20/04/2026
عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
اہم نکات برائے وکیل
بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