ہے کہ پچھلا ٹیکس، سرچارج اور جرمانہ کیوں نہ وصول کیا جائے۔
جو کہ سیکشن 11(5) میں درج ھے۔۔۔
4.
اسیسمنٹ آرڈر واجب الادا ٹیکس کا تعین کیا جاتا ہےجو کہ سیکشن 11(1) & 11(2)
5.
جرمانے ٹیکس نہ دینے یا رجسٹریشن نہ کرانے پر
جرمانہ عائد کیا جاتا ھے
سیکشن 33
6.
ڈیفالٹ سرچارج ٹیکس لیٹ دینے پر چارج۔ عائد کیا جاتا ھے
سیکشن 34
7.
ڈیمانڈ نوٹس / ریکوری بینک اکاؤنٹ فریز، جائیداد ضبط، بزنس پریمسز سیل۔
اگر متعلق ٹیکس گزار اس کے خلاف اپیل کرنا چاہتا ھو تو مختلف اپیلٹ فورم پر اپیل کر سکتا ھے جو کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو اپیل سے شروع ھوتا ھے۔۔۔۔

سکندرخانایڈووکیٹھ  ھایی کورٹ  پشاور اورماہرقانونٹیکسWhatapps0333 9256771EmailaddressKhansikandarkhan256@gmail.com،۔ ایک ...
23/07/2025

سکندرخانایڈووکیٹ
ھ ھایی کورٹ پشاور اورماہرقانونٹیکس
Whatapps0333 9256771
Emailaddress
[email protected]،

۔ ایک Housewife (گھریلو خاتون) کے فائلر بننے کے بارے میں ماہرین کی رائے، ممکنہ فائد کا
جائزہ لیتے ہیں۔

✅ فائلر بننے کے فوائد (Benefits of Becoming a Filer)

1. ٹیکس میں چھوٹ / کم ودہولڈنگ ٹیکس

فائلر ہونے سے بینک ٹرانزیکشنز، گاڑیوں، جائیداد کی خریداری، اور ٹریول ٹکٹ پر کم ٹیکس کٹتا ہے۔

مثال: نان فائلر پر گاڑی خریدتے وقت زیادہ ایڈوانس ٹیکس لگتا ہے۔

2. قانونی اور مالی شفافیت

اگر خاتون کے نام پر جائیداد، بینک اکاؤنٹس یا سرمایہ کاری ہو، تو فائلر ہونے سے یہ تمام چیزیں قانونی طور پر ریگولرائز ہو جاتی ہیں۔
3. مستقبل میں خود مختاری

اگر کبھی کوئی کاروبار یا سرمایہ کاری شروع کرنی ہو، تو فائلر ہونا ایک مثبت بنیاد فراہم کرتا ہے۔

4. ٹیکس نیٹ میں آنا ایک قومی خدمت بھی ہے

یہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں حصہ دینے کے مترادف ہے۔
5. وراثتی یا تحفہ میں ملی جائیداد / دولت کی وضاحت آسان

اگر خاتون کو تحفہ میں کچھ ملے (شوہر، والد یا سسرال سے)، تو فائلر ہونے کی صورت میں اس کو قانونی طور پر ڈیکلئر کرنا آسان ہوتا ہے۔

مشاورت:
اگر کسی Housewife کے نام پر بینک اکاؤنٹ، جائیداد، گاڑی، یا سرمایہ کاری ہو — یا وہ مستقبل میں کچھ حاصل کرنے والی ہو — تو فائلر بننا بہتر ہے۔

اگر کسی خاتون کی بالکل کوئی آمدن یا اثاثہ نہیں، اور وہ صرف گھر کے کام کاج میں مصروف ہیں، تو فائلر بننا ضروری نہیں — لیکن پھر بھی اگر وہ بننا چاہیں تو یہ ایک مثبت قدم ہے، بشرطیکہ وہ ریٹرن فائل کر ے۔

؟

سکندر خان ایڈووکیٹ پشاور ھایی کورٹ اور ماہر قانون ٹیکس What apps 0333 9256771 Email address Khansikandarkhan256@gm ، زرع...
19/07/2025

سکندر خان ایڈووکیٹ پشاور ھایی کورٹ اور ماہر قانون ٹیکس
What apps 0333 9256771
Email address Khansikandarkhan256@gm
، زرعی زمین کے علاوہ سکنی زمین پر بھی حقِ شفعہ (حقِ پیش دستی) کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ملکی قانون اور عدالتی تشریحات پر منحصر ہوتا ہے۔

پاکستان میں حقِ شفعہ کے بارے میں عمومی اصول:

