Young Lawyer Group Association

Young Lawyer Group Association Lat test 2021 Guideline and prepartion of Test Officiall pahe

السلام علیکم! صبح بخیرپنجاب پولیس سے متعلقہ شکایات کیلئے آئی جی پنجاب کے شکایات سیل میں 1787 پر کال کر کے اپنی شکایت درج...
04/05/2024

السلام علیکم! صبح بخیر
پنجاب پولیس سے متعلقہ شکایات کیلئے آئی جی پنجاب کے شکایات سیل میں 1787 پر کال کر کے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
‎ ‎

03/05/2024

`این ٹی این (NTN)، انکم ٹیکس اور فائلر سے متعلق چند اہم سوالات اور انکے جوابات`

1- این ٹی این NTN کیا ہے؟
جواب: یہ ایک نمبر ہوتا ہے جو کہ FBR کی طرف سے ہر رجسٹرڈ ہونے والے شخص کو الاٹ کیا جاتا ہے۔

2- کیا صرف این ٹی این لگوانا کافی ہے ؟
جواب: نہیں۔ این ٹی این لگوانے کے بعد ہر سال انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنی لازمی ہو جاتی ہے۔

3- انکم ٹیکس ریٹرن سے کیا مراد ہے؟
جواب: یہ ایک FBR کا آن لائن فارم ہے جس میں آپ اپنی سالانہ آمدنی ، اس پر واجب الادا ٹیکس، اپنے اخراجات اور اثاثہ جات کی تفصیلات درج کر کے جمع کرواتے ہیں۔

4- انکم ٹیکس ریٹرن فائل نا کرنے کے کیا نقصانات ہیں ؟
جواب: اگر آپ مقررہ تاریخ کے اندر اپنی انکم ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے تو FBR کی طرف سے آپکو نوٹس موصول ہوتے ہیں۔ اور جرمانہ بھی ہوتا ہے۔

5- انکم ٹیکس ریٹرن فائل کروانے کے کیا فوائد ہیں ؟
جواب: دو سال مسلسل مقررہ تاریخ کے اندر انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے سے آپ ایکٹیو فائلر ہو جاتے ہیں۔ اور اضافی ٹیکس پر چھوٹ مل جاتی ہے۔

6- کیا این ٹی این لگواتے ہی آپ ایکٹیو فائلر ہو سکتے ہیں ؟
جواب: جی ہاں۔ اس کےلئے آپ کو گزشتہ سال کی ریٹرن اور ایک ہزار روپے کا ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ کا چالان ادا کرنا ہوتا ہے اور آپ اسی دن ایکٹیو لسٹ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

7- کیا سرکاری ملازمین کا فائلر ہونا ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں- سرکاری ملازمین جیسے ہی انکی ماھانہ تنخواہ پچاس ہزار پر پہنچتی ہے انکی تنخواہ سے انکم ٹیکس کی کٹوتی شروع ہو جاتی یے۔ تو جب ٹیکس کٹ ہی رہا ہے تو اسکو FBR میں درج کروانے میں کوئی حرج نہیں۔

8- کیا تنخواہ میں سے صرف انکم ٹیکس کی کٹوتی سے آپ ایکٹیو فائلر ہو سکتے ہیں ؟
جواب: جی نہیں۔ اس کیلئے آپ کو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنی ہوگی۔ ورنہ آپ ٹیکس کی کٹوتی کے باوجود نان فائلر ہی رہیں گے۔ اور آپکا ادا کردہ ٹیکس کسی کھاتے میں نہیں جائے گا۔

9- کیا FBR انکم ٹیکس کی کٹوتی کے علاوہ بھی سرکاری ملازمین سے کوئی اضافی ٹیکس وصول کرتی ہے؟
جواب: اگر آپکا ذریعہ آمدن صرف تنخواہ ہے تو آپ کوئی اضافی ٹیکس نہیں ادا کریں گے۔ بلکہ جو پہلے سے آپکی تنخواہ سے انکم ٹیکس کی ماھانہ کٹوثی ہو رہی ہے اسی کا اندراج انکم ٹیکس ریٹرن میں کر دینا ھی کافی ہے ۔

