01/11/2025
2025 CLC 1503 [پشاور]
بینچ:
جسٹس سید ارشد علی
اور
جسٹس وقار احمد
فریقین:
عبدالرحمن — درخواست گزار (Petitioner)
بنام
Secretary Local Government و دیگر — مدعا علیہان (Respondents)
متعلقہ قانون (Relevant Law & Definition):
آئینِ پاکستان (Constitution of Pakistan)
آرٹیکل 199 – Writ Jurisdiction of High Court
یہ آرٹیکل ہائی کورٹ کو اختیار دیتا ہے کہ اگر کوئی سرکاری یا نیم سرکاری ادارہ اپنی حدودِ اختیار سے تجاوز کرے یا کسی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے تو عدالت ایسے اقدام کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
Posted by Legal Luminaries
مقدمے کے حقائق (Facts of the Case):
درخواست گزار عبدالرحمن نے عدالت سے استدعا کی کہ
تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کو ہدایت کی جائے کہ وہ
اس کے قائم کردہ Vehicle Weighing Station (وزن چیکنگ اسٹیشن)
کے کاروبار اور کارروائی میں مداخلت نہ کرے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ
اسے TMA کی طرف سے اجازت نامہ (NOC) اور معاہدہ دیا گیا تھا
جس کے تحت وہ وزن چیکنگ اسٹیشن قائم کر سکتا تھا۔
مدعا علیہان کا مؤقف (Respondents’ Stance):
حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ
متعلقہ سڑک Pakhtunkhwa Highways Authority (PKHA) کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
لہٰذا TMA کو اس پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔
PKHA نے کبھی بھی درخواست گزار کو وزن چیکنگ اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔
TMA نے اپنی قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے
ایک غیر مجاز معاہدہ اور NOC جاری کیا۔
عدالتی مشاہدات (Court’s Observations):
عدالت نے تفصیلی طور پر درج ذیل امور پر روشنی ڈالی:
1. روڈ کا اختیار (Authority over Roads):
سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال کا اختیار
صوبائی حکومت کے ماتحت پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی (PKHA) کے پاس ہے۔
TMA کا ان سڑکوں پر کوئی دائرہ اختیار نہیں۔
2. وزن چیکنگ اسٹیشن کا قیام:
اگر وزن چیکنگ اسٹیشن بنانا مقصود ہو تو
یہ صرف PKHA یا اس کے مجاز اجازت نامے کے تحت ہی ممکن ہے۔
3. غیر قانونی فیس اور ٹیکس:
کسی بھی گاڑی پر فیس یا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار
صرف وہی فورم رکھتا ہے جو قانون کے ذریعے مجاز (expressly authorized) ہو۔
TMA کو ایسی کوئی اجازت حاصل نہیں تھی۔
4. Quid Pro Quo کا اصول:
فیس تب ہی وصول کی جا سکتی ہے جب اس کے بدلے
متعلقہ ادارہ کوئی سروس یا سہولت فراہم کر رہا ہو۔
TMA نہ تو سڑک بناتی تھی، نہ اس کی مرمت یا دیکھ بھال کرتی تھی،
لہٰذا فیس وصول کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔
5. معاہدہ اور NOC کی قانونی حیثیت:
عدالت نے قرار دیا کہ TMA کا معاہدہ اور NOC
غیر قانونی، بے اختیار اور کالعدم (Null and Void) ہیں۔
6. غیر قانونی وصولی:
درخواست گزار لوگوں سے جو رقم وصول کر رہا تھا،
وہ غیر قانونی extortion تھی۔
تاہم عدالت نے ماضی کے لین دین کو “past and closed transaction” تصور کرتے ہوئے
کسی قسم کی واپسی یا تادیبی کارروائی کا حکم نہیں دیا۔
7. مستقبل کے لیے ہدایات:
عدالت نے حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ
آئندہ عوام سے سڑکوں، رکاوٹوں یا ناکوں پر
کسی بھی قسم کی غیر قانونی وصولی کی اجازت نہ دی جائے۔
عدالتی فیصلہ (Judgment):
عدالت نے قرار دیا کہ:
TMA غیر مجاز ادارہ ہے،
اسے کسی سڑک پر وزن چیکنگ اسٹیشن قائم کرنے یا فیس وصول کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
TMA اور درخواست گزار کے درمیان کیا گیا معاہدہ
قانونی اختیار سے عاری ہے۔
لہٰذا یہ معاہدہ اور NOC کالعدم (Null and Void) قرار دیے جاتے ہیں۔
درخواست گزار (عبدالرحمن) کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں۔
آئینی درخواست مسترد (Dismissed) کر دی گئی۔
اہم قانونی اصول (Legal Principles Enunciated):
1. اختیار کا اصول (Doctrine of Authority):
کوئی بھی ادارہ اپنے قانونی دائرہ اختیار سے باہر جا کر کوئی معاہدہ نہیں کر سکتا۔
2. Quid Pro Quo:
فیس صرف اس صورت میں وصول کی جا سکتی ہے
جب اس کے بدلے کوئی خدمت یا سہولت فراہم کی جا رہی ہو۔
3. Illegal Taxation:
کوئی فیس یا محصول صرف قانونی اجازت کے تحت ہی عائد کیا جا سکتا ہے۔
4. Ultra Vires Acts:
ایسا کوئی بھی عمل جو اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کیا جائے
بے اختیار (Ultra Vires) اور کالعدم (Void) ہوتا ہے۔