پاکستان میں حقِ شفعہ (Right of Pre-emption) کا قانون اسلامی اصولوں اور ریاستی قوانین دونوں پر مبنی ہے، اور اس کی تفصیل مختلف عدالتوں کے فیصلوں میں ملتی ہے۔

حقِ شفعہ کی اقسام:

1. شفعہ بالشریک – اگر خریدار کے ساتھ زمین یا مکان میں پہلے سے شریک ہو۔

2. شفعہ بالجوار – اگر جائیداد خریدنے والا جائیداد کا ہمسایہ نہ ہو، تو قریب کا رہائشی دعویٰ کر سکتا ہے۔

3. شفعہ بالخیار – اگر کسی کو کسی خاص حالت میں ترجیح حاصل ہو (کم رائج ہے)۔

سکنی زمین پر حقِ شفعہ کی حیثیت:

عدالتیں عموماً سکنی (رہائشی) زمین پر حقِ شفعہ کو قابل عمل قرار دیتی ہیں اگر شفعہ کا دعویٰ جوار (پڑوس) کی بنیاد پر ہو۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ اگر شفعہ کا دعویٰ قانونی تقاضوں کے مطابق ہو (مثلاً طلبِ مواثبت، طلبِ اشہاد، طلبِ تمسک وغیرہ) تو سکنی جائیداد پر بھی حقِ شفعہ مانا جا سکتا ہے۔

اہم شرائط:

1. جائیداد فروخت ہو چکی ہو۔

2. دعویدار نے فوراً دعویٰ کیا ہو (طلب کیا ہو)۔

3. گواہان کے ساتھ دعویٰ کیا گیا ہو۔

4. دعویدار واقعی ہمسایہ یا شریک ہو۔

عدالتی نظیر (مثال):

PLD 2017 SC 419
سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ شفعہ بالجوار سکنی جائیداد پر لاگو ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام شرائط پوری کی جائیں۔

Sikandar Khan advocate and tax consultant High Court What apps 0333 9256771 Email address Khansikandarkhan256@gm  سروس ٹ...
29/06/2025

Sikandar Khan advocate and tax consultant High Court
What apps 0333 9256771
Email address Khansikandarkhan256@gm

سروس ٹربیونل کا کوئی فیصلہ ملازمین کے حق میں آتا ہے اور اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے، تو اس کے کچھ ممکنہ نتائج اور طریقہ کار درج ذیل ہیں:
سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا طریقہ کار
سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ہے۔ یہ اپیل عام طور پر فریق ثانی (عموماً حکومت یا متعلقہ ادارہ) دائر کرتا ہے جو ٹربیونل کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ اپیل آئین پاکستان کے آرٹیکل 212 کے تحت دائر کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کا کردار
سپریم کورٹ اس اپیل کا جائزہ لیتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ آیا:
* قانون کی درست تشریح کی گئی ہے: سپریم کورٹ یہ جانچتی ہے کہ کیا سروس ٹربیونل نے متعلقہ قوانین اور قواعد کی درست تشریح اور اطلاق کیا ہے۔
* حقائق کا صحیح جائزہ لیا گیا ہے: عدالت یہ بھی دیکھتی ہے کہ کیا ٹربیونل نے کیس کے حقائق کا درست اور مکمل جائزہ لیا تھا۔
* اختیارات کا درست استعمال کیا گیا ہے: کیا ٹربیونل نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا؟
* آئینی تحفظات: ملازمین کے آئینی حقوق اور تحفظات کو مدنظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔
ممکنہ نتائج
سپریم کورٹ میں اپیل کے بعد کئی ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں:
* سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھنا: اگر سپریم کورٹ کو لگتا ہے کہ سروس ٹربیونل کا فیصلہ قانون اور حقائق کے مطابق درست ہے، تو وہ اپیل مسترد کر سکتی ہے اور ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس صورت میں ملازمین کے حق میں دیا گیا فیصلہ حتمی ہو جاتا ہے۔
* سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دینا: اگر سپریم کورٹ کو سروس ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی، غلطی، یا اختیارات کا غلط استعمال نظر آتا ہے، تو وہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
* کیس واپس بھیجنا (Remand): بعض اوقات سپریم کورٹ کیس کو مزید سماعت یا کچھ ہدایات کے ساتھ واپس سروس ٹربیونل یا کسی نچلی عدالت میں بھیج سکتی ہے۔
* فیصلے میں ترمیم: سپریم کورٹ ٹربیونل کے فیصلے میں جزوی ترمیم بھی کر سکتی ہے، یعنی مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کے بجائے اس کے کچھ حصوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔
* نئی تحقیقات کا حکم: بعض صورتوں میں، سپریم کورٹ مزید تحقیقات یا نئے سرے سے کارروائی کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
ملازمین پر اثرات
اگر سپریم کورٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے، تو ملازمین کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے اور ان کے حقوق کو تحفظ مل جاتا ہے۔ لیکن اگر فیصلہ کالعدم ہو جاتا ہے، تو ملازمین کو دوبارہ قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا ان کے حق میں دیا گیا فیصلہ ختم ہو سکتا ہے۔
مختصراً، سروس ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا ایک پیچیدہ قانونی عمل ہے جس کے نتائج کیس کے مخصوص حقائق اور قانونی نکات پر منحصر ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس معاملے میں حتمی ہوتا ہے۔