10- کیا کسی فرد واحد کےاثاثہ جات (Assets) پر کوئی ٹیکس ہے؟
جواب: اگر اثاثہ جات سے آپ کو کوئی آمدن حاصل نہیں ہو رہی تو اس پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ صرف آمدن پر ٹیکس ہے۔ اثاثہ جات پر کوئی ٹیکس نہیں۔

First Divorce Notice format in Urdu -First Talaq-Pakistan - طلاق نامہ لکھنے کا طریقہمنکہ مسمی زعفران خان ولد محمد زمان س...
19/02/2024

First Divorce Notice format in Urdu -First Talaq-Pakistan - طلاق نامہ لکھنے کا طریقہ
منکہ مسمی زعفران خان ولد محمد زمان ساکن مکان نمبر1، گلی نمبر4، محلہ شاہ چن چراغ، راولپنڈی کا رہائشی ہوں

۱۔ یہ کہ من مظہر کی شادی ہمراہ مسماۃ حنا رباب دختر رباب خان شناختی کارڈ نمبر37405-0000000-0ساکن مکان نمبر2656، گلی نمبر54، رتہ امرال دیہاتی، راولپنڈی بالعوض حق مہر مبلغ/-10,000روپے مورخہ08-03-2013کو سرانجام پائی
یہ کہ شادی کے کچھ عرصہ بعد تک تعلقات مابین فریقین خوشگوار رہے لیکن اب تعلقات فریقین میں کشیدگی آگئی ہے جو مزید شدت اختیار کر سکتی ہے بدیں وجہ اب ہمارا نباہ بطور میاں بیوی اسلام کے وضع کردہ احکامات کے مطابق بہت مشکل ہو گیا ہے۔



۳۔ یہ کہ مذکورہ بالا کشیدہ حالات کے پیش نظر، من مظہر اپنے پورے ہوش و حواس خمسہ برضا و رغبت بلا جبرو اکراہ غیرے اپنی زوجہ مسماۃ مسماۃ حنا رباب دختر رباب خان کو روبروگواہان طلاق اول دیتا ہوں
لہذا طلااق نامہ (طلاق اول ) ہذا بقائمی ہو ش و حواس خمسہ بارضا و رغبت بلا جبرو کراہ غیرے تحریر کرکے اس پر اپنے دستخط و نشان انگوٹھا ثبت کر دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ المرقوم06-06-2020

العبد



زعفران خان ولد محمد زمان

شناختی کارڈ نمبر

گواہ نمبر۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گواہ نمبر۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

19/02/2024

*عدالت میں کاغذات جمع کرانے کا بہترین طریقہ*
کس بھی مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے عدالت میں دستاویزات پیش کرنا لازمی ہوتی ہیں دیوانی اور فیملی مقدمات میں مقدمہ دائر کرتے وقت ان دستاویزات کی تفصیل بھی لکھی جاتی ہے جو عدالت میں جمع کرانے ہوں
دستاویزات دو قسم کی ہوتی ہیں ایک پبلک ڈاکومنٹس اور ایک پرائیوٹ ڈاکومنٹس
کاغذات شہادت کے وقت جمع کراے جاتے ہیں اور عموماً زبانی شہادت کے بعد جمع کراے جاتے ہیں
*Exibit Documents*
یہ وہ کاغذات ہوتے ہیں جو بالکل اصلی ہوں یا پبلک ڈاکومنٹس ہوں جن کو جب وکیل جمع کراتا ہے تو عدالت انکے اوپر Exibit لکھ دیتی ہے
*Mark Documents*
یہ وہ کاغذات ہیں جو فوٹو کاپی کی شکل میں ہوں یا پھر جن پر عدالت انحصار نہ کرسکتی ہو ,یہ بھی جب وکیل جمع کراتا ہے تو عدالت کاغذات کے اوپر مارک لکھ دیتی ہے
کاغذات ہمیشہ شہادت میں جمع کراے جاتے ہیں مگر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایسے کاغذات جو اصلی ہوں وہ مقدمہ کی کسی بھی سٹیج پو جمع کراے جاسکتے ہیں
Any documents which is original and relevant can be produced at any stage whether it is trial court or appellate court in the interest of justice.
2016 SCMR 1(b)

