21/05/2026
غزل اُس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا
قفس لے اُڑوں میں، ہَوا اب جو سنکے
مدد اِتنی، اے بال و پرواز دینا
نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو !
جب آواز دُوں ، تم بھی آواز دینا
کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو
ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا
دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے
صفی ٹُوٹ کر دِل کا آواز دینا
صفی لکھنوی