Family Laws in Pakistan

Family Laws in Pakistan Legal Problems And Solution

02/02/2026

اجراء اور منسوخی ڈگری دونوں زیر سماعت تھے فریقین میں راضی نامہ ھو گیا۔ خاتون آباد ھو گئی اور کچھ عرصہ بعد پھر علیحدگی ھو گئی۔ ایسی صورت میں سابقہ ڈگری اور اجراء کی حیثیت پر خوبصورت ججمنٹ ھے
PLJ 2021 Lahore 599

Constitution of Pakistan, 1973--

----Art. 199--Muslim Family Law Ordinance, 1961, S. 9--Suit for recovery of maintenance allowance--Ex-parte declared--Execution petition--Petitioner filed application for setting aside ex-parte degree--Court compromise between parties--Execution petition as well as suit were withdrawn--Application for restoration of ex*****on petition--Dismissed--Fresh ex*****on petition--Dismissed--Appeal--Accepted--Challenge to--Neither judgment was set-aside nor modified as per statement--Valid lawful decree--Legal obligation of father--Record shows that on 29.1 1.2014, parties} got recorded their respective statements before Judge Family Court to effect that Respondent No. 2 started living with petition owing to compromise between parties and they were, not willing to pursue their cases--Resultantly ex*****on petition as well as application, seeking setting aside of ex parte decree was ordered to be dismissed as withdrawn--It is no where mentioned in said order or in statements that decree would not hold field--Neither it was set-aside, nor modified as per alleged settlement--Respondent No. 2 could not have been estopped to get ex*****on of a valid lawful decree as decree holder has right to get it executed within contemplation of provisions of law--Matter pertains to maintenance allowance of minor as well, therefore, petitioner cannot hide himself behind procedural technicalities--Petitioner, being a father, is under legal obligation to maintain his child--Question of payment of maintenance allowance must be addressed to its ultimate conclusion--Impugned order has rightly been passed after appreciating facts and circumstances of case--So far as plea that Respondent No. 3 is not entitled to get maintenance allowance

27/01/2026

2026 CLC 12
نان ونفقہ میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری(basic)کی رقم بجائے موجودہ(current) رقم پر ہوگا
مثلا اگر فیملی کورٹ 5000 روپے ماہوار خرچہ ناں و نفقہ ڈگری کرتی ہے تو پہلے سال سالانہ اضافہ 5000 روپے کی رقم پر ہوگا اگلے سال سالانہ اضافہ 5500 روپے اور اگلے سال سالانہ اضافہ 6050 روپے کی رقم پر ہوگا

30/10/2025

خرچہ کا کیس نانی نے کیا جو سپریم کورٹ تک ڈگری رہا
والدہ وفات پا چکی تھی
2025 SC 247

خرچہ سے بچنے کی خاطر ولدیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا
2025 CLC 276

بالغ بیٹا اپنے والد سے اگر تعلیم حاصل کر رہا ہو تو خرچہ لے سکتا ہے
2025 PLD Lahore 152

16 دن کی تاخیر سے اپیل فیملی ہوئی جو کہ خارج
2025 MLD 391
سابقہ تیس سال کا خرچہ ملا بیوی کو
2018 YLR 128
سابقہ 6 سال کا خرچہ ملا بیوی کو
2024 CLC 363

حق مہر پلاٹ 5 مرلہ ڈگری
2025 ylr 1

کالم نمبر 17 میں حق مہر میں اک پلاٹ لکھا گیا جو کہ عورت کے حق میں ڈگری ہوا
2024 scmr 1078

حق مہر میں اک مکان 2 کنال کا لکھا ہوا تھا محکمہ مال سے قمیت معلوم کر کے اک کنال کی قمیت ڈگری ہوئی
2011 pld sc 221

جب خاوند نے حق مہر میں غیر منقولہ جائیداد دی ہو وہ نکاح نامہ میں تحریر ہو تو جائیداد بیوی کی ہو گئی۔
2020 clc 803

جب بھی حق مہر کا مطالبہ کیا جائے تو حق مہر ادا کرنا ہو گا ۔
2024 scmr 142

جب حق مہر کی ادائیگی کے بارے میں درج نا ہو کہ ادا شدہ ہے یا غیر ادا شدہ تو تصور کیا جائے گا کہ عندالطلب ہے
2017 clc note 16 p 17

سسر کی رضا مندی سے اس کی جائیداد نکاح نامہ میں بطور حق مہر درج ہو تو اسکی ذمہ داری سسر پر ہو گئی
2015 pld 182
2011 mld 176.

