06/02/2026
درس حدیث:
(جب نماز جمعہ فرض ہوئی)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا، فِي يَوْمِي هَذَا، فِي شَهْرِي هَذَا، مِنْ عَامِي هَذَا، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَهُ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ، اسْتِخْفَافًا بِهَا أَوْ جُحُودًا لَهَا، فَلَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَلَا بَارَكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ، وَلَا زَكَاةَ لَهُ، وَلَا حَجَّ لَهُ، وَلَا صَوْمَ لَهُ، وَلَا بِرَّ لَهُ، حَتَّى يَتُوبَ، فَمَنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ.
سیدنا جابر رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اور جان لو کہ الله تعالیٰ نے تم پر جمعہ اسی مقام پر، اسی دن اور اس مہینہ میں فرض کیا ہے، اور اس سال سے تاقیامت یہ فرض ہے، لہٰذا جس نے جمعہ کو میری زندگی میں یا میرے بعد حقیر و معمولی جان کر یا اس کا انکار کر کے چھوڑ دیا حالانکہ امام موجود ہو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، تو الله تعالیٰ اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے اور اس کے کام میں برکت نہ دے گا، سن لو ! اس شخص کی نماز قبول ہے نہ زکاۃ، حج نہ روزہ اور اس کا کوئی بھی نیک عمل قبول نہ ہو گا، جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لے، ھاں جس نے توبہ کی الله تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
(ابن ماجہ حدیث 1081)