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون  14000 Bzu لاء سٹودنٹس کا امتحان رکوانے سپریم کورٹ پہنچ  گئےاحسن بھون کی طرف سے سپریم کورٹ ...
05/06/2022

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون 14000 Bzu لاء سٹودنٹس کا امتحان رکوانے سپریم کورٹ پہنچ گئے

احسن بھون کی طرف سے سپریم کورٹ میں بی زیڈ یو کے امتحانات رکوانے کیلے رٹ دائر کر دی گئی جس کی وجہ سے سپلی امتحان کی رولنمرز سلپ روک دی گئی ہیں

یاد رہے کہ گزشتہ ڈھائی سال سے یہ امتحان رکے ہوئے تھے سابقہ گورنر عمر سرفراز چیمہ نے تین مختلف یونیورسٹی کے وی سی صاحبان سے انکوائریز کروانے کے بعد اور طلباء نمائندگان کا موقف سننے کے بعد طلباء کو بے قصور قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کو امتحان لینے کا حکم جاری کیا تھا

ان کے اس فیصلے سے ان کی نیک نامی اور شہرت میں اضافہ ہوا تھا اس کریڈٹ کو ختم کرنے کے لیے مخالف سیاسی پارٹی نے احسن بھون ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس امتحان کو روکنےکے لیے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے

26/05/2022
اگر نوکری کرنے والی خواتین کو دفاتر میں یا کسی بھی جگہ جنسی ہراساں کیا جاتا ہے تو خاتون کیا کرے؟ کیسے مجرمان کو سزا دلوا...
24/05/2022

اگر نوکری کرنے والی خواتین کو دفاتر میں یا کسی بھی جگہ جنسی ہراساں کیا جاتا ہے تو خاتون کیا کرے؟ کیسے مجرمان کو سزا دلوائے؟

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے. بازاروں میں، پبلک ٹرانسپورٹ میں آفسز میں غرض کے ہر جگہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات پیش آتے ہیں اور اسکی روک تھام کے لئے گورنمنٹ نے مختلف قوانین بنائے۔ اسی طرح ایک قانون نوکری کرنے والی خواتین کو جنسی ہراسگی سے بچانے اور متاثرہ خاتون کو فوری انصاف پہنچانے کے لیے بنایا گیا جس کو The Protection Against Harassment of Women At the workplace Act 2010 کا نام دیا گیا۔

یہ قانون بنانے کا مقصد؟

ایک خاتون جو اپنے گھر سے اس وجہ سے نکلتی ہے کہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکے دو پیسے حلال رزق کے کما سکے لیکن جب کام والی جگہ انکی عزت پر حملے ہوں انکی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے تو اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو ان کے سینئرز کی جانب، ان کے باس کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں جسکی روک تھام کے لئے یہ ایکٹ بنایا گیا۔

جنسی ہراسگی ہے کیا؟

قانون کے تحت اگر کوئی شخص کسی خاتون سے غلط بات کرے، غلط حرکت کرے کسی خاتون کو مجبور کرے کہ وہ اس کو جنسی طور پر فائدہ پہنچائے، عورت کو کسی قسم کا فائدہ پہنچانے کا وعدہ کرے جنسی آسودگی کے عوض یا اس خاتون کو indirect طریقے سے تنگ کرے تو یہ تمام چیزیں جنسی ہراسگی میں شامل ہونگی.

