Peshawar Tax Consultant

Peshawar Tax Consultant Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Peshawar Tax Consultant, Lawyer & Law Firm, Peshawar Dalazak Road, Peshawar.

Tax Consultant Peshawar
Sikandar khan Advocate hight court and Tax consultant Peshawar
What'sapp 03159945670
⭐NTN Registration
⭐Company Registration, AOP, Partnership
⭐Custom
⭐sales Tax
⭐imoprt exports license
⭐chamber certificate
⭐Password recovery

17/09/2026
جعلی اور فرضی انوائسز کے خلاف ایف بی آر کا سخت اقدامایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس قانون کے تحت جعلی، فرضی یا غیر حقیقی ...
17/09/2026

جعلی اور فرضی انوائسز کے خلاف ایف بی آر کا سخت اقدام
ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس قانون کے تحت جعلی، فرضی یا غیر حقیقی لین دین پر مبنی انوائسز کے خلاف مزید سخت کارروائی کا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔
نئی شق 29 کے تحت اگر نوٹس، سماعت اور قانونی کارروائی کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ کسی رجسٹرڈ شخص نے ایسی انوائس جاری کی ہے جس کے پیچھے حقیقی اشیاء یا خدمات کی فراہمی موجود نہیں، تو متعلقہ شخص پر فرضی انوائس کی مالیت بشمول سیلز ٹیکس کے برابر جرمانہ عائد ہونے کے ساتھ اس کا نام اور رجسٹریشن نمبر “Simulated Invoice Issuers Register” میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ایسے شخص کی انوائس پر اِن پٹ ٹیکس لینے والے رجسٹرڈ افراد کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ فہرست میں نام شامل ہونے کی تاریخ سے متعلقہ اِن پٹ ٹیکس کریڈٹ کی خودکار واپسی اور ناقابلِ قبول قرار دیے جانے کا معاملہ سامنے آئے گا۔
اسی طرح نئی شق 30 کے تحت اگر ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے کسی ٹیکس مدت میں دعویٰ کیے گئے اِن پٹ ٹیکس کا متعلقہ سپلائر کے ظاہر کردہ آؤٹ پٹ ٹیکس سے مطابقت نہ ہونا ثابت ہو جائے، تو قانونی کارروائی اور سماعت کے بعد غیر مماثل اِن پٹ ٹیکس کا 20 فیصد جرمانہ، اِن پٹ ٹیکس کی واپسی اور متعلقہ ڈیفالٹ سرچارج بھی عائد ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، شق 31 کے تحت فہرست میں شامل شخص کی انوائس پر موجود ناقابلِ قبول اِن پٹ ٹیکس کو مقررہ 60 دن کے اندر واپس نہ کرنے پر بھی کارروائی اور جرمانے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
کاروباری طبقے کے لیے اہم سبق:
صرف انوائس کا موجود ہونا کافی نہیں۔ ہر کاروبار کو اپنی خریداری، سپلائر، ادائیگی، اشیاء یا خدمات کی حقیقی فراہمی اور متعلقہ ٹیکس ریکارڈ کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
ایک غلط یا غیر تصدیق شدہ انوائس نہ صرف اِن پٹ ٹیکس کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے بلکہ جرمانے، ڈیفالٹ سرچارج اور مزید قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ٹیکس کمپلائنس میں احتیاط، بعد کی قانونی پریشانی سے بہتر ہے۔
اگر آپ کے کاروبار میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن، اِن پٹ ٹیکس، انوائسز یا ایف بی آر کی جانب سے کسی نوٹس کا معاملہ ہے تو معاملے کو صرف ریٹرن فائلنگ تک محدود رکھنے کے بجائے مناسب قانونی اور ٹیکس مشاورت حاصل کریں۔
Sikandar Khan law Associate
Advocte civil litigation and Consultant
Income Tax, sales tax trade mark and all
Tax Litigation s| Tax Appeals | Income Tax Law |

