Al-Hasseeb Law and corporates associates

Al-Hasseeb Law and corporates associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Hasseeb Law and corporates associates, Chambers 35 Bashir Khan Block District Court Multan. , Office. 119Bilal Block Bodla Town Chowk Qazafi Multan, Multan.

We are All Citizen Of Pakistani Be aware about Constitution of Pakistan in which Fundamental right be discuss .So we will try to discuss Basic Law and Constitution for awarness .

12/08/2026
گواہ عدالت میں نہ آ سکے؟ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان بھی قابلِ قبول!لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ حفاظتی خدشات رکھنے والے گو...
12/08/2026

گواہ عدالت میں نہ آ سکے؟ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان بھی قابلِ قبول!

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ حفاظتی خدشات رکھنے والے گواہ کا بیان ویڈیو لنک/ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ Punjab Witnesses Protection Act, 2018 کا Section 10 اور Article 164 Qanun-e-Shahadat, 1984 عدالت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔

مزید یہ کہ Section 353 Cr.P.C. میں “Presence” کا مطلب صرف جسمانی موجودگی نہیں بلکہ Constructive/Virtual Presence بھی ہو سکتی ہے۔ اگر گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کو نظر بھی آ رہا ہو اور اس کا بیان بھی ریکارڈ ہو رہا ہو تو یہ قانونی طور پر قابلِ قبول طریقہ ہے۔

اہم اصول:
گواہ کی حفاظت اور انصاف کے تقاضوں کے لیے Physical Presence کے بجائے Virtual Presence بھی کافی ہو سکتی ہے۔

WhatsApp: 0332-9696342

📚 2025 SCMR 1130⚖️ سپریم کورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سخت حکم: Supreme Court کے فیصلوں پر عمل لازم، اپنی مرضی سے Precedent ک...
11/08/2026

