13/08/2024
ٹاپ سٹی کیس کیا ہے اور سپریم کورٹ میں اس پر کیا سماعت ہوئی تھی؟
نومبر 2023 میں ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پیٹیشن دائر کی تھی جس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لفٹننٹ جنرل فیض حمید پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
معیز احمد خان کی جانب سے دائر کردہ پیٹیشن میں کہا گیا تھا کہ 12 مئی 2017 کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی ایما پر خفیہ ادارے کے حکام نے ٹاپ سٹی کے دفتر اور ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے حکام نے ان کے گھر سے سونے، ہیرے، اور پیسوں سمیت متعدد قیمتی اشیا قبضے میں لی تھیں۔
معیز احمد خان نے درخواست میں مزید کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے حکام نے ان سے چار کروڑ روپے بھی لیے۔
اس پیٹیشن پر سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین نے کی تھی۔
سپریم کورٹ کے اسی بینچ نے لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی فوج نے اپریل 2024 میں سابق ڈی آئی ایس آئی کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔
ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے سماعت کی تھی اور 9 نومبر کو درخواست گزار کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ان کے معاونین کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے وزارت دفاع سمیت متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔
دلائل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سپریم کورٹ کا ہیومن رائٹس سیل مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک اور کیس بھی نمٹا چکا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے عہدہ چھوڑنے سے قبل تمام ریکارڈ کو ضائع کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کیا کہ یہ معاملہ بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق نہیں ہے اور درخواست گزار کو وزارت دفاع سمیت متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ کے بینچ نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے اپنے چیمبر میں ہاؤسنگ سکیم سے متعلق کیس کی سماعت آئینی دفعات کے مطابق نہیں تھی۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ درخواست گزار معیز احمد بدنیتی پر مبنی مقدمہ چلانے پر جنرل (ر) فیض حمید اور دیگر ریٹائرڈ افسران کے خلاف سول یا فوجداری عدالت میں کیس دائر کر سکتا ہے۔
فوج کی کارروائی سے ’عوام کا اعتماد بڑھے گا‘
پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ نے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس عمل کی وجہ سے فوج پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ وہ اکیلے تھے اس سب میں اُن کے ساتھ اور لوگ بھی شامل تھے کیونکہ ایک فردِ واحد اکیلا تو کُچھ بھی نہیں کر سکتا اور یہ سب باتیں بھی اس انکوائری میں سامنے آئی ہوں گی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی سیاسی معاملات میں حاضر سروس ہوتے ہوئے بھی خاصی دلچسپی ہوا کرتی تھی اور وہ بڑے واضح انداز میں کُھل کر سیاسی معاملات میں دخل دیتے تھے اور کوئی بات چھپاتے بھی نہیں تھے۔ اب اس سب میں آپ کے سامنے فیض آباد دھرنے کی مثال موجود ہے جس میں ہونے والے معاہدہ پر انھوں نے خود دستخط کیے۔‘