07/07/2024
مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے۔
یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سکتا ہے مگر آج سے1381 سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر 8 ذلحج 60 حجری یعنی 10 ستمبر 680 عیسوی کو اپنے اہل خانہ کیساتھ شروع کیا۔
سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے اور یا لوگوں سے خطاب کیا۔۔
اس آرٹیکل میں ان 14 مقامات کا سرسری ذکر کیا جائے گا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی تھوڑی آگاہی ہوسکے۔
نمبر 1: الصفا
یہ پہلا مقام تھا امام علیہ السّلام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ، شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔
شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام علیہ السّلام اپنا سفر شروع کر چُکے تھے۔
نمبر 2: ذات عرق
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام علیہ السّلام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام علیہ السّلام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام علیہ السّلام کو کوفہ جانے سے روکا، جس پر امام علیہ السّلام نے جواب دیا:
”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔
نمبر 3: بطن الروما۔
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے یہاں امام علیہ السّلام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام علیہ السّلام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام علیہ السّلام کو آگے جانے سے روکا اور بولا ” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام علیہ السّلام نے اپنا سفر جاری رکھا۔
نمبر 4: زرود۔۔
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاون تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام علیہ السّلام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام علیہ السّلام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام علیہ السّلام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔
نمبر 5: زبالہ
اس مقام پر امام علیہ السّلام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جن کا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام علیہ السّلام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔
امام علیہ السّلام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کر دیا گیا ہےاور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام علیہ السّلام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔
بہت سے قبائل جو راستے میں امام علیہ السّلام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام علیہ السّلام کے ساتھ اُن کے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔
نمبر 6: بطن العقیق
اس مُقام پر امام علیہ السّلام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ "کوفہ میں آپ کا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں لے لیا ہے اور اُس کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں” ۔ یہاں بھی امام علیہ السّلام نے اپنا سفر جاری رکھا۔
نمبر 7: Sorat
اس مُقام پر امام علیہ السّلام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔
نمبر 8: شرف
اس مُقام پر امام علیہ السّلام کے ساتھیوں میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام علیہ السّلام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔
نمبر 9: ذو حسم۔۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام کی مُلاقات حُر اور اُس کے ایک ہزار سپاہیوں ہُوئی جو پیاسے تھے، امام علیہ السّلام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام علیہ السّلام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام نے حُراور اُس کی فوج سےخطاب کیا اور فرمایا ، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کر سکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، مگر اگر تُم لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہوتو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔
حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔
نمبر 10: بیضہ
امام علیہ السّلام اگلے دن بیضہ پہنچے اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم "لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے ، خُدائی عہدوپیمان کو توڑے ، سنت رسول کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کے ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”۔
امام علیہ السّلام نے اس مُقام پر مزید فرمایا ، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیارکی اور اللہ سے مُنہ پھیرا، مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لیے مختص کر دیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارےقاصد آئے اور خطوط پہنچے کے تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”۔
امام علیہ السّلام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم "اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کر چُکے ہو اور عنقریب اللہ مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کر دے گا”۔
امام علیہ السّلام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کر دیا جائے گا، امام نے فرمایا "تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کر دو گے”۔
حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام علیہ السّلام کو کربلا کی طرف گھیر کر لیجاتے رہے۔
نمبر 11: عزیب الحجنات۔
اس مُقام پر امام علیہ السّلام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔ امام نے فرمایا، مفہوم "اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہو چُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔
نمبر 12: قصر بنی مقاتل۔۔
فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائے گا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام علیہ السّلام کوگھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام علیہ السّلام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا ” بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔
امام کے 18 سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام علیہ السّلام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام علیہ السّلام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیاہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔
نمبر 13: نینوا۔۔
اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام علیہ السّلام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لواور اُنہیں ایسی جگہ اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔
حُر نے امام علیہ السّلام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہوں گے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں لہذا میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام علیہ السّلام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائے گا۔
نمبر 14: کربلا
امام علیہ السّلام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے ۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔
نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام علیہ السّلام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں 1731 کلومیٹر کے امام کے اس سفر کی تھوڑی آگاہی ہو۔