Alvi & Alvi Law Associates

Alvi & Alvi Law Associates Muhammad Rashid Islam ALvi Advocate

06/12/2024
2024  SCMR  1191MUHAMMAD IMTIAZ BAIG vs State.Defence plea---Scope---All the factors favouring belief in the accusation ...
29/06/2024

2024 SCMR 1191
MUHAMMAD IMTIAZ BAIG vs State.
Defence plea---Scope---All the factors favouring belief in the accusation must be placed in juxtaposition to the corresponding factors favouring the plea in defence and the total effect should be estimated in relation to the questions viz. is the plea/version raised by the accused satisfactorily established by the evidence and circumstances appearing in the case?---If the answer is in the affirmative, then the Court must accept the plea of the accused and act accordingly---If the answer to the question is negative, then the Court will not reject the defence plea as being false but will go a step further to find out whether or not there is yet a reasonable possibility of the defence plea/version being true---If the Court finds that although the accused has failed to establish his (defence ) plea/version to the satisfaction of the Court but the plea might reasonably be true, even then the Court must accept his plea and acquit or convict him accordingly

24/12/2022

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

ا

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4:12)

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

23/12/2022

لاہور ہائی کورٹ نے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف پرویز الہٰی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ پانچ رکنی لارجر بنچ کے سربراہ جسٹس عابد عزیز شیخ نے تحریر کیا ہے
W.P.No.82603/2022
Chaudhary Pervez Elahi Vs. Governor Punjab etc.
Date of Hearing: 23-12-2022

In this Constitutional Petition, the petitioner has challenged the orders dated 19.12.2022 and 22.12.2022 passed by respondent No.1 (Governor of Punjab), whereby in exercise of powers under Article 130(7) of the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973 (Constitution) read with rule 22(7) of the Rules of Procedure of the Provincial Assembly of the Punjab, 1997 (Rules), the respondent No.1 held that the Chief Minister, Punjab (petitioner) does not command the confidence of the majority of the members of Punjab Assembly and therefore, ceases to hold its office with immediate effect and consequently dissolved the Provincial Cabinet forthwith, however, under Article 133 of the Constitution, the petitioner was asked to continue as Chief Minister until his successor enters upon in the office. Learned counsel for the petitioner submits that petitioner became the Chief Minister, Punjab by securing 186 votes of Provincial Assembly on 22.7.2022. He submits that on 19.12.2022, respondent No.1 issued order for summoning the session of Provincial Assembly requiring the Chief Minister of Punjab/petitioner to obtain vote of confidence on 21.12.2022. Submits that in response to the above summoning of session of Provincial Assembly by respondent No.1, vide order dated 19.12.2022, respondent No.3 gave a ruling on 20.12.2022, declaring that summoning of session by respondent No.1 is unconstitutional when Provincial Assembly is already in session, hence order could not be processed. Submits that notwithstanding the aforesaid ruling by respondent No.3, the respondent No.1 passed impugned order dated 22.12.2022 by relying upon the legal opinion of few Advocates. Learned counsel contends that since no session of Assembly was held in pursuance of order of respondent No.1, therefore, it could not be presumed that petitioner lost confidence of majority members of the Provincial Assembly. He submits that no doubt, under Article 130(7) of the Constitution, no time frame is given to hold the Assembly session, however, reasonable time is to be fixed by the Speaker of the Assembly under Rule 22 of the Rules for holding the session for the purpose of vote of confidence under Article 130(7) of the Constitution. He also submits that under Article 136 of the Constitution, the time to move resolution is minimum three days and maximum seven days, which under the rules commences from the date when resolution is presented before the Assembly, which almost consumes eleven to fourteen days. Submits that at best this time is to be read in Article 130(7) of the Constitution to allow reasonable time for holding the session. Submits that in this case, only two days were provided by respondent No.1 to take vote of confidence, which directions are unreasonable. He also submits that as per law settled in Pir Sabir Shah vs. FOP etc.” (PLD 1994 Supreme Court 738), the reasonable time for voting under Article 130(7) of the Constitution, which is pari materia to Article 130(5) before 18th amendment of the Constitution, ten days were held to be reasonable time. He submits that merely because no Assembly Session took place, it cannot be presumed that petitioner avoided taking vote of confidence and there was no occasion to invoke rule 22(7) of the Rules and to assume that he has lost confidence of majority of the members of the Assembly. Learned counsel submits that as per law settled by this Court in “Mian Manzoor Ahmad Wattoo Versus Federation of Pakistan and 3 others” (PLD 1997 Lahore 38), the Governor can only remove the Chief Minister if he cannot obtain majority vote in the assembly and not otherwise. He further submits that mere difference of opinion between respondent No.1 and respondent No.3 regarding holding of session could not be construed that petitioner was reluctant to obtain vote of the members of the Assembly, and to declare that Chief Minister ceases to hold its office and Provincial Cabinet stands dissolved forthwith. He also argued that rule 22(7) of the Rules could only be invoked provided rule 22 was followed in entirety and in letter and spirit, and clause 22(7) of the Rules could not be invoked in isolation. On the question of interim relief, he submits that there is urgency in the matter as only Chief Minister is asked to continue his office under Article 133 of the Constitution but Provincial Cabinet was dissolved, which means that actually there will be no government in view of ratio settled in the case of Messrs Mustafa Impex etc vs. The Government of Pakistan etc. (PLD 2016 Supreme Court 808). Submits that Provincial Cabinet is required to run day to day affairs of the Government. Learned counsel submits that Governor under Article 130(7) of the Constitution can only ask the petitioner to take vote of confidence if he is satisfied that the circumstances exist that Chief Minister has lost confidence of the majority of the members of Provincial Assembly and that satisfaction must be based on objective assessment. He submits that perusal of impugned order dated 19.12.2022 shows that grounds based on which satisfaction was alleged do not fulfill objective criteria to invoke the jurisdiction under Article 130(7) of the Constitution.