📚 2025 SCMR 1130
⚖️ سپریم کورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سخت حکم: Supreme Court کے فیصلوں پر عمل لازم، اپنی مرضی سے Precedent کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا!
🚨 Lower Courts کے لیے واضح پیغام: Supreme Court کے فیصلوں کو Pick & Choose کرنا Judicial Indiscipline ہے!
📌 Muhammad Amjad Naeem v. The State
Criminal Petition No.170-L of 2025
سپریم کورٹ آف پاکستان
فیصلہ: 19 مئی 2025
🔹 مقدمہ کس بارے میں تھا؟
یہ مقدمہ Section 406 PPC (Criminal Breach of Trust) کے تحت درج FIR اور ملزم کی Post-Arrest Bail سے متعلق تھا۔
شکایت کنندہ ایک Automobile Showroom، Defense Motors چلا رہا تھا۔ ملزم نے مختلف گاڑیاں خریدیں، کچھ رقم بطور Partial Payment ادا کی اور باقی رقم بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ بعد میں شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ گاڑیاں ملزم کو بطور امانت (Amanat) دی گئی تھیں اور اس نے ان میں خیانت کی۔
اسی بنیاد پر Section 406 PPC کے تحت FIR درج کی گئی۔
🔹 Lahore High Court نے کیا کیا؟
ملزم نے Post-Arrest Bail کی درخواست دی، مگر Lahore High Court نے 21.01.2025 کو Bail مسترد کر دی۔
High Court کے سامنے یہ بھی معاملہ تھا کہ ملزم دیگر تین FIRs میں بھی نامزد تھا۔
Supreme Court نے واضح کیا کہ صرف دوسری FIRs میں نامزد ہونا Bail سے انکار کی قانونی بنیاد نہیں ہے؛ Previous Conviction ایک الگ اور ثابت شدہ چیز ہے۔
⚖️ Supreme Court کے سامنے بنیادی قانونی سوال
کیا Sale/Business Transaction میں دی گئی گاڑیاں "Amanat" یا "Entrustment" شمار ہوں گی؟
Supreme Court کا واضح جواب:
نہیں، محض Business یا Sale Transaction کو Amanat کا نام دینے سے Section 405/406 PPC کا جرم نہیں بنتا۔
FIR میں صرف "Trust" یا "Amanat" کا لفظ لکھ دینا کافی نہیں؛ قانون کے مطابق Entrustment کے لازمی عناصر ثابت کرنا ضروری ہیں۔
🔴 Section 405 PPC کے دو لازمی اجزاء
Supreme Court نے واضح کیا کہ Criminal Breach of Trust کے لیے دو بنیادی عناصر کا ہونا ضروری ہے:
1️⃣ Entrustment
Property ملزم کو Trust/Amanat کے طور پر دی گئی ہو، یا اس پر اسے Dominion دیا گیا ہو۔
2️⃣ Dishonest Misappropriation
Entrustment کے بعد ملزم نے اس property کو dishonest طور پر اپنے استعمال میں لیا، misappropriate کیا، یا طے شدہ قانونی/معاہداتی مقصد کے خلاف استعمال کیا۔
دونوں عناصر کا موجود ہونا لازم ہے۔
🔹 Entrustment کا مطلب کیا ہے؟
Entrustment اس وقت ہوتی ہے جب:
Property کسی شخص کو Trust/Amanat کے طور پر دی جائے؛
اصل ownership دینے والے کے پاس برقرار رہے؛
دوسرے شخص کو صرف مخصوص مقصد کے لیے possession/custody ملے؛
اور اسے وہ property واپس کرنا ہو۔
اس کے برعکس اگر transaction میں ownership منتقل ہو جائے تو عام طور پر entrustment کا تصور پیدا نہیں ہوتا۔
🔥 Sale اور Amanat میں بنیادی فرق
Supreme Court نے انتہائی اہم distinction بیان کیا:
Sale/Business Transaction ≠ Entrustment
اگر:
Seller → Buyer کو property فروخت کرتا ہے
اور ownership buyer کو منتقل ہو جاتی ہے، تو وہ property seller کی Amanat نہیں رہتی۔
اسی لیے عام:
Seller & Purchaser
Vendor & Vendee
Shopkeeper & Customer
کے درمیان Sale Transaction بذاتِ خود Criminal Breach of Trust نہیں بنتی۔
🔥 صرف Contract توڑنا 406 PPC نہیں
Supreme Court نے واضح کیا کہ:
Mere breach of promise، agreement یا contract، بغیر Entrustment کے، Section 405/406 PPC کا جرم نہیں بناتا۔
اسی طرح:
رقم واپس نہ کرنا؛
Business agreement پورا نہ کرنا؛
Profit نہ دینا؛
Contractual obligation پوری نہ کرنا؛
ہر صورت میں Criminal Breach of Trust نہیں بن جاتا۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا قانونی طور پر Entrustment موجود تھی؟
⚖️ اس کیس میں Supreme Court کا فیصلہ
Supreme Court نے FIR کے contents کا جائزہ لیا اور پایا کہ گاڑیاں successive business transactions کے ذریعے دی گئی تھیں۔
قیمت طے ہوئی تھی، Partial Payments بھی کی گئی تھیں۔
لہٰذا:
❌ گاڑیوں کی Entrustment بطور Amanat ثابت نہیں ہوئی۔
نتیجتاً:
❌ Section 405 PPC نہیں بنتی۔
اور:
❌ Section 406 PPC بھی applicable نہیں۔
Court نے واضح کیا کہ FIR میں "Trust" یا "Amanat" کا لفظ لکھ دینے سے قانونی Entrustment ثابت نہیں ہو جاتی۔
📚 اہم Case Laws — Entrustment
Supreme Court نے مختلف اہم precedents کا حوالہ دیا، جن میں:
Abdul Rashid Nasir v. The State — 2009 SCMR 517
Ali Raza v. The State — 2022 SCMR 1223
Shahid Imran v. The State — 2011 SCMR 1614
Muhammad Ali v. Samina Qasim Tarar — 2022 SCMR 2001
Rafiq Haji Usman v. Chairman, NAB — 2015 SCMR 1575
Hashmat Ullah v. The State — 2019 SCMR 1730
Zahid Jameel v. S.H.O. — 2008 YLR 2695 Lahore
Miraj Khan v. Gul Ahmed — 2000 SCMR 122
Imtiaz Ali v. Bismillah Khan — 1974 PCrLJ 22 Karachi
شامل ہیں۔
🟢 Bail کے بارے میں سپریم کورٹ کا اہم اصول
Section 406 PPC Section 497(1) Cr.P.C. کی Prohibitory Clause میں شامل نہیں ہے۔
اس لیے Supreme Court نے دوبارہ واضح کیا:
"Bail is a Rule and Refusal is an Exception."
یعنی ایسے Non-Prohibitory offences میں Bail عام اصول ہے اور Bail سے انکار Exceptional Circumstances میں ہونا چاہیے۔
⭐ Tariq Bashir Principle
Supreme Court نے Tariq Bashir v. The State — PLD 1995 SC 34 کے اصول کو دوبارہ واضح اور مضبوط کیا۔
اگر offence Section 497(1) کی prohibitory clause میں نہیں آتا تو Bail صرف exceptional circumstances میں روکی جا سکتی ہے، مثلاً:
Accused کے فرار ہونے کا حقیقی خطرہ؛
Prosecution Evidence میں مداخلت کا حقیقی خطرہ؛
Offence دوبارہ کرنے کا حقیقی خطرہ؛
Accused کا Previous Convict ہونا۔
محض جرم کی نوعیت یا عمومی خدشہ Bail روکنے کے لیے کافی نہیں۔
🚨 صرف دوسری FIRs میں نامزدگی Bail روکنے کے لیے کافی نہیں
یہ فیصلہ Bail practice کے لیے انتہائی اہم ہے۔
Supreme Court نے واضح کیا:
Mere Registration/Nomination in Other FIRs ≠ Previous Conviction
صرف یہ کہ accused کسی اور FIR میں نامزد ہے، اس بنیاد پر Bail سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
Previous conviction وہ ہونی چاہیے جو Trial کے بعد باقاعدہ adjudication سے ثابت ہو۔
🔹 Abscondence کا محض خدشہ کافی نہیں
اگر prosecution یہ کہے کہ accused Bail پر رہا ہو کر فرار ہو سکتا ہے تو اس کے لیے:
Solid Material
ضروری ہے۔
صرف speculative یا unsupported apprehension پر Bail deny نہیں کی جا سکتی۔ Court مناسب Bail Bonds/Securities کے ذریعے بھی اس خطرے کو address کر سکتی ہے۔
🔹 Evidence Tampering کے بارے میں
Evidence tampering کا صرف خدشہ کافی نہیں۔