اس ایکٹ کے تحت کیسے نوکری کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا؟

اس ایکٹ کے تحت دفاتر, کمپنی میں انکوائری کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد خواتین ملازمین کی جانب سے ملنے والی ہراسگی کی شکایت کا فوراً ازالہ کرنا ہے. اس ایکٹ کے تحت شکایت موصول ہونے پر انکوائری کمیٹی ہراساں کرنے والے ملازم کو بلائے گی۔ اس سے اس کا موقف سنا جائے گا۔ اگر انکوائری کمیٹی میں ثابت ہو جائے کہ فلاں ملازم کی جانب سے خاتون ملازم کو ہراساں کیا گیا ہے تو کمیٹی اس ملازم کو نوکری سے بے دخل تک کرسکتی ہے۔ انکوائری کمیٹی کے علاوہ متاثرہ خاتون وفاقی محتسب میں بھی شکایت کرسکتی ہے۔ وفاقی محتسب میں سرکاری و نجی ملازمین کے خلاف شکایت سنی جاتی ہیں. انکوائری کمیٹی اور وفاقی محتسب میں شکایت کرنے کے علاوہ متاثرہ خاتون پولیس ایف آئی آر بھی کروا سکتی ہے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 509 کے تحت۔

دفاتر کے علاوہ اگر خواتین کو باہر کہیں کسی کی بھی جانب سے ہراساں کیا جائے تو سزا کیا ہے؟

اگر کوئی شخص کسی عورت کے کپڑے اتارے یا اسکی خاتون کی غیر اخلاقی فوٹو انٹرنیٹ پر لگاتا ہے تو ایسے شخص کے خلاف خاتون فوراً ایف آئی آر درج کروائے۔ اس جرم میں اس شخص کو عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 354A کے تحت۔ اس کے علاوہ کسی پبلک مقام پر، کسی بس میں یا کسی بھی جگہ کوئی شخص کسی عورت پر نازیبا الفاظ کستا ہے، اس کو جسمانی طور پر ہراساں کرتا ہے یا کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس سے عورت جنسی ہراسگی ہو تو ایسے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے اور اس شخص کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 509 کے تحت 3 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوسکتا ہے اور اسی سیکشن کے تحت جیسا کے ہم نے اوپر ذکر کیا دفاتر کمپنی فیکٹری یا کسی بھی جگہ کام کرنے والی خاتون اس سیکشن کے تحت ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکتی ہے۔ ایک اور بات یاد رکھیں کہ کسی خاتون پر زنا کا جھوٹا الزام لگانا بھی جرم ہے۔ کوئی شخص ایسا الزام کسی خاتون پر لگاتا ہے تو اس کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 496C کے تحت 5 سال قید ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی 18 سال کم عمر لڑکی کو بدکاری کے لیے اکساتا ہے تو ایسے شخص کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 366A کے تحت 10 سال قید ہو سکتی ہے تو یہ مختلف قوانین ہیں جن کے تحت خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کے اندر اتنی ہمت اور حوصلہ پیدا کرنا ہوگا کہ وہ ایسی صورتحال میں خاموش مت رہیں بلکہ اس کا ذکر گھر والوں سے کریں اور ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

12 مئی یوم سیاہ 😭😭😭😭 کراچی میں فاضل نہتے معصوم بے وکلاء کو چیمبرز میں بیٹھے ھوئے اگ لگا کر زندہ جلا دیا گیا تھا تکلیف کا...
12/05/2022

12 مئی یوم سیاہ 😭😭😭😭 کراچی میں فاضل نہتے معصوم بے وکلاء کو چیمبرز میں بیٹھے ھوئے اگ لگا کر زندہ جلا دیا گیا تھا تکلیف کا اندازہ صاحب دل ھی لگا سکتا ھے 😭😭😭😭😭

02/05/2022

VVI. MUST READ JUDGEMENT

سلام آبادہائیکورٹ نے شادی کی عمر سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے 18 سال سے کم عمر شادی کو غیر قانونی معاہدہ قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 56 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا

جسٹس بابر ستار نے جاری کردہ فیصلے میں لکھا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی آزادانہ شادی نہیں کرسکتی، حیاتیاتی طور پر بلوغت کی عمر 18 سال کا ہونا ہی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ محض جسمانی تبدیلیوں پر 18 سال سے پہلے قانونی طور پر بلوغت نہیں ہوتی، بلوغت کی قانونی عمر 18 برس ہے، اس سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 18سال سے کم عمر لڑکی کے ورثا بھی جسمانی تعلق والا معاہدہ نہیں کراسکتے۔

عدالت نے بیٹی کی بازیابی کے لیے دائر ممتاز بی بی کی درخواست پر فیصلہ سنادیا اور 16سالہ سویرا فلک شیر کو واپس والدہ کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ایس ایچ او گولڑہ کو دارالامان سے لڑکی واپس والدہ کے سپر کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس میں وضاحت نہ ہونے کا معاملہ کابینہ ڈویژن اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کردی۔
ممتاز بی بی نے مئی 2021 سے بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا، لڑکی نے ہائی کورٹ میں مرضی سے شادی کرنے کا بیان دیا تھا۔
1. Can a Minor execute a valid contract of marriage and can a marriage between an adult and a child, even if with the consent of the child, be deemed to be a valid marriage?

2. What is the age of majority in Pakistan, and does a Minor have the legal competence to enter into a contract of marriage before attaining the age of majority?

3. Can the consideration and purpose of contract of marriage be regarded as lawful in view of section 23 of the Contract Act, 1872, read together with sections 375 and 377A of Pakistan Penal Code, 1860?

4. Can a contract of marriage, involving an object and purpose that is proscribed, be treated as a valid contract while simultaneously creating criminal liability for the male for carrying out acts conceived by such contract? .....................................

A. A child is defined as a person who has not attained the age of 18 years. A child is required to be placed in somebody’s care whether it is a parent or guardian or other caregiver appointed on behalf of the state. Complete agency to grant informed consent for purposes of entering into contract, including, inter alia, a marriage contract cannot be attributed to such child.

B. A female child below the age of 18 cannot be deemed competent to freely grant her consent to enter into a marriage contract merely because she manifests the physical symptoms of having attained puberty. In view of provisions of the Muslim Family Laws Ordinance, 1961, Islamabad Capital Territory Child Protection Act, 2018 and PPC, when read together, while being guided by principles of Islamic jurisprudence and Principles of Policy enshrined in the Constitution, (including state’s obligation to protect the woman, the child and the family), the test for legal agency and competence of a female child is her biological age and not her state of physical and biological growth.

C. The provisions of sections 375 and 377A of PPC are mandatory provisions and any contract entered with the object of breaching such provisions or that has the effect of breaching such provisions cannot be treated as a valid contract. A marriage contract in which one of the parties is a child under the age of 18 is therefore a contract executed for an unlawful purpose and is void ab initio. Such marriage contract can neither be registered under the Muslim Family Laws Ordinance, 1961, nor can be given effect by a court, as that would tantamount to defeating provisions of law that have been promulgated to uphold rights of children guaranteed by Article 9 of the Constitution read together with the provisions of United Nations Convention on the Rights of the Child.

D. A child under the age of 18 years is a dependent of an adult whether such adult is a parent or guardian or other caregiver appointed by the State. The State is under an obligation to uphold and guarantee the rights of such child, who cannot be deemed to have the competence or capacity to parent a child of his/her own and act as guardian endowed with the primary responsibility to provide for his/her child while being a child himself/herself.

E. Sections 375 and 377A of PPC read together with Article 9 of the Constitution, Islamabad Capital Territory Child Protection Act, 2018, and provisions of United Nations Convention on the Rights of the Child unequivocally provide that no one can engage in sexual conduct in any form with a child and neither can any person invite or entice a child to engage in sexual conduct in any form, and any invitation or enticement provided to a child to engage in sexual conduct, even under the cloak of marriage, would fall within the definition of sexual abuse in terms of section 377A.