24/07/2025

2025 CLC 1124
There is a difference between Special Attorney and a Surety. The decree can only be executed against the Surety and not against the Special Attorney unless he is explicitly required by an instrument to burden the liability for satisfaction of the decree.
Family 65675/21
Muhammad Naeem Vs ADJ Gujranwala etc

مہلک حادثات میں متوفی کے وارثین کو مالی معاوضہ( Damages)پر عدالت کا اہم ترین فیصلہ: یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ای...
18/05/2025

مہلک حادثات میں متوفی کے وارثین کو مالی معاوضہ( Damages)پر عدالت کا اہم ترین فیصلہ:

یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر Fatal Accident Act 1855 کے تحت معاوضے کے تعین اور مالک اور ملازم کی ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے۔

ذیل میں اس فیصلے کے کلیدی پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

1. قانونی بنیاد اور مقدمے کا پس منظر
- یہ مقدمہ Fatal Accident Act 1855 کے تحت دائر کیا گیا، جس کا مقصد لاپرواہی سے ہونے والے مہلک حادثات میں متوفی کے قانونی وارثین کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے۔
- واقعہ 13 اکتوبر 2018 کو کراچی کے ہب ریور روڈ پر پیش آیا، جہاں ڈمپر ٹرک کے ڈرائیور (ڈیفنڈنٹ نمبر 1) کی لاپروائی سے دو افراد (محمد سرفراز، 33 سال؛ ابو بکر، 13 سال) ہلاک ہوئے۔
- ڈرائیور کے پاس صرف LTV لائسنس تھا، جو بھاری گاڑی چلانے کے لیے ناکافی تھا۔ گاڑی کا مالک (ڈیفنڈنٹ نمبر 2) بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کیونکہ اُس نے ڈرائیور کو غیرموزوں لائسنس کے باوجود گاڑی چلانے کی اجازت دی۔

2. معاوضے کا تعین
- محمد سرفراز (33 سال):
- ماہانہ آمدنی: 50,000 روپے۔
- متوقع عمر (65 سال تک): 32 سال (384 ماہ)۔
- کل معاوضہ: 19,200,000 روپے۔
- ابو بکر (13 سال):
- ممکنہ آمدنی (بڑھتی عمر کے ساتھ): 50,000 روپے ماہانہ۔
- متوقع کام کرنے کی مدت (65 سال تک): 47 سال (564 ماہ)۔
- کل معاوضہ: **28,200,000 روپے۔
- دونوں کا کل معاوضہ:47,400,000 روپے(سود سمیت 15% سالانہ اضافہ)۔

3. مشترکہ اور انفرادی ذمہ داری (Composite Negligence):
- عدالت نے National Logistic Cell vs. Irfan Khan کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب دو یا زیادہ فریقوں کی مشترکہ لاپروائی سے نقصان ہو، تو ہر فریق مشترکہ اور انفرادی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔
- مالک (ڈیفنڈنٹ نمبر 2) کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کیونکہ اُس نے ڈرائیور کو غیرمناسب لائسنس کے ساتھ گاڑی چلانے دی، جو Pakistan Railways vs. Abdul Haq کے فیصلے کے مطابق "مالک کی ذمہ داری" ہے۔

4. فیصلے کی سماجی اور قانونی اہمیت:
- احتساب کا فروغ: عدالت نے زور دیا کہ معاوضے کا مقصد نہ صرف متاثرین کو انصاف دلانا ہے، بلکہ معاشرے میں لاپروائی کرنے والوں کے لیے ڈیٹرنس (Deterrence) بھی پیدا کرنا ہے۔
- وارثین کے حقوق: شریعت کے اصولوں کے مطابق معاوضہ وارثین میں تقسیم کیا جائے گا، جو قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے اہم ہے۔
- عدالتی عمل کی رفتار: ڈیفنڈنٹس کی طرف سے تاخیر اور غیرحاضری کے باوجود، عدالت نے معاملے کو بروقت نمٹا کر **انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا۔ اور دعویٰ دائر کرنے کے وقت سے سود سمیت معاوضہ دینے کا پابند کیا۔

یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی تاریخ میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں نہ صرف قانونی اصولوں کو واضح کیا گیا، بلکہ معاشرتی احتساب اور متاثرین کے حقوق کو بھی اولیت دی گئی۔ عدالت نے Fatal Accident Act 1855 کو جدید تقاضوں کے مطابق لاگو کرتے ہوئے ایک متوازن اور انصاف پر مبنی فیصلہ دیا، جو آنے والے مقدمات کے لیے رہنما اصول ثابت ہوگا۔

مشترکہ کھاتہ دار کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.(2017 SCMR 1476).وراثت کے اصول کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.(2016 YLR 383)...
18/05/2025

مشترکہ کھاتہ دار کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.
(2017 SCMR 1476).
وراثت کے اصول کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.
(2016 YLR 383).
کسی غیر قانونی یا void آرڈر کو چیلنج کرنے کے لیے کوئی Limitation نہ ہے.
(2016 YLR 2575).
غیر قانونی قابض سے، قبضہ واپس لینے کے لیے، مالک اراضی کے لیے کوئی Limitation مقرر نہ ہے.
(2015 CLC 1711).
یکطرفہ کاروائی منسوخ کروانے کے لیے کوئی معیاد مقرر نہ ہے.
(2013 YLR 1584).
رٹ پٹیشن دائر کرنے کے لیے کوئی Limitation نہ ہے.
(2011 YLR 3025).
محکمہ مال میں کسی غلط انداز کو درست کروانے کے لیے کوئی Limitation نہ ہے.
(2004 SCMR 1502).
جی، Existing Rights کے اصول کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.
(2017 SCMR 316)

20/03/2025
14/03/2025

"مینٹیننس الاؤنس (Maintenance Allowance) میں سالانہ اضافہ: کمپاؤنڈ کیلکولیشن کی قانونی تشریح"

حال ہی میں سبا گل شاہد و دیگر بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد (2024 LHC 4177) کے فیصلے میں جسٹس عابد حسین چٹھہ نے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 17-A(3) کی تشریح پیش کی ہے، جس میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی کمپاؤنڈ کیلکولیشن پر زور دیا گیا ہے تاکہ الاؤنس افراطِ زر اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے ہم آہنگ رہے۔

اس تشریح کے مطابق، اگر عدالت ابتدائی طور پر الاؤنس 5000 روپے مقرر کرتی ہے تو پہلے سال کا 10 فیصد اضافہ اسی رقم پر ہوگا، یعنی الاؤنس 5500 روپے ہو جائے گا۔ دوسرے سال کا اضافہ 5500 روپے کی نئی رقم پر ہوگا، جس سے تیسرے سال یہ رقم بڑھ کر 6050 روپے تک پہنچ جائے گی۔ ہر سال یہ اضافہ اسی طریقے سے جاری رہے گا۔ اس کمپاؤنڈ طریقہ کار کا مقصد یہ ہے کہ بار بار عدالت سے الاؤنس میں اضافے کی درخواست دینے کی ضرورت نہ پڑے اور بیوی اور بچوں کی ضروریات وقت کے ساتھ مؤثر طریقے سے پوری ہوتی رہیں۔

یہ تشریح ایک فلاحی اور اصلاحی قدم ہے، جو معاشی حالات کے پیش نظر مستقل اور خودکار ریلیف فراہم کرنے کا عکاس ہے۔

15/02/2025

فیملی کورٹ کی ڈگری کا اجرا دائر کرنے کی کوئی معیاد نہ ھے۔.
2024 CLC 979

بچوں کے خرچہ میں دادا کو بھی فریق بنایا جا سکتا ہے
2024 clc 141

دادا بچوں کا خرچہ ادا کرنے کا پابند ہے
2024 CLC 1772

نابالغان کا والد وفات پا گیا۔ انکا دادا جو عبوری خرچہ نان و نفقہ نابالغان ادا کر رہا تھا وہ بھی وفات پا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نابالغان کے چچا جو اپنے والد(نابالغان کے دادا) کی وفات کے بعد اسکی جائیداد کے مالک تھے اپنے نابالغ بھتیجوں کا دو تہائی خرچہ نان و نفقہ ادا کرنیکے پابند ہیں۔
خرچہ نان و نفقہ کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کا انتہائی تفصیلی معلوماتی فیصلہ