اس کے لیے:
Substantial Material + Real and Imminent Risk
ہونا چاہیے۔
Supreme Court نے Serajul Haq v. The State — 1968 SCMR 251 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ محض speculative apprehension پر Bail نہیں روکی جا سکتی۔
🔹 Further Inquiry — Section 497(2) Cr.P.C.
اس کیس میں مزید دو اہم facts بھی سامنے آئے:
1️⃣ کوئی بھی گاڑی petitioner سے recover نہیں ہوئی۔
2️⃣ FIR تقریباً پانچ ماہ کی تاخیر سے درج ہوئی، جس کی مناسب وضاحت نہیں دی گئی۔
Supreme Court نے قرار دیا کہ یہ circumstances Further Inquiry under Section 497(2) Cr.P.C. کا معاملہ بھی بناتے ہیں۔
لہٰذا petitioner اس بنیاد پر بھی Post-Arrest Bail کا حقدار تھا۔
🚨 Civil Dispute کو Criminal Case بنانے کے خلاف سخت Observation
Supreme Court نے ایک بہت اہم اور عملی مسئلہ نوٹ کیا۔
Court نے کہا کہ Section 405 PPC کو ایسے معاملات میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو حقیقتاً:
Civil / Business / Contractual Disputes
ہوتے ہیں۔
بعض اوقات Criminal Case صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ:
رقم کی Recovery کے لیے دباؤ ڈالا جائے؛
دوسرے فریق کو Settlement پر مجبور کیا جائے؛
بدلہ لیا جائے؛
یا Civil Dispute کو Criminal Proceedings میں تبدیل کیا جائے۔
Supreme Court نے ایسی practice کو قانون کے بنیادی scheme کے خلاف قرار دیا۔
⚖️ Magistrate Courts کے لیے اہم ہدایت
Supreme Court نے واضح کیا کہ Criminal Breach of Trust کے مقدمات میں Court کو شروع ہی میں دیکھنا چاہیے کہ:
کیا Section 405 PPC کے دونوں Essential Ingredients واقعی موجود ہیں؟
اگر جرم prima facie بنتا ہی نہیں تو کسی شخص کو صرف Criminal Process کے ذریعے Jail میں رکھنا سنگین ناانصافی ہو سکتی ہے۔
Court نے اس ذمہ داری کو خاص طور پر first forum of bail یعنی Magisterial Courts سے جوڑا۔
🔥 LOWER COURTS کے لیے سپریم کورٹ کا سخت ترین پیغام
یہ اس judgment کا سب سے اہم حصہ ہے۔
Supreme Court نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ First Instance Courts بار بار Tariq Bashir میں طے شدہ اصولوں پر عمل نہیں کر رہیں۔
Court نے واضح کیا:
Article 189 کے تحت Supreme Court کا طے کردہ قانون تمام Subordinate Courts پر Binding ہے۔
Lower Courts:
❌ Supreme Court کے فیصلوں کو Pick & Choose نہیں کر سکتیں۔
❌ اپنی مرضی سے Binding Precedent کو ignore نہیں کر سکتیں۔
❌ Bail کے معاملات میں Supreme Court کے settled principles کو نظرانداز کرنا قابلِ قبول نہیں۔
Supreme Court نے اسے Judicial Indiscipline اور judicial duty کی serious dereliction قرار دیا۔
📢 District Courts کے لیے واضح Direction
Supreme Court نے حکم دیا کہ اس judgment کی copy:
تمام High Courts کے Registrars
کو بھیجی جائے، تاکہ وہ اسے:
ملک بھر کی تمام District Courts
تک circulate کریں۔
اور Supreme Court نے انتہائی واضح الفاظ میں کہا کہ:
اس Judgment پر عمل درآمد Optional نہیں بلکہ Mandatory ہے۔
یعنی اس judgment میں دی گئی قانونی guidance محض مشورہ نہیں بلکہ subordinate judiciary کے لیے binding legal direction کے طور پر بیان کی گئی ہے۔
🏛️ Article 189 کا بنیادی اصول
Supreme Court نے Article 189 of the Constitution کے حوالے سے واضح کیا کہ جب Supreme Court کسی قانونی سوال پر law settle کرتی ہے تو اس کا فیصلہ subordinate courts کے لیے binding ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں Court نے:
Justice Khurshid Anwar Bhinder v. Federation of Pakistan — PLD 2010 SC 483
اور
Allied Bank Limited v. Habib-ur-Rehman — 2023 SCMR 1232
کا حوالہ دیا۔
⚖️ اس فیصلے کے اہم Legal Principles
1.
Business dispute کو صرف Criminal Breach of Trust کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
2.
صرف FIR میں "Amanat" یا "Trust" کا لفظ لکھنے سے Entrustment ثابت نہیں ہوتی۔
3.
Sale Transaction میں Seller اور Purchaser کے درمیان عام طور پر Entrustment نہیں ہوتی۔
4.
Mere breach of contract، بغیر Entrustment کے، Section 405/406 PPC نہیں بنتا۔
5.
Section 497(1) کی prohibitory clause سے باہر offence میں Bail is a Rule and Refusal is an Exception۔
6.
صرف دوسری FIRs میں nomination Bail deny کرنے کے لیے کافی نہیں۔
7.
Abscondence، tampering یا repetition کے خدشات کے لیے solid/cogent material ضروری ہے۔
8.
Section 497(2) Cr.P.C. کے تحت Further Inquiry Bail کی بنیاد بن سکتی ہے۔
9.
Magisterial Courts کو Bail کے ابتدائی مرحلے پر ہی alleged offence کے statutory ingredients examine کرنے چاہئیں۔
10.
Article 189 کے تحت Supreme Court کے طے شدہ قانونی اصول Subordinate Courts پر Binding ہیں۔
11.
Lower Courts Supreme Court کے precedents کو اپنی مرضی سے Pick & Choose نہیں کر سکتیں۔
12.
Tariq Bashir کا اصول Non-Prohibitory offences میں لازماً مدنظر رکھا جائے گا۔
13.
Supreme Court نے اس judgment کو ملک بھر کی District Courts تک circulate کرنے اور اس کی Mandatory Implementation کی ہدایت کی۔
📌 Supreme Court کا آخری حکم
Supreme Court نے:
Petition کو Appeal میں تبدیل کیا، Appeal Allow کی، اور petitioner کو Post-Arrest Bail دے دی۔
Bail کے لیے:
Rs.500,000/- کے Bail Bonds اور اسی مالیت کے دو Sureties
trial Court کی satisfaction پر مقرر کیے گئے۔
🎯 Advocates کے لیے Practical Takeaway
اگر کسی مقدمے میں اصل dispute:
Sale + Business + Loan + Investment + Contract + Recovery
کا ہو، اور prosecution نے صرف اسے Amanat قرار دے کر Section 406 PPC لگا دی ہو، تو اس judgment کے تحت سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا:
Where is the Entrustment?
اور پھر:
Where are the two essential ingredients of Section 405 PPC?
اگر Entrustment ہی موجود نہیں تو Section 406 PPC کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو جاتا ہے۔
اور اگر alleged offence Section 497(1) کی prohibitory clause سے باہر ہے تو Tariq Bashir principle کے مطابق Bail Rule ہے، Refusal Exception۔
⚖️ مختصر ترین قانونی نچوڑ
"صرف کسی Business یا Sale Transaction کو Amanat کا نام دینے سے Section 406 PPC کا جرم نہیں بنتا؛ Entrustment اور اس کے بعد dishonest misappropriation کے دونوں بنیادی عناصر ثابت کرنا لازم ہیں۔ Non-Prohibitory offences میں Bail Rule ہے، Refusal Exception ہے، اور Article 189 کے تحت Supreme Court کے طے شدہ اصول تمام Subordinate Courts پر Binding ہیں۔ Lower Courts Supreme Court کے precedents کو Pick & Choose نہیں کر سکتیں، اور اس Judgment کی implementation Optional نہیں بلکہ Mandatory ہے۔"
Adv. Mahboob Ali