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور سکندر خان لا اسوسیٹس آور ماہر قوانین ٹیکس  What apps 0333 9256771 Email address Khans...
27/06/2025

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور
سکندر خان لا اسوسیٹس آور ماہر قوانین ٹیکس
What apps 0333 9256771
Email address Khansikandarkhan256@gm.

پاکستان کی سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس کے تحت پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 12 جولائی 2024 کے اپنے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں، سنی اتحاد کونسل (جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے شمولیت اختیار کی تھی) کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
اس فیصلے کے بعد، سنی اتحاد کونسل کے کوٹہ کی نشستیں اب دیگر جماعتوں، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، کو منتقل ہو جائیں گی۔ قومی اسمبلی کی 22 نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی 55 نشستیں حکومتی اتحاد کو ملیں گی۔
اس سے قبل، سپریم کورٹ نے 12 جولائی 2024 کو ایک فیصلے میں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف الیکشن کمیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں نے نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔ موجودہ فیصلہ انہی نظرثانی درخواستوں پر سنایا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں، خاص طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیوں کی عددی پوزیشن کے حوالے سے۔

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور سکندر خان لا اسوسیٹس ایڈووکیٹ  اور ٹیکس کنسلٹنٹ What apps 0333 9256771 Email address ...
27/06/2025

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ پشاور
سکندر خان لا اسوسیٹس ایڈووکیٹ اور ٹیکس کنسلٹنٹ
What apps 0333 9256771
Email address Khansikandarkhan256@gm.
پاکستان میں لے پالک بچوں کے خقوق اور ذمہ داری کے بارے میں معلومات۔۔۔۔
پاکستان میں لے پالک بچوں کے قانونی حقوق کے حوالے سے اسلامی اصولوں اور مروجہ قوانین کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اس معاملے میں واضح تفہیم ہو تاکہ لے پالک بچوں کے بہترین مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
لے پالک بچوں کے قانونی حقوق: اہم نکات
نسب اور ولدیت
اسلامی شریعت کے مطابق، لے پالک بچے کو اس کے حقیقی والدین کے نسب سے جوڑا جاتا ہے اور اس کی ولدیت میں حقیقی باپ کا نام ہی برقرار رہتا ہے۔ گود لینے والے والدین کا نام بچے کی ولدیت میں شامل کرنا شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ نسب کی حفاظت کی جا سکے اور وراثت کے قوانین میں ابہام نہ ہو۔ تاہم، گود لینے والے والدین سرپرست کے طور پر اپنا نام استعمال کر سکتے ہیں۔
وراثت
پاکستان میں مروجہ اسلامی قوانین کے تحت، لے پالک بچہ گود لینے والے والدین کی جائیداد کا حقیقی وارث نہیں ہوتا۔ وراثت صرف نسبی اور حقیقی رشتہ داروں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ البتہ، لے پالک بچے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گود لینے والے والدین اپنی زندگی میں مندرجہ ذیل طریقے اختیار کر سکتے ہیں:
* وصیت: گود لینے والے والدین اپنی جائیداد کا کچھ مخصوص حصہ لے پالک بچے کے لیے وصیت کر سکتے ہیں۔ وصیت کرنا ایک قانونی اور اسلامی عمل ہے۔
* تحفہ (ہبہ): گود لینے والے والدین اپنی جائیداد کا کچھ حصہ لے پالک بچے کو تحفہ (ہبہ) کے طور پر بھی دے سکتے ہیں۔ یہ بھی قانونی طور پر جائز ہے۔
* قانونی دستاویزات: لے پالک والدین قانونی دستاویزات کے ذریعے جائیداد کا کچھ حصہ بچے کے نام پر رجسٹر کروا سکتے ہیں۔
سرپرستی (Guardianship)
پاکستان میں "گود لینے" کا کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے جیسا کہ مغربی ممالک میں رائج ہے۔ اس کے بجائے، گارڈین شپ (سرپرستی) کا نظام Guardians and Wards Act 1890 کے تحت رائج ہے۔ اس کے تحت، گود لینے والے والدین بچے کے قانونی سرپرست بن سکتے ہیں۔ سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہیں بچے کی دیکھ بھال، تعلیم اور پرورش کی تمام ذمہ داریاں اٹھانی ہوتی ہیں۔
سرپرستی حاصل کرنے کا طریقہ کار:
سرپرستی حاصل کرنے کے لیے گود لینے والے والدین گارڈین کورٹ میں درخواست دیتے ہیں۔ یہ کورٹ حقیقی والدین کو نوٹس جاری کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ گود لینے والے بچے کی بہترین دیکھ بھال کرنے کے اہل ہیں۔
NADRA میں رجسٹریشن
گارڈین شپ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد، گود لینے والے والدین NADRA میں بچے کو اپنے خاندان کے ایک فرد کے طور پر رجسٹر کروا سکتے ہیں اور اس کے لیے 'ب' فارم (چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ - CRC) حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بچے کا قومی شناختی کارڈ نمبر بھی جاری ہو سکتا ہے۔
خلاصہ:
پاکستان میں لے پالک بچوں کو حقیقی اولاد کی طرح وراثت میں حصہ نہیں ملتا اور ان کی ولدیت میں بھی حقیقی والدین کا نام ہی برقرار رہتا ہے۔ تاہم، گود لینے والے والدین انہیں تعلیم، محبت اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جائیداد سے وصیت، تحفے یا قانونی دستاویزات کے ذریعے حصہ دے سکتے ہیں۔ گارڈین شپ کا نظام لے پالک بچوں کی قانونی سرپرستی کو یقینی بناتا ہے۔
اگر آپ لے پالک بچے کے قانونی حقوق کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو کسی وکیل سے مشورہ کرنا فائدہ مند ہوگا۔