5. Public Protection:
عوام کو غیر قانونی محصولات اور فیسوں سے تحفظ دینا
ریاست کی ذمہ داری ہے۔
نظائر (Case Law References):
1. Federation of Pakistan v. Durrani Ceramics (2014 SCMR 1630)
فیس یا ٹیکس صرف قانونی اجازت کے تحت عائد کیا جا سکتا ہے۔
2. Lucky Cement Factory Ltd. v. Government of N.W.F.P. (2013 SCMR 1511)
غیر مجاز ادارے کی جانب سے ٹیکس یا فیس کی وصولی غیر قانونی ہے۔
3. National Commission on Status of Women v. Government of Pakistan (PLD 2019 SC 218)
ریاستی ادارے اپنی قانونی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے۔
عدالتی اقتباس (Judicial Dictum):
> “جب کوئی ادارہ اپنی حدودِ اختیار سے باہر جا کر کوئی عمل کرے،
تو وہ عمل قانوناً بے اختیار (without lawful authority) اور کالعدم (null and void) تصور ہوتا ہے۔”
نتیجہ (Conclusion):
TMA کا معاہدہ اور NOC غیر قانونی قرار دیے گئے۔
درخواست گزار کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔
آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔
حکومت کو ہدایت کہ
عوام سے غیر قانونی فیس یا رقوم کی وصولی کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے۔
Posted by Legal Luminaries
2025 CLC 1503
[Peshawar]
Before Syed Arshad Ali and Wiqar Ahmad, JJ
ABDUR REHMAN ---Petitioner
versus
SECRETARY LOCAL GOVERNMENT and others ---Respondents
Writ Petition No. 2656-P of 2022, decided on 18th March, 2024.
Constitution of Pakistan---
Art. 199---Constitutional petition---Execution of an agreement and issuance of NOC for establishing a Vehicle Weighing Station on road---Authority competent to execute such an agreement---Determination---Petitioner sought direction to the Tehsil Municipal Administration (TMA) not to interfere in the business and functioning of such weighing station---Validity---Road was under the domain of Pakhtunkhwa Highways Authority as its construction, repair or maintenance was supposed to be conducted by the Provincial Government through Pakhtunkhwa Highways Authority and the TMA had nothing to do with same, thus, weighing station, if required for checking overweight vehicles, was also supposed to have been established by the Pakhtunkhwa Highways Authority itself or under authorization of the authority and if the road was being damaged due to overweight vehicles, this was not a cause of grievance for the petitioner or even of TMA---Pakhtunkhwa Highways Authority had never granted permission for the establishment of weighing station to the petitioner and no tax could be imposed on such vehicles except by a forum expressly authorized by a law---So far as collection of fee was concerned, existence of quid pro quo for collection of such fee was sine qua non---No services were being extended by TMA for construction or maintenance of the road, thus, it had got no concern with weight of the vehicles---Agreement executed by TMA and NOC granted by it were totally divested of any legal authority and same were declared to be without lawful authority, null and void---Petitioner had no claim against the respondents as he had been illegally extorting money from the people, thus, what had been done was treated as past and closed transaction and no action for recovery against petitioner or TMA on such score was taken---Respondents should be duty bound to protect the transporters and people of the locality from the burden of the unlawful levy-Past practice of collecting money from people on pickets and barricades or otherwise (even existing in the past)may not be allowed to be continued in future---Constitutional petition was dismissed, circumstances.
Federation of Pakistan v. Durrani Ceramics 2014 SCMR 1630; Messrs Lucky Cement Factory Limited and others v. The Government of N.W.F.P. through Secretary Local Government and Rural Development Department, Peshawar and others 2013 SCMR 1511 and National Commission on Status of Women through Chairperson and others v. Government of Pakistan through Secretary Law and Justice and others PLD 2019 Supreme Court 218 rel.