Golden Principles of Advocacy — مضبوط کیس کی بنیاد بہترین تیاری ہےوکالت میں کامیاب اور مؤثر Advocacy کا انحصار صرف عدالت...
31/07/2026

Golden Principles of Advocacy —
مضبوط کیس کی بنیاد بہترین تیاری ہے

وکالت میں کامیاب اور مؤثر Advocacy کا انحصار صرف عدالت میں صرف زبردست Arguments کرنے پر نہیں ہوتا، بلکہ اصل کامیابی Case Preparation، Legal Research اور بہترین Drafting میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

جب کوئی مقدمہ عدالت میں فائل کیا جائے تو اسے اس انداز میں تیار کیا جانا چاہیے کہ اس کے تمام بنیادی Facts، Legal Grounds، Questions of Law، Applicable Provisions اور Relief Claimed مکمل وضاحت کے ساتھ عدالت کے سامنے موجود ہوں۔ مقدمے کی Drafting اس قدر جامع، مربوط اور قانونی بنیادوں پر مبنی ہونی چاہیے کہ معزز عدالت عالیہ کیس کو پڑھتے ہی یہ سمجھ سکے کہ اصل تنازع کیا ہے، کون سا قانونی اصول لاگو ہوتا ہے، کون سی دفعہ attract کرتی ہے اور کون سی نہیں، اور آخرکار عدالت کو کس قانونی نکتے پر فیصلہ کرنا ہے۔

ایک اچھا وکیل عدالت میں صرف Arguments نہیں کرتا، بلکہ اس سے پہلے ہی اپنے Pleadings اور Case File کے ذریعے عدالت کو یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے کیس کی اصل بنیاد کیا ہے۔

کیس تیار کرتے وقت ہمیشہ Supreme Court of Pakistan اور متعلقہ High Courts کے تازہ ترین اور اہم Judgments کو تلاش کرنا اور ان کا حوالہ دینا انتہائی ضروری ہے، خصوصاً وہ فیصلے جو مقدمے کے بنیادی قانونی نکتے کو براہِ راست support کرتے ہوں۔ اہم judgments کے citations کو pleadings میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ دورانِ Arguments بھی ان پر reliance کیا جانا چاہیے۔

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عدالت کسی مقدمے کی سماعت سے قبل اس کی فائل، pleadings اور available material کا مطالعہ کرتی ہے اور مقدمے کے قانونی نکات پر اپنا ابتدائی ذہنی framework تیار کرتی ہے۔ اس لیے وکیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کیس اس انداز میں تیار کرے کہ عدالت کے لیے Facts، Law اور Relief کو سمجھنا آسان ہو اور مقدمے کا اصل قانونی سوال واضح طور پر سامنے آ جائے۔

Golden Rule of Advocacy:"A well-prepared case requires fewer arguments, because a well-drafted case speaks for itself."

لہٰذا ایک کامیاب وکیل کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ عدالت میں کتنا اچھا بولتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ عدالت میں آنے سے پہلے اپنے کیس کو کتنی گہرائی، تحقیق، محنت اور قانونی بصیرت کے ساتھ تیار کرتا ہے۔

**Strong Advocacy begins before the Courtroom — with Strong Preparation, Precise Drafting and Powerful Legal Research.

عمر قید کی سزا 14 سال میں تبدیل: سپریم کورٹ آف پاکستان کا ناگہانی اشتعال (Grave & Sudden Provocation) اور 302(c) PPC پر ...
31/07/2026

