KP Law Journal

KP Law Journal Welcome to the official page of KP Law Journal! Join us for a valuable resource that enhances legal insights and fosters professional development.

KP Law Journal, a monthly journal issued under the guidance of the Khyber Pakhtunkhwa Bar Council, brings together a comprehensive compilation of legal principles and judgments from the Peshawar High Court, Supreme Court, and various Tribunals. Our aim is to facilitate seamless access for the benefit of legal professionals across Khyber Pakhtunkhwa and Pakistan.

Inaugural meeting of Khyber Pakhtunkhwa Bar Council held on 17th January 2026 under the Chairmanship of Hon'ble Advocate...
18/01/2026

Inaugural meeting of Khyber Pakhtunkhwa Bar Council held on 17th January 2026 under the Chairmanship of Hon'ble Advocate General
Mr. Shah Faisal Uthmankhel , the house unanimously elected Mr.Asfandiar Khan, Vice Chairman and Malik Emad Azam Chairman Executive Committee of Khyber Pakhtunkhwa Bar Council Peshawar.

01/11/2025

2025 CLC 1503 [پشاور]

بینچ:

جسٹس سید ارشد علی
اور
جسٹس وقار احمد

فریقین:

عبدالرحمن — درخواست گزار (Petitioner)
بنام
Secretary Local Government و دیگر — مدعا علیہان (Respondents)

متعلقہ قانون (Relevant Law & Definition):

آئینِ پاکستان (Constitution of Pakistan)

آرٹیکل 199 – Writ Jurisdiction of High Court

یہ آرٹیکل ہائی کورٹ کو اختیار دیتا ہے کہ اگر کوئی سرکاری یا نیم سرکاری ادارہ اپنی حدودِ اختیار سے تجاوز کرے یا کسی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے تو عدالت ایسے اقدام کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

Posted by Legal Luminaries

مقدمے کے حقائق (Facts of the Case):

درخواست گزار عبدالرحمن نے عدالت سے استدعا کی کہ
تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کو ہدایت کی جائے کہ وہ
اس کے قائم کردہ Vehicle Weighing Station (وزن چیکنگ اسٹیشن)
کے کاروبار اور کارروائی میں مداخلت نہ کرے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ
اسے TMA کی طرف سے اجازت نامہ (NOC) اور معاہدہ دیا گیا تھا
جس کے تحت وہ وزن چیکنگ اسٹیشن قائم کر سکتا تھا۔

مدعا علیہان کا مؤقف (Respondents’ Stance):

حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ
متعلقہ سڑک Pakhtunkhwa Highways Authority (PKHA) کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
لہٰذا TMA کو اس پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔

PKHA نے کبھی بھی درخواست گزار کو وزن چیکنگ اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔

TMA نے اپنی قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے
ایک غیر مجاز معاہدہ اور NOC جاری کیا۔

عدالتی مشاہدات (Court’s Observations):

عدالت نے تفصیلی طور پر درج ذیل امور پر روشنی ڈالی:

1. روڈ کا اختیار (Authority over Roads):
سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال کا اختیار
صوبائی حکومت کے ماتحت پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی (PKHA) کے پاس ہے۔
TMA کا ان سڑکوں پر کوئی دائرہ اختیار نہیں۔

2. وزن چیکنگ اسٹیشن کا قیام:
اگر وزن چیکنگ اسٹیشن بنانا مقصود ہو تو
یہ صرف PKHA یا اس کے مجاز اجازت نامے کے تحت ہی ممکن ہے۔

3. غیر قانونی فیس اور ٹیکس:
کسی بھی گاڑی پر فیس یا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار
صرف وہی فورم رکھتا ہے جو قانون کے ذریعے مجاز (expressly authorized) ہو۔
TMA کو ایسی کوئی اجازت حاصل نہیں تھی۔

4. Quid Pro Quo کا اصول:
فیس تب ہی وصول کی جا سکتی ہے جب اس کے بدلے
متعلقہ ادارہ کوئی سروس یا سہولت فراہم کر رہا ہو۔
TMA نہ تو سڑک بناتی تھی، نہ اس کی مرمت یا دیکھ بھال کرتی تھی،
لہٰذا فیس وصول کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔

5. معاہدہ اور NOC کی قانونی حیثیت:
عدالت نے قرار دیا کہ TMA کا معاہدہ اور NOC
غیر قانونی، بے اختیار اور کالعدم (Null and Void) ہیں۔

6. غیر قانونی وصولی:
درخواست گزار لوگوں سے جو رقم وصول کر رہا تھا،
وہ غیر قانونی extortion تھی۔
تاہم عدالت نے ماضی کے لین دین کو “past and closed transaction” تصور کرتے ہوئے
کسی قسم کی واپسی یا تادیبی کارروائی کا حکم نہیں دیا۔

7. مستقبل کے لیے ہدایات:
عدالت نے حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ
آئندہ عوام سے سڑکوں، رکاوٹوں یا ناکوں پر
کسی بھی قسم کی غیر قانونی وصولی کی اجازت نہ دی جائے۔

