Find Lawyer Online

Find Lawyer Online Connecting You with the Right Lawyer at the Right Time. FindLawyer Online helps you get expert legal support anywhere in Pakistan.

Your case matters — we help you take the right legal step.

📞 Quick Consultation
⚖ Trusted Legal Network
🔒 100% Confidenti

21/04/2026

ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار نے اعلان کیا ہے کہ نیتن یاہو کے ہنگری آنے پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہنگری بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن ہے، اس لیے جس شخص کے وارنٹ جاری ہوں اسے حراست میں لینا قانونی ضرورت ہے۔

تحصیلداروں کے تبادلے پنجاب بورڈ آف ریونیو نے مختلف تحصیلداروں کے تبادلے کیے ہیں ،  ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں محمد مجت...
20/04/2026

تحصیلداروں کے تبادلے
پنجاب بورڈ آف ریونیو نے مختلف تحصیلداروں کے تبادلے کیے ہیں ، ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں محمد مجتبی خالق بھٹی کو نیا تحصیلدار تعینات کیا گیا ہے ، عامر اقبال جو تحصیل جلالپور پیر والہ تعینات کیا گیا ہے، دونوں نے حال ہی میں تحصیلدار کے عہدے پر ترقی پائی ہے۔ معاذ شریف کو خیر پور ٹامیوالی ، محمد حارث کو بہاولنگر ، طاہر نوید انجم کو احمد پور شرقیہ جبکہ اصغر حیدر عباس کو پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ ملتان تعینات کیا گیا ہے ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے احکامات جاری کیے ہیں

18/04/2026
"پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ میں بڑی ترمیم: اب ڈی سی (DC) کا فیصلہ ہی آخری ہوگا!"پنجاب حکومت نے زمینداروں اور عام شہریوں کے ل...
16/04/2026

"پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ میں بڑی ترمیم: اب ڈی سی (DC) کا فیصلہ ہی آخری ہوگا!"
پنجاب حکومت نے زمینداروں اور عام شہریوں کے لیے ایک ایسا "بڑا دھماکہ" کر دیا ہے جس سے کچہریوں کے چکر اور دہائیوں پر محیط مقدمہ بازی اب قصہ پارینہ بن جائے گی۔ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں ہونے والی حالیہ ترمیم نے تقسیمِ اراضی کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
​اہم ترین قانونی تبدیلیاں ایک نظر میں۔۔
​حکومتِ پنجاب نے 9 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہونے والے آرڈیننس کے ذریعے درج ذیل انقلابی اقدامات کیے ہیں:
​دوسری اپیل کا خاتمہ: اب تقسیمِ اراضی (Partition) کے کیسز میں کمشنر یا ایڈیشنل کمشنر کے پاس دوسری اپیل دائر کرنے کا حق مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔کلکٹر کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ اسسٹنٹ کمشنر/تحصیلدار کے فیصلے کے خلاف اب صرف ایک اپیل کلکٹر آف ڈسٹرکٹ (DC) کے پاس ہوگی، ڈی سی کا فیصلہ ہی آخری اور حتمی (Final) تصور کیا جائے گا۔
​زیرِ التوا کیسز کی منتقلی: کمشنر دفاتر میں موجود تمام پرانی اپیلیں اب فوری طور پر بورڈ آف ریونیو منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
​اختیارات کی منتقلی: کمشنر سے اختیارات واپس لے کر تمام طاقت ضلعی کلکٹر کو دے دی گئی ہے تاکہ فیصلے مقامی سطح پر جلد ممکن ہوں۔
​عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
​"اب زمین کی تقسیم کے فیصلے سالوں کے بجائے مہینوں میں ہوں گے۔"
​وقت اور پیسے کی بچت: سا ئلان کو سالہا سال کی "خواری" سے نجات ملے گی۔
​سپیڈی جسٹس: تقسیم کے سادہ کیس اب ضلعی سطح پر ہی منطقی انجام کو پہنچیں گے۔
​قبضے کا حصول آسان: قانونی پیچیدگیاں کم ہونے سے حق دار کو اس کی زمین کا قبضہ جلدی مل سکے گا۔
​ایک لمحہ فکریہ!
​جہاں اس فیصلے سے رفتار بڑھے گی، وہاں قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ "دوسری اپیل" کا حق ختم ہونے سے سائلین پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ اب آپ کو پہلی اپیل میں ہی اپنا کیس پوری تیاری سے لڑنا ہوگا، کیونکہ اوپر کا فورم اب دستیاب نہیں ہے۔
​کیا آپ کے خیال میں اپیل کا حق محدود کرنا انصاف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا یا اس سے سائلین کی مشکلات بڑھیں گی؟

مزید معلومات کے لیے پیج فالو کریں
11/04/2026

مزید معلومات کے لیے پیج فالو کریں

📢 پنجاب میں سٹیمپ ڈیوٹی کا نیا قانون 2026 – عام شہریوں کے لیے بڑی سہولتحکومتِ پنجاب نے 10 اپریل 2026 کو سٹیمپ ایکٹ 1899 ...
11/04/2026