2. Mr. Khalid Ishaque, Advocate appeared at this stage on behalf of respondent No.1 (without submitting power of attorney) submits that respondent No.1 is ready to withdraw the impugned orders if petitioner will take vote of confidence within a period of seven days. He also submits that petitioner should also undertake that he will not dissolve the Assembly within said period. Learned counsel for the petitioner submits that once said offer will be received in writing, he will respond to the same after seeking instructions.

3. In view of above submissions, let notices be issued to respondents for 11.1.2023. As interpretation of various provisions of the Constitution are involved, notice shall also be issued to learned Attorney General of Pakistan and learned Advocate General, Punjab under Order XXVII-A CPC.

C.M No.1/2022 Dispensation sought for is allowed subject to all just and legal exceptions. C.M stands disposed of.

C.M No.2/2022
Learned counsel for the petitioner on the question of interim relief was confronted with para 121 of the Mian Manzoor Ahmad Wattoo vs. FOP etc (PLD 1997 Lahore 38), to ensure that in case, impugned order is held in abeyance and petitioner as well as cabinet is restored as an interim measure, whether petitioner will exercise his right to dissolve the Provincial Assembly.

Barrister Syed Ali Zafar, Advocate for the petitioner, in response gave a written undertaking by the petitioner in following terms:-

“I Chaudhry Parvez Elahi, Chief Minister Punjab, undertake that if the Governor’s order is suspended and Chief Minister and Cabinet restored to its original position, I shall not advise the Governor to dissolve the Assembly till the next date of hearing”.

In view of above submissions and undertaking given by the petitioner, the operation of impugned orders dated 19.12.2022 and 22.12.2022 shall be held in abeyance till the next date of hearing, however, this order will not preclude the petitioner from taking vote of confidence on his own accord.

(ABID AZIZ SHEIKH) JUDGE.

(TARIQ SALEEM SHEIKH) JUDGE

(ASIM HAFEEZ) JUDGE

(CH. MUHAMMAD IQBAL) JUDGE

(MUZAMIL AKHTAR SHABIR) JUDGE

23/12/2022

سپریم کورٹ نے شوہر اور سسرال کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو درست قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی ذہنی یا جسمانی ظلم کی بنیاد پر شوہر سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرنے کا حق رکھتی ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ تنسیخ نکاح سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے دیا۔

یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے جس میں ’قانونِ محمدی‘ کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ ’اگر بیوی پر سسرال میں ظلم ہو رہا ہو اور وہ خاوند کے گھر میں غیر محفوظ ہو تو وہ تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔‘

عدالت نے تشدد کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو خلع کے ذریعے شادی کے خاتمے میں تبدیل کرنے کے اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو بحال کیا ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ ’مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی بندھن پاکیزہ رشتہ ہے جو زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ رشتہ میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کی خوشی اور ہمدردی کے جذبات کو پروان چڑھاتا ہے اور اس پر ہی خاندانی نسب اور وراثت کا بھی انحصار ہوتا ہے۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ازدواجی رشتہ نرمی، انسانی اور جذباتی وابستگی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے جس کے لیے باہمی اعتماد، احترام، وقار، محبت اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے اور اس لیے یہ اہم رشتہ معاشرتی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے جیسا کہ دینِ اسلام شوہر کو خوراک، لباس، رہائش اور دیگر تمام ضروریات زندگی فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے، اسی طرح مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ پیار اور محبت کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھے گا۔‘