عدالتی فیصلہ (Judgment):

عدالت نے قرار دیا کہ:

TMA غیر مجاز ادارہ ہے،
اسے کسی سڑک پر وزن چیکنگ اسٹیشن قائم کرنے یا فیس وصول کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

TMA اور درخواست گزار کے درمیان کیا گیا معاہدہ
قانونی اختیار سے عاری ہے۔

لہٰذا یہ معاہدہ اور NOC کالعدم (Null and Void) قرار دیے جاتے ہیں۔

درخواست گزار (عبدالرحمن) کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں۔

آئینی درخواست مسترد (Dismissed) کر دی گئی۔

اہم قانونی اصول (Legal Principles Enunciated):

1. اختیار کا اصول (Doctrine of Authority):
کوئی بھی ادارہ اپنے قانونی دائرہ اختیار سے باہر جا کر کوئی معاہدہ نہیں کر سکتا۔

2. Quid Pro Quo:
فیس صرف اس صورت میں وصول کی جا سکتی ہے
جب اس کے بدلے کوئی خدمت یا سہولت فراہم کی جا رہی ہو۔

3. Illegal Taxation:
کوئی فیس یا محصول صرف قانونی اجازت کے تحت ہی عائد کیا جا سکتا ہے۔

4. Ultra Vires Acts:
ایسا کوئی بھی عمل جو اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کیا جائے
بے اختیار (Ultra Vires) اور کالعدم (Void) ہوتا ہے۔

5. Public Protection:
عوام کو غیر قانونی محصولات اور فیسوں سے تحفظ دینا
ریاست کی ذمہ داری ہے۔

نظائر (Case Law References):

1. Federation of Pakistan v. Durrani Ceramics (2014 SCMR 1630)
فیس یا ٹیکس صرف قانونی اجازت کے تحت عائد کیا جا سکتا ہے۔

2. Lucky Cement Factory Ltd. v. Government of N.W.F.P. (2013 SCMR 1511)
غیر مجاز ادارے کی جانب سے ٹیکس یا فیس کی وصولی غیر قانونی ہے۔

3. National Commission on Status of Women v. Government of Pakistan (PLD 2019 SC 218)
ریاستی ادارے اپنی قانونی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے۔

عدالتی اقتباس (Judicial Dictum):

> “جب کوئی ادارہ اپنی حدودِ اختیار سے باہر جا کر کوئی عمل کرے،
تو وہ عمل قانوناً بے اختیار (without lawful authority) اور کالعدم (null and void) تصور ہوتا ہے۔”

نتیجہ (Conclusion):

TMA کا معاہدہ اور NOC غیر قانونی قرار دیے گئے۔

درخواست گزار کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔

حکومت کو ہدایت کہ
عوام سے غیر قانونی فیس یا رقوم کی وصولی کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے۔

Posted by Legal Luminaries

2025 CLC 1503

[Peshawar]

Before Syed Arshad Ali and Wiqar Ahmad, JJ

ABDUR REHMAN ---Petitioner

versus

SECRETARY LOCAL GOVERNMENT and others ---Respondents

Writ Petition No. 2656-P of 2022, decided on 18th March, 2024.

Constitution of Pakistan---

Art. 199---Constitutional petition---Execution of an agreement and issuance of NOC for establishing a Vehicle Weighing Station on road---Authority competent to execute such an agreement---Determination---Petitioner sought direction to the Tehsil Municipal Administration (TMA) not to interfere in the business and functioning of such weighing station---Validity---Road was under the domain of Pakhtunkhwa Highways Authority as its construction, repair or maintenance was supposed to be conducted by the Provincial Government through Pakhtunkhwa Highways Authority and the TMA had nothing to do with same, thus, weighing station, if required for checking overweight vehicles, was also supposed to have been established by the Pakhtunkhwa Highways Authority itself or under authorization of the authority and if the road was being damaged due to overweight vehicles, this was not a cause of grievance for the petitioner or even of TMA---Pakhtunkhwa Highways Authority had never granted permission for the establishment of weighing station to the petitioner and no tax could be imposed on such vehicles except by a forum expressly authorized by a law---So far as collection of fee was concerned, existence of quid pro quo for collection of such fee was sine qua non---No services were being extended by TMA for construction or maintenance of the road, thus, it had got no concern with weight of the vehicles---Agreement executed by TMA and NOC granted by it were totally divested of any legal authority and same were declared to be without lawful authority, null and void---Petitioner had no claim against the respondents as he had been illegally extorting money from the people, thus, what had been done was treated as past and closed transaction and no action for recovery against petitioner or TMA on such score was taken---Respondents should be duty bound to protect the transporters and people of the locality from the burden of the unlawful levy-Past practice of collecting money from people on pickets and barricades or otherwise (even existing in the past)may not be allowed to be continued in future---Constitutional petition was dismissed, circumstances.