📢 پنجاب میں سٹیمپ ڈیوٹی کا نیا قانون 2026 – عام شہریوں کے لیے بڑی سہولت

حکومتِ پنجاب نے 10 اپریل 2026 کو سٹیمپ ایکٹ 1899 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے Stamp (Amendment) Ordinance 2026 نافذ کیا ہے، جس کا مقصد جائیداد کے لین دین کو آسان، سستا اور شفاف بنانا ہے۔

---

🔹 قانون کی سادہ وضاحت:

✅ "Assignable Deed" کیا ہے؟
یہ ایسا قانونی دستاویز ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی جائیداد کے حقوق (Rights, Title, Interest) کسی دوسرے شخص کو منتقل کرتا ہے، یعنی مکمل نئی رجسٹری کے بجائے حقوق کی منتقلی۔

---

🔹 سٹیمپ ڈیوٹی میں نئی شرح:

📌 12 ماہ کے اندر منتقلی → 1% سٹیمپ ڈیوٹی
📌 12 ماہ کے بعد منتقلی → 2% سٹیمپ ڈیوٹی

⚠️ اہم نکتہ:
یہ شرح خاص طور پر Assignable Deed پر لاگو ہوتی ہے، نہ کہ ہر قسم کی سیل ڈیڈ یا رجسٹری پر۔

---

🔹 پہلے کیا مسئلہ تھا؟

❌ شہری علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی → 1%
❌ دیہی علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی → 3%

➡️ اس فرق کی وجہ سے:

- لوگ دیہی علاقوں میں ٹرانسفر سے کتراتے تھے
- غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں
- بعض کیسز میں جعلی طریقے (under-value یا غیر رسمی ٹرانسفر) استعمال ہوتے تھے

---

🔹 اب کیا بہتری آئی ہے؟

✔ شہری و دیہی فرق کم کر دیا گیا
✔ شرح کو سادہ اور واضح بنایا گیا
✔ لین دین کا طریقہ زیادہ قانونی اور محفوظ ہو گیا

---

🔹 عام شہری کو کیا فائدہ ہوگا؟

💰 1. کم خرچ میں جائیداد کی منتقلی
اب Assignable Deed کے ذریعے ٹرانسفر پر کم سٹیمپ ڈیوٹی دینا پڑے گی، جس سے اخراجات کم ہوں گے۔

⚖️ 2. قانونی تحفظ میں اضافہ
لوگ غیر رسمی یا زبانی معاملات کے بجائے باقاعدہ دستاویزات استعمال کریں گے، جس سے فراڈ اور تنازعات کم ہوں گے۔

📉 3. مقدمہ بازی میں کمی
سادہ اور واضح قانون ہونے کی وجہ سے عدالتوں میں جائیداد کے کیسز کم ہوں گے۔

🏡 4. پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی
کم لاگت اور آسانی کی وجہ سے خرید و فروخت میں اضافہ ہوگا، جس سے مارکیٹ ایکٹیو ہوگی۔

📊 5. سرمایہ کاری میں اضافہ
لوگ اعتماد کے ساتھ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کریں گے کیونکہ ٹیکس نظام واضح ہو گیا ہے۔

🤝 6. خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے سہولت
دونوں فریق کم لاگت اور آسان پراسیس کی وجہ سے جلدی ڈیل مکمل کر سکیں گے۔

---

🔹 قانون کا اصل مقصد:

🎯 لین دین کو آسان بنانا
🎯 اخراجات کم کرنا
🎯 قانونی نظام کو شفاف بنانا
🎯 فراڈ اور جعلی ٹرانزیکشنز کی روک تھام
🎯 ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا

---

📌
یہ نیا قانون خاص طور پر جائیداد کے حقوق کی منتقلی (Assignable Deed) کو آسان اور سستا بنانے کے لیے ہے۔ اس سے عام شہری کو کم خرچ، زیادہ قانونی تحفظ اور تیز تر پراپرٹی ٹرانزیکشن کی سہولت حاصل ہوگی۔

09/04/2026

مالی استطاعت
ھائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر مدعی مالی استطاعت ثابت نہ کر سکے تو جائیداد کی خریداری کا دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے۔

2025 CLC 1784

PLD 2026 SC P.122 سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیٹی باپ سے کب اور کن حالات واقعات میں حق طلب کر سکتا ہے شادی کے اخراجات ...
29/03/2026