عمر قید کی سزا 14 سال میں تبدیل: سپریم کورٹ آف پاکستان کا ناگہانی اشتعال (Grave & Sudden Provocation) اور 302(c) PPC پر اہم فیصلہ
​1. بنیادی اور تکنیکی معلومات (Case Details)
​عدالت (Court): سپریم کورٹ آف پاکستان (Supreme Court of Pakistan)
​کیس کا عنوان (Case Title): محمد ناصر حسین بنام ریاست (Jail Petition No. 459 of 2022)
​جج صاحبان کی تعداد (Bench): 2 جج
​جسٹس جمال خان مندوخیل (Justice Jamal Khan Mandokhail)
​جسٹس ملک شہزاد احمد خان (Justice Malik Shahzad Ahmad Khan) — (محررِ فیصلہ)
​تاریخِ سماعت و فیصلہ (Date of Hearing & Judgment): 28 جولائی 2026 (28.07.2026)
​زیرِیں عدالتیں (Lower Courts): جووینائل کورٹ/ایڈیشنل سیشن جج میاں چنوں اور لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ)
​2. کیس کے حقائق اور ملزم کی کم عمری (Facts & Juvenile Status)
​مقدمہ: 05 ستمبر 2018 کو پولیس اسٹیشن چھاب کلاں، میاں چنوں میں FIR No. 344/2018 (زیرِ دفعات 302, 109, 34 PPC) درج کی گئی۔
​واقعہ: مقتول (ظہور احمد) اور ملزم کی والدہ (مسماۃ خورشید بی بی) کے درمیان گلی میں جھگڑا اور ہاتھا پائی ہوئی۔
​ملزم کی کم عمری (Minority): ملزم (محمد ناصر حسین) وقوعہ کے وقت نابالغ (Minor/Juvenile) تھا، جس کی وجہ سے اس کا ٹرائل بھی جووینائل کورٹ (Juvenile Court) میں ہی چلایا گیا۔
​مداخلیت: ملزم نے جب گلی میں اپنی ماں کو مقتول کے ساتھ الجھتے اور ہاتھا پائی کرتے دیکھا، تو اپنی کم عمری اور این موقع کے شدید ناگہانی اشتعال (Grave & Sudden Provocation) میں آ کر اپنے حواس (Self-Control) کھو دیے۔ اس نے گھر سے چھری (Churri) اٹھا کر ظہور احمد پر دو وار کیے جس سے اس کی وفات ہو گئی۔
​سابقہ سزائیں: ٹرائل کورٹ نے 28 فروری 2019 کو اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے 20 جون 2022 کو ملزم کو 302(b) PPC کے تحت عمر قید اور 200,000 روپے معاوضے کی سزا سنائی تھی۔
​3. فیصلے میں شامل نظائر / کیس لاز (Case Laws / Precedents Cited)
​سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کو قانونی مستند فراہم کرنے کے لیے درج ذیل 4 تاریخی نظائر کا حوالہ دیا:
​Azmat Ullah v. The State (2014 SCMR 1178)
​Muhammad Abbas and another v. The State (2023 SCMR 487)
​Chandoo alias Chand Muhammad v. The State (1986 SCMR 720)
​Muhammad Ajmal v. The State (2022 SCMR 88)
​4. طلائی اصول (Golden Principle Set)
​تمام کیس لاز، ملزم کے نابالغ ہونے اور حالاتِ واقعہ کا جائزہ لینے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے یہ اصول قائم کیا:
​اصول: اگر فریقین کے درمیان کوئی پرانی دشمنی نہ ہو، قتل کی پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی ہو، اور ملزم (جو واقعے کے وقت کم عمر/نابالغ تھا) نے اپنی والدہ کو لڑتے دیکھ کر این موقع پر (Spur of the moment) شدید ناگہانی اشتعال میں آ کر سیلف کنٹرول کھو دیا ہو، تو ایسا اقدام تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت عمر قید/سزائے موت کے بجائے دفعہ 302(c) PPC کے زمرے میں آتا ہے۔
​5. سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ و ہدایات (Final Order & Directions)
​جیل پٹیشن: عدالت نے جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے جزوی طور پر منظور (Partly Allowed) کیا۔
​سزا کی تبدیلی: ملزم کی 302(b) PPC کے تحت سزائے عمر قید ختم (Set Aside) کر کے اسے 302(c) PPC کے تحت 14 سال قیدِ با مشقت (14 Years Rigorous Imprisonment) کی سزا سنائی گئی۔
​معاوضہ: ٹرائل کورٹ کا مقرر کردہ 200,000 روپے معاوضہ (Compensation) 302(c) کے تحت بھی برقرار رکھا گیا۔
​دفعہ 382-B Cr.P.C کا فائدہ: ملزم کو 382-B Cr.P.C کا فائدہ دیا گیا، جس سے اس کا دورانِ مقدمہ جتنا بھی وقت جیل میں گزرا ہے، وہ اس کی 14 سالہ کل سزا سے منفی کر دیا جائے گا۔
​تحریر و ترتیب:
ایڈووکیٹ محبوب علی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

الحمداللہ کرپٹو کرنسی پے بطور وکیل میری رپورٹ ججمنٹ ۔۔۔!!کرپٹو کرنسی (USDT) کے P2P لین دین میں اہم فیصلہ: لاہور ہائی کور...
30/07/2026

الحمداللہ کرپٹو کرنسی پے بطور وکیل میری رپورٹ ججمنٹ ۔۔۔!!
کرپٹو کرنسی (USDT) کے P2P لین دین میں اہم فیصلہ: لاہور ہائی کورٹ نے قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی

پس منظر

درخواست گزاروں نے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل ملتان میں درج ایف آئی آر نمبر 90/2025 کے مقدمہ میں قبل از گرفتاری ضمانت طلب کی۔ ان پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 13 اور 14 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شکایت گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے تقریباً 270,000 USDT (کروڑوں روپے مالیت) مختلف P2P مرچنٹس سے خرید کر ایک کرپٹو پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کی، لیکن بعد میں پلیٹ فارم نے اس کا اکاؤنٹ منجمد (Freeze) کر دیا، جس سے اسے بھاری مالی نقصان ہوا۔



عدالت کے سامنے بنیادی سوالات

عدالت نے دو اہم سوالات کا جائزہ لیا:

1. کیا کرپٹو کرنسی (USDT) پاکستان میں اس وقت قانونی طور پر “کرنسی” یا “غیر قانونی اثاثہ” تھی؟
2. کیا درخواست گزاروں کے خلاف ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی گرفتاری کو ضروری بناتا ہو؟



عدالت کے اہم مشاہدات

1۔ کرپٹو کرنسی قانونی کرنسی نہیں لیکن خود بخود غیر قانونی بھی نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ:

* USDT یا دیگر Virtual Assets پاکستان میں Legal Tender (قانونی کرنسی) نہیں ہیں۔
* تاہم صرف کرپٹو خریدنے یا فروخت کرنے سے کوئی شخص خود بخود مجرم نہیں بن جاتا۔
* SBP کے 2018 کے سرکلر کا اطلاق صرف بینکوں اور مالیاتی اداروں پر تھا، عام شہریوں پر نہیں۔
* بعد ازاں خود اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ اس سرکلر کا مقصد کرپٹو کو غیر قانونی قرار دینا نہیں تھا بلکہ صرف ریگولیٹری ہدایات دینا تھا۔