Federation of Pakistan v. Durrani Ceramics 2014 SCMR 1630; Messrs Lucky Cement Factory Limited and others v. The Government of N.W.F.P. through Secretary Local Government and Rural Development Department, Peshawar and others 2013 SCMR 1511 and National Commission on Status of Women through Chairperson and others v. Government of Pakistan through Secretary Law and Justice and others PLD 2019 Supreme Court 218 rel.

04/10/2025
03/10/2025

*پریس ریلیز*

*تاریخ: 3 اکتوبر 2025* پشاور

ہائیکورٹ میں وکلاء پر حملہ – ایک تشویشناک اور قابل مذمت واقعہ*

خیبر پختون خواہ بار کونسل نے پشاور ہائیکورٹ میں آج پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے عدالت میں موجود وکلاء پر حملہ کیا۔ اور ایک قاتل ملزم کو بچانے کے لئے یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک نوجوان وکیل کے قتل کیس میں نامزد ایس ایچ او کی سماعت مکمل ہوئی۔
یہ حملہ نہ صرف وکلاء برادری کی عزت، سلامتی اور پیشہ ورانہ وقار پر حملہ ہے، بلکہ عدالتی نظام میں سیکیورٹی کی ناکامی اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس سارے ڈرامے کا ذمہ دار ائی جی پولیس ہے۔
خیبر پختون خواہ بار کونسل اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ خیبر پختون خواہ بار کونسل چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر تی ہے اور
واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری، شفاف اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
عدالتوں میں وکلاء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔

خیبرپختونخوا بار کونسل وکلاء برادری کا مؤقف اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریگا۔
خیبر پختون خواہ بار کونسل نے وکلاء برادری کو متحد رہنے کی ہدایت کی کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے۔ وکلاء کی عزت، وقار اور تحفظ بنیادی حق ہے — اور اس کے لیے ہر قانونی، آئینی اور جمہوری راستہ اپنائیں گے۔
خیبر پختون خواہ بار کونسل کسی بھی سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور وکلاء کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

بتسلیمات
نوازخانعادل
پبلکریلیشنآفیسر
خیبرپختونخواہبارکونسل*

Instructions for  upcoming Bar Council Election
11/09/2025

Instructions for upcoming Bar Council Election

15/08/2025

Khyber Pakhtunkhwa bar council Peshawar 14 August 2025

24/07/2025


SINGLE DOUBT is SUFFICIENT for AQUITTAL. .
2017 - YLR 28 ( GOLDEN RULE)
2017 - YLR 32 (LAHORE )
2017 - PCRLJ 19 ( LAH )
2016 - PCRLJ 18 ( PESHAWAR )
2017 - CrLJ - 62
2016 - SCMR - 1792
2016 - MLD - 757
1995 - SCMR 1345
2009 - SCMR 230.

DELAY of TWO DAYS in RECORDING STATEMENT OF WITNESSES u/s 161 CrPC is FATAL for PROSECUTION.
2017 - SCMR - 486
2016 - PCRLJ -1112

Art . 22 . IDENTIFICATION PARADE WITHOUT ASCRIBING ROLE of ACCUSED HAS NO EVIDENTIARY VALUE in the EYES OF LAW.
2017 - PCRLJ - 622. . .

POLICE OPINION COULD BE CONSIDERED at BAIL STAGE.
2017 - YLR - 1405.

IDENTIFICATION PARADE NOT HELD BEFORE JUDICIAL MAGISTRATE...
2006 MLD 14
2005 YLR 657
2006 MLD 431
2005 YLR 1404
2006 YLR 673
2005YLR 3151

SINGLE DOUBT is SUFFICIENT for AQUITTAL. .
2017 - YLR 28 ( GOLDEN RULE)
2017 - YLR 32 (LAHORE )
2017 - PCRLJ 19 ( LAH )
2016 - PCRLJ 18 ( PESHAWAR )
2017 - CrLJ - 62
2016 - SCMR - 1792
2016 - MLD - 757
1995 - SCMR 1345
2009 - SCMR 230.

DELAY of TWO DAYS in RECORDING STATEMENT OF WITNESSES u/s 161 CrPC is FATAL for PROSECUTION.
2017 - SCMR - 486
2016 - PCRLJ -1112

Art . 22 . IDENTIFICATION PARADE WITHOUT ASCRIBING ROLE of ACCUSED HAS NO EVIDENTIARY VALUE in the EYES OF LAW.
2017 - PCRLJ - 622. . .

POLICE OPINION COULD BE CONSIDERED at BAIL STAGE.
2017 - YLR - 1405.

IDENTIFICATION PARADE NOT HELD BEFORE JUDICIAL MAGISTRATE...
2006 MLD 14
2005 YLR 657
2006 MLD 431
2005 YLR 1404
2006 YLR 673
2005YLR 3151

Address

Khyber Pakhtunkhwa Bar Council Peshawar
Peshawar
22010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KP Law Journal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category