معاملہ شروع کب ہوا تھا؟
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا طرزِ عمل یا رویہ جو بیوی کے لیے ذہنی اذیت اور جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے اس کے لیے ازدواجی بندھن کو برقرار رکھنا ناممکن بنا دیتا ہے تو وہ تنسیخ نکاح کے دعوے کی حق دار ہے۔‘

واضح رہے کہ پشاور کی رہائشی ایک خاتون نے سنہ 2014 میں اپنے شوہر کے ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح اور حق مہر کی ادائیگی کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

فیملی کورٹ نے دعویٰ منظور کیا جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے فیصلے کے خلاف اپیل جزوی طور پر منظور کر کے ناروا سلوک کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کو خلع میں تبدیل کر دیا اور بیوی کو حق مہر کا پانچ تولہ سونا یا مارکیٹ ریٹ کے مطابق مساوی رقم شوہر کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی۔

تاہم اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر کے فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور قرار دیا ہے کہ ’شوہر کا بیوی کے دعوے کے جواب میں ازدواجی حقوق پورے نہ کرنے کا مؤقف مہر کی ادائیگی سے بچنے کا محرک ہو سکتا ہے۔‘

فیصلے میں مزید کیا کہا گیا ہے؟
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’فریقین کے درمیان بنیادی اختلاف کے سبب یہ سوال تھا کہ کیا درخواست گزار طیبہ عنبرین ظلم کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کے حکم نامے کا دعویٰ کرنے کی مستحق تھی اور کیا اپیلیٹ فورم نے ظلم کی بنیاد پر نکاح کو ختم کرنے کے بجائے خلع کے ذریعے ختم کر کے ٹھیک فیصلہ کیا؟‘

سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ’بے رحمانہ، ظالمانہ اور جابرانہ طرزِ عمل اور رویے کے باوجود شوہر کی جانب سے ازدواجی حقوق کے دعوے کا واحد اور بنیادی مقصد صرف اور صرف کفالت اور مہر کی رقم کی ادائیگی سے بچنا معلوم ہوتا ہے۔

’مدعا علیہ کی یہ کوشش اس وقت کامیاب ہوئی جب اپیلیٹ کورٹ نے بیوی کو مہر کی رقم واپس کرنے کی ہدایت کرنے کے ساتھ خلع کے ذریعے شادی ختم کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔‘

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’فیملی کورٹ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا کہ درخواست گزار خاتون نے کئی واقعات کا حوالہ دے کر شوہر کی جانب سے ان پر کیے جانے والے ظلم کو ثابت کیا جبکہ جرح کے دوران بھی خاتون کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کو جھٹلایا نہیں گیا۔ لہٰذا فیملی کورٹ نے مکمل جانچ پڑتال اور شواہد پر غور کرنے کے بعد ظلم کو بنیاد بناتے ہوئے شادی کو ختم کیا۔‘

سپریم کورٹ کے فیصلے میں ان واقعات کا بھی حوالہ دیا کہ فیملی کورٹ کے فیصلے میں کس طرح مختلف حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی جو بیوی کے لیے ذہنی اذیت اور تشدد کا باعث بنے جیسا کہ یہ بات کہ شادی کے صرف ایک ہفتے بعد ہی شوہر نے بیوی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ کرائے پر مکان حاصل کرنے کے لیے رقم کا بندوبست کرے۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ ’شوہر اور اس کے خاندان کے افراد نے بھی خاتون پر جھوٹے الزامات لگائے جس میں یہ الزام بھی تھا کہ درخواست گزار کے بطن سے پیدا ہونے والی بچی مدعا علیہ کی بیٹی نہیں اور اس طرح کی الزامات کے باعث درخواست گزار کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اس کے علاوہ شوہر اور اس کے خاندان کے افراد نے خاتون پر ’یہ سخت شرط عائد کی کہ وہ اپنی تنخواہ شوہر کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرائے اور ذاتی استعمال کے لیے رقم اس کی اجازت سے لے۔‘

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ’عدالت میں کیس دائر کرنے کے باوجود شوہر کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنی بیوی کو مزید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا اور اس پر مزید جھوٹے الزامات لگانا شروع کر دیے۔‘

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’اپیلیٹ کورٹ نے ثبوتوں پر غور کرنے کے بجائے بغیر کسی وجہ کے قرار دیا کہ جسمانی تکلیف یا ذہنی اذیت کو ظاہر کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔‘

The dissolution of marriage on the ground of cruelty, the Court must adjudge the intensity and ruthlessness of the acts and examine whether the conduct complained of is not merely a trivial issue which may happen in day-to-day married life, but is of such a nature which no reasonable person can endure. While claiming conjugal rights by a husband in response to the suit for dissolution of marriage, dower, dowry and maintenance, it is also an onerous responsibility of the Court to see whether he is sincerely fulfilling his obligations towards his wife.