WRIT PETITION NO.50 of 2024
MUHAMMAD MAROOF and others versus Mst. MARIAM FAROOQ and others
Date of hearing:22.04.2024
2024 LHC 2111

ایک باپ کی قانونی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری کے تحت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قانون/شریعت کی طرف سے متعین عمر تک پالے
بچوں کو خرچہ ادا کرنا باپ کی اول ترین ذمہ داری ہے
2024 CLC 1580

نان ونفقہ میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری(basic)کی رقم بجائے موجودہ(current) رقم پر ہوگا
مثلا اگر فیملی کورٹ 5000 روپے ماہوار خرچہ ناں و نفقہ ڈگری کرتی ہے تو پہلے سال سالانہ اضافہ 5000 روپے کی رقم پر ہوگا اگلے سال سالانہ اضافہ 5500 روپے اور اگلے سال سالانہ اضافہ 6050 روپے کی رقم پر ہوگا
7340/24
Saba Gull Shahd & 2 Others Vs Additional District Judge Faisalabad etc
Mr. Justice Abid Hussain Chattha
09-10-2024
2024 LHC 4177

09/10/2024

فیملی مقدمات میں ضابطہ دیوانی اور قانون شہادت کا اطلاق نہ ہونے کے باوجود درخواست زیر دفعہ 12(2) ضابطہ دیوانی دائر کی جاسکتی ہے
1. An application under Section 12(2) of the Code of Civil Procedure (V of 1908) is maintainable before a Family Court established under the Family Courts, Act, 1964 despite of exclusion of provisions of the Code ibid in the light of Section 17 of the Act ibid.

2. Though it is not a principle of universal application that in each and every case, the court is bound to frame the issues before deciding the (naeem)fate of an application under Section 12(2) of the "C.P.C." but where misrepresentation and fraud have been alleged and prima facie a case is made out, in such an eventuality said application should have not been dismissed summarily.
Writ Petition-1234-23
MISBAH IFTIKHAR VS ALEESA ETC
Mr. Justice Mirza Viqas Rauf
26-09-2024
2024 LHC 4133

07/06/2024

Khula is a basic right of a woman under Muslim family law -- Right to seck khula is the exclusive and absolute right of the woman --- She must in unambiguous and unequivocal terms express her intention to exercise such right before the court , that is to say , she must put her offer before the court that she seeks release from the marriage by waiving her dower and only then the court can grant her khula --- Fundamentally , the principle is that khula cannot be granted , if it has not been explicitly sought for by the woman because she has to give up her right to dower --- Hence , a court cannot on its own pass the decree of khula if it has not been sought for by the woman --- Therefore , her consent is vital .
PLD 2024 Supreme Court 645
Khula --- Halala --- As khula is a special and exclusive right given to a woman , which is not available to a man , she can seek dissolution on the basis of khula in which one of the consequences is that she can re - marry the same man , without entering into intervening or intermediary marriage i.e. halala .
PLD 2024 Supreme Court 645

17/05/2024

مجھے طلاق نہیں چاہیے میں اپنا کیس واپس لیتی ہوں۔۔! (یہ لاہور ہائ کورٹ کا واقعہ ہے)

