Afaq Khan PodTalks

Afaq Khan PodTalks This is my personal page which aims at spreading awareness regarding the Law in the masses.

💔
13/11/2024

💔

04/11/2024

افغانستان نے چین سے 10 نئے جہاز خرید لیے
پاکستان نے اپنی پوری ائیر لائن 10 ارب میں بھیج دی
یہ ہوتا ہے ویژن یہ ہوتی ہے شبانہ روزترقی

31/10/2024

2024 بجٹ جاری
پنجاب 265 ارب مقروض،سندھ 230 ارب بلوچستان 250 ارب اور خیبر پختونخواہ 1600 ارب

زه دی ولی‌ جوړولم‌؟؟ څه حاجت وو ددی ساه ؟💔
30/10/2024

زه دی ولی‌ جوړولم‌؟؟
څه حاجت وو ددی ساه ؟
💔

کمزور ایمان والے نہ پڑھے●وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛*■لیکن وہ ای...
22/10/2024

کمزور ایمان والے نہ پڑھے

●وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛*
■لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔■

*وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں دیتے۔*

*وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛*

*لیکن وہ نہیں کرتے۔*

*وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔*

*وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔*

*وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*

*وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کو* *خوشحال بنا سکتے ہیں؛*

*لیکن وہ نہیں بناتے۔*

*وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟*
*وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ھے۔*

*ان کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،*
*جس کے لیے ضروری ھے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،*
*جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔*
*انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔*
*اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔*

*عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟*
*عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟*
*کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔*
*اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔*

*آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔
*آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔*
*آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔
*ان سب نکات کو آپ کسی سیاسی جماعت کا سپورٹر بن کر نہیں۔
*بلکہ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!*
*آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا*
*یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے مگر آپ کو نظر نہیں آتا۔
اور اس "وہ" میں وہ سارے شامل ہیں جو ہمارے اوپر حکمرانی کرتے ہیں۔

اس کے بارے میں آپ کاکیا خیال ھے؟
21/10/2024

اس کے بارے میں آپ کاکیا خیال ھے؟

3M Company, which produces bulletproof glass in Canada, placed a $3 million glass box at a bus stop with the slogan: “𝗜𝗳...
19/10/2024

3M Company, which produces bulletproof glass in Canada, placed a $3 million glass box at a bus stop with the slogan: “𝗜𝗳 𝘆𝗼𝘂 𝗰𝗮𝗻 𝗯𝗿𝗲𝗮𝗸 𝗶𝘁, 𝘆𝗼𝘂'𝗹𝗹 𝗸𝗲𝗲𝗽 𝘁𝗵𝗲 𝗺𝗼𝗻𝗲𝘆".

Tesla Pi phone will be launched on the market at the end of 2024. Pi phone has 3 outstanding features that other smartph...
18/10/2024

Tesla Pi phone will be launched on the market at the end of 2024. Pi phone has 3 outstanding features that other smartphones do not have:

1. No need to charge the battery, because it uses solar energy, only needs light to automatically charge (no need to expose to sunlight).

2. No need for internet capacity, because Pi connects directly to Elon Musk’s Starlink, which has a global coverage network.

3. Has Earth - Moon - Mars connection.

Under the same sun, yet different shades of independence – one holds his own, while others rely on support- the real dow...
09/10/2024

Under the same sun, yet different shades of independence – one holds his own, while others rely on support- the real downfall.

ڈاکٹر صاحب نے وہاں سے شروع کیا جہاں سب سے زیادہ ضرورت تھی
03/10/2024

ڈاکٹر صاحب نے وہاں سے شروع کیا جہاں سب سے زیادہ ضرورت تھی

18/09/2024

‏مجوزہ آئینی ترامیم کے نکات پڑھیں اور ن لیگ، پیپلزپارٹی اور اے این پی سے صرف اتنا پوچھیں کہ یہ غلامی کا کون سا لیول ہے؟

● آرمی چیف کے عہدے کی مدت پانچ سال ہوگی۔ آرمی ایکٹ آئین کا حصہ ہوگا۔ اس میں تبدیلی صرف آئینی ترمیم سے ممکن ہوگی۔ گویا فوج پر حکومت کا کنٹرول بہت کمزور ہوجائے گا۔

● نئی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس وزیراعظم کی سفارش سے مقرر ہوگا اور اولین ججز کی تقرری اس چیف جسٹس کی مشاورت سے ہو گی۔

● نئی آئینی عدالت کا سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہو گا جس کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال ہو گی جبکہ سپریم کورٹ کا سربراہ صرف چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کہلائے گا۔

● ججز کے احتساب کے لیے قائم آئینی ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ بھی نئی آئینی عدالت کا چیف جسٹس ہی ہوگا۔

● ججز سے متعلقہ معاملات اور فیصلوں کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جاسکے گا، گویا عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی علیحدگی ختم ہوجائے گی۔

● کنٹونمنٹ ایریاز میں آرمڈ فورسز کو ٹیکسز، ٹولز یا دیگر سروسز کے چارجز لگانے کا بھی اختیار دینے کی تجویز ہے۔۔!!!

● چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام جاری رکھیں گے، جب تک ان کی جگہ نئی تعیناتی نہیں ہوجاتی۔

یہی نہیں جو شخص پہلے کمشنر یا ممبر رہ چکا ہو اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قرارداد منظور کروا کر دوبارہ تین سال کے لیے عہدے پر تعینات کیا جاسکتا ہے، یعنی جو ارکانِ الیکشن کمیشن حکومتی جماعت کی خوشنودی کیلئے کام کریں گے انہیں ایکسٹیشن دی جائے گی۔

● سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا نئی مجوزہ وفاقی آئینی عدالت سمیت کسی بھی فورم پر کسی بھی گراونڈ کے تحت آئین کی کوئی شق یا ترمیم پر کسی قسم کا کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔

● فوجی عدالتوں کو مکمل آئینی تحفظ ملے گا۔ کسی بھی شہری کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جاسکے گا۔

● حکومت کی سفارش پر کسی سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ بھی نئی آئینی عدالت کرے گی (جس کا چیف جسٹس وزیراعظم مقرر کرے گا اور باقی سارے ججز وزیر اعظم کا مقرر کردہ چیف جسٹس منتخب کرے گا)۔

● حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے جتنے چاہے ججز وفاقی آئینی عدالت میں تعینات کرسکے گی، جب تک پارلیمنٹ ججز کی تعداد اور تقرری کے طریقے کا تعین نہ کردے۔

● آرٹیکل 179 بی کے اضافے کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کی خالی سیٹ پر حکومت کوئی ریٹائرڈ جج عارضی جج کے طور پر لگا سکتا ہے۔ اور وہ تب تک لگا رہے گا جب تک صدر تعیناتی کالعدم نہ کردے۔

● وفاقی آئینی عدالت ہی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے تنازعات کے کیسز سن سنے گی۔ بنیادی حقوق کے معاملات اور عوامی مفاد سے متعلقہ معاملے پر حتمی فیصلہ بھی دے سکے گی۔ سپریم کورٹ کی حیثیت صرف فوجداری و دیوانی مقدمات میں آخری کورٹ اوف اپیل کی ہوگی۔

سپریم کورٹ میں پینڈنگ آئینی کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر ہو جائیں گے۔

● مجوزہ آئینی ترمیمی مسودے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کی جائیگی کہ کسی بھی ہائیکورٹ جج کو صدر جوڈیشل کمیشن کے طے کردہ دورانیے کیلیے کسی دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر کر سکے گا۔

وہ جج اپنی سروس کے حساب سے ہی سینئر یا جونیئر سمجھا جائیگا۔ ٹرانسفر ہونے والا جج اس ہائیکورٹ میں چیف جسٹس نہیں لگ سکے گا جہاں اسے ٹرانسفر کرکے بھیجا گیا ہو۔ گویا حکومت ناپسندیدہ ججز کا تبادلہ کرسکے گی اور ان کا چیف جسٹس بننے کا راستہ روک سکے گی۔

● وفاقی آئینی عدالت کے علاوہ کسی اور عدالت کے پاس خفیہ ایجنسیوں کے کام، طریقہ کار اور معاملات کو دیکھنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

● ملک بھر کی تمام عدالتیں بشمول سپریم کورٹ، حکومتیں اور ادارے وفاقی آئینی عدالت کی 'مدد' کرنے کے پابند ہوں گے۔ نئی قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہر قسم کے ریویو کا اختیار پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بھی ریویو کر سکے گی۔ اور اس کا فیصلہ تمام عدالتوں سمیت سپریم کورٹ پر بھی بائنڈنگ ہوگا۔

● وفاقی آئینی عدالت کے پاس کسی بھی پروسیڈنگ کو ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ میں یا اپنے پاس ٹرانسفر کرنے کا اختیار ہوگا۔

● اگر کہیں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو وفاقی آئینی عدالت ہی طے کرے گی۔

یہ آئینی ترمیم نہیں، آئین کے لیے تیار کیا گیا مہلک زہر ہے جو قاضی فائز عیسیٰ نے پنڈی میں بیٹھ کر تیار کیا ہے۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو آئین، جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کا قصہ ختم سمجھیں۔


Address

University Road Peshawar
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afaq Khan PodTalks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Afaq Khan PodTalks:

Share