25/06/2025

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ
سکندر خان لا اسوسیٹس
What apps 0333 9256771
Email address [email protected]

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 114C میں حال ہی میں اہم ترامیم کی گئی ہیں، خاص طور پر 2 مئی 2025 کو صدر پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس 2025 کے ذریعے، اور فنانس بل 2024 (جو اب فنانس ایکٹ بن چکا ہے) میں بھی اس سے متعلق تجاویز شامل تھیں۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد نان فائلرز (Non-Filers) پر پابندیاں سخت کرنا اور ٹیکس کی وصولی کو تیز کرنا ہے۔
سیکشن 114C کی اہم ترامیم اور ان کے اثرات:
* "اہل شخص" (Eligible Person) اور "نااہل شخص" (Ineligible Person) کی تعریف:
* اہل شخص وہ ہے جس نے گزشتہ ٹیکس سال کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیا ہو اور اس کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ (افراد کے لیے) یا مالیاتی اسٹیٹمنٹ (کمپنیوں/ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے) میں مناسب وسائل ظاہر کیے گئے ہوں۔
* نااہل شخص وہ ہے جو اہل شخص نہ ہو۔ ان پر مختلف معاشی لین دین میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
* نااہل افراد پر پابندیاں:
سیکشن 114C کے تحت، نااہل افراد پر درج ذیل لین دین میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں:
* موٹر گاڑیوں کی بکنگ، خریداری یا رجسٹریشن: نااہل شخص موٹر گاڑیوں کی بکنگ، خریداری یا رجسٹریشن نہیں کروا سکے گا۔ تاہم، رکشہ، موٹر سائیکل رکشہ، ٹریکٹر اور 800 سی سی تک کی پک اپ گاڑیاں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بورڈ کی طرف سے نوٹیفائی کردہ شرائط و ضوابط کے تحت ٹرکوں اور بسوں پر بھی یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔
* جائیداد کی منتقلی: نااہل شخص ایسی غیر منقولہ جائیداد کی رجسٹریشن، ریکارڈنگ یا منتقلی نہیں کروا سکے گا جس کی قیمت ایف بی آر کے نوٹیفائی کردہ حد سے زیادہ ہو۔
* سیکورٹیز اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری: نااہل افراد سیکورٹیز (بشمول ڈیٹ سیکورٹیز) یا میوچل فنڈز کی یونٹس خرید یا فروخت نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی ان کے اکاؤنٹس کھول سکیں گے۔
* بینک اکاؤنٹس کا کھلنا اور آپریشن: بینکوں کو نااہل افراد کے نئے اکاؤنٹس کھولنے یا موجودہ اکاؤنٹس کو چلانے سے روکنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ نقد رقم کی نکالنے پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جس کی حد ایف بی آر نوٹیفائی کرے گا۔
* ٹیکس کی فوری وصولی:
ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس 2025 نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 138 اور 140 میں بھی ترامیم کی ہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس کے بقایا جات کی فوری وصولی کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ اس کے تحت، اگر کسی معاملے پر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دے دیا ہے، تو ٹیکس کی رقم فوری طور پر یا نوٹس میں دی گئی مدت کے اندر واجب الادا ہو جائے گی، قطع نظر اس کے کہ کسی اور قانون میں کوئی اور وقت کی حد دی گئی ہو یا کوئی اپیل یا اسٹے آرڈر موجود ہو۔ اس سے حکومت کو ٹیکس کی وصولی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔
* ایف بی آر کے اختیارات میں اضافہ:
* ایف بی آر کو غیر رجسٹرڈ کاروباری اداروں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے، اثاثے ضبط کرنے اور احاطے کو سیل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
* ایف بی آر کو ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے کاروبار کے احاطے پر اپنے افسران تعینات کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔
* سیکشن 175AA کے تحت بینکوں اور ایف بی آر کے درمیان ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کے تبادلے کی اجازت دی گئی ہے۔
ان ترامیم کا مقصد ٹیکس کی تعمیل کو بہتر بنانا، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
۔