PLD 2026 SC P.122
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیٹی باپ سے کب اور کن حالات واقعات میں حق طلب کر سکتا ہے
شادی کے اخراجات (جہیز یا رخصتی وغیرہ) کا دعویٰ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب شادی کی تاریخ طے ہو، تیاریاں مکمل ہوں اور اخراجات فوری اور یقینی ہوں۔
مستقبل کے غیر یقینی واقعات" کے لیے قانونی طور پر رقم وصول نہیں کی جا سکتی۔
> "عدالتیں قانون کا فورم ہیں، محض گمان یا مفروضوں کا نہیں۔ ریلیف صرف موجودہ حقوق کی بنیاد پر دیا جا سکتا ہے، خیالی وجوہات پر نہیں۔"
>
حالات وواقعات کے مطابق قانونی نقطہ جو اس فیصلہ میں زیر غور لایا گیا کہ کیا بیٹی کی شادی کے اخراجات قبل از وقت وصول کیے جا سکتے ہیں؟
سپریم کورٹ آف پاکستان نے PLD 2026 SC 122 میں باپ کی جانب سے شادی کے اخراجات کی ادائیگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ واضح کر دیا ہے۔
اہم قانونی نکات:
* ✅ حق کب بنتا ہے؟
شادی کے اخراجات (جہیز یا رخصتی وغیرہ) کا دعویٰ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب شادی کی تاریخ طے ہو، تیاریاں مکمل ہوں اور اخراجات فوری اور یقینی ہوں۔
* ❌ قانون کیا نہیں کہتا؟
قانون باپ پر یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ مستقبل کی کسی غیر یقینی شادی کے لیے "ایڈوانس" رقم ادا کرے، خاص طور پر جب نہ منگنی ہوئی ہو اور نہ ہی شادی کی کوئی تاریخ طے ہو۔
* 📝 عدالت کا موقف:
عدالتیں قانون کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، مفروضوں یا قیاس آرائیوں پر نہیں۔ اگرچہ بیٹیوں کی مالی ضروریات اور جذبات قابلِ احترام ہیں، لیکن "مستقبل کے غیر یقینی واقعات" کے لیے قانونی طور پر رقم وصول نہیں کی جا سکتی۔
> "عدالتیں قانون کا فورم ہیں، محض گمان یا مفروضوں کا نہیں۔ ریلیف صرف موجودہ حقوق کی بنیاد پر دیا جا سکتا ہے، خیالی وجوہات پر نہیں۔"
>
کیس کی تفصیل:
نسیم مائی بنام ملک محمد شاہ عالم
(CPLA No. 2872-L OF 2022)
نتیجہ: عدالت نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بھی یہ واضح کیا کہ جب تک شادی کے انتظامات حتمی نہ ہوں، اسے قانونی قرض (Debt) قرار دے کر وصول نہیں کیا جا سکتا۔

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح ...
24/03/2026

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، کیونکہ خلع کی صورت میں نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اگر عدت مکمل ہونے کے بعد دونوں کی رضامندی ہو تو نیا نکاح کر کے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس عمل کے لیے حلالہ ضروری نہیں ہوتا بلکہ باہمی رضامندی، نیا نکاح اور گواہوں کی موجودگی میں شرعی طریقہ کار کے مطابق نکاح دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔

After Khula, if husband and wife wish to reconcile and live together again, they can remarry through a new Nikah without Halala. In Islamic and legal terms, Khula dissolves the marriage, and once the waiting period (iddat) is completed, both parties can remarry each other with mutual consent through a fresh Nikah in the presence of witnesses. Halala is not required in this situation; a new Nikah contract is sufficient to restart the marital relationship.

Khula law Pakistan, remarriage after khula, khula and halala difference, new nikah after khula, reconciliation after khula, Islamic family law Pakistan, Muslim marriage law, legal advice khula Pakistan.

🚨 پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر!اب پنجاب میں ہاؤسنگ اسکیم لانچ کرنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔حکومت نے Punjab Gazett...
23/03/2026

🚨 پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر!

اب پنجاب میں ہاؤسنگ اسکیم لانچ کرنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
حکومت نے Punjab Gazette Amendment 2026 کے ذریعے نئے سخت قوانین متعارف کرا دیے ہیں۔

اب
✔ ہر ہاؤسنگ اسکیم کی آن لائن اپروول
✔ خریداروں کے حقوق کا بہتر تحفظ
✔ انفراسٹرکچر اور ماحولیات کی لازمی منظوری
✔ ڈیولپرز کے لیے واضح ڈیولپمنٹ ٹائم لائن

📊 سب سے اہم بات:
اب اسکیم کا سائز جتنا بڑا ہوگا، قوانین اتنے ہی سخت ہوں گے۔

📍 مثال کے طور پر:
• چھوٹی اسکیم (100 کنال تک) → آسان رولز
• درمیانی اسکیم (100–500 کنال) → مناسب پلاننگ ضروری
• بڑی اسکیم (500–5000 کنال) → مکمل انفراسٹرکچر لازمی
• بہت بڑی اسکیم (5000+ کنال) → حکومتی سطح کی سخت نگرانی

📌 اس کا مطلب:
اب غیر قانونی یا غیر منظور شدہ اسکیمز چلانا مشکل ہوگا،
اور خریداروں کی سرمایہ کاری زیادہ محفوظ ہوگی۔

اگر آپ مستقبل میں پراپرٹی خریدنے یا انویسٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں تو
منظور شدہ اور قانونی پروجیکٹس کا انتخاب بہت ضروری ہے۔

Address

District Courts Multan
Multan
62000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Find Lawyer Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share