2۔ صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم آنے سے فراڈ ثابت نہیں ہوتا

عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کے خلاف صرف یہ الزام ہے کہ ان کے اکاؤنٹس میں کچھ رقوم منتقل ہوئیں۔

یہ ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے:

* شکایت گزار کو دھوکہ دیا،
* جعلی دستاویزات تیار کیں،
* جعلا سازی کی،
* الیکٹرانک فراڈ کیا،
* یا کرپٹو پلیٹ فارم کو کنٹرول کیا جس نے اکاؤنٹ فریز کیا۔



3۔ PECA کی دفعات 13 اور 14 بادی النظر میں لاگو نہیں ہوتیں

عدالت کے مطابق:

* کوئی ثبوت موجود نہیں کہ درخواست گزاروں نے کسی کمپیوٹر سسٹم یا ڈیٹا میں مداخلت کی۔
* نہ ہی کوئی جعلی الیکٹرانک ریکارڈ بنایا گیا۔
* صرف آن لائن ٹرانزیکشن ہونے سے الیکٹرانک فراڈ ثابت نہیں ہوتا۔



4۔ دفعہ 420 PPC بھی بادی النظر میں ثابت نہیں ہوئی

عدالت نے کہا کہ:

* فراڈ ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ابتدا ہی سے دھوکہ دینے کا ارادہ موجود ہو۔
* ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ درخواست گزاروں نے شکایت گزار کو دھوکہ دے کر سرمایہ کاری کروائی۔



5۔ FERA (Foreign Exchange Regulation Act) بھی فوری طور پر لاگو نہیں ہوتی

عدالت نے قرار دیا:

* USDT کو Foreign Currency یا Foreign Exchange قرار نہیں دیا جا سکتا۔
* صرف USDT کی خرید و فروخت سے FERA کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی۔
* جب تک بیرون ملک ادائیگی یا فارن ایکسچینج قوانین سے بچنے کی اسکیم ثابت نہ ہو، FERA کا اطلاق نہیں ہوگا۔



6۔ گرفتاری ضروری نہیں

عدالت نے نوٹ کیا کہ:

* تمام اہم ثبوت دستاویزی اور الیکٹرانک نوعیت کے ہیں۔
* درخواست گزار تفتیش میں شامل ہو چکے ہیں۔
* انہوں نے عبوری ضمانت کا کوئی غلط استعمال نہیں کیا۔
* اس لیے ان کی جسمانی ریمانڈ یا گرفتاری کی ضرورت ثابت نہیں ہوئی۔



عدالت کا فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

* موجودہ ریکارڈ پر درخواست گزاروں کے خلاف فراڈ، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کے الزامات بادی النظر میں ثابت نہیں ہوتے۔
* صرف P2P ٹرانزیکشن میں رقم وصول کرنا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
* لہٰذا قبل از گرفتاری عبوری ضمانت کو کنفرم کر دیا گیا اور ہر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا گیا۔



اہم قانونی اصول (Key Takeaways)

* کرپٹو کرنسی پاکستان میں Legal Tender نہیں، لیکن صرف اس کی خرید و فروخت بذاتِ خود جرم نہیں۔
* P2P Merchant ہونا خود بخود فراڈ یا سائبر کرائم ثابت نہیں کرتا۔
* صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم وصول ہونے سے دفعہ 420 PPC یا PECA کے جرائم ثابت نہیں ہوتے۔
* قبل از گرفتاری ضمانت اس وقت دی جا سکتی ہے جب گرفتاری کی حقیقی ضرورت ثابت نہ ہو اور مقدمہ بنیادی طور پر دستاویزی شواہد پر مشتمل ہو۔
* اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری ذمہ داری انفرادی (Individual) ہوتی ہے، محض مشتبہ لین دین کسی شخص کو خودکار طور پر مجرم نہیں بناتا

صرف چیک پر دستخط ہونا کافی نہیں! اگر چیک بینک میں جمع ہی نہ ہوا تو سمری سوٹ (Order ###VII) برقرار نہیں رہ سکتا!​پشاور ہا...
27/07/2026

صرف چیک پر دستخط ہونا کافی نہیں! اگر چیک بینک میں جمع ہی نہ ہوا تو سمری سوٹ (Order ###VII) برقرار نہیں رہ سکتا!
​پشاور ہائی کورٹ کا بڑا قانونی اصول طے (RFA No. 12/2024)
​📌 کیس کا پس منظر (Case Background)
​عدالت: پشاور ہائی کورٹ (ایبٹ آباد بینچ)
​جج: جناب جسٹس سید مدثر امیر (Syed Mudasser Ameer, J.)
​فریقین: محمد اعجاز (اپیل کنندہ) بنام ضیاء الحق (جواب دہندہ)
​معاملہ: مدعی (ضیاء الحق) نے 7,00,000 روپے کے چیک کی بنیاد پر آرڈر 37 (Order ###VII) C.P.C. کے تحت سمری سوٹ دائر کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے محض دستخط ثابت ہونے پر مدعی کے حق میں ڈگری جاری کر دی تھی، جسے اپیل کنندہ نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
​⚖️ کیس کا بنیادی قانونی سوال (Core Question)
​کیا ایسا چیک جسے کبھی وقت پر بینک میں پیش (Present) ہی نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس کا منسوخ/ڈس آنر (Dishonour) ہونا ثابت ہو، آرڈر 37 C.P.C. کے تحت سمری سوٹ کی قانونی بنیاد بن سکتا ہے؟