ایک عورت اپنے شوہر سے طلاق لے رہی تھی اس کے دو بچے بھی تھے عورت کے وکیل نے سب کچھ تیار کر لیا تھا صرف اس کے خاوند کے دستخط باقی تھے خاوند نے وکیل سے التجا کی کہ مجھے پتہ ہے کہ اب اس کے بعد ساری زندگی میں اپنی بیوی بچوں سے دور ہو جاؤں گا میری ایک التجا میری ایک خواہش میری بیوی سے کر دو کہ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کچھ گھنٹے گزارنا چاہتا ہوں وہ اپنے بچوں کو لے کر کل کورٹ آجائے وہاں سے میں ان کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اس کے بعد آ کے میں دستختط کر دوں گا اس کی بیوی بچے صبح کوٹ ائے اس کے شوہر نے اپنی بیوی بچوں کو گاڑی میں بٹھایا اور ساتھ لے گیا پاپا مجھے مما کے ساتھ اگے بیٹھا ہے
مما مجھے بیٹھنا ہے
پاپا اس کو دیکھو نا پاپا مجھے ائس کریم کھانی ہے باپ آئس کریم کھلانے ریسٹورنٹ لے گئے کبھی ماما کبھی پاپا بچوں کے منہ میں نوالہ ڈال کر کے کھلاتے پاپا اپنے رومال سے بیٹے بیٹی کا منہ صاف کرتا ہے اور بچوں کو پانی پلاتا ان سے پیار کرتا بچے یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا پاپا پھر پارک لے گئے بچے کھیلتے کبھی پاپا سے گلے لگتے کبھی مما سے پاپا کبھی بیٹے کو تو کبھی بیٹی کو گود میں اٹھاتا اور پیار کرتا ان کی فرمائش پوری کرتا بیٹی پاپا ہمیں اپنے گھر لے جانا نانی اماں کے گھر نہیں جانا اپ ہمیں اپنے گھر لے جائیں نا بچے ضد کرنے لگے پاپا ٹھیک ہے بیٹا لے جاؤں گا پاپا ہماری گاڑی بہت خوبصورت ہے تیز چلتی ہے نانا کی گاڑی صحیح نہیں ہے میں بڑا ہو کر پاپا سے تیز گاڑی چلاؤں گا پاپا انکھوں میں آنسو لیے ٹھیک ہے بیٹا چلا لینا جب بڑے ہو جاؤ گے..! کافی وقت نکل چکا تھا وکیل بھی بار بار فون کر رہا تھا کہ کورٹ بند ہونے والا آپ واپس آجائیں پھر مجھے بھی جانا ہے لیکن باپ کا اپنے بیوی بچوں سے بچھڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا باپ کے انکھوں میں انسو بہنے لگے بیٹی نے دیکھا پاپا کیوں رو رہے ہیں پاپا نہیں رو رہا انکھ میں کچھ چلا گیا تھا راستے کا سفر بہت تیزی سے ختم ہو رہا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کورٹ پہنچ گئے گاڑی کھڑی کر کے بچے رونے لگے ہمیں پاپا کے پاس جانا ہے پاپا نے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور بیٹی اور بیوی کے پیچھے چلنے لگا اور باپ کے انکھوں میں انسو بہنے لگے بیٹی نے دیکھا پاپا کیوں رو رہے ہیں پاپا نہیں رو رہا انکھ میں کچھ چلا گیا تھا راستے کا سفر بہت تیزی سے ختم ہو رہا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کورٹ پہنچ گئے گاڑی کھڑی کر کے بچے رونے لگے ہمیں پاپا کے پاس جانا ہے پاپا نے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور بیوی اور بیٹی کے پیچھے چل پڑا اس کی بیوی نے بچوں کے ساتھ باپ کا پیار دیکھا اور اسے احساس ہوا کہ میرے بچے اپنے پاپا سے کتنی محبت کرتے ہیں بچوں نے کہا یہ ہم کہاں جا رہے ہیں یہ ہمارا گھر نہیں ہمیں اپنے گھر جانا ہے پاپا بیٹا ابھی چلتے ہیں تھوڑا کام ہے وکیل کے کمرے میں پہنچتے ہی وکیل کے کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا جس پر بیوی نے وکیل کو کہا مجھے اپنے شوہر سے طلاق نہیں چاہیے میں کیس واپس لیتی ہوں جس پر شوہر اور بیوی رونے لگے عورت کو پتہ تھا وہ اپنی ضد کی خاطر اپنے بچوں کی زندگی تباہ کر رہی ہے اگر ہم تھوڑا سا اپنی انا کو ایک طرف رکھیں اور کسی دوسرے کی بجائے اپنے معاملات خود حل کر لیں تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں کاش کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائے خواہش صرف اتنی ہے کہ کچھ الفاظ لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے نہ بھی رکے تو سوچ میں ضرور پڑ جائے گا

Address

Multan

Telephone

+923004515835

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Laws in Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share