F. Neither a child under the age of 18 can consent to engage in sexual conduct in any form, nor can a parent or guardian of a child, contract a child out to engage in sexual conduct. A child is not a chattel that can be contracted out by a trustee or guardian to engage in conduct that the child himself/herself cannot grant consent for. No consent can be granted on behalf of a child by a parent or guardian involving discharge of personal service by the child or engagement in conduct that is unlawful and prohibited, such as that required to be performed under a marriage contract. While a parent or guardian can deal with a child’s property in his/her best interest, the parent or guardian is not at liberty to contract out the child to engage in a contract of personal service or conduct otherwise prohibited by law.

G. Sections 375 and 377A of PPC do not provide for any exceptions or exclusions to conduct that otherwise qualifies as r**e or sexual abuse as defined therein, and the said sections would be attracted even where the offence is made out against a person who seeks to defend himself on the basis that such conduct was pursuant to a marriage contract executed by a child under the age of 18 years or his/her parent or guardian on his/her behest.

Once this Court has come to the conclusion that a marriage contract involving a child under the age of 18 years is a contract prohibited by law, which, even if executed by a child, is void ab initio, the question of treating the purported nikah-nama between respondent No.1 and the Minor as a basis to release her in the custody of respondent No.1 does not arise. This Court has not however determined the age of the Minor definitively, nor has it made any observations as regard the liability of respondent No.1 under provisions of PPC. Doing so in writ jurisdiction could fetter the rights of the parties involved to due process and fair trial as guaranteed by Article 10A of the Constitution. The determination of such questions is left to the court of competent jurisdiction before which such questions are raised.

For reasons stated above, the instant petition is allowed and respondent No.5 is directed to ensure that the Minor is released from Dar-ul-Aman into the custody of the petitioner, who is her mother, and the petitioner along with her husband (i.e. the father of the minor) are responsible to provide for the safety and wellbeing of the Minor in accordance with the provisions of Islamabad Capital Territory Child Protection Act, 2018. Respondent No.1 shall pay the petitioner cost of litigation in the amount of Rs.20,000/- under section 35 of Civil Procedure Code, 1908 within a period of thirty days and the learned counsel for the respondent will file a certificate with the Deputy Registrar (Judicial) of this Court confirming that the order as to costs has been complied with.

The office is directed to send a copy of this judgment to the Secretary, Cabinet Division, and Secretary, Ministry of Parliamentary Affairs, to bring to the attention of the Cabinet and the Parliament, respectively, (i) the absence of a clear statutory provision in the Muslim Family Laws Ordinance, 1961, stating the permissible age for marriage in Pakistan, (ii) section 21 of the Guardians and Wards Act, 1890, which is in conflict with provisions of Islamabad Capital Territory Child Protection Act, 2018, read together with provisions of the United Nations Convention on the Rights of Child, and capable of creating the false impression that children in Pakistan under the age of 18 are still deemed capable of being guardians in select circumstances,and (iii) provisions of statutory instruments dating back to colonial times, including the Majority Act, 1975, Child Marriage Restraint Act, 1929, and the Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939, provisions of which, if read on a stand-alone basis, could be vulnerable to interpretations in conflict with provisions of Sections 375 and 377A of PPC read together with Islamabad Capital Territory Child Protection Act, 2018, and provisions of the United Nations Convention on the Rights of Child. The office is also directed to send a copy of this judgment to Chief Commissioner, ICT, for information and compliance for purposes of registration of marriages under the Muslim Family Laws Ordinance, 1961, within Islamabad Capital Territory.
WRIT PETITION NO. 4227 OF 2021
Mst. Mumtaz Bibi Vs Qasim and others

لا گیٹ میں پاسنگ مارکس ٪45 ہونگے, پاکستان بار کونسل نے نوٹیفکیشن جاری کردیا.
21/01/2022

لا گیٹ میں پاسنگ مارکس ٪45 ہونگے, پاکستان بار کونسل نے نوٹیفکیشن جاری کردیا.

Address

Multan

Telephone

+923448798624

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Young Lawyer Group Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category