22/06/2025

سکندر خان ایڈووکیٹ ھائی کورٹ
سکندر خان لا اسوسیٹس what apps 0333 9256771

خیبرپختونخوا انفراسٹرکچر سیس (Infrastructure Cess) ترمیمی ایکٹ 2022 کا صوبائی بجٹ میں دائرہ کار مندرجہ ذیل نکات سے واضح ہوتا ہے:
1. انفراسٹرکچر سیس کا نفاذ:
* یہ ایکٹ خیبرپختونخوا میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نفاذ، وصولی اور انتظام سے متعلق ہے.
* اس سیس کا مقصد صوبے میں انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔
2. سیس کا دائرہ کار:
* یہ سیس صوبے میں تیار کردہ، پیدا کردہ، تجارت شدہ، استعمال ہونے والی، درآمد شدہ، برآمد شدہ یا صوبے سے گزرنے والی اشیاء کی نقل و حمل پر لاگو ہوتا ہے۔
* یہ سیس سامان کی نقل و حمل، ترسیل یا نقل و حرکت پر عائد ہوتا ہے جو:
* صوبے میں تیار یا پیدا کیا گیا ہو
* صوبے میں تجارت یا استعمال کیا گیا ہو
* صوبے سے باہر منتقل کیا گیا ہو
* صوبے سے گزر رہا ہو (ٹرانزٹ گڈز)
* یہ سیس پراپرٹی کی منتقلی پر بھی لاگو ہوتا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی پر۔ 2022 کے بجٹ تجاویز کے مطابق، اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح 1% سے بڑھا کر 2% کر دی گئی تھی۔ تاہم، تازہ ترین بجٹ (2025-26) کی تجاویز میں رہائشی اور کمرشل پراپرٹی الاٹمنٹ ٹرانسفر اسٹیمپ ڈیوٹی کو 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
3. وصولی اور استعمال:
* یہ سیس صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کیا جاتا ہے اور اسے حکومت کی جانب سے خصوصی طور پر انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور ترقی اور انفراسٹرکچر سے متعلق دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
* مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولیوں میں 105% اضافے کا ذکر کیا گیا ہے، جو صوبے کی ٹیکس آمدن میں ایک اہم حصہ ہے۔
4. 2022 کے ایکٹ کا مقصد:
* اس ایکٹ کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا کے اندر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مالی وسائل پیدا کرنا ہے تاکہ بہتر سڑکیں، پل، اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے جا سکیں۔
5. صوبائی بجٹ میں اہمیت:
* یہ سیس صوبائی حکومت کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو ترقیاتی منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
* یہ صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کو سپورٹ کرنے میں مدد کرتا ہے، جس کا حجم مالی سال 2025-26 کے لیے 547 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
خلاصہ:
خیبرپختونخوا انفراسٹرکچر سیس ترمیمی ایکٹ 2022، صوبائی بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اشیاء کی نقل و حرکت اور پراپرٹی کی منتقلی پر ٹیکس لگا کر صوبے کی آمدنی میں اضافہ کرتا ہے، جو بالآخر صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگرچہ 2022 میں اسٹیمپ ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا تھا، تازہ ترین بجٹ میں اسے کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

Address

Peshawar Dalazak Road
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peshawar Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share