Family/Maintenance Allowance C.P.3209/2019
Mst. Tayyeba Ambareen & another v. Shafaqat Ali Kiyani & another
Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar
03-11-2022

22/12/2022

FAMILY ISSUES
Court Marriage, Divorce/ Khula decree
Custody of Minors, Maintenance allowance, dower Amount, recovery of Dowery Articles, recovery of Gold Ornaments, all kinds of family disputes .

CRIMINAL MATTERS
FIR , Bails , Trials , Appeals, all kinds of criminal litigations .

CIVIL MATTERS
Property Disputes, stay orders , partitions, declaration decree, Succession certificate, legal heirs decree , transfer of property, Benami transactions, all kinds of civil suits .

INCOME TAX

BANKING MATTERS

CONSUMER CASES

LEGAL NOTICES

LEGAL AGREEMENTS

COMPANY REGISTRATION

TRADE MARKS and LOGO

BUSINESS REGISTRATION

0302-8222082 ( Mobile & WhatsApp)

گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ مسترد کر دیاسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، گورنر پ...
21/12/2022

گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ مسترد کر دی

اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، گورنر پنجاب

21/12/2022

لاہور ہائی کورٹ نے ڈسکہ الیکشن میں مبینہ بے ضابطگی پر کارروائی کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے افسران کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی کالعدم قرار دے دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

عدالتِ عالیہ نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف افسران کی درخواستیں منظور کر لیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ افسران کے خلاف مس کنڈکٹ پر متعلقہ محکموں کو کارروائی کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن کو نہیں۔

فروری 2021ء میں ڈسکہ کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 کے لیے ضمنی انتخاب ہوا تھا۔

انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں الیکشن کمیشن نے افسران کے خلاف کارروائی کی تھی۔

سابق ڈی سی سیالکوٹ سمیت دیگر افسران نے الیکشن کمیشن کی کارروائی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کی تھی۔
W.P. No. 32915 of 2022.
Asif Hussain v. Election Commission of Pakistan etc.
Announced in Open Court today i.e._21.12.2022.

21/12/2022

سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رولنگ جاری کردی۔

سپیکر نے دو صفحات پر مشتمل رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں اجلاس سپیکر نے بلایا اور وہی اس کو ختم کرسکتا ہے جب تک سپیکر اپنے بلائے اجلاس کو ختم نہ کرے گورنر نیا اجلاس نہیں بلاسکتا۔

رولنگ میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے نیا اجلاس بلانا ضروری ہے، عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے نیا اجلاس بلانے سے پہلے رواں اجلاس کا ختم ہونا ضروری ہے۔

رولنگ میں مزید کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی پہلے سے ہی سپیکر کے طلب کردہ اجلاس کے تحت جاری ہے، موجودہ اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے پر ہی گورنر نیا اجلاس طلب کر سکتا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کو آئین کے آرٹیکل 130-7 کے تحت اعتماد کے ووٹ کیلئے اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب اجلاس خصوصی طور پر اسی مقصد کیلئے طلب کیا ہو۔

رولنگ میں وزیر اعلیٰ منظور وٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے پہلے کم از کم دس روز وزیر اعلیٰ کو دینا لازم ہے، گورنر کی طرف سے ایوان اقبال میں بلایا گیا،41 واں اجلاس بھی اب تک ختم نہیں کیا گیا، پنجاب اسمبلی رولز آف پروسیجر کے رول 209 اے کے تحت گورنر کا بلایا گیا نیا اجلاس غیر قانونی ہے۔

16/12/2022

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہتک عزت دعویٰ میں دفاع کا حق ختم کرنے کے خلاف اپیل مسترد کر دی
وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت 10 ارب روپے ہرجانے کا دعوی ٰ دائر کررکھا ہے ۔
ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے سوالات کے جوابات نہ دینے پر عمران خان کا حق دفاع ختم کردیا تھا ۔

Suit for recovery of damages under Section 4 & 9 of the Defamation Ordinance ---
Under Rule 8, 9 & 21 of Order XI CPC. it is imperative for the defendant to file answer to the interrogatories within seven days or the time as specified by the Court and in failure whereof, the adjudicating Court is well within jurisdiction to strike out the right of defence of the defaulting party.

Civil Revision 76628/22
Imran Ahmad Khan Niazi Vs Mian Muahmmad Shahbaz Sharif
Mr. Justice Ch. Muhammad Iqbal
07-12-2022
2022 LHC 8204

Address

High Court Lahore Multan Banch
Multan

Telephone

+923028222082

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alvi & Alvi Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Alvi & Alvi Law Associates:

Share