01/09/2026
سکندر خان ایڈووکیٹھائی کورٹ پشاور ( صرف معلوماتی خد تک ھے ) ،میں نے تازہ طور پر برطانوی/امریکی/یورپی اور بڑے بین الاقوام...
01/09/2026

سکندر خان ایڈووکیٹ
ھائی کورٹ پشاور
( صرف معلوماتی خد تک ھے )
،میں نے تازہ طور پر برطانوی/امریکی/یورپی اور بڑے بین الاقوامی میڈیا کے حوالے سے دوبارہ چیک کیا ہے۔ نتیجہ کافی واضح ہے:
بین الاقوامی میڈیا میں اصل صورتحال
ابھی تک مجھے Reuters، AP، BBC یا AFP کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کی کسی یورپی شہزادی سے شادی کی تصدیق نہیں ملی۔ بلکہ جو بین الاقوامی سطح پر معتبر رپورٹنگ سامنے آئی ہے، وہ اس خبر کو rumour/speculation کے طور پر بیان کرتی ہے۔
India Today
نے 30 اگست کو خبر شائع کی کہ سوشل میڈیا پر بلاول کی آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی Gloria von Habsburg سے شادی کی افواہ پھیلی، لیکن PPP نے اسے "incorrect and unfounded" قرار دیا۔
NDTV
انڈیا ٹو ڈے بھی اسے سوشل میڈیا سے پھیلنے والی قیاس آرائی قرار دیا اور بتایا کہ بعض رپورٹس میں Gloria von Habsburg کا نام لیا گیا، مگر کوئی
تصدیق موجود نہیں تھی۔
NDTV
Hindustan Times نے 31 اگست کو بھی واضح کیا کہ PPP نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق Daily Ausaf کی وہ رپورٹ بھی بعد میں حذف کر دی گئی جس میں شادی کی تیاریوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
Hindustan Times
ThePrint نے بھی لکھا کہ شادی کے دعوے کی آزادانہ
طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعد میں بلاول نے خود افواہ مسترد کردی۔
سب سے اہم پیش رفت: بلاول کا اپنا بیان
اب معاملہ محض PPP کی تردید تک محدود نہیں رہا۔ بلاول بھٹو زرداری نے خود 31 اگست کو ویڈیو بیان میں کہا کہ انہیں سوشل میڈیا نے "engaged" اور "married" کر دیا ہے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ کسی "Princess Gloria" کو جانتے تک نہیں

The Express Tribune
اس لیے اس وقت سب سے مضبوط available evidence شادی کی خبر کے حق میں نہیں بلکہ اس کی تردید میں ہے۔
👑 "Gloria von Habsburg" کون ہیں؟
یہ نام مکمل طور پر فرضی نہیں ہے۔ Gloria von Habsburg واقعی Habsburg-Lorraine خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت ہیں اور Karl von Habsburg اور Francesca Thyssen-Bornemisza کی بیٹی ہیں۔ لیکن یہ حقیقت کہ وہ ایک سابق شاہی/شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، بلاول کے ساتھ کسی رشتے یا شادی کا ثبوت نہیں ہے

Wikipedia
ایک اور اہم نکتہ: آسٹریا آج جمہوریہ ہے، اس لیے "Austrian princess" یا "Archduchess" جیسے القاب تاریخی/خاندانی حوالوں میں استعمال ہوتے ہیں؛ انہیں موجودہ سرکاری شاہی عہدہ سمجھنا درست نہیں۔
📰 Ausaf سے بین الاقوامی میڈیا تک خبر کیسے پہنچی؟
اب تک جو سلسلہ نظر آتا ہے وہ تقریباً یہ ہے:
Social media → Daily Ausaf کی رپورٹ → دیگر پاکستانی میڈیا/سوشل میڈیا → بھارتی اور بین الاقوامی audience والے میڈیا → PPP کی تردید → بلاول کی ذاتی تردید
یعنی بین الاقوامی میڈیا نے خبر کو independently confirm نہیں کیا؛ زیادہ تر نے "viral rumour" کے طور پر رپورٹ کیا

Address

Peshawar Dalazak Road
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peshawar Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share