​💡 ہائی کورٹ کے اہم قانونی اصول (Key Legal Principles)
​بینک میں پیش کرنا لازمی شرط (Condition Precedent):
چیک کی بنیاد پر کیس (Cause of Action) صرف اس وقت بنتا ہے جب چیک بینک میں جمع کرایا جائے اور بینک رقم کی ادائیگی سے انکار کرے۔ اگر چیک کبھی بینک میں دیا ہی نہ گیا ہو، تو آرڈر 37 C.P.C. کے تحت کیس دائر کرنے کا کوئی قانونی جواز پیدا نہیں ہوتا۔
​میعاد ختم شدہ چیک (Stale Cheque):
قانون (Negotiable Instruments Act, 1881) اور بینکاری اصولوں کے مطابق چیک جاری ہونے کے 6 ماہ (Six Months) کے اندر بینک میں پیش کرنا ضروری ہے۔ 6 ماہ کے بعد چیک "Stale" (غیر فعال) ہو جاتا ہے۔
​محض دستخط ہونا ڈگری کے لیے کافی نہیں:
ٹرائل کورٹ کا یہ طریقہ کار غلط تھا کہ صرف دستخط ثابت ہونے پر ڈگری دے دی جائے۔ آرڈر 37 ایک خاص قانونی رعایت ہے، اس کے لیے مدعی کو بینک کی ڈس آنر سلپ یا بینک سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہے۔
​📖 سابقہ عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ (Precedents Cited)
​2014 CLC 1448 (Lahore): جب چیک بینک میں پیش ہی نہ ہوا ہو تو بینک کی طرف سے انکار کا سوال ہی نہیں اٹھتا، لہٰذا آرڈر 37 کے تحت دعویٰ نہیں بنتا۔
​PLD 2025 Balochistan 28: چیک کا بینک میں پیش ہونا سمری سوٹ کے لیے بنیادی اور لازمی شرط ہے۔
​1994 MLD 271 & 2008 CLD 1183: 6 ماہ سے زائد پرانا چیک "Stale Cheque" کہلاتا ہے اور بغیر بروقت پیش رفت کے رقم کی وصولی کا حق پیدا نہیں ہوتا۔
​🔨 عدالت کا حتمی فیصلہ (Final Order)
​اپیل منظور: پشاور ہائی کورٹ نے اپیل کنندہ کی اپیل قبول کر لی۔
​ڈگری منسوخ: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج-III ایبٹ آباد کا 07.12.2023 کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دے دی گئی۔
​دعویٰ خارج: مدعی کا آرڈر 37 C.P.C. کے تحت دائر سمری سوٹ خارج (Dismissed) کر دیا گیا۔
​عام دعویٰ کا حق: عدالت نے واضح کیا کہ مدعی چاہے تو اصل لین دین کی بنیاد پر قانون اور میعاد (Limitation) کے مطابق عام دیوانی دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔

دھوکہ دہی (Cheating) کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملزم کی بدنیتی یا دھوکہ دینے کی نیت **معاہدے کے آغاز (Incept...
27/07/2026

دھوکہ دہی (Cheating) کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملزم کی بدنیتی یا دھوکہ دینے کی نیت **معاہدے کے آغاز (Inception)** سے ہی موجود ہو۔ اگر بعد میں معاہدے پر عمل نہ ہو سکے یا رقم واپس نہ کی جائے، تو اسے جرمِ دھوکہ دہی نہیں کہا جا سکتا
محض رقم کی موجودگی میں گواہ بننے یا سودا کروانے سے ڈیلر مجرم نہیں بن جاتا، جب تک کہ آغاز سے ہی اس کی بدنیتی اور دھوکہ دہی کی نیت ثابت نہ ہو۔
امانت کا لفظ استعمال کرنے سے جائیداد کا تنازع "مجرمانہ خیانتِ امانت" (Criminal Breach of Trust) میں تبدیل نہیں ہوتا لاہور ہائی کورٹ کا ایک تفصیلی فیصلہ ہے جس میں عدالت نے دو پراپرٹی ڈیلرز (انصار علی وغیرہ) کی **ضمانت قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail)** منظور کی ہے۔ اس کیس میں ان پر دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کی تیاری کے الزامات تھےمیں اس فیصلے کا آسان اردو خلاصہ اور اس میں استعمال ہونے والی تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی اہم دفعات کی تشریح دی جا رہی ہے:
# # ۱. کیس کے بنیادی حقائق (Case Facts)
* **ملزمان کا کردار:** درخواست گزار (پٹیشنرز) پراپرٹی ڈیلر ہیں۔
* **شکایت کنندہ (Complainant) کا الزام:**

شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ان پراپرٹی ڈیلرز نے اسے عمران رضا نامی شخص (جو اب وفات پا چکا ہے) سے ملوایا اور اسے ایک پلاٹ کا مالک ظاہر کر کے 6,400,000 روپے میں سودا طے کروایا۔ شکایت کنندہ نے کل رقم ادا کر دی اور پلاٹ پر تعمیرات بھی شروع کر دیں۔
* **مسئلہ:**
بعد میں ذوالفقار نامی ایک تیسرے شخص نے اس پلاٹ کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور عدالت سے حکمِ امتناعی (Injunction/سٹے آرڈر) لے آیا۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ پراپرٹی ڈیلرز نے جو مالکانہ دستاویزات (Transfer & Possession Letters) دی تھیں، وہ جعلی تھیں اور انہوں نے رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہیں کیا۔
* **ملزمان کا مؤقف:**
پراپرٹی ڈیلرز کے وکیل کا کہنا تھا کہ سودا براہِ راست شکایت کنندہ اور عمران رضا کے درمیان ہوا تھا۔ وہ صرف ایک معاہدے کے حاشیہ کے گواہ (**Marginal Witnesses**) تھے، انہوں نے کوئی رقم وصول نہیں کی اور نہ ہی کوئی جعلی دستاویز تیار کی۔
# # ۲. فیصلے کے اہم نکات (Key Findings of the Court)
جسٹس طارق سلیم شیخ نے درج ذیل اصولوں کی بنیاد پر ضمانت منظور کی:
* **دھوکہ دہی کی نیت (Mens Rea):**
عدالت نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی (Cheating) کا جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملزم کی بدنیتی یا دھوکہ دینے کی نیت **معاہدے کے آغاز (Inception)** سے ہی موجود ہو۔ اگر بعد میں معاہدے پر عمل نہ ہو سکے یا رقم واپس نہ کی جائے، تو اسے جرمِ دھوکہ دہی نہیں کہا جا سکتا (یہ سول معاملہ بن سکتا ہے)۔
* **امانت اور مجرمانہ امانت میں خیانت (Amanat vs Criminal Breach of Trust):**
شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں "امانت" کا لفظ استعمال کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ زمین کی خرید و فروخت کے معاملے میں دی جانے والی رقم کو صرف "امانت" کا لفظ استعمال کرنے سے مجرمانہ خیانتِ امانت (Criminal Breach of Trust) میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
* **حاشیہ کے گواہ کی ذمہ داری:**
عدالت نے قرار دیا کہ کسی دستاویز پر بطور گواہ دستخط کرنے کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔ گواہ اس بات کا ضامن نہیں ہوتا کہ بیچنے والا واقعی اس جائیداد کا اصل مالک ہے یا نہیں۔
* **پراپرٹی ڈیلرز کا کردار:**
پولیس ریکارڈ اور پیش کی گئی تصاویر سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ ڈیلرز رقم گن رہے تھے یا وہاں موجود تھے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہیں پہلے سے علم تھا کہ عمران رضا مالک نہیں ہے یا دستاویزات جعلی ہیں۔
# # ۳. متعلقہ قانونی دفعات کی تشریح (Relevant PPC Provisions)
عدالت نے اپنے فیصلے میں تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی درج ذیل دفعات کی وضاحت کی:
# # # الف۔ دھوکہ دہی سے متعلق دفعات (Cheating)
* **دفعہ 415 (Section 415 PPC - Cheating):**
اس دفعہ کے تحت "دھوکہ دہی" کی تعریف کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو دھوکہ دے کر، بدنیتی یا بے ایمانی سے کوئی جائیداد (پراپرٹی) دینے پر مجبور کرے، یا کوئی ایسا کام کرنے پر اکسائے جو وہ دھوکہ نہ کھانے کی صورت میں کبھی نہ کرتا، اور اس سے اس شخص کے جسم، دماغ، ساکھ یا جائیداد کو نقصان پہنچے، تو اسے دھوکہ دہی کہا جاتا ہے۔ حقائق کا بدنیتی سے چھپانا بھی دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
* **دفعہ 420 (Section 420 PPC):**
یہ دفعہ تب لاگو ہوتی ہے جب دھوکہ دہی کے نتیجے میں کسی شخص کو قیمتی دستاویز (Valuable Security) تبدیل کرنے، تباہ کرنے یا کوئی جائیداد یا رقم ڈلیور (حوالے) کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یہ جرم قابلِ ضمانت (Bailable) ہے۔
# # # ب۔ جلع سازی سے متعلق دفعات (Forgery)
* **دفعہ 463 اور 464 (Sections 463 & 464 PPC - Forgery):**
کسی کو نقصان پہنچانے، جھوٹا دعویٰ یا ٹائٹل قائم کرنے، یا کسی کو جائیداد سے محروم کرنے کی نیت سے کوئی جھوٹی یا جعلی دستاویز تیار کرنا "جعلسازی" کہلاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے نام سے کوئی دستاویز لکھتا ہے لیکن جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مالک ہے، تو یہ 'دھوکہ دہی' تو ہو سکتی ہے لیکن 'جعلی دستاویز بنانا' (Forgery) نہیں کہلائے گا۔
* **دفعہ 468 (Section 468 PPC):**
**دھوکہ دہی کی غرض سے جعلسازی کرنا۔** یعنی ایسی جعلی دستاویز تیار کرنا جس کا مقصد کسی کے ساتھ دھوکہ دہی کرنا ہو۔ یہ جرم ناپسندیدہ اور ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) ہے، لیکن یہ تعزیراتِ پاکستان کی ممنوعہ شق (Prohibitory Clause) میں نہیں آتا (جس میں موت یا عمر قید کی سزا ہو)۔
* **دفعہ 471 (Section 471 PPC):**
**جعلی دستاویز کو اس کے جعلی ہونے کا علم رکھتے ہوئے بھی اصل کے طور پر استعمال کرنا۔** اگر کوئی شخص خود جعلی دستاویز نہیں بناتا، لیکن وہ جانتے بوجھتے اسے کہیں اصل بنا کر پیش کرتا ہے، تو وہ اس دفعہ کے تحت مجرم ہے۔ یہ جرم بھی قابلِ ضمانت (Bailable) ہے۔
# # ۴. عدالت کا حتمی نتیجہ (Conclusion)
عدالت نے پایا کہ کیس کا زیادہ تر دارومدار دفعہ 468 PPC پر تھا جو کہ ناقابلِ ضمانت ہے، لیکن موجودہ ریکارڈ کے مطابق پراپرٹی ڈیلرز کا جعلی دستاویزات بنانے یا ان کے جعلی ہونے کے علم کے ساتھ استعمال کرنے کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ملا۔
چنانچہ عدالت نے ملزمان کی گرفتاری کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی **ضمانت قبل از گرفتاری کی عبوری منظوری کو مستقل کر دیا** اور انہیں 200,000 روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

Address

Chambers 35 Bashir Khan Block District Court Multan. , Office. 119Bilal Block Bodla Town Chowk Qazafi Multan
Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Hasseeb